• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہِ رمضان کے گزرتے ایام

شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
32
ماہ ِرمضان کے گزرتے ایام

کچھ احساسات و چند جذبات

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

از قلم:عبد السلام بن صلاح الدین مدنی

برادرانِ اسلام!

ربِّ کریم کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم اور بہت کم ہے،مالکِ رحیم کی جس قدر بھی حمد و ستائش بیان کریں حق ادا نہیں ہوسکتا ہے کہ اس نے جملہ اسلامیان ِ عالم کو ایک ایسے ماہ میں اس کی رحمتیں،برکتیں،مغفرتیں،سعادتیں لوٹنے کا بہترین موقع عنایت فرمایا،جس کی راتیں بھی مبارک ہیں اور دن بھی محترم،جس ماہ کا لمحہ ملحہ قابل ِ احترام ہے اور لحظہ لحظہ قابل رشک و مستجاب الدعوات ۔

اللہ اکبر!ابھی کل کی ہی تو بات تھی کہ ہم ایک دوسرے کو ماہِ رمضان کی آمد کی خوش خبری دے رہے تھے ، اور مبارک بادی پیش کر رہے تھےاور آج ہے کہ (گویا) چشم ِ زدن میں ۲۲۔۲۳ دن گزر گئے اور لے دے کر کوئی ۷۔۸ دن باقی رہ گئے ہیں(ہماری عمر کس تیزی کے ساتھ گزر رہی ہے،اندازہ کر سکتے ہیں)

مگر جو ایام و لیالی باقی ہیں،انتہائی مہتم بالشان، اہم ،محترم ،متبرک اور مبارک ہیں،جس کی ایک رات کی عبادت ۸۳ برس ۴ ماہ کی عبادت سے کہیں بہتر اور بہت بہتر ہے(خیر من ألف شہر) ۔

قدر کی یہ راتیں(جو دس راتوں پر مشتمل ہیں) انتہائی قیمتی اور قابل قدر و عظمت والی ہیں،اگر ان کی ہم نے قدر نہ کی تو پھر یقین جانیں کہ ہم سے بد نصیب کوئی نہ ہوگا

اگر ہمارے دلوں میں ان کی عزت و عظمت کا جذبہ اب بھی نہ جاگا تو ہم سے زیادہ بدقسمت کس کو کہا جا سکتا ہے؟

اگر ہم نے ان راتوں کو ان دنوں کو یوں ہی بیکار ضائع کردیا تو ہم سے زیادہ نصیب کا مارا کون ہوگا؟

یہ قدر کی راتیں وہ تھیں جن میں نبی ٔ رحمتﷺ خود جاگتے،اپنے اہل و عیال کو جگاتے ،اور عبادت کے لئے کمر بستہ ہوجاتے ،بستروں سے الگ ہوجاتے ،ازواجِ مطہرات کے قریب بھی نہ پھٹکتے،مسجد میں یکسوئی اختیار فرمالیتے ،اللہ کے ذکر و فکر ،عبادت و طاعت ،دعا و مناجات میں مشغول ہوجاتے ،جنت کا سوال فرماتے اور جہنم سے گلوخلاصی کی دعائیں مانگتے ۔

اللہ اکبر!یہ تو اس نبی ٔ برحق ﷺ کا حال تھا،جوبخشے بخشائے تھے،جو معصوم تھے ‘گناہوں کا تصور بھی آپﷺ کے تعلق سے گناہ ہے ،مگر پھر بھی آپﷺکا یہ حال تھا ۔

رات کی تنہائی میں ہم اپنے گناہوں،معصیتوں،خطاؤں،غلطیوں اور اپنے کرتوتوں پر ایک نظر دوڑالیں ،اوراپنے شب و روز کے حالات کا جائزہ لے لیں

سوال یہ ہے کہ ہم کب خواب ِ خرگوش سے بیدار ہوں گے؟

ہم کب ردائے غفلت کو اتار پھنکیں گے؟ہماری نیند کب کھلے گی ؟ہم کب بارگاہ ِ رب ذوالمنن سے لو لگائیں گے ؟کب ہم اپنا رشتہ رب کریم و رحیم سے مضبوط کریں گے ؟اپنا تعلق کب اپنے علیم و حکیم رب سے قائم کریں گے ؟اور اپنے گناہوں اور غلطیوں پر پشیمانی و ندامت کا اظہار کریں گے ؟

ہمیں اب کن حسین ایام کا انتظار ہے،جن میں توبہ و استغفار کریں گے ؟

ہم کس وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ جب اپنے کرتوت پر پچھتائیں گے ،شرمائیں گے اورندامت و خجالت کا اظہار کریں گے ؟

حضرات ِ گرامی !حالات اس وقت انتہائی عجیب تر ہیں،پوری دنیا کورونا کی وبا و بلا سے جوجھ رہی ہے،پوری معیشت تباہ ہوکر رہ گئی ہے،اپنے ملک ِ عزیز ہندوستان کی تو صورت حال انتہائی نازک سے نازک تر ہے ، روزانہ ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں اموات کا سلسلہ جاری و ساری ہے ،کیا شہر کیا دیہات ہر جگہ اس نے اپنے پاؤں پسار رکھے ہیں،بلکہ دیہات و قریہ جات میں تو اس نے اپنے پنجے انتہائی مضبوطی سے گاڑ دئے ہیں،ایسا کوئی دن نہیں گزرتا ،جس دن کسی موت کی خبر نہ پڑھی سنی جاتی ہو (اللہ خیر کا معاملہ فرمائے)بڑے بڑے علماء داغ مفارقت دے رہے ہیں،بہیترے مشایخ ِ عظام بستر ِعلالت پر دراز ہیں(اللہ انہیں شفائے کامل و عاجل عطا فرمائے)رشتہ دار بیمار ہیں،اقرباء علیل ہیں،اورکتنے دوست و احباب ناسازی ٔ طبع کے شکار ہیں۔

علمائے کرام ،مشایخ عظام ،ائمہ ٔ مساجد و مؤذنین ،مدرسین ِ مدارس و مکاتب کی جو ابتر صورت حال ہے ،وہ ایک الگ دل سوز اور روح فرسا کہانی لکھ رہی ہے،مدارس و جامعات جس کسمپرسی کے شکار ہیں،اس کی تو حکایات ہی نہ پوچھئے ۔

ایسے میں ضروری ہے کہ رمضان کے باقی ماندہ ایام غنیمت جان لیں،شبہائے قدر کی قدر کر لیں،ان راتوں میں جاگ لیں،شب بیداری کر لیں،اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرلیں،اپنے گناہوں کو اپنے رب سے دھلوالیں،معافی تلافی کی سعی ٔ پیہم کر لیں ،جنت کے حصول کے لئے اپنے رب سے دعائیں مانگ لیں،اپنے رب کے حضور رو دھو کر،تضرع و ابتہال کرکے ،گریہ و زاری کے ساتھ اپنے رب کو خوش کرلینے کاجتن کر لیں ،عالم ِ اسلام پر آئی آفت و مصیبت سے نجات کی دعائیں مانگ لیں،ہو سکتا ہے ہمارا رب ہم سے راضی ہوجائے،ہماری سن لے،اور ہرقسم کی مصائب و آلام سے نجات دے دے،بیمار زدگان کی شفائے عاجل و کامل کے لئے التجائیں کر لیں

یار درکھیں !!یہ لیالی و ایام گنے چنے ہیں اور پھر ایک سال کے بعد ہی نصیب ہوں گے،بقیہ گپ شپ ،لایعنی امور،اول فول ،بکواس اور یوں ہی ضائع کرنے کے لئے ہمارے پاس(۱۱)ماہ موجود ہیں

اگر ہم نے ان لیالی و ایام کی اب قدر نہ کی تو ہم پھر کب قدر کریں گے ؟

اس لئے باقی ماندہ ایام و لیالی میں زیادہ سے زیادہ عبادتیں،اطاعتیں، کوششیں و محنتیں کرلیں

کیا پتہ کب اللہ کی طرف سے بلا وا آجائے اور ہم اس دنیا کو خیرآباد ،اور داعی ٔ اجل کو لبیک کہہ دیں

آپ کا بھائی:

ابو أسامہ /عبد السلام بن صلاح الدین مدنی

(میسان ۔طائف )
 

اٹیچمنٹس

Top