• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہ رمضان اور قرآن (نیکیوں اور قرآن کریم کی تلاوت اور تدبر وفہم کا سنہری موقع)

شمولیت
اگست 25، 2013
پیغامات
42
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
72
ماہ رمضان اور قرآن
(نیکیوں اور قرآن کریم کی تلاوت اور تدبر وفہم کا سنہری موقع)
عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی /سعودی عرب
رمضان المبارک کا مہینہ مختلف اوربےشمار فضائل کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کا مہینہ بھی ہے کیونکہ قرآن کریم کا نزول اسی ماہ مبارک میں ایک ایسی بابرکت رات میں ہوا جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، خود باری تعالی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآَنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ ﴾۔(ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا، جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں)۔(البقرۃ/185)۔ قرآن مجید کو رمضان کی شب قدر میں لوح محفوظ سےآسمان دنیا پر اتار دیا گیا اور وہاں "بَيْتُ الْعِزَّةِ "میں رکھ گیا دیا۔ وہاں سے حسب حالات سالوں تک اترتا رہا۔ ( تفسیر ابن کثیر)۔اورفرمایا:(إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ )۔(یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں)۔ (دخان/3)۔اور فرماتاہے :(اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ*وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ* لَیْلَةُ الْقَدْرِخَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ)۔(یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ، تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے)۔ (القدر/1-3)۔
چنانچہ رمضان اورقرآن کا گہرا تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس ماہ میں تلاوت قرآن کا خصوصی اہتمام کرتے تھے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت رمضان کے مہینے میں اور بڑھ جاتی، جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کے لیے ہر روز آنے لگتے۔ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کی ہر رات میں ملاقات کے لیے آتے اور آپ سے قرآن کا دور کیا کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصاً اس دور میں جب جبرائیل علیہ السلام روزانہ آپ سے ملاقات کے لیے آتے تو آپ خیرات و برکات میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ (صحیح بخاری/3220 ، صحیح مسلم /2308)۔اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ:جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے لیکن جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس میں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ دورہ کیا۔ (صحیح البخاری/4998)۔
ذیل میں ہم ان دونوں اہم عبادتوں اور نیکیوں کے بارے میں شریعت کے اندر ذکرکردہ مقام ومرتبہ کو مختصرا بیان کردینا مناسب سمجھتے ہیں واضح رہے کہ ان میں کچھ نیکیاں عام ہیں جن میں رمضان اور قرآن سے متعلق نیکیاں شامل ہیں ،اور کچھ کاتعلق خاص رمضان اور قرآن سے ہے:
رمضان اور قرآن نیکیوں کا خزینہ ہیں :
رمضان کا مہینہ اور قرآن مجید دونوں اپنے فضل اور مقام کے اعتبار سے بےشمار نیکیوں کا خزینہ ہیں ، اور ان دونوں کے ساتھ اللہ رب العزت کا ایک خاص فضل یہ ہے کہ دونوں کے اندر اجروثواب کو کئی گنا تک بڑھاتارہتاہے۔مضان کے سلسلےمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: (إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي) لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ"۔ "ابن آدم کا ہر عمل بڑھا یا جا تا ہے۔نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک (بڑھا دی جا تی ہے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (سوائے روزے کے (کیونکہ) وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھا نا پینا چھوڑ دیتا ہے۔روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے افطار کرنے کے وقت کی اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملا قات کے وقت کی۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری(مشک ) کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند یدہ ہے۔(صحیح البخاری/7492 ، صحیح مسلم/1151)۔
اور قرآن مجید کےسلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ "۔"جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا (الم) ایک حرف ہے، بلکہ (الف) ایک حرف ہے، (لام) ایک حرف ہے اور (میم) ایک حرف ہے"۔(سنن الترمذی /2910،علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔
روزہ صبر کا رمز اور اس کی علامت ہے ، صبر کی مکمل صورتیں اس کے اندرپائی جاتی ہیں جیسے: برائیو ں سے پرہیز ، اور نیکیو ںپر اقدام اور اور اس پر جمے رہنا اور اسی طرح اللہ کے حرام کردہ اشیاء سے نفس کو کنٹرول میں رکھنا ۔یہی وجہ ہے کہ حدیث میں رمضان کو صبر کے مہینے سے تعبیرکیاگیاہے ۔(دیکھئے : مسنداحمد:23/22 ، كشف الأستار على زوائد البزار/1054 ، علامہ البانی نے اس کی تصحیح کی ہے دیکھئے: صحیح الترغیب/1032،1033) ،اورصبر کرنے والے کااجراللہ رب العزت کے نزدیک بہت بڑا ہے ، اللہ تعالی فرماتاہے: (إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ) ۔(صبر کرنے والوں کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے)۔(الزمر / 10) ۔
رب کی رضا اور رفع درجات :
کوئی بھی نیکی جو شریعت کے حکم اور کتاب وسنت کے مطابق اور سلف صالحین کے نہج اور طریقہ پر ہو بندے کے رفع درجات کے اسباب میں سے ہے ،رمضان کے اندر کی جانے والی نیکیاں خاص طور سے روزہ اور تلاوت قرآن کریم بندےکو متقی ،پرہیز گار اور ہدایت یاب بناتے ہیں جیسا کہ نصوص میں اس کی صراحت موجود ہے ۔ چنانچہ ماہ رمضان کا روزہ جو تقوی کا سبب اور صبر کا پیمانہ ہے اور قرآن کریم ہدایت وکامیابی کا راستہ ہے ،دونوں ایسی عظیم نیکیاں ہیں جو رب کی رضا کے اسباب میں سے ہیں ، کیونکہ نیکی کرنے والا بہترین اجرکا مستحق ہوتاہے، اللہ تعالی فرماتاہے:(وَيُبَشِّرَالْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا)۔(اورایمان لانے والے جو نیک اعمال کرتے ہیں ان کو خوشخبریاں سنا دے کہ ان کے لئے بہترین بدلہ ہے)۔ (الکھف/2)۔نیز فرماتاہے : (إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ)۔( پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہی)۔(القلم/34)۔اور تقوی شعار لوگوں کے بارے میں فرماتاہے:(إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا وَكَأْسًا دِهَاقًا لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا)۔( یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے۔ باغات ہیں اور انگور ہیں۔ اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں۔ اور چھلکتے ہوئے جام ہیں۔ وہاں نہ تو وه بیہوده باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹی باتیں سنیں گے۔ (ان کو) تیرے رب کی طرف سے (ان کے نیک اعمال کا)یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہوگا)۔(نبأ/31-36)۔ اور صبرکرنے والوں کےسلسلے میں فرماتاہے:( وَاللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ) اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔(آل عمران /146)۔
اورقرآن مجید کی وجہ سے لوگ دین ودنیامیں رفع منزلت سے سرفراز کئے جاتے ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:"اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے"۔(صحیح مسلم/817)۔
گناہوں کی معافی :
یوں تو ہر طرح کی نیکیا ں گناہوں کےلئے کفارات ہیں جب تک کبائریعنی بڑے گناہوں کا ارتکاب نہ کیاجائے ،اللہ تعالی فرماتاہے:(إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ) ۔( یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں)۔(ھود/114)۔رمضان اور کچھ اہم عبادتوں کے سلسلے میں آتاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"پانچوں نمازیں اور (ہر) جمعہ (دوسرے) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ (ان کو مٹانے والے) ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیاجائے"۔(صحیح مسلم/233)۔
رمضان اور قرآن دونوں سبب ہدایت اور تقوی ہیں :
قرآن جو ہدایت کا سبب ہے اس کے ماہ نزول کے بارے میں ارشاد فرماتےہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:(شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآَنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ)۔(ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیاجو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں) ۔ (البقرۃ/185)۔اور ایک جگہ فرماتاہے:(إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا) ۔( یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے)۔ (اسراء/9)۔ جب جنوں نے اس قرآن کو سنا تو برملا کہا: ﴿ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ۔ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ )۔( ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جو راه راست کے طرف رہنمائی کرتا ہے) ۔(الجن/1-2)۔
اور روزے کی فرضیت کی غایت کا تذکرہ کرتےہوئے اللہ تعالی فرماتاہے:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ)۔( اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو)۔(البقرۃ/183)۔ یہاں اس امرکی وضاحت کردی گئی ہےکہ روزے کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ اور تقویٰ انسان کے اخلاق وکردار کے سنوارنے اورسیدھی سچی اور ہدایت کی راہ اختیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طہارت وپاکیزگی اور عفت عصمت کی راہ اختیار کرنے میں روزے کے بنیادی کردار کا تذکرہ کرتےہوئے اسے بری خواہشات اور شہوت کو ختم کرنے والا قراردیاہے ، ارشاد فرماتاہے:"وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ"۔" اور اگر کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیے کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے"۔(صحیح البخاری/5065 ، صحیح مسلم/1400)۔ اور نصوص شریعت میں روزے کوشہوت وخواہشات سے اجتناب اور برائی اور لڑائی جھگڑے سے دور رہنےکے موجبات میں سے ایک قراردیاگیاہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" روزہ گناہوں سے ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے نہ فحش گوئی کرنی چاہئے اور نہ وہ شور مچائے، اورنہ جہالت کی باتیں کرے،اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں،"۔(دیکھئے:صحیح بخاری /1904 ، 1894 ) اور ایک روایت میں ہے کہ :"اللہ تعالی فرماتاہے:بندہ اپنی شہوت، کھانا پینا میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے"(صحیح بخاری/7492 ، صحیح مسلم/1151) ۔
روزہ دار اورصاحب قرآن قیامت کے روز :
ہر طرح کی نیکیاں اللہ رب العزت کےیہاں ایک مقام رکھتی ہیں اور دینا وآخرت میں ان کے مقام ومرتبہ کا ذکر اللہ تعالی نے اور رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز میں کیاہے ،انہیں میں سے یہ دونیکیاں رمضان کے روزے اور تلاوت قرآن مجیدہیں ، جنہیں بندہ اپنے رب کی رضا کےلئے انجام دے کر اپنے لئے آخرت کا ذخیرہ بناتاہے اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ( وَمَا تُقَدِّمُوالِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍتَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَخَيْراًوَأَعْظَمَ أَجْراً)۔( اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیاده پاؤ گے)۔(المزمل / 20)۔ اور اللہ تعالی فرماتاہے: (يَوْمَ تَجِدُكُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً)۔( جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا )۔( آل عمران / 30)، اور فرماتاہے:(فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ)۔( پس جس نے ذره برابر بھی نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا)۔( الزلزلۃ/7)۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن) صاحب قرآن )سے کہا جائے گا: قرآن) پڑھتا جا اور (بلندی کی طرف) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہو گی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہو گی" (سنن الترمذی /2914 ، سنن ابی داود/1464)۔
اور روزہ دار کےلئے بھی قیامت کےدن جب وہ اپنے رب سے ملےگا بہت بڑا انعام اور خیرہی خیر ہوگا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی (ایک تو جب) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسرے) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا"۔(صحیح البخاری/1904، صحیح مسلم/1151)۔
قیامت کے روز روزہ دار کے لئے جنت میں ایک خاص دروازہ ہوگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا"۔(صحیح البخاری/1896 ، صحیح مسلم/1152)۔
ایک روایت میں روزہ کو جہنم اور اللہ کے عذاب سےبچاؤ اورآڑ بیان کیاگیاہے ۔(دیکھئے:صحیح الجامع/3867 ، 3868 ،3880)۔
روزہ اور قرآن کی شفاعت :
قیامت کے روز قرآن مجید اپنے قارئ کے لئے ایک شافع کی حیثیت سے آئےگا ، اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اصحاب قرآن (حفظ وقراءت اور عمل کرنے والوں) کا سفارشی بن کر آئےگا"۔(صحیح مسلم/804)۔ اور اسی طرح روزہ اور قرآن کی شفاعت کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"روزہ اور قرآن بندے کے لیے سفارش کریں گے، روزہ عرض کرے گا، اے رب! میں نے اسےدن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا، اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما اور قرآن عرض کرے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا، اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما، ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی"۔ (مسند أحمد :2/174، مستدرک للحاکم :1/554 ، علامہ البانی نے صحيح الترغيب /969میں اسے صحیح کہاہے)۔
رمضان میں تلاوت قرآن کے طریقے:
بندے سے قرآن مجید پر ایمان کے بعد اس سے متعلق چار چیزیں مطلوب ہیں اور چاروں اپنی جگہ پر خاص اہمیت کی حامل ہیں ،پہلی تلاوت ، دوسری سماع(اسے سننا)، تیسری تدبر وفہم اور چوتھی اس کے احکام پر عمل ۔ جیساکہ پہلے ذکر کیاگیاکہ قرآن مجید کی تلاوت کی پر اس کے ہر ہرحرف پردس دس نیکیاں ملتی ہیں ۔ اسی طرح تلاوت قرآن ایسی تجارت میں سے ہے جن میں گھاٹا نہیں ہوتا، اللہ تعالی فرماتاہے:( إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوامِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ)۔( جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں( یعنی پابندی سے اس کا اہتمام کرتے ہیں)۔ اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی)۔(فاطر/29)۔اسی طرح اس کے سماع کے بارے میں ، اللہ تعالی فرماتاہے :(إِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ )۔( اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو)۔ (الاعراف/204)۔نیز فرماتاہے :( أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ)۔(کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں)۔(الحدید/16)۔
قرآن کریم کا نزول تدبراور اس پر عمل کےلئے ہواہےاوریہی اسکا مقصوداصلی ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:) كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الأَلْبَابِ )۔( یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں )۔(ص/29)۔
اور ایک جگہ بروں اور فتنہ وفساد برپا کرنے والوں کا تذکرہ کرتے ہوئےفرماتاہے:( أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ)۔(کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں)۔(سورۃ محمد/24)۔یعنی ان کےلئے لازم تھا کہ وہ قرآن میں غوروتدبرکرتےلیکن انہوں نے ایسانہیں کیا جس کی وجہ سے قرآن کے معنی ومفاہیم اور اس کےاحکام سے ان کا دل ناآشناہے۔ اور ان کے علاوہ قرآن مجید میں تدبر سے متعلق اور بھی ڈھیروں نصوص ہیں ۔اور قرآن کے احکام پرعمل کےسلسلےمیں اللہ تعالی فرماتاہے:﴿ وَهَذَاكِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوالَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ)۔(اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیر وبرکت والی ، سو اس کی متابعت کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو)۔(الانعام/155)۔ نیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"وہ(قرآن مجید) اللہ کی رسی ہے جس نےاسےتھام لیا وہ سیدھی راہ پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا"۔(صحیح مسلم /2408)۔اور اپنے نبی کو حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی فرماتاہے:﴿ اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنْ الْمُشْرِكِينَ ) ۔(آپ خود اس طریق پر چلتے رہئے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ﻻئق عبادت نہیں اور مشرکین سے اعراض کیجئے)۔ (الانعام/106) اورایک جگہ صالح اور اچھے کردار کے لوگوں کا تذکرہ کرتےہوئے فرماتاہے:(الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ)۔(جنہیں ہم نے کتاب دی ہےوه اسے جیسے پڑھنا چاہئےپڑھتے ہیں)۔ (البقرۃ/121) ۔ اس کا "حق کے ساتھ" پڑھنے سےمراد اس پر ایمان لانا ،اس کی تصدیق ، اس میں تدبر، اس کی اتباع ، اس کی معرفت اور اس کے احکام پر عمل ہے ۔
ان کے علاوہ بھی ڈھیروں نصوص ہیں جو قرآن کے احکام پر عمل کو اللہ کے بندوں پرلازم کرنے پر دلالت کرتے ہیں ،کیونکہ جب تک ایک بندہ اس کے احکام پر عمل نہیں کرتامؤمن نہیں ہوسکتا۔
رمضان میں تلاوت قرآن کے مواقع :
رمضان المبارک میں چونکہ ایک بندہ ہرجانب سے ذہنی اوربدنی اعتبار سے اللہ رب العزت کی طرف متوجہ ہوتاہے برائیوں سے دور اور نیکیوں سےقریب ہوتاہے اور اور اس کا دل بھی نیکیوں کی طرف راغب ہوتاہے اور اس میں اسے یک گونہ لذت اورچاشنی بھی محسوس ہوتی ہے، اس لئے اس کے لئے اپنے آپ کو قرآن مجید کے ساتھ مشغول کرنے کے ڈھیروں مواقع ہیں جیسے: نماز اوقات میں نماز کی اقامت سے پہلے اور نمازکے بعد، دن میں جب بھی تھوڑا وقت ملے اور تراویح اور قیام اللیل میں ۔
اور سب سےبڑی بات ہے کہ اگر کوئی قرآن کو سمجھنا چاہے تو تراجم کےساتھ یا کسی عالم وقاری کے ساتھ بیٹھ کر آرام سے سیکھ اور سمجھ سکتاہے،یہ رمضان کامہینہ اس کےلئے ایک سنہری موقع ہے جو عام دنوںمیں نہیں ملتا،اسی طرح اگر آدمی ، قرآن مجید کی تلاوت سننا چاہے تو تراویح کے علاوہ دن اور رات کے کسی بھی حصے میں دکان ، گھر او رمقام عمل میں مختلف آڈیوز کے ذریعہ بھی سن سکتاہے جوکہ جدید دور کے وسائل خاص طورسے موبائیل اور دوسرے ٹیکنالوجی کے ذریعہ بہت ہی آسان ہے ۔
خاص طور سے رمضان میں تراویح اور قیام اللیل میں قرآن مجید کی خوب تلاوت مطلوب ہے،بلکہ قیام اللیل میں تلاوت قرآن کے بغیر قیام متحقق بھی نہیں ہوتا ، اللہ تعالی اپنے نبی کو حکم دیتےہوئے ارشاد فرماتاہے:( قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا * نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا * أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا )۔(اے کپڑے میں لپٹنے والے ! رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر تھوڑاآدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلےیا اس پر بڑھا دےاور قرآن کو ترتیل کے ساتھ ٹھہرٹھہرکر پڑھا کر)۔(المزمل/2-4)۔
رمضان میں تراویح اور قیام اللیل کا ایک خاص مقام ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مَن قَامَ رَمَضَانَ إيمَانًا واحْتِسَابًا، غُفِرَ له ما تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِهِ"۔" جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں"۔ (صحیح البخاری /37 ، صحیح مسلم/759)۔
اور ایک روایت میں ہے:"مَن قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِإيمَانًاواحْتِسَابًا،غُفِرَله ما تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِهِ"۔"جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے"۔(صحیح البخاری/1901، صحیح مسلم/760)۔
رمضان میں قرآن او رسلف صالحین:
رمضان المبارک میں قرآن مجید کے ساتھ سلف صالحین کا شغف اور اہتمام بہت ساری کتابوں میں مذکورہیں جن میں ، امام قتادہ ، امام مالک ، سفیان الثوری کےسلسسلے میں آتاہے کہ وہ اس ماہ مبارک میں اس کی تلاوت اور تعلیم کو بڑی اہمیت دیا کرتے تھے ، بعض کے سلسلےمیں بیان کیاجاتاہےکہ وہ تصنیف وتالیف کو چھوڑکر قرآن مجید کا اہتمام کرنے لگتے،امام مالک حدیث کے مجالس چھوڑکر تلاوت قرآن مجید میں لگ جاتے ، اورعائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتاہے کہ رمضان میں ، دن کی ابتداء میں تلاوت کرتیں اور جب سورج طلوع ہوجاتاتو آرام فرماتیں ۔
رمضان بندے کےلئے تلاوت قرآن کا ایک سنہری موقع ہے:
ایک بندے کو رمضان میں اور رمضان کے بعد بھی اپنے کو حضور قلب کے ساتھ تلاوت ،سماع ،اور تدبر وعمل کے ذریعہ قرآن کے ساتھ جوڑنا چاہئے کیونکہ یہی اس کےلئے بہترین زندگی ، رشدوہدایت ، شفاء وزندہ دلی او ردنیا وآخرت کی کامیابی کا ضامن ہے ، اور رمضان کا مہینہ دل کا نیکیوں کی طرف راغب ہونے ، برائیوں سے اجتناب اور شیطان کے بیڑیوں میں جکڑدئے جانے کی وجہ سے اس کےلئے ایک سنہری موقع ہے ،اوراسے گنوانا کسی بھی صورت میں ایک بندے کےلئے مناسب نہیں ہے، بلکہ ہر مسلمان کو اس کے لئے دن یا رات کا کوئی حصہ ضرور متعین کرلینا چاہئے گرچہ وہ حصہ چند منٹوں کا ہی کیوں نہ ہو ۔ اور اگر کسی بندے کو رمضان میں تلاوت کے ذریعہ یا سماع کے ذریعہ کم سے کم ایک ختم کا موقع مل جاتاہے تو یہ اس کےلئے اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے فضل وخیر کی توفیق اوربہت بڑی کامیابی ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے ، وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم۔

**********​
 
Top