• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہ رمضان کی اٹھائیس (28)خصوصیات

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
9
بسم اللہ الرحمن الرحیم



ماہ رمضان کی اٹھائیس (28)خصوصیات


ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی​

الحمدللہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،أما بعد:

(01) ماہ رمضان ایک نعمت ہے:

کسی مسلمان کے لئے یہ سب سے بڑی سعادت مندی اور خوش نصیبی کی بات ہے کہ اسے رمضان جیسا بابرکت مہینہ مل جائے اوراگر اس ماہ میں نیکیاں کمانے اور رب کو راضی کرنے کی توفیق مل جائے تو اس سے بڑی نعمت اور کیاہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ رب العالمین نےرمضان کے بیان میں فرمایا :’’ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ‘‘ اوراللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پراس کی بڑائیاں بیان کرواوراس کا شکراداکرو۔ (البقرۃ:185)يعني تم الله كي بڑائی وکبریائی ،عظمت وشان بیان کرو کیونکہ اس نے تمہیں رمضان جیسی دولت سے نوازا تا کہ تم اپنے رب کو راضی کرسکو۔

(02) رمضان کا مہینہ صرف امت محمدیہ کو عطا کیا گیا اور اللہ کا یہ ایک احسان عظیم ہے:

امت محمدیہ کو رب العالمین نے رمضان مہینہ عطا کر کے ان پر احسان عظیم کیا ہے اور یہ احسان ا س ناحیے سے ہے کہ امت محمدیہ کے لوگوں کی عمریں تو کم ہیں مگر وہ اس مہینے میں اور بالخصوص طاق راتوں میں عبادت وبندگی کر کے83 سال چار ماہ کے برابر نیکیاں کرکے اجروثواب کما کر اپنے سے پہلوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ ان سے بھی آگے جنت میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں! اب ذرا سوچئے کہ پچھلی امتیوں کے مقابلے میں امت محمدیہ کے افراد کی عمریں کتنی قلیل ہیں ،پچھلی امت کے لوگ جہاں 500/600/1000/2000 سال جیا کرتے تھے وہیں پر احادیث کی روشنی میں امت محمدیہ کے ایک فرد کی عمر 60 سال سے 70 سال کے درمیان ہے ۔اب اگر دیکھا جائے تو دونوں امتیوں کے افرادکے عمروں کےمابین کتنی بُعد اور دوری ہے،کہاں 2000سال اور کہاں 60 سال،مگر امت محمدیہ کے اوپر اللہ احسان وکرم دیکھئے کہ اس نے اس امت محمدیہ کو ماہ رمضان دے کرکے پچھلی امتیوں کے عمروں کے برابر نیکیاں کمانے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ جانے کا موقع مہیا کر دیا ہے مثال کے طور پر اگر کسی مسلمان کی عمر 60 سال ہے اور وہ انسان 15 سال کی عمر میں بالغ ہوا گویا کہ اس نے بالغ ہونے کے بعد 45 رمضان پائے اب اگر اس نے ہر سال اہتمام کے ساتھ پورے ماہ عبادت وبندگی کی ہوگی تو اس میں طاق راتیں بھی ہوں گی تو گویا کہ اس نے تین ہزار نو سو پندرہ (3915)سال کے برابر اللہ کی عبادت وبندگی کی۔سبحان اللہ،ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء

(03) ماہ رمضان صبر کا مہینہ ہے:

(04) ماہ رمضان دلوں سے وسوسہ اورحسد ، بغض وعداوت کو ختم کردیتا ہے:

جیسا کہ سیدنا علیؓ اور ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ :’’ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصُّدُور‘‘ صبر کے مہینے یعنی رمضان میں فرض روزہ اور اسی طرح ہر ماہ میں تین روزہ رکھنے سے دل کی بیماریاں شیطانی وسوسے،کینہ وکپٹ،بغض وعداوت،حسدوجلن،غیظ وغضب ان ساری چیزوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

(صحیح الترغیب والترھیب للألبانیؒ:1022،صحیح الجامع للألبانیؒ:3804)

(05) ماہ رمضان میں ہی غزوۂ بدر پیش آیا:

رمضان ہی وہ مہینہ جس کے اندر اسلام کا بول بالا ہوا اور کفر وشرک کو منہ کی کھانی پڑی وہ بھی اس طرح سے کہ صرف تین سو تیرہ نے ایک ہزار لشکر جرار کو شکشت فاش دی تھی،گویا کہ ماہ رمضان وہ مہینہ ہےجس کے اندر عزت وسربلندیاں عطا کی جاتی ہیں۔

(06) ماہ رمضان میں ہی سب سے زیادہ رب کی برکتوں اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے:

سیدنا ابوہریرۃؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’ أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ تمہارے پاس رمضان کا برکت والا مہینہ آگیا ہے جس کے اندر اللہ تعالی نے تمہارے اوپر روزے فرض کئے ہیں۔ (نسائی:2106،صحیح الجامع للألبانیؒ:3519،الصحیحۃ:1868)

(07) آپ ﷺ صرف ماہ رمضان کی آمد پر صحابۂ کرام کو بشارت دیتے تھے:

جیسا کہ انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رمضان کا مہینہ آیا تو آپﷺ نے فرمایا:’’ إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ ‘‘ بلاشبہ یہ بابرکت مہینہ تمہارے پاس آیا ہے(اسے غنیمت جانو) اس ماہ میں ایک ایسی رات ہےجو ہزار مہینوں سے بہتر ہے،جو شخص اس رات کی خیر وبرکت سے محروم رہا وہ ہر طرح کی خیرو برکت سے محروم رہا اور اس کی خیر وبرکت سے صرف وہی محروم رہتا ہے جو ہرقسم کی خیر سے محروم ہو۔ (صحیح ابن ماجہ للألبانیؒ:1333،صحیح الترغیب للألبانیؒ:990)

(08) سب سے زیادہ فرشتے ماہ رمضان میں ہی زمین پر اترتے ہیں:

سيدنا ابوهريرة ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى ‘‘ بلاشبہ قدر کی رات میں زمین پر فرشتوں کی تعداد کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:2205)

(09) قرآن کریم میں 12 مہینوں میں سےصرف رمضان ہی کا نام آیاہے:

(10) رمضان ہی کے مہینے میں قرآن کو نازل کیا گیا:

فرمان باری تعالی ہے:’’ شَهْرُرَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ‘‘ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کو اتاراگیاجولوگوں کو ہدایت کرنے والاہے اور جس میں ہدایت کی اورحق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔(البقرۃ:185)

(11) تمام مقدس کتابیں رمضان ہی کے مہینے میں نازل کی گئیں:

عن واثلۃ مرفوعا:’’ أُنْزِلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ أَوَّلَ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لِسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الْإِنْجِيلُ لِثَلَاث عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الزَّبُورُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ لِأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ‘‘ صحیفۂ ابراہیم کو رمضان کی پہلی رات میں نازل کیاگیا،تورات اس وقت نازل کی گئی جب رمضان کے چھ ایام گذرگئے تھے،انجیل تب نازل کی گئی جب رمضان کے تیرہ ایام گذرچکے تھے،زبوراس وقت نازل کی گئی جب رمضان کے اٹھارہ ایام گذرچکے تھے،اور قرآن اس وقت نازل کیاگیاجب رمضان کے چوبیس ایام گزرچکے تھے۔ (الصحیحہ للألبانی:1575)

(12) ہزارمہینوں سے بہتررات ماہ رمضان میں ہی ہے:

عن أنس مرفوعا:’’ إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ ‘‘ رمضان میں ایک رات ایسی ہے جوہزارمہینوں سے بہترہے جو شخص اس رات کی خیروبرکت سے محروم رہاوہ ہرطرح کی خیربرکت سے محروم رہا اور اس کی خیروبرکت سے صرف وہی محروم رہتاہے جو بدنصیب ہو۔

(صحیح ابن ماجہ للألبانی:1333)

(13) رمضان ہی کے مہینے میں سال بھر کے موت وحیات اورتمام وسائل زندگی کے فیصلے کئے جاتے ہیں:

فرمان باری تعالی ہے:’’ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ،فِيها يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ‘‘ یقینا ہم نے اسے بابرکت رات میں اتاراہے بے شک ہم ڈرانے والے ہیں،اسی رات میں ہرایک مضبوط کام کا فیصلہ کیاجاتاہے۔ (الدخان:4)

(14) رمضان کے مہینے میں اعلان کرنے کے لئے فرشتے کی تقرری کی جاتی ہے:

(15) رمضان کے مہینے میں ہررات اللہ تعالی لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتاہے :

عن أبی ھریرۃ مرفوعا:’’۔۔۔۔۔۔وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنْ النَّارِ وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ‘‘اوررمضان کے مہینے میں ہردن آوازلگانے والاآوازلگاتاہے،خیرطلب کرنے والو!نیک کام کے لئے آگے بڑھواوربرے کام کی طلب رکھنے والو! برے کاموں سے رک جاؤ،اورہررات اللہ تعالی لوگوں کو جہنم سے آزادکرتاہے۔(صحیح ابن ماجہ للألبانی:1642)وفی روایۃ عن جابر مرفوعا:’’ إِنَّ لِلَّهِ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ‘‘ بے شک اللہ تعالی ہرروز افطاری کے وقت لوگوں کو جہنم سے آزادکرتاہے اورایساہررات کو ہوتاہے۔(صحیح ابن ماجۃ للألبانی:1332)

(16) رمضان کے مہینے میں ہردن ورات میں دعاقبول کی جاتی ہے:

عن أبی سعیدالخدری مرفوعا:’’ إِنَّ لِلَّهِ عُتَقَاءَ مِنَ النَّارِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ - يعني في رمضان – وَإِنّ َلِكُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ ‘‘بے شک اللہ تعالی رمضان کے ہردن اوررات میں لوگوں کو جہنم سے آزادکرتاہے اور ماہ رمضان کے ہردن ورات میں ہرمسلمان کے لئے ایک ایسی دعا کا وقت ہے جسے قبولیت سے نوازاجاتاہے۔(صحیح الترغیب للألبانی:1002،صحیح الجامع للألبانیؒ:2169)

(17) رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ثواب ہے:

عن ابن عباس مرفوعا:’’ فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ‘‘رمضان میں عمرہ کرنے کا اجروثواب حج کے برابرہے۔(1256)

(18) رمضان میں عمرہ کرنا آپ ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابرثواب ہے:

عن ابن عباس مرفوعا:’’ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي‘‘رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابرہے۔(بخاری:1863)

(19) رحمت الٰہی کا دروازہ کھول دیاجاتاہے:

(20) آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں:

(21) جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں:

(22) جہنم کے دروازے بندکردئے جاتے ہیں:

(23) سرکش شیطانوں کو جکڑ دیاجاتاہے:

(أ) عن أبی ھریرۃؓ مرفوعا:’’ إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ‘‘جب رمضان کا مہینہ آتاہے تو رحمت کا دروازہ کھول دیاجاتاہے اور جہنم کا دروازہ بندکردیاجاتاہے اور شیاطین کو جکڑدیاجاتاہے۔

(ب) عن أبی ھریرۃ مرفوعا:’’ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ‘‘جب رمضان کا مہینہ آتاہے تو آسمان کا دروازہ کھول دیاجاتاہے اور جہنم کا دروازہ بندکردیاجاتاہے اور شیاطین کو جکڑدیاجاتاہے۔

(ج) عن أبی ھریرۃ مرفوعا:’’ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ‘‘جب رمضان کا مہینہ آتاہے تو جنت کا دروازہ کھول دیاجاتاہے اور جہنم کا دروازہ بندکردیاجاتا ہے اور شیاطین کو جکڑدیاجاتاہے۔(بخاری:1899،3277مسلم:1079،2495،2496)

(24)رمضان کا مہینہ گناہوں کے مٹ جانے کا سبب ہے:

عن أبی ھریرۃ مرفوعا:’’ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ‘‘ پانچوں نمازیں ،ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک اپنے اپنے درمیان ہونے والے گناہوں کو مٹادیتاہے جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیاجائے۔(مسلم:233)

(25) رمضان کے مہینے میں روزے رکھنا دس مہینوں کے برابر روزہ رکھنا ہے:

عن أبی ایوب الانصاری مرفوعا:’’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ‘‘ جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھراس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویاکہ اس نے ساراسال ہی روزہ رکھا۔مسلم:1164) وفی روایۃ مسند احمد: جس نے رمضان کے روزے رکھے تو ایک ماہ دس ماہ کے برابرہے۔۔۔۔۔(21906)

(26) رمضان میں روزہ رکھنا پورے گناہوں کے مٹ جانے کا سبب ہے:

عن أبی ھریرۃ مرفوعا:’’ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‘‘جس نے بھی رمضان میں ایمان اوراجروثواب کی نیت سے روزے رکھے اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔(بخاری:2014،مسلم:760)

(27) رمضان میں قیام کرنا پورے گناہوں کے مٹ جانے کا سبب ہے:

عن أبی ھریرۃ مرفوعا:’’ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‘‘ جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان اوراجروثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔(صحیح ابوداؤد للألبانی:1241)

(28) رمضان میں امام کے ساتھ قیام کرنے پرساری رات قیام کرنے کا اجر وثواب ملتا ہے:

جیسا کہ ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ آپﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے نبیﷺکاش آپ ہمیں پوری رات قیام فرماتے تو آپﷺ نے فرمایا کہ:’’ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَإِنَّهُ يَعْدِلُ قِيَامَ لَيْلَةٍ ‘‘ جو شخص امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک قیام کرتا ہے تو اس کا وہ قیام اجروثواب میں پوری رات کے قیام کے برابر ہوتا ہے۔ ( ابن ماجہ:1327،ابوداؤد:1375،اسنادہ صحیح)

مرتب

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی​
 
Top