• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہ صفر کے متعلق دور جاہلیت کے عقائد

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
ماہ صفر کے متعلق دور جاہلیت کے عقائد

13930: معنى حديث لا هامة ولا صفر ولا نوء ولا غول
----------------------------------
قرأت حديثا غريبا فيه نفي الهامة والصفر والنوء والغول فما معنى هذه العبارات.
الحمد لله
قال ابن مفلح الحنبلي :
في المسند والصحيحين وغيرها عنه عليه السلام قال : " لا هامة ولا صفر " ، زاد مسلم وغيره " ولا نَوء ولا غُول " .
فالهامَة : مفرد الهام ، وكان أهل الجاهلية يقولون : ليس أحد يموت فيدفن إلا خرج من قبره هامَة ، وكانت العرب تزعم أن عظام الميت تصير هامَة فتطير ، وكانوا يقولون : إن القتيل يخرج من هامته أي : من رأسه هامة ، فلا تزال تقول : اسقوني ، اسقوني حتى يؤخذ بثأره ويقتل قاتله .
وقوله " لا صَفَر " قيل : كانوا يتشاءمون بدخول صفر ، فقال عليه السلام " لا صَفَر " ، وقيل : كانت العرب تزعم أن في البطن حية تصيب الإنسان إذا جامع وتؤذيه وإنما تعدي فأبطله الشارع . وقال مالك : كان أهل الجاهلية يحلون صفر عاماً ويحرمونه عاماً .
والنَّوء : واحد الأنواء ، وهي ثمانية وعشرون منـزلة ، وهي منازل القمر ومنه قوله تعالى { والقمر قدرناه منازل } ، ويسقط في الغرب كل ثلاث عشرة ليلة منزلة مع طلوع الفجر ، ويطلع أخرى مقابلها ذلك الوقت في الشرق فتنقضي جميعها مع انقضاء السنة وكانت العرب تزعم أن مع سقوط المنزلة وطلوع نظيرها يكون مطر فينسبونه إليها فيقولون مطرنا بنوء كذا ، وإنما سمي نوءا لأنه إذا سقط الساقط منها بالغرب ناء الطالع بالشرق ينوء نوءا أي : نهض وطلع ، وقيل : أراد بالنوء الغروب وهو من الأضداد .
فأما من جعل المطر من فعل الله تعالى وأراد بقوله مطرنا بنوء كذا أي : في نوء كذا أي : إن الله أجرى العادة بالمطر في هذا الوقت فلنا خلاف في تحريمه وكراهته .
والغول : أحد الغيلان وهي جنس من الجن ، والشياطين ، كانت العرب تزعم أن الغول في الفلاة يتراءى للناس فيتغول تغولا أي : يتلون تلونا في صور شتى ويغولهم أي : يضلهم عن الطريق ويهلكهم ، فنفاه الشارع وأبطله قيل هذا .
وقيل : ليس نفياً لعين الغول ووجوده وإنما فيه إبطال زعم العرب وتلونه بالصور المختلفة واغتياله فيكون معنى " لا غول " لأنها لا تستطيع أن تضل أحداً ، ويشهد له الحديث الأخير " لا غول ولكن السعالي " ، وهو في مسلم وغيره ، و " السعالي " : سحرة الجن لكن في الجن سحرة لهم تلبيس وتخييل ، ... وروى الخلال عن طاوس أن رجلا صحبه فصاح غراب فقال : خير ، خير ، فقال له طاوس : وأي خير عند هذا ، وأي شر ؟ لا تصحبني .
" الآداب الشرعية " ( 3 / 369 ، 370 ) .
وقال ابن القيم :
ذهب بعضهم إلى أن قوله " لا يورد ممرض على مصح " منسوخ بقوله " لا عدوى " ، وهذا غير صحيح ، وهو مما تقدم آنفاً أن المنهي عنه نوع غير المأذون فيه ، فإن الذي نفاه النبي صلى الله عليه وسلم في قوله " لا عدوى ولا صَفَر " هو ما كان عليه أهل الإشراك من اعتقادهم ثبوت ذلك على قياس شركهم وقاعدة كفرهم ، والذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم من إيراد الممرض على المصح فيه تأويلان :
أحدهما : خشية توريط النفوس في نسبة ما عسى أن يقدره الله تعالى من ذلك إلى العدوى ، وفيه التشويش على من يورد عليه وتعريضه لاعتقاد العدوى فلا تنافي بينهما بحال .
والتأويل الثاني : أن هذا إنما يدل على أن إيراد الممرض على المصح قد يكون سبباً يخلق الله تعالى به فيه المرض ، فيكون إيراده سبباً ، وقد يصرف الله سبحانه تأثيره بأسباب تضاده أو تمنعه قوة السببية وهذا محض التوحيد بخلاف ما كان عليه أهل الشرك .
وهذا نظير نفيه سبحانه الشفاعة في يوم القيامة بقوله { لا بيع فيه ولا خلة ولا شفاعة } فإنه لا تضاد الأحاديث المتواترة المصرحة بإثباتها ، فإنه سبحانه إنما نفى الشفاعة التي كان أهل الشرك يثبتونها وهي شفاعة يتقدم فيها الشافع بين يدي المشفوع عنده وإن لم يأذن له ، وأما التي أثبتها الله ورسوله فهي الشفاعة التي تكون من بعد إذنه كقوله { من ذا الذي يشفع عنده إلا بإذنه } وقوله { ولا يشفعون إلا لمن ارتضى } وقوله { ولا تنفع الشفاعة عنده إلا لمن أذن له } . " حاشية تهذيب سنن أبي داود " ( 10 / 289 - 291 ) .
والله الموفق للصواب .
الإسلام سؤال وجواب
الشيخ محمد صالح المنجد

http://islamqa.info/ar/13930
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ
13930: حدیث ولاصفر ولا نوء ولا غول ) کامعنی
---------------------------------------
میں نے ایک عجیب وغریب حدیث پڑھی جس میں ۔۔ھامۃ اور صفر اورنوء۔۔ اورغول کی نفی کی گئ ہے ، تو ان عبارتوں کا معنی کیا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب
الحمد للہ
ھامۃ ( اھل جاہلیت کا عقیدہ تھا کہ میت کی ہڈیاں ایک پرندے کی شکل اختیار کرلیتی ہیں ۔
صفر ( اھل جاہلیت یہ بھی ایک عقیدہ تھا کہ پیٹ کے کیڑوں سےموت متعدی ہے ) ۔
نوء ( اہل جاھلیت کہتے تھے کہ بارش ایک ستارہ کی بنا پرہوتی ہے ) ۔
غول ( یہ بھی ایک عقیدہ تھا کہ جن میں سے ایک قسم یا چھلاوہ یا بھوت ہے جومسافرکو اس کے راستے سے بھٹکا دیتا ہے
)

ابن مفلح حنبلی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :
مسند احمد اورصحیحین وغیرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ( نہ توھامہ اور نہ ہی صفر ہے )
اور مسلم وغیرہ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں ( اورنہ ہی نوء اور غول بھی نہيں ) ۔ تو الھامۃ الھام کا مفرد ہے ،
اوراہل جاھلیت یہ کہتے تھے کہ جوکوئ مرنے کے بعددفن ہو تواس کی قبر سے ایک پرندہ نکلتا ہے ،
اور عرب کا یہ گمان تھا کہ میت کی ھڈیاں پرندے کی شکل اختیارکرکے اڑجاتی ہیں ، اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ مقتول اپنی کھوپڑی سے نکل کریہ کہتا رہتا ہے کہ مجھے پلاؤ مجھے پلاؤ حتی کہ اس کا انتقام لیا جاتا اور قاتل کوقتل کردیا جاتا ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( ولاصفر ) کے معنی میں ایک قول تو یہ ہے ::کہ اہل جاہلیت صفر کے مہینہ کو منحوس قرار دیتے تھے ۔
اور ایک قول یہ ہے کہ : عرب یہ خیال کرتے تھے کہ پیٹ میں ایک قسم کا کیڑا ہوتا ہے جو جماع کے وقت اذیت دیتا ہے اور یہ متعدی ہے توشارع نے اسے باطل قرار دیا ۔

اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ اہل جاہلیت ایک سال صفر کا مہینہ حلال اور دوسرے سال حرام قرار دیتے تھے ۔

اور النوء : انواء کی واحد ہے ، اور یہ اٹھارہ منزلیں جو کہ چاند کی منزلیں ہیں اسی کے متعلق اللہ تعالی کافرمان ہے :
{ اورہم نے چاند کی منزلیں مقرر فرمائيں }
اورمغرب میں ہرتیرہ ( 13 ) راتوں میں ایک منزل طلوع فجر کے وقت گرجاتی اور اس کے مقابلہ میں مشرق میں اسی وقت ایک طلوع ہوجاتی ہے تو سال پوارہونے پریہ سب ختم ہوجاتی ہیں ،
عرب کا خیال تھا کہ ایک منزل کے گرنے اوراس کےمقابلہ میں دوسری کا طلوع ہونے سے بارش ہوتی ہے
تو اس لیے وہ بارش کو اس نوء کی طرف منسوب کرتے تھے ۔
اور اسے نوء اس لیے کہا گيا ہے کہ مغرب میں ایک گرتی ہے تو مشرق میں دوسری طلوع ہوجاتی ہے ، اور یہ بھی کہا گيا ہے کہ اس سے غروب
مراد ہے تواس طرح یہ اضداد میں سے ہوا ۔

توجس نے بارش اللہ تعالی کا فعل بنائ اور مطرنا بنوء کذا سے یہ مراد لیا کہ ہمیں بارش اس وقت حاصل ہوئ ، یعنی اللہ تعالی نے یہ عادت رکھی ہے
کہ ہمیں اس وقت بارش حاصل ہو توہمارے ہاں اس کی حرمت اور کراھت میں اختلاف ہے ۔

الغول : غیلان میں سے ایک ہے جو کہ جنوں اور شیطانوں کی جنس ہے ، عرب میں مشہور تھا کہ بھوت اورچھلاوہ کھلی جگہوں پرہوتے ہیں
اورلوگوں سےآنکھ مچولی کھیل کرانہیں مختلف شکلوں میں ظاہرہوکرراستے سے بھٹکاتے اور ہلاک کردیتے ہیں ،
توشارع نے یہ عقیدہ باطل قرار دیا ۔
اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ : اس میں غول بھوت کی نفی نہیں بلکہ اس میں اس عقیدے کی نفی ہے جوعرب رکھتے تھے کہ بھوت مختلف شکلوں میں
آکرانہیں گمراہ کردیتا ہے ،تومعنی یہ ہوگا کہ وہ کسی کو گمراہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ، اس معنی کی شاھد صحیح مسلم وغیرہ کی وہ حدیث ہے
جس میں یہ مذکور ہے کہ لاغول لکن السعالی ، بھوت نہیں بلکہ چھلاوہ ہے ، اور سعالی جنوں کے جادوگر ہیں جنہیں تخیل اورتلبیس میں ملکہ حاصل ہے ۔

خلال نے طاوس سے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی ان کے ساتھ ہولیا توکوا چیخنے لگا کہ خیر ہے خیر تو طاوس اسے کہنے لگے یہ اس کےپاس
کونسی خیر اورکونسا شر ہے ؟ میرے ساتھ نہ چلو ۔ الاداب الشرعیۃ ( 3 / 36۹ - 370 )۔
ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :
بعض کا یہ کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ( مریض صحیح بدن والے پرسے نہ گزرے ) منسوخ ہے اوراس کا ناسخ ( لاعدوی ) کہ کوئ
بیماری متعدی نہیں ۔ یہ قول صحیح نہیں ، یہ اس میں سے ہی ہے جو ابھی اوپرگذراہے کہ منہی عنہ وہ قسم ہے جس کی اجازت نہیں ، اور نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے جس کی نفی اس قول ( لاعدوی ولا صفر ) میں ہے وہ یہ ہے کہ جس عقیدہ پر اہل جاہلیت تھے اور اور اپنے کفروشرک کے ثبوت
پرقیاس کرتے تھے ۔ اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نفی کہ مریض صحیح پرسے نہ گذرے کی دو تاویلیں ہیں :

پہلی :
نفس کے ورطہ میں پڑجانے کا کچھ نہ کچھ خطرہ کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس سے متعدی بیماری کومقدر کردے ۔
تواس میں صحیح شخص کوتشویش میں مبتلا ہونے اور اسے متعدی بیماری کا اعتقاد پیش آۓ گا تویہ دونوں کسی بھی حال میں منافی نہیں ۔
دوسری :
یہ تواس پردلالت کرتا ہے کہ مریض کا صحیح شخص پرورود ایک ایسا سبب بن سکتا جس سے اللہ تعالی اس میں مرض پیدا کردے تو اس کا ورود
سبب ہوگا ، اور ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کی تاثیر ایسے اسباب سے پھیر دے جو اس کے مخالف ہوں یا پھر اسے قوت سببیہ روک دے ، اور یہ
خالص توحید اور اہل شرک کے عقیدہ کے خلاف ہے ۔ اور یہ نفی بھی اسی طرح کی ہے جس میں اللہ تعالی نے قیامت کے دن
شفاعت کی نفی فرماتے ہوۓ کہا ہے :
{ جس دن نہ توخریدوفروخت ہوگی اور نہ ہی کو‏ئ دوستی اور سفارش }
تواحادیث متواترہ صحیحہ جو کہ سفارش کے ثبوت کی صراحت کرتی ہيں کے اوراس آيت میں کوئ تضاد نہیں اللہ تعالی نے تواس سفارش کی نفی کی
ہے جومشرکین کے ہاں معروف تھی کہ سفارش کرنے والا اجازت کی بغیر ہی سفارش کرے ۔
اور جوسفارش اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کی ہے وہ سفارش تواجازت ملنے کے بعدہو گی ؛
جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا :
{ کون ہے جواس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے ؟ } ۔
اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اوروہ سفارش بھی اس کے لیے کریں گے جس پراللہ تعالی راضی ہوگا } ۔
اور فرمان باری تعالی ہے :
{ اوراس کے پاس سفارش نفع نہیں دے گی مگر جسے اس کی اجازت دی
جاۓ } ۔ حاشیۃ تھذيب سنن ابی داود ( 10 / 289 - 291 ) ۔
اور اللہ تعالی ہی صحیح راہ کی توفیق بخشنے والا ہے ۔ .
واللہ تعالی اعلم.
الشیخ محمد صالح المنجد
http://islamqa.info/ur/13930
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top