• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محدثانہ اور فلسفی ذہن

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
یہ بات درست ہے کہ محدث اور فلسفی میں سے ہر ایک کا میدان فرق ہے اور ہر ایک نے اپنے میدان میں زندگی گزاری ہے، اس لیے ممکن ہے کہ ایک کو فوری طور دوسرے کی بات سمجھ نہ آئے لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ تم محدثین کو نرا اخباری ہونے کا طعن دو۔

باکسر اگر پہلوان پر یہ طعن کرے کہ وہ تو نرا گوشت کا پہاڑ ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا پہلوان سے اکھاڑے میں کبھی سامنا نہیں ہوا۔ اگر محدث العصر اصول حدیث اور خبر کی زبان واصطلاح میں فلسفی وقت سے کچھ کہے تو وہ کیا خاک سمجھے گا؟

حدیث کا مفہوم ہے کہ لوگ مختلف مزاجوں پر پیدا کیے جاتے ہیں اور یہ مزاج ہی دراصل ان کی آزمائش اور امتحان ہوتے ہیں۔ تو فلسفیانہ مزاج پروردگار کی طرف سے نعمت سے زیادہ آزمائش تھی اور اس کے حاملین اس کے فتنہ ہونے کا ادراک نہ کر پائے۔ اور صحابہ اور سلف صالحین کے کتاب وسنت کے فہم کو سادہ بیان قرار دے کر فلسفیانہ موشگافیوں اور کلامی کج بحثیوں میں پڑ گئے کہ ان کا مزاج خواص کا تھا لہذا انہیں خاص نظریہ چاہیے تھا نہ کہ خالص۔

اگر اللہ نے تخلیقی نوعیت کی ذہانت کی نعمت سے نوازا ہے تو اس کا شکر ادا کرنے کا کیا یہ طریقہ ہے کہ انسان نبی اور رسول سے بڑھ کر حکیم بننے کی کوشش کرے؟ کہ کسی نبی اور رسول یا ان کے صحابہ نے اپنی دعوت میں فلسفیوں کا سا انداز اختیار نہیں کیا۔

ہمارے سلف صالحین اعتصام بالکتاب والسنۃ پر بہت زور دیتے تھے۔ اور یہ فلسفیانہ کج بحثیاں اور وقت کا ضیاع اعتصام بالکتاب والسنۃ نہ ہونے کی سزا ہے۔ دن میں پندرہ گھنٹے فلسفہ وکلام کا مطالعہ ہو اور ایک گھنٹہ کتاب وسنت کا تو اس فتنے میں مبتلا ہونا انسان کا مقدر ہے اور فتنہ در فتنہ یہ ہے کہ وهم يحسبون أنهم يحسنون صنعا۔

اپنے زندگی کے بہترین اوقات فلسفہ اور کلام پڑھنے پڑھانے میں لگا دیں اور کتاب وسنت کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد اللہ سے امید رکھیں کہ آپ سلامتی فکر حاصل کر لیں گے تو یہ غلط محض ہے۔

اور اعتصام یہ بھی نہیں ہے کہ ایک دفعہ خوب محنت سے قرآن مجید یا حدیث شریف پڑھ لی۔ اعتصام کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح تمہاری زندگی گزرے کہ تمہارے دائیں ہاتھ میں قرآن مجید ہوں اوربائیں میں حدیث ہو۔ اور جب مرنے لگو تو نہ صرف تمہارے سینے میں بلکہ اس پر بھی کتاب وسنت ہو، یہ اعتصام ہے۔

فلسفہ، اہل کلام اور اہل کشف کے طریقوں سے رجوع کرنے کے بعد یہی امام غزالی اور امام الحرمین رحمہما اللہ وغیرہ کا آخر عمل تھا کہ ان کی وفات محدثین کے منہج پر ہوئی اور امام غزالی رحمہ اللہ کی اس حال میں کہ صحیح البخاری ان کے سینے پر تھی۔

مضمون نگار: محترم شیخ @ابوالحسن علوی صاحب
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جزاک اللہ خیرا محترم عامر بھائی!
زائد کو حذف کردیا گیا ہے۔ بارک اللہ لک!
 
Top