السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیوخ، علمائے کرام اور اراکینِ محدث فورم،
آج ایک ایسا ایمان افروز اور چشم کشا علمی نکتہ آپ احبابِ ذی وقار کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، جو نہ صرف ہمارے روزمرہ کے مطالعہِ قرآن سے جڑا ہے، بلکہ اس میں "محدثین کرام کے بے لاگ عدل و انصاف" اور "علمِ اسماء الرجال کی حقانیت" کا ایک ایسا شاندار ثبوت پنہاں ہے جو عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔
ہم سب روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ شاہ فہد کمپلیکس (سعودی عرب) سے شائع ہونے والے 'مصحف المدینہ' کے بالکل آخری صفحے پر اگر ہم نظر دوڑائیں، تو وہاں "التعريف بهذا المصحف الشريف" کے عنوان سے ایک انتہائی اہم تکنیکی اور علمی عبارت درج ہوتی ہے۔
پہلے وہ اصل عربی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
"كُتِب هذا المصحف الشريف وضُبِط على ما يوافق رواية حفص بن سليمان بن المغيرة الأسدي الكوفي لقراءة عاصم بن أبي النجود الكوفي التابعي عن أبي عبد الرحمن عبد الله بن حبيب السلمي عن عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب وزيد بن ثابت وأبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم."
اردو ترجمہ:
"یہ مصحفِ شریف حفص بن سلیمان بن مغیرہ اسدی کوفیؒ کی روایت کے مطابق لکھا گیا ہے اور اس پر اعراب لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ قراءت تابعی عاصم بن ابی النجود کوفیؒ سے حاصل کی، انہوں نے ابو عبدالرحمٰن السلمیؒ سے، انہوں نے حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہم) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔"
یعنی آج پوری دنیا میں جو قرآن سب سے زیادہ پڑھا اور چھاپا جاتا ہے، وہ امام حفصؒ کی روایت کردہ قراءت کے مطابق ہے۔ وہ قراءت کے بے تاج بادشاہ اور متفقہ امام ہیں۔
لیکن... یہاں سے علمِ رجال کا وہ حیران کن باب کھلتا ہے جو محدثین کی عظمت کو سلام کرنے پر مجبور کر دیتا ہے!
قراءت کے اتنے بڑے امام، جن کے بتائے ہوئے تلفظ پر آج پوری امتِ مسلمہ قرآن پڑھ رہی ہے، جب یہی امام حفصؒ "علمِ حدیث" کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہمارے محدثین ان کی جلالتِ علمی سے مرعوب نہیں ہوتے۔ محدثین کے ہاں حدیثِ رسول ﷺ کی حفاظت کا معیار اتنا سخت ہے کہ انہوں نے امام حفصؒ کو حدیث کے میدان میں "ضعیف" اور "متروک" قرار دے دیا!
امام یحییٰ بن معینؒ فرماتے ہیں: "لیس بثقۃ" (وہ ثقہ نہیں ہیں)۔
امام بخاریؒ فرماتے ہیں: "ترکوہ" (محدثین نے ان کی احادیث کو ترک کر دیا ہے)۔
امام احمد بن حنبلؒ اور امام نسائیؒ نے بھی انہیں حدیث میں متروک قرار دیا۔
اور اس پوری بحث کا نچوڑ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے 'تقریب التہذیب' میں ایک ہی شاہکار جملے میں سمو دیا ہے۔ حافظ صاحب کا یہ متوازن جملہ سونے کے پانی سے لکھنے کے لائق ہے:
"متروك الحديث مع إمامته في القراءة"
(یعنی وہ قراءت کے تو امام ہیں، لیکن حدیث کے معاملے میں متروک ہیں)۔
اس حیران کن حقیقت سے ہمیں کیا علمی موتی ملتے ہیں؟
1. محدثین کا کمالِ انصاف اور دین میں بے لاگ احتیاط:
یہ اس بات کی سب سے بڑی اور روشن دلیل ہے کہ محدثین نے کسی شخصیت کے رعب میں آکر اصولِ حدیث پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ جو شخص قرآن کا امام ہے، جب اس کا حافظہ حدیث کے میدان میں کمزور پایا گیا، تو محدثین نے بغیر کسی رعایت کے انہیں ضعیف لکھ دیا۔ یہ ان کا دین کے معاملے میں کمالِ احتیاط تھا کہ حدیثِ رسول ﷺ میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ رہے۔
2. تخصص فی العلم (Specialization):
امام حفصؒ کا اوڑھنا بچھونا صرف قرآن تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن کے الفاظ، مخارج اور تجوید پر صرف کر دی، اس لیے وہ قراءت کے اسپیشلسٹ بن گئے۔ حدیث ان کا میدان نہیں تھا۔ جس طرح ایک ماہر امراضِ قلب (Heart Specialist) آنکھوں کے علاج میں ماہر نہیں ہوتا، اسی طرح امام حفصؒ قراءت کے امام تھے، حدیث کے نہیں۔
3. قرآن کا تواترِ قطعی:
کسی کے ذہن میں یہ وسوسہ آ سکتا ہے کہ اگر امام حفصؒ ضعیف ہیں تو قرآن کی صحت کا کیا ہوگا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کسی ایک راوی کا محتاج نہیں، بلکہ یہ "تواتر" (ہر دور میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کے سینوں) سے ثابت ہے۔ امام حفصؒ قرآن کے راوی نہیں، بلکہ قرآن کو پڑھنے کے ایک خاص "لہجے اور تلفظ" (قراءت) کے راوی ہیں۔ قراءت کے تمام ائمہ ان کی اس مہارت پر متفق ہیں۔
سبحان اللہ! یہ ہے ہمارے اسلاف کا علمی ورثہ۔ ایک طرف قرآن کا تواتر ہے اور دوسری طرف محدثین کی وہ چھلنی ہے جس نے دین کو ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک رکھا۔
اکثر عوام قرآن کے آخری صفحات پر موجود اس قیمتی علمی خزانے سے ناواقف رہتے ہیں۔ سوچا اس فورم پر شیئر کروں تاکہ علم میں اضافہ ہو۔ اس حوالے سے اگر شیوخ اور اہل علم مزید کچھ روشنی ڈالنا چاہیں تو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔
والسلام!
طالبِ علم
محترم شیوخ، علمائے کرام اور اراکینِ محدث فورم،
آج ایک ایسا ایمان افروز اور چشم کشا علمی نکتہ آپ احبابِ ذی وقار کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، جو نہ صرف ہمارے روزمرہ کے مطالعہِ قرآن سے جڑا ہے، بلکہ اس میں "محدثین کرام کے بے لاگ عدل و انصاف" اور "علمِ اسماء الرجال کی حقانیت" کا ایک ایسا شاندار ثبوت پنہاں ہے جو عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔
ہم سب روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ شاہ فہد کمپلیکس (سعودی عرب) سے شائع ہونے والے 'مصحف المدینہ' کے بالکل آخری صفحے پر اگر ہم نظر دوڑائیں، تو وہاں "التعريف بهذا المصحف الشريف" کے عنوان سے ایک انتہائی اہم تکنیکی اور علمی عبارت درج ہوتی ہے۔
پہلے وہ اصل عربی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
"كُتِب هذا المصحف الشريف وضُبِط على ما يوافق رواية حفص بن سليمان بن المغيرة الأسدي الكوفي لقراءة عاصم بن أبي النجود الكوفي التابعي عن أبي عبد الرحمن عبد الله بن حبيب السلمي عن عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب وزيد بن ثابت وأبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم."
اردو ترجمہ:
"یہ مصحفِ شریف حفص بن سلیمان بن مغیرہ اسدی کوفیؒ کی روایت کے مطابق لکھا گیا ہے اور اس پر اعراب لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ قراءت تابعی عاصم بن ابی النجود کوفیؒ سے حاصل کی، انہوں نے ابو عبدالرحمٰن السلمیؒ سے، انہوں نے حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہم) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔"
یعنی آج پوری دنیا میں جو قرآن سب سے زیادہ پڑھا اور چھاپا جاتا ہے، وہ امام حفصؒ کی روایت کردہ قراءت کے مطابق ہے۔ وہ قراءت کے بے تاج بادشاہ اور متفقہ امام ہیں۔
لیکن... یہاں سے علمِ رجال کا وہ حیران کن باب کھلتا ہے جو محدثین کی عظمت کو سلام کرنے پر مجبور کر دیتا ہے!
قراءت کے اتنے بڑے امام، جن کے بتائے ہوئے تلفظ پر آج پوری امتِ مسلمہ قرآن پڑھ رہی ہے، جب یہی امام حفصؒ "علمِ حدیث" کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہمارے محدثین ان کی جلالتِ علمی سے مرعوب نہیں ہوتے۔ محدثین کے ہاں حدیثِ رسول ﷺ کی حفاظت کا معیار اتنا سخت ہے کہ انہوں نے امام حفصؒ کو حدیث کے میدان میں "ضعیف" اور "متروک" قرار دے دیا!
امام یحییٰ بن معینؒ فرماتے ہیں: "لیس بثقۃ" (وہ ثقہ نہیں ہیں)۔
امام بخاریؒ فرماتے ہیں: "ترکوہ" (محدثین نے ان کی احادیث کو ترک کر دیا ہے)۔
امام احمد بن حنبلؒ اور امام نسائیؒ نے بھی انہیں حدیث میں متروک قرار دیا۔
اور اس پوری بحث کا نچوڑ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے 'تقریب التہذیب' میں ایک ہی شاہکار جملے میں سمو دیا ہے۔ حافظ صاحب کا یہ متوازن جملہ سونے کے پانی سے لکھنے کے لائق ہے:
"متروك الحديث مع إمامته في القراءة"
(یعنی وہ قراءت کے تو امام ہیں، لیکن حدیث کے معاملے میں متروک ہیں)۔
اس حیران کن حقیقت سے ہمیں کیا علمی موتی ملتے ہیں؟
1. محدثین کا کمالِ انصاف اور دین میں بے لاگ احتیاط:
یہ اس بات کی سب سے بڑی اور روشن دلیل ہے کہ محدثین نے کسی شخصیت کے رعب میں آکر اصولِ حدیث پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ جو شخص قرآن کا امام ہے، جب اس کا حافظہ حدیث کے میدان میں کمزور پایا گیا، تو محدثین نے بغیر کسی رعایت کے انہیں ضعیف لکھ دیا۔ یہ ان کا دین کے معاملے میں کمالِ احتیاط تھا کہ حدیثِ رسول ﷺ میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ رہے۔
2. تخصص فی العلم (Specialization):
امام حفصؒ کا اوڑھنا بچھونا صرف قرآن تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن کے الفاظ، مخارج اور تجوید پر صرف کر دی، اس لیے وہ قراءت کے اسپیشلسٹ بن گئے۔ حدیث ان کا میدان نہیں تھا۔ جس طرح ایک ماہر امراضِ قلب (Heart Specialist) آنکھوں کے علاج میں ماہر نہیں ہوتا، اسی طرح امام حفصؒ قراءت کے امام تھے، حدیث کے نہیں۔
3. قرآن کا تواترِ قطعی:
کسی کے ذہن میں یہ وسوسہ آ سکتا ہے کہ اگر امام حفصؒ ضعیف ہیں تو قرآن کی صحت کا کیا ہوگا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کسی ایک راوی کا محتاج نہیں، بلکہ یہ "تواتر" (ہر دور میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کے سینوں) سے ثابت ہے۔ امام حفصؒ قرآن کے راوی نہیں، بلکہ قرآن کو پڑھنے کے ایک خاص "لہجے اور تلفظ" (قراءت) کے راوی ہیں۔ قراءت کے تمام ائمہ ان کی اس مہارت پر متفق ہیں۔
سبحان اللہ! یہ ہے ہمارے اسلاف کا علمی ورثہ۔ ایک طرف قرآن کا تواتر ہے اور دوسری طرف محدثین کی وہ چھلنی ہے جس نے دین کو ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک رکھا۔
اکثر عوام قرآن کے آخری صفحات پر موجود اس قیمتی علمی خزانے سے ناواقف رہتے ہیں۔ سوچا اس فورم پر شیئر کروں تاکہ علم میں اضافہ ہو۔ اس حوالے سے اگر شیوخ اور اہل علم مزید کچھ روشنی ڈالنا چاہیں تو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔
والسلام!
طالبِ علم