• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اعلانات محدث فورم کی نئے سافٹ ویئر پر منتقلی : شکایات و مسائل

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
2,024
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
437
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
پہلے کسی بھی ممبر کے لئے اسکے مراسلات کا ریکارڈ آسان تھا کیونکہ اس کے لئے آپ کے شروع کئے گئے موضوعات اور آپ کے مراسلات کے نام سے دو بہترین آپشن تھے لیکن اب ایسا کوئی آپشن نہیں ہے جس کے ذریعے میں اپنے شروع کئے گئے موضوعات دیکھ سکوں ۔ کیا اسکا کوئی حل ہے؟
 
شمولیت
دسمبر 09، 2020
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
17
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
میں نے دوسوال اپلوڈ کر رکھے ہیں لیکن علماء حضرات نے کوئی توجہ نہیں فرمائی۔ کیا اس کا کوئی اور طریقہ کار ہے؟؟؟
 

tahah5496

مبتدی
شمولیت
مارچ 25، 2023
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
کیا تفسیر مجاھد کی سند ٹھیک ہے؟
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
میں نے دوسوال اپلوڈ کر رکھے ہیں لیکن علماء حضرات نے کوئی توجہ نہیں فرمائی۔ کیا اس کا کوئی اور طریقہ کار ہے؟؟؟
محمدالمدنی بھائی! آپ ہماری فتویٰ سائٹ پر سوال پوسٹ کیا کریں۔
 

AbuHishaam

رکن
شمولیت
نومبر 01، 2015
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
45
اپنی لوکیشن تبدیل کی تو ایک مشکل نظر آئی ہے ، میں نے کراچی لکھا تو "کراچیسے" میرے پروفائل پر نظر آرہا ہے، اس کا جگاڑ"کراچی۔"ڈیش لگایا ہے فی الحال، فورم کے فورم پر سرچ کرکے چیک کریں اس کا حل موجود ہوگاوہ ٹھیک کروالیں
 
شمولیت
فروری 01، 2020
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
-1
پوائنٹ
42
خلع عورت کا حق ہے مگر۔۔۔۔۔۔​

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی

8080697348
(ممبئی، انڈیا)


نکاح مرد و عورت کے درمیان ایک معاہدے کا نام ہے۔ یہ معاہدہ استقرار، دوام اور پائیداری چاہتا ہے۔ اسی بنیاد پر نکاح کے بعد علیحدگی کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ تاہم بعض اوقات ایسی مجبوریاں اور حالات پیش آجاتے ہیں کہ اس معاہدے کو ختم کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ شریعت نے نکاح کے اختتام کے لیے مختلف طریقے مقرر کیے ہیں۔

١۔ طلاق:

اگر معاہدۂ نکاح کو مرد ختم کرنا چاہے تو وہ اپنی بیوی سے کہہ سکتا ہے: ’’میں نے آپ کو چھوڑ دیا‘‘ یا ’’میں نے آپ کو طلاق دے دی۔‘‘ یعنی اب وہ اس کے ساتھ رشتۂ ازدواج برقرار رکھنا نہیں چاہتا۔ اس کے لیے عموماً طلاق کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح نکاح کا معاہدہ ختم ہوجاتا ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عام معاہدوں کی طرح نکاح کا معاہدہ بھی قائم کرنے کے لیے دونوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، لیکن اسے ختم کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ دونوں فریق بھی راضی ہوں۔ چنانچہ اگر مرد نکاح کے معاہدے کو ختم کرنا چاہے تو عورت راضی ہو یا نہ ہو، مرد طلاق دے سکتا ہے اور طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

٢۔ خلع:

نکاح کے معاہدے کو ایک نئے معاہدے کے ذریعے ختم کرنے کو خلع کہتے ہیں۔ چونکہ خلع بھی ایک باہمی معاہدہ ہے، جس میں عموماً مالی عوض کا معاملہ ہوتا ہے، اس لیے اس میں دونوں میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ جب تک دوسرا فریق راضی نہ ہو، معاہدہ قائم نہیں ہوسکتا؛ اسی طرح باہمی رضامندی کے بغیر خلع بھی نہیں ہوسکتا۔

چونکہ خلع میں ایک معاہدہ، یعنی نکاح کو دوسرے معاہدے، یعنی خلع کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے، اس لیے جس طرح نکاح میں مہر لازم ہوتا ہے، اُسی طرح خلع میں مہر کی معافی یا واپسی کا معاملہ پیش آتا ہے؛جس طرح مہر کے ذکر کے بغیر بھی نکاح درست ہوجاتا ہے، اسی طرح بعض صورتوں میں مہر کی واپسی یا معافی کا ذکر نہ ہونے کے باوجود بھی خلع واقع ہوسکتا ہے۔

آج کل یہ جملہ بہت مشہور ہے کہ ’’خلع عورت کا حق ہے۔‘‘ اس بات کی صرف اتنی حیثیت ہے کہ خلع کی پیش قدمی عموماً عورت کی طرف سے ہوتی ہے اور عرفاً بھی اسے اسی طور پر بیان کیا جاتا ہے؛ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس طرح مرد طلاق کے ذریعے اپنی بیوی کی رضامندی کے بغیر نکاح ختم کرسکتا ہے، اسی طرح عورت بھی محض اپنے اختیار سے خلع کے ذریعے نکاح ختم کرسکتی ہے۔

یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کی رضامندی کے بغیر نکاح کا معاہدہ ختم کرسکتا ہے تو عورت کو بھی ایسا اختیار کیوں نہیں دیا گیا؟ کیا یہ مساوات کے خلاف نہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مرد و عورت میں مکمل یکسانیت فطرت کے خلاف ہے۔ جو لوگ مساوات کی بات کرتے ہیں، وہ بھی زندگی کے تمام معاملات میں مکمل یکسانیت قائم نہیں کرسکتے، اور نہ یہ عملاً ممکن ہے۔ قدرت نےجس طرح مرد و عورت کی جسمانی ساخت میں فرق رکھا ہے، اسی طرھ ان کے مزاج، سوچ، احساسات اور بعض فطری میلانات میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ چال چلن، رہن سہن، کھانے پینے کی عادات، پسند و ناپسند، گفتگو، شرم و حیا اور آواز وغیرہ میں بھی فرق نمایاں ہوتا ہے۔

سماجی زندگی میں بھی دونوں کے کردار اور ذمہ داریوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ ایک مرد اگر ملازمت کرتا ہے اور خاصی آمدنی کماتا ہے تو عام طور پر اسے مرد کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر مرد کے بجائے عورت کمائے اور مرد گھر کے کام کاج، کھانا پکانے اور کپڑے وغیرہ دھونے کی ذمہ داری سنبھالے تو معاشرہ اسے اچھی نگاہ سےنہیں دیکھتاہے۔

خود حکومت نے بھی مردو عورت کے لئے الگ الگ ڈپاٹمنٹ بنائے ہیں۔ ہسپتال میں خواتین کے لئے الگ وارڈ ہوتے ہیں، ریلوے میں الگ ڈبے ہوتے ہیں،بس میں الگ سیٹیں ہوتی ہیں،طہارت خانے تو ہر جگہ الگ الگ ہی بنائے جاتے ہیں، کچھ نوکریاں صرف مرد وں کے لئے مخصوص ہیں ،عورتیں وہ کام نہیں کرسکتی ہیں۔

اسی طرح شریعت نے بھی بعض معاملات میں مرد و عورت کے احکام مختلف رکھے ہیں۔ مثلاً عورت پر جمعہ کی نماز فرض نہیں، پانچ وقت مسجد میں جاکر باجماعت نماز پڑھنا اس پر لازم نہیں، کسبِ معاش یعنی روزگارمہیاکرنا، اس کی شرعی ذمہ داری نہیں، شوہر اور اولاد کا خرچ بھی اس پر لازم نہیں؛ بلکہ اس کا نفقہ مختلف حالات میں باپ، بھائی یا شوہر یعنی مرد رشتہ داروں پر عائد کیا گیا ہے۔

اسی تناظر میں یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ نکاح کے معاہدے کو ختم کرنے کا یک طرفہ اختیار عورت کو اسی انداز میں نہیں دیا گیا جس طرح مرد کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے، بلکہ عورت کے لیے خلع کا راستہ شوہر کی رضامندی کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ یہ عورت کی تحقیر یا کمتری نہیں، بلکہ خاندانی نظام کو مستحکم کرنے اور چھوٹی بات پر طلاق یاخلع سے روکنے کا اہم ذریعہ ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عام طورپر عورتیں جذباتی ہوتی ہیں، ان کوجلدی غصہ آجاتاہے، شوہر سے ذرا نوک جھونک ہوئی طلاق کا مطالبہ کرناشروع کردیتی ہیں، ذرا تصورکیجئے کہ اگر عوت کو طلاق کی طرح خلع کا بھی اختیار مل جائے تو شاید ہی کوئی گھرمحفوظ رہ پائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض عورتیں ایسی نہیں ہوتی ہیں، لیکن ضابطہ اکثریت اور عام طورپرجو رجحان پایاجاتاہے اس کو دیکھ کربنایاجاتاہے، اس لئے اللہ تعالیٰ جو عورت کے عمومی مزاج سے واقف ہے، اس معاملہ میں عورت کو تنہے تنہا فیصلہ لینے کاحق نہیں دیا ہے۔

٣۔ فسخِ نکاح:

نکاح کے معاہدے کو قاضی کے ذریعے ختم کرنے کو فسخِ نکاح کہتے ہیں۔ اگر عورت پر ظلم ہو، یا نکاح برقرار رکھنا اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجائے، اور وہ نکاح ختم کرنا چاہے لیکن شوہرطلاق یاخلع پر رضامند نہ ہو، تو عورت قاضی سے رجوع کرسکتی ہے۔قاضی شریعت مرد کو نکاح ختم کرنے پرآمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ایسی صورت میں عموماً تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

(الف) شوہر نکاح ختم کرنے پر رضامند ہوجائے اور طلاق دے دے۔

(ب)شوہر نکاح ختم کرنے پر رضامند ہو، لیکن باہمی شرائط کے ساتھ معاملہ طے کرنا چاہے، تو خلع کے ذریعے نکاح ختم کیا جاسکتا ہے۔

(ج) شوہر ان دونوں صورتوں پر رضامند نہ ہو، لیکن فسخِ نکاح کے معتبر اسباب موجود ہوں، تو قاضی ظلم کے ازالے اور عدل کے قیام کے لیے نکاح فسخ کرسکتا ہے، خواہ شوہر راضی ہو یا نہ ہو۔

٤۔ تفریق:

بعض ایسی بھی شکلیں ہیں جن میں مرد وعورت دونوں کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح از خود ختم ہوجاتاہے، جیسے حرمت مصاہرت، زوجین میں سے کسی ایک کی وفات وغیرہ۔یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جس طرح قانونی اور سماجی ایگریمنٹ میں بعض ایسی دفعات بھی ہوتی ہیں جن سے ایگریمنٹ ازخود ختم ہوجاتاہے۔ چاہے فریق راضی ہو یانہ ہو۔

خلاصہ یہ ہے کہ نکاح ایک معاہدہ ہے اور شریعت نے اس معاہدے کے خاتمے کی مختلف صورتیں رکھی ہیں: طلاق، خلع، فسخِ نکاح اور تفریق۔ان میں سے پہلی صورت، یعنی طلاق میں مرد کو یک طرفہ اختیار دیا گیا ہے۔دوسری صورت، یعنی خلع میں عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے اور دونوں کی رضامندی سے نکاح ختم کرنے کا معاہدہ طے پائے۔تیسری صورت، یعنی فسخِ نکاح میں عورت کا مطالبہ اور فسخ کے معتبر اسباب کا موجود ہونا ضروری ہے، جس کے بعد قاضیِ شرع شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح ختم کرسکتا ہے؛اور آخری صورت، یعنی تفریق میں میاں بیوی میں سے کسی ایک کی رضامندی بھی ضروری نہیں ہوتی، بلکہ مخصوص شرعی سبب کی بنا پر نکاح کا تعلق از خود ختم ہوجاتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہاں قاضی سے مراد وہ شخص ہے جسےامیرالمؤمنین یا مسلمانوں کی بڑی جماعت یا ان کے کسی مجاز نمائندہ ادارے کی طرف سے اس نوعیت کے امور کے تصفیہ کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔فقط
 
Top