محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,823
- پوائنٹ
- 1,069
محرم الحرام۱۴۳۴ ....... اسلامی سال نو کا آغاز
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین أما بعد!
فأعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفثہ
إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللَّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِی کِتَابِ اللَّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِیہِنَّ أَنْفُسَکُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّۃً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ مَعَ الْمُتَّقِینَ (التوبۃ: 36)
اللہ نے جب سے زمین وآسمان پیدا فرمائے ہیں اس وقت سے لے کر اسکے ہاں کتاب اللہ میں مہینوں کی کل تعداد بارہ ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ' یہ دین قیم ہے ' لہذا تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تمام تر مشرکین سے قتال کرو جسطرح وہ تم سب سے قتال کرتے ہیں اور جان لو کہ یقینا اللہ تعالی پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ۔ اور اسلامی سال کو سن ہجری کہا جاتا ہے ۔ یہ سن ہجری ہجرت کے پرشکوہ واقعہ کی یاد کو تازہ کرتا ہے ۔ اور ہر سال نو کا آغاز ہمیں ہجرت نبوی ﷺ کے عظیم واقعہ کی یاد دلا کر اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ اگر مسلمانوں کو اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر تنگیوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے، اہل اسلام پر ظلم وبربریت کے پہاڑ توڑے جائیں ، ان پر عرصہء حیات کو تنگ کر دیا جائے تو ایسے کڑے وقت میں وہ کفر کے ساتھ مداہنت اور رواداری والا رویہ اپناتے ہوئے اپنے عقائد ونظریات میں لچک پیدا نہ کریں بلکہ اپنے دین وایمان کی حفاظت میں اپنا سب کچھ لٹانا پڑے تو لٹا دیں لیکن انکے پائے استقامت میں لغزش نہ پیدا ہونے دیں ۔
عقائد کے پختگی کے نتیجہ میں ہونے والی ہجرتیں ایک بنیاد پرست ریاست کے قیام کا سبب بنتی ہیں ، اور پھر وہ ریاست کفار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے ، اوروہ اسے مٹانے کے لیے چڑھ دوڑتے ہیں ۔ کبھی اکیلے اکیلے اور کبھی ملت کفر کا اتحاد بنا کر ۔ لیکن بہر دو صورت انہیں شکست وریخت کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس مملکت اسلامیہ کی بنیاد مضبوط عقائد پر ہوتی ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ اسلامی سلطنت پر حملہ آور باطل قوتوں کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور بالآخر وہ مسلمانوں کے آگے سرنگوں ہو جاتی ہیں ۔
ہجرت نبوی ﷺ کی طرف ایک طائرانہ نظر دوڑا کر دیکھیے کہ جب مکہ میں مسلمانوں پر عرصہ ء حیات تنگ کیا گیا وہ ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو کفار کو اسلام کا یوں پنپنا ہضم نہ ہوسکا ۔ انہوں نے ایک بہت بڑا اتحاد جمع کرکے مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا جسکے نتیجہ میں غزوہ احزاب یا غزوہ خندق ہوا ۔ وہ اس سے قبل بدر واحد میں مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے تجربات کر چکے تھے ۔ لیکن اب کی بار بھی کفر کے اتحاد نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے کامرانی کے دروازے کھول دیے ۔ اتحادیوں کے پاؤں اکھڑتے ہیں مدینہ کے ارد گرد میں موجود تمام تر یہودی قبائل اللہ نے مسلمانوںکے آگے زیر کر دیے ، امارت اسلامیہ پھلنے پھولنے لگی ، اموال غنائم سے مسلمانوں کی معاشی حالت فورا سنبھل گئی اور فتوحات کا یہ سلسلہ فتح مکہ تک جا پہنچا ، جسکے بعد فتوحات اسلامیہ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ۔
آج کل ہمارے حالات بھی کچھ اسی طرح کے بنے ہوئے ہیں ۔ کہ ملت کفر اسلام کو مٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔روس کے ٹوٹنے کے بعد افعانستان میں حدود اللہ کا قیام ، بتوں کا ٹوٹنا ، غیر اللہ کی پرستش کا مٹنا ، نماز وزکاۃ کے نظام کا قیام ، داڑھی وبرقعہ کے کلچر کا احیاء ، عالم کفر کو ناگوار گزرا تو انہوں نے نائن الیون کا بہانہ بنا کر ساری ملت کفر کو جمع کرکے افعانستان پر آتش وآہن کی بارش کردی ۔ آزاد کشمیر کے زلزلہ کے بعدجب انہیں معلوم ہوا کہ پاکستانی قبائل بھی حدود اللہ کا نفاذ کیے ہوئے ہیں تو ایک جعلی فلم بنوا کر طالبان اور اسامہ کے تلاش کا بہانہ ساتھ ملا کر وزیرستان پر ڈرونوں کی بارش شروع کر دی ۔ اور اس سے قبل وہ فکری طور پر مسلمانوں پر ایسی یلغار کر چکے ہیں کہ آج کلمہ پڑھنے والے بھی نماز ، روزہ سے بے نیاز ، مذہب کی پابندی سے آزاد ، سنت نبویہ کا مذاق اڑانے والے ، اور دین فطرت سے اعراض کرنے والے بن چکے ہیں ۔وہ ہر میدان میں اہل اسلام پر یلغار کیے ہوئے ہیں ۔