السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم علماء کرام، شیوخ اور محدث فورم کے معزز ممبران!
سب سے پہلے تو میں یہ عرض کر دوں کہ میں کوئی عالم یا مفتی نہیں ہوں، بلکہ علمِ حدیث کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں جسے تحقیق کا بہت شوق ہے۔ میں روزمرہ تخریج کے لیے مکتبہ شاملہ اور دیگر سافٹ ویئرز استعمال کرتا ہوں۔ اس دوران اپنے ناقص علم کے مطابق جو بات مجھے سمجھ نہیں آتی یا جو علمی الجھن پیدا ہوتی ہے، وہ میں آپ جیسے جید اہل علم کے سامنے سیکھنے کی غرض سے پیش کر دیتا ہوں۔ میرا مقصد کسی پر تنقید کرنا ہرگز نہیں، بلکہ خالصتاً اپنی اصلاح اور علم میں اضافہ ہے۔
آج ڈیجیٹل تحقیق کے دوران ایک ایسی حیران کن بات سامنے آئی ہے جس نے مجھے شدید الجھا دیا ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اسے سمجھنے میں غلطی تو نہیں کر رہا۔ اس لیے آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
میری الجھن کا پس منظر
ہم فورم پر اکثر محمد بن اسحاق (صاحبِ مغازی) کی احادیث پر بحث کرتے ہیں۔ ہمارا عمومی رجحان یہی ہوتا ہے کہ محمد بن اسحاق "حسن الحدیث" ہیں، بشرطیکہ وہ سماع کی صراحت (حدثنی) کر دیں۔ اس کی بنیاد ہم کبار علماء کی تحقیق پر رکھتے ہیں، جیسا کہ توحید ڈاٹ کام (Tohed.com) کے اس تفصیلی مقالے میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ ابن اسحاق 'حسن الحدیث' ہیں:
حوالہ: کیا محمد بن اسحاق بن یسار ضعیف راوی ہیں؟ - Tohed.com
یہ حوالے ہمیں مکتبہ شاملہ کی عام کتابوں (جیسے تہذیب التہذیب وغیرہ کے خلاصوں) سے بھی باآسانی مل جاتے ہیں۔
لیکن بطور طالب علم جب میں نے مکتبہ شاملہ میں مزید گہرائی میں جا کر متقدمین کی کتابوں کو دیکھا، تو مجھے امام ابوداؤد رحمہ اللہ کی کتاب ملی۔
"سؤالات أبي داود للإمام أحمد في جرح الرواة وتعديلهم"
اس کتاب میں امام ابوداؤد نے جب اپنے استاد امام احمد بن حنبل سے محمد بن اسحاق کے بارے میں پوچھا، تو امام احمد نے ایک ایسا انکشاف کیا جس نے مجھے حیران کر دیا
"[١٧٧] سَمِعت أَحْمد ذكر مُحَمَّد بن إِسْحَاق فَقَالَ كَانَ رجلا يَشْتَهِي الحَدِيث فَيَأْخذهُ كتب النَّاس فَيَضَعهَا فِي كتبه"
(ترجمہ: وہ ایک ایسا شخص تھا جسے حدیثیں جمع کرنے کی ہوس تھی، پس وہ لوگوں کی کتابیں لے لیتا تھا اور انہیں اپنی کتابوں میں شامل کر لیتا تھا۔)
مکمل حوالہ: سؤالات أبي داود للإمام أحمد، (تحقیق: د. زياد محمد منصور)، صفحہ نمبر: 214، رقم: 177
مکتبہ شاملہ کا اصل لنک:
https://shamela.ws/book/5945
(نوٹ: جو احباب اسے خود دیکھنا چاہیں، وہ شاملہ کے اس لنک پر جا کر سرچ بار میں یہ عربی عبارت "يَشْتَهِي الحَدِيث فَيَأْخذهُ كتب النَّاس" سرچ کریں، تو قول نمبر 177 پر امام احمد کی یہ جرح براہِ راست سامنے آ جائے گی۔)
محترم شیوخ! ایک طالب علم کی حیثیت سے اصولِ حدیث کی روشنی میں میرے ذہن میں چار اصولی سوالات پیدا ہو رہے ہیں، جن پر مجھے آپ کی رہنمائی درکار ہے
1. کیا حوالہ چھپانا راوی کی عمومی دیانت پر اثر انداز نہیں ہوتا؟
میں جانتا ہوں کہ بعض اہل علم اسے "وجادۃ" (کتابوں سے نقل کرنا) کہتے ہیں۔ لیکن اصولِ حدیث میں وجادۃ کی شرط یہ ہے کہ راوی ایمانداری سے بتائے کہ "میں نے فلاں کی کتاب میں لکھا پایا"۔ لیکن امام احمد فرما رہے ہیں کہ وہ لوگوں کی کتابیں اٹھاتا اور انہیں اپنی کتابوں میں ملا لیتا تھا (یعنی حوالہ چھپا کر)۔
میری الجھن یہ ہے کہ جو شخص تحریری طور پر حوالہ چھپانے میں اس قدر تساہل برتتا ہو، تو جب وہ زبانی طور پر 'حدثنی' (میں نے سنا) کہے گا، تو ہم اس کی زبانی دیانت پر مکمل اعتماد کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا احتیاط کا تقاضا یہ نہیں کہ ایسے راوی کی منفرد روایات میں توقف کیا جائے؟
2. امام مالک کی "دجال" والی جرح اور ذاتی عداوت کا عذر
کتبِ رجال میں موجود ہے کہ امام دار الہجرۃ، امام مالک رحمہ اللہ نے محمد بن اسحاق کو واضح الفاظ میں "دجال من الدجاجلة" کہا ہے۔ میں نے بعض شروحات میں پڑھا ہے کہ امام مالک کی یہ جرح "ذاتی رنجش یا عداوت" کی وجہ سے تھی اس لیے اسے قبول نہیں کیا گیا۔
لیکن شیوخ محترم! میرا ذہن یہ ماننے کو تیار نہیں کہ امام مالک جیسی جلیل القدر، محتاط اور متقی ہستی محض ذاتی غصے میں آ کر علمِ رجال کے حساس ترین معاملے میں کسی مسلمان کو "دجال" (سب سے بڑا جھوٹا) کا فتویٰ دے دیں؟ اگر ہم یہ مان لیں کہ ائمہ کرام ذاتی رنجشوں میں آ کر ایسی سخت جرحیں کرتے تھے، تو کیا اس سے متقدمین کی جرح و تعدیل پر سے ہمارا اعتماد نہیں اٹھ جائے گا؟
3. "الجرح المفسر مقدم على التعديل" کا اطلاق
ہم اصولِ حدیث میں پڑھتے ہیں کہ تفصیلی جرح عام تعریف پر مقدم ہوتی ہے۔ امام احمد کا اسے 'حسن الحدیث' کہنا ایک عام (مجمل) بات ہے، لیکن 'کتابیں اٹھا کر اپنی کتاب میں ملانا' ایک تفصیلی جرح (جرح مفسر) ہے۔ تو کیا اصولِ حدیث کی رو سے ہمیں اس تفصیلی جرح کو عام تعدیل پر مقدم نہیں کرنا چاہیے؟
4. ابن اسحاق کی معنعن روایت کے بارے میں ہمارا عملی منہج
ہم اصولی بحث میں تو یہ شرط لگاتے ہیں کہ ابن اسحاق مدلس ہے اور اس کی "عن" والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ لیکن اسی محدث فورم پر ایک تھریڈ (جس کا عنوان 'حدیث کا ترجمہ' ہے) میں مسند احمد (5353) کی ایک حدیث پیش کی گئی ہے۔ اس کی سند ملاحظہ فرمائیں:
"حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ..."
فورم کے تھریڈ کا لنک:
https://forum.mohaddis.com/threads/حدیث-کا-ترجمہ.38601/
اس سند میں ابن اسحاق صراحت کے ساتھ "عن" سے روایت کر رہے ہیں، لیکن اسے بغیر کسی ضعف کی نشاندہی کے قبول کر کے پیش کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کے شواہد یا متابعات موجود ہوں، لیکن ایک عام قاری کے سامنے ضعیف سند کو بغیر کسی تنبیہ (Disclaimer) کے پیش کر دینا کیا عوام کو اس مغالطے میں نہیں ڈالتا کہ ابن اسحاق کا "عن" مطلقاً مقبول ہے؟
خلاصہِ کلام
کیا ایسا تو نہیں کہ ہم ڈیجیٹل سرچ کے عادی ہو کر صرف ان کتابوں (تہذیب وغیرہ کے خلاصوں) تک محدود رہ گئے ہیں جو شاملہ کی پہلی سرچ میں آسانی سے سامنے آ جاتی ہیں، اور ہم نے "سؤالات أبي داود" جیسی کتب کو نظر انداز کر دیا ہے؟
امید ہے اہل علم اس طالب علم کی ان اصولی الجھنوں پر علمی رہنمائی فرمائیں گے تاکہ میری اصلاح ہو سکے۔ جزاکم اللہ خیرا!
اگر ٹائیپنگ میں کوئی غلطی ہو یا کؤی لنک نہ کھلے تو پیشگی معزرت ۔
لنک کا میں نے پہلے بتایا تھا کہ مجھے نہیں پتہ کیسے پوسٹ میں ڈالتے ہیں۔
محترم علماء کرام، شیوخ اور محدث فورم کے معزز ممبران!
سب سے پہلے تو میں یہ عرض کر دوں کہ میں کوئی عالم یا مفتی نہیں ہوں، بلکہ علمِ حدیث کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں جسے تحقیق کا بہت شوق ہے۔ میں روزمرہ تخریج کے لیے مکتبہ شاملہ اور دیگر سافٹ ویئرز استعمال کرتا ہوں۔ اس دوران اپنے ناقص علم کے مطابق جو بات مجھے سمجھ نہیں آتی یا جو علمی الجھن پیدا ہوتی ہے، وہ میں آپ جیسے جید اہل علم کے سامنے سیکھنے کی غرض سے پیش کر دیتا ہوں۔ میرا مقصد کسی پر تنقید کرنا ہرگز نہیں، بلکہ خالصتاً اپنی اصلاح اور علم میں اضافہ ہے۔
آج ڈیجیٹل تحقیق کے دوران ایک ایسی حیران کن بات سامنے آئی ہے جس نے مجھے شدید الجھا دیا ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اسے سمجھنے میں غلطی تو نہیں کر رہا۔ اس لیے آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
میری الجھن کا پس منظر
ہم فورم پر اکثر محمد بن اسحاق (صاحبِ مغازی) کی احادیث پر بحث کرتے ہیں۔ ہمارا عمومی رجحان یہی ہوتا ہے کہ محمد بن اسحاق "حسن الحدیث" ہیں، بشرطیکہ وہ سماع کی صراحت (حدثنی) کر دیں۔ اس کی بنیاد ہم کبار علماء کی تحقیق پر رکھتے ہیں، جیسا کہ توحید ڈاٹ کام (Tohed.com) کے اس تفصیلی مقالے میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ ابن اسحاق 'حسن الحدیث' ہیں:
حوالہ: کیا محمد بن اسحاق بن یسار ضعیف راوی ہیں؟ - Tohed.com
یہ حوالے ہمیں مکتبہ شاملہ کی عام کتابوں (جیسے تہذیب التہذیب وغیرہ کے خلاصوں) سے بھی باآسانی مل جاتے ہیں۔
لیکن بطور طالب علم جب میں نے مکتبہ شاملہ میں مزید گہرائی میں جا کر متقدمین کی کتابوں کو دیکھا، تو مجھے امام ابوداؤد رحمہ اللہ کی کتاب ملی۔
"سؤالات أبي داود للإمام أحمد في جرح الرواة وتعديلهم"
اس کتاب میں امام ابوداؤد نے جب اپنے استاد امام احمد بن حنبل سے محمد بن اسحاق کے بارے میں پوچھا، تو امام احمد نے ایک ایسا انکشاف کیا جس نے مجھے حیران کر دیا
"[١٧٧] سَمِعت أَحْمد ذكر مُحَمَّد بن إِسْحَاق فَقَالَ كَانَ رجلا يَشْتَهِي الحَدِيث فَيَأْخذهُ كتب النَّاس فَيَضَعهَا فِي كتبه"
(ترجمہ: وہ ایک ایسا شخص تھا جسے حدیثیں جمع کرنے کی ہوس تھی، پس وہ لوگوں کی کتابیں لے لیتا تھا اور انہیں اپنی کتابوں میں شامل کر لیتا تھا۔)
مکمل حوالہ: سؤالات أبي داود للإمام أحمد، (تحقیق: د. زياد محمد منصور)، صفحہ نمبر: 214، رقم: 177
مکتبہ شاملہ کا اصل لنک:
https://shamela.ws/book/5945
(نوٹ: جو احباب اسے خود دیکھنا چاہیں، وہ شاملہ کے اس لنک پر جا کر سرچ بار میں یہ عربی عبارت "يَشْتَهِي الحَدِيث فَيَأْخذهُ كتب النَّاس" سرچ کریں، تو قول نمبر 177 پر امام احمد کی یہ جرح براہِ راست سامنے آ جائے گی۔)
محترم شیوخ! ایک طالب علم کی حیثیت سے اصولِ حدیث کی روشنی میں میرے ذہن میں چار اصولی سوالات پیدا ہو رہے ہیں، جن پر مجھے آپ کی رہنمائی درکار ہے
1. کیا حوالہ چھپانا راوی کی عمومی دیانت پر اثر انداز نہیں ہوتا؟
میں جانتا ہوں کہ بعض اہل علم اسے "وجادۃ" (کتابوں سے نقل کرنا) کہتے ہیں۔ لیکن اصولِ حدیث میں وجادۃ کی شرط یہ ہے کہ راوی ایمانداری سے بتائے کہ "میں نے فلاں کی کتاب میں لکھا پایا"۔ لیکن امام احمد فرما رہے ہیں کہ وہ لوگوں کی کتابیں اٹھاتا اور انہیں اپنی کتابوں میں ملا لیتا تھا (یعنی حوالہ چھپا کر)۔
میری الجھن یہ ہے کہ جو شخص تحریری طور پر حوالہ چھپانے میں اس قدر تساہل برتتا ہو، تو جب وہ زبانی طور پر 'حدثنی' (میں نے سنا) کہے گا، تو ہم اس کی زبانی دیانت پر مکمل اعتماد کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا احتیاط کا تقاضا یہ نہیں کہ ایسے راوی کی منفرد روایات میں توقف کیا جائے؟
2. امام مالک کی "دجال" والی جرح اور ذاتی عداوت کا عذر
کتبِ رجال میں موجود ہے کہ امام دار الہجرۃ، امام مالک رحمہ اللہ نے محمد بن اسحاق کو واضح الفاظ میں "دجال من الدجاجلة" کہا ہے۔ میں نے بعض شروحات میں پڑھا ہے کہ امام مالک کی یہ جرح "ذاتی رنجش یا عداوت" کی وجہ سے تھی اس لیے اسے قبول نہیں کیا گیا۔
لیکن شیوخ محترم! میرا ذہن یہ ماننے کو تیار نہیں کہ امام مالک جیسی جلیل القدر، محتاط اور متقی ہستی محض ذاتی غصے میں آ کر علمِ رجال کے حساس ترین معاملے میں کسی مسلمان کو "دجال" (سب سے بڑا جھوٹا) کا فتویٰ دے دیں؟ اگر ہم یہ مان لیں کہ ائمہ کرام ذاتی رنجشوں میں آ کر ایسی سخت جرحیں کرتے تھے، تو کیا اس سے متقدمین کی جرح و تعدیل پر سے ہمارا اعتماد نہیں اٹھ جائے گا؟
3. "الجرح المفسر مقدم على التعديل" کا اطلاق
ہم اصولِ حدیث میں پڑھتے ہیں کہ تفصیلی جرح عام تعریف پر مقدم ہوتی ہے۔ امام احمد کا اسے 'حسن الحدیث' کہنا ایک عام (مجمل) بات ہے، لیکن 'کتابیں اٹھا کر اپنی کتاب میں ملانا' ایک تفصیلی جرح (جرح مفسر) ہے۔ تو کیا اصولِ حدیث کی رو سے ہمیں اس تفصیلی جرح کو عام تعدیل پر مقدم نہیں کرنا چاہیے؟
4. ابن اسحاق کی معنعن روایت کے بارے میں ہمارا عملی منہج
ہم اصولی بحث میں تو یہ شرط لگاتے ہیں کہ ابن اسحاق مدلس ہے اور اس کی "عن" والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ لیکن اسی محدث فورم پر ایک تھریڈ (جس کا عنوان 'حدیث کا ترجمہ' ہے) میں مسند احمد (5353) کی ایک حدیث پیش کی گئی ہے۔ اس کی سند ملاحظہ فرمائیں:
"حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ..."
فورم کے تھریڈ کا لنک:
https://forum.mohaddis.com/threads/حدیث-کا-ترجمہ.38601/
اس سند میں ابن اسحاق صراحت کے ساتھ "عن" سے روایت کر رہے ہیں، لیکن اسے بغیر کسی ضعف کی نشاندہی کے قبول کر کے پیش کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کے شواہد یا متابعات موجود ہوں، لیکن ایک عام قاری کے سامنے ضعیف سند کو بغیر کسی تنبیہ (Disclaimer) کے پیش کر دینا کیا عوام کو اس مغالطے میں نہیں ڈالتا کہ ابن اسحاق کا "عن" مطلقاً مقبول ہے؟
خلاصہِ کلام
کیا ایسا تو نہیں کہ ہم ڈیجیٹل سرچ کے عادی ہو کر صرف ان کتابوں (تہذیب وغیرہ کے خلاصوں) تک محدود رہ گئے ہیں جو شاملہ کی پہلی سرچ میں آسانی سے سامنے آ جاتی ہیں، اور ہم نے "سؤالات أبي داود" جیسی کتب کو نظر انداز کر دیا ہے؟
امید ہے اہل علم اس طالب علم کی ان اصولی الجھنوں پر علمی رہنمائی فرمائیں گے تاکہ میری اصلاح ہو سکے۔ جزاکم اللہ خیرا!
اگر ٹائیپنگ میں کوئی غلطی ہو یا کؤی لنک نہ کھلے تو پیشگی معزرت ۔
لنک کا میں نے پہلے بتایا تھا کہ مجھے نہیں پتہ کیسے پوسٹ میں ڈالتے ہیں۔