ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق معراج ربانی کی تحریر کا جائزہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ والصلاة والسلام على رسول اللہ أما بعد:
معراج ربانی میر محمد اسماعیل المعروف "معراج ہنومانی" نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے بارے میں ایک تحریر لکھی ہے جو محض ایک مرعوب، شکست خوردہ اور اقتدار کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے مدخلی مولوی کا رونا، فکری افلاس اور اقلیتی خودکشی کی دعوت اور حکومتی تلوے چاٹنے کی ایک کمزور کوشش ہے۔
ہمارا مقصد اس یونیورسٹی یا موجودہ تعلیمی نصاب کا دفاع نہیں بلکہ اس سیکولر مدخلی مولوی کی حقیقت کو واضح کرنا ہے جو آج ملک کے اندرونی حالات اور آر ایس ایس و بی جے پی کے بھگوا ہندو بریگیڈ کی کھلی مسلم دشمنی سے جان بوجھ کر انجان بن رہا ہے۔
معراج ہنومانی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کو سامنے رکھ کر یہ تجویز دی کہ اگر اسے مٹا دینے سے دو ہم وطن بھائیوں کے دل قریب ہو جائیں تو بلڈوز کر دو۔
مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ الولاء والبراء توحید کا عظیم اصول ہے؛ یعنی ایمان والوں سے محبت، نصرت اور وفاداری، اور کفار سے دشمنی، نفرت و براءت۔ یہی وہ اصل ہے جس پر انبیاء علیہم السلام کی دعوت قائم رہی۔ لیکن یہ معراج ہنومانی وطن پرستی، قومی یکجہتی اور نام نہاد امن کے نام پر ایسے افکار پیش کر رہا ہے جو اس عظیم عقیدے کے منافی ہیں۔
اس نے مسلم نام والے تعلیمی اداروں کو قربانی کا بکرا بنا دیا یہ اس ذہنیت کی عکاسی ہے جو سنگھیوں کو خوش کرنے کے لیے مسلمانوں کی وراثت، تاریخ اور وجود کے نشانات خود ہی مٹانے کی پیشکش کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾ یہود و نصاریٰ ہرگز تم سے راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کی ملت کی پیروی نہ کرو۔ (البقرة: 120)
قرآن یہ نہیں سکھاتا کہ مسلمان اپنے مسجد، مدارس، تعلیمی ادارے اور شناخت قربان کر کے کافروں کی رضا تلاش کریں! بلکہ یہ بھگوا ہندو بریگیڈ مسلمانوں سے صرف اس وقت مطمئن ہوگا جب مسلمان یا تو پاکستان اور بنگلہ دیش چلے جائیں، یا پھر اس ملک میں اتنے بے اثر اور بے نشان ہو جائیں کہ ان کی کوئی الگ شناخت باقی نہ رہے۔
ان کی پالیسی واضح ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ مٹاؤ، ان کے ناموں والے ادارے ختم کرو، ان کی عمارتیں گراؤ، ان کی میراث کو غیر ملکی قرار دو۔ بابری مسجد گرا کر تم نے دیکھا۔ اب کاشی اور متھرا کا نمبر ہے۔ گاڑی وہیں نہیں رکے گی۔ اگلا ہدف کوئی اور مسجد، کوئی اور مدرسہ، کوئی اور یونیورسٹی ہوگا جس کے نام میں اردو یا مسلمان شخصیت کا ذکر ہو۔
معراج ہنومانی اس حقیقت سے آنکھیں بند کیے ہوئے اس کے سنگھی آقاؤں خوش کرنے میں لگا ہے وہ کہتا ہے کہ عمارتیں قربان کر دو تاکہ ہندو مسلم نفرت مٹ جائے۔ حالانکہ جو گروہ مسلمانوں کی موجودگی کو ہی مسئلہ سمجھتا ہے، وہ ایک یونیورسٹی مٹنے کے بعد اگلی قربانی مانگے گا۔ یہ مدخلی مولوی انھیں اصول دے رہا ہے کہ مسلمان خود ہی اپنے اداروں کو نفرت کا مرکز تسلیم کر لیں اور خود ہی انھیں مٹانے کی سفارش کریں۔
معراج کی وطن پرستی درحقیقت مسلم اقلیت کو خودکشی کی دعوت ہے۔ وہ ملک کی سلامتی کا نام لے کر کہہ رہا ہے کہ "ایسی ہزاروں لاکھوں یونیورسٹیاں اپنے دیش پر قربان" حالانکہ وہ اپنے سنگھی آقاؤں سے نہیں پوچھتا کہ ناانصافی کیوں ہو رہی ہے، امتیازی سلوک کیوں ہے، تاریخ کو مسخ کیوں کیا جا رہا ہے۔ یہ شخص اقتدار کی ہوا دیکھ کر اپنی زبان بدل چکا ہے۔
اس کی تحریر میں نہ تو ملک کے حقیقی حالات کا ذکر ہے، نہ ان پلید ہندوؤں کی مسلم دشمنی کا اعتراف، نہ اس سلسلہ وار ایجنڈے کا اشارہ جو بابری سے شروع ہو کر کاشی و متھرا تک پہنچا ہے اور آگے بڑھے گا۔
یہ مدخلی مولوی آج مسلم نام والے تعلیمی اداروں کو بلڈوز کرنے کی بات کر رہا ہے، کل جب اگلا ہدف سامنے آئے گا تو پھر بھی "حکمران جو چاہیں کریں" کہہ کر خاموش بیٹھا رہے گا۔ کیونکہ اس کی ترجیح حق نہیں، سنگھی اقتدار کی خوشنودی ہے۔
واللہ المستعان۔