• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مخبت مؤمن : فضائل و صفات اوربشارتیں

شمولیت
اگست 25، 2013
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
77
مخبت مؤمن : فضائل و صفات اوربشارتیں
عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی
​
اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر ان لوگوں کاذکرکیاہے جن کے اندر صفت اخبات پائی جاتی ہو ، اور پھر ان کی صفات اور ان کے لئے بشارتوں کا ذکر کیاہے ، اللہ تعالی فرماتاہے:﴿إنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وعَمِلُوا الصّالِحاتِ وأخْبَتُوا إلى رَبِّهِمْ أُولَئِكَ أصْحابُ الجَنَّةِ هم فِيها خالِدُونَ﴾ ۔( یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور اپنے پالنے والے کی طرف جھکتے رہے، وہی جنت میں جانے والے ہیں، جہاں وه ہمیشہ ہی رہنے والے ہیں)۔(سورۃ ھود:23) ۔اور ایک جگہ فرماتاہے: (ولِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ فَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ ) ۔ (ہم نے ہر امت کے لیے منسک ( قربانی او رذبح کا ایک طریقہ) مقرر فرمایا تاکہ وہ اللہ کے دیے ہوئے مویشیوں پر اس کا نام لیں۔ اصل معبود صرف ایک ہی ہے، لہٰذا اسی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرو، اور آپ مخبتین کو بشارت دے دیں)۔(سورۃ الحج:34)۔
اس آیت کریمہ کے اندر اللہ رب العزت نے اس بات کی صراحت کردی ہے کہ حج جیسے اہم عبادت کے اندر جانورکی قربانی توحیدکے مناظرمیں سے ایک ہے ؛ کیونکہ اس کے ذریعے ایک مسلمان موحد اللہ تعالی کا قرب حاصل کرتا ہے، اسی کے نام پر اسے ذبح کرتا ہے، اور خالصتاً اسی کی ذات کے لیے اس کا شکر بجا لاتا ہے۔کیونکہ انسان کا مال اللہ ہی کا دیا ہوا رزق ہے اور اس پراس کا فضل و کرم ہے، لہٰذا اس کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ذریعے اسی کی رضا تلاش کی جائےاور اسے اللہ ہی کی طرف منسوب کیاجائے۔چنانچہ اس کے اندر خاص طورسے ان عاجزی اختیار کرنے والے حاجیوں کے لیے خوشخبری اورمبارکبادی ہے جنہوں نے رب العالمین کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا، خوش دلی کے ساتھ اس کے فرمانبردار بن گئے، اور اس کے حضور عاجزی اور انکساری اختیار کی۔ اسی طرح ہروہ مؤمن جس کا دل اللہ کے لیے عاجزی اورانکساری اختیار کر لےاس کے اعضاء و جوارح نیک اعمال کے نور سے روشن ہو جاتے ہیں؛ پھر وہ اللہ کی طرف سےخوشخبریوں سے نوازا جاتا ہے اور اس پر خیر و برکات کی بارش ہونے لگتی ہے۔
مخبتین کا مطلب :
مخبتین مخبت کی جمع ہے جو اخبات سے مشتق ہے اور "اخبات" کا لفظ "الخَبْت" سے نکلا ہے، جس کا معنی پست، ہموار اور منخفض (نیچی) زمین کا ہوتاہے، جس میں میں سکون اور قرار ہوتا ہے ۔لفظ 'مُخْبِت' کی اصل (بنیاد) اس شخص سے ہے جو 'خَبْت' پر چلے، اور 'خَبْت' بلندی (چڑھائی) کے برعکس نیچے اور پست مقام کو کہتے ہیں۔ پھر یہ لفظ مجازا عاجزی اختیار کرنے والے کے لیے استعمال ہونے لگاجو تکبر چھوڑ کر عاجزی اور انکساری اختیار کرتا ہے ، گویا اس نے خود کو پستی (عاجزی) اوراطمئنان کی راہ پر ڈال دیا ہو۔
ائمۂ مفسرین نے مخبتین کےمختلف معانی بیان کئےہیں جیسے:مطمئن لوگ، جو اللہ کی قضا و قدر پر راضی ہوں۔ جن کا دل اللہ تعالی سے مطمئن ہو ۔ جن کے اندر خشیت ہو۔ تواضع و انکساری اور عاجزی اختیار کرنے والے جن کے اندر کوئی تکبر نہ ہو۔اللہ کا خوف اور خشوع رکھنے والے۔ وہ لوگ جو نہ ظلم کرتے ہیں، اور اگر ان پر ظلم ہو تو بدلہ یا انتقام نہیں لیتے (درگزر کرتے ہیں)۔ اورنرم دل لوگ اور مختصر الفاظ میں عاجزی اوراطمینان والے مؤمنین ۔

امام ابن القیم اس سلسلےمیں مختلف اقوال کا ذکر کرنے کے بعد لکھتےہیں: "یہ (تمام) اقوال دو معنوں کے گرد گھومتے ہیں: عاجزی و انکساری اور اللہ عزوجل کی طرف سکون و اطمینان پانا "۔( مدارج السالکین:2/6)۔
چنانچہ آیت کریمہ کے اندر مخبتین سے مراد مؤمنین' ہیں جو اللہ کی قضا و قدر پر راضی اور مطمئن رہنے والے ہیں کیونکہ عاجزی اور انکساری ان کے اوصاف میں سے ہے، جیسا کہ تکبر مشرکین کی علامات اور صفات میں سے ہے ۔
اخبات کی خاصیت:
"اخبات" دل کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں تکبر، خود پسندی اور تردد ختم ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ عاجزی، سکون، اللہ کی رضا اور کامل اطاعت لے لیتی ہے۔ چنانچہ مخبت وہ مومن ہے جس کا دل اللہ کے ذکر سے کانپتا ہے، جو مصیبت پر صبرکرتاہے، نماز کی پابندی کرتاہے اور اللہ کے بندوں پر سخاوت کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مخبت تردد وغفلت اور اعراض و انکار سے نکل کرثبات ومعرفت اور قبول و طاعت کی راہ پر لگ جاتاہے اور پھر اس راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں اور مصائب وپریشانیوں کو جھیل کر صبروثبات کی راہ اختیار کرتے ہوئے اپنی منزل مقصود یعنی اپنے رب کی رضا وخوشنودی کو پالیتاہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے ہمکنارہو کر اپنے رب کے فضل سے خلدبریں میں اپنےلئے ٹھکانہ بنا لیتاہے اور یہی اس کےلئے بشارت الہی کا مطلب ہے ۔ واضح رہے کہ جب ہم معرفت ، قبول اور طاعت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب دین کے تمام امور واحکام پر قرآن وسنت کی روشنی میں سلف صالحین کی فہم کے مطابق عمل پیرا ہونا ہوتاہے۔
مخبتین کی علامات :
اللہ تعالی مخبتین یعنی عاجز و مطمئن مومنوں کےلئے بشارت کےبعد ان کی خوبیوں اورصفات کا تذکرہ کرتےہوئے فرماتا ہے: (الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ عَلٰی مَاۤ اَصَابَهُمْ وَالْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ ۙ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ)۔ (الحج:35)۔(جب اللہ کا ذکر کیا جائےتو ان کے دل تھرا جاتے ہیں۔ انہیں جو برائی پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں)۔
اس آیت کریمہ کے اندر اللہ تعالی نےمخبتین کی چار بنیادی علامات کا ذکر کیاہے:
پہلی علامت :خوفِ الہی : اللہ کا ذکر سن کر ان کے دلوں میں ہیبت، محبت اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔
دوسری علامت :صبر: وہ مصائب اور تقدیر کے فیصلوں پر ثبات قدمی دکھاتے ہیں اور نیکیوں کو انجام دینے پر صبر وثبات کے ساتھ جمے رہتےہیں اور برائیوں اور گناہوں سے اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھتےہیں ۔
تیسری علامت:اقامتِ صلاۃ: وہ ظاہری اور باطنی ارکان کے ساتھ پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں۔ یعنی خلوص نیت اور اللہ رب العزت کی محبت اور اس سے خوف وخشیت کے ساتھ سنت کے مطابق نمازکو اس کے تمام ارکان وواجبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
اورچوتھی : انفاق فی سبیل اللہ: اللہ کے دیے ہوئے پاکیزہ رزق میں سے اپنے اہل و عیال، رشتہ داروں اور محتاجوں پر خرچ کرتے ہیں۔ خاص طور سے ان پر جو حقوق واجب ہیں ان میں کمی اور کوتاہی نہیں کرتے،جیسے : فرض زکوٰۃ کی ادائیگی ، گھر والوں (اہل وعیال) کے اخراجات ، جن کی کفالت ان پر واجب ہے ان کے اخراجات، نیز اللہ کی راہ میں اور مستحب (نفل) صدقات میں خر چ کرنے سے نہیں چوکتے ہیں اور نہ ہی ان میں تردد اور بخل وکوتاہی سے کام لیتےہیں۔
اخبات کےدرجات:
امام ابن القیم نے احبات کے تین درجات کا ذکر کیاہے جن کا خلاصہ ہے:
پہلا درجہ: انسان کی عصمت و تقویٰ اس کی نفسانی شہوات پر غالب آ جائے، اس کی سچی طلب غفلت کو دور کر دے، اور حق کی طلب و تلاش تمام بھول چوک اور غفلتوں کو بہا لے جائے ۔
دوسرا درجہ: کسی بھی رکاوٹ یا عارضی فتنے سے اس کا عزم نہ ٹوٹے، اور راہِ الہی میں اکیلا ہونے پر بھی اسے وحشت نہ ہو۔
تیسرا درجہ : اس کے لیے لوگوں کی تعریف اور برائی برابر ہو جائے ،یعنی وہ تعریف پر نہ اترائے اور برائی سے دلبرداشتہ نہ ہو۔ چنانچہ وہ اپنے نفس پر مسلسل ملامت کرتا رہتا ہے اور اسے کبھی کامل نہیں سمجھتا ۔ اوروہ دوسروں کی خامیوں یا اپنے سے کم تر درجے کو دیکھنے کے بجائے اللہ کی ذات و صفات کی معرفت میں غرق رہتا ہے۔(مدارج السالکین:2/7)۔
اخبات اور ایمان :
اخبات میں ایمان کے کمال اور اس کی مٹھاس ولذت کےحصول کا بڑا دخل ہے ،کیونکہ ایمان کی تزئین میں اخلاص کے ساتھ ساتھ اطمینان قلب ،صحیح اور مناسب عمل اورپاکیزہ زندگی کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نصوص شریعت میں إقرار کے ساتھ ان اعمال کاذکر جابجا ملتاہے جن سے ایک مؤمن کے ایمان کو جلاء ملتی ہے اور، وہی سے اس بات کی وضاحت بھی ملتی ہے کہ اخلاص اور عمل کا ایمان کی تکمیل میں کتنا اہم اور بڑا مقام ہے ،جس کی وجہ سے ایک مؤمن اخبات کی منزل کا حقدار بنتاہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:"ذاقَ طَعمَ الإيمانِ مَن رَضيَ باللهِ رَبًّا، وبالإسلامِ دينًا، وبمُحَمَّدٍ رَسولًا"۔" اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے رب، اسلام کےدین اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر (دل سے) راضی ہو گیا"۔ (صحيح مسلم/34) ۔
اس حدیث کے اندرایمان کی حلاوت پانےکےلئے اپنےرب سے ،اپنےدین یعنی اسلام سے اور اپنے رسول ﷺ سے مکمل رضااور ان کے لئے مکمل تسلیم و انقیاد اوراطاعت وفرمانبرداری کو معیار بتایاگیاہے۔
اور ایک حدیث میں مزیدتین چیزوں کا ذکرہے، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:"ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ"۔ جس شخص میں تین باتیں پائیں جائیں گی وہ ان کے ذریعے سے ایمان کی حلاوت پا لے گا: (پہلی) یہ کہ جسے اللہ اور اس کا رسول ﷺ باقی ہر کسی سے بڑھ کر محبوب ہوں،اور (دوسری) یہ کہ جس کسی سے بھی محبت کرے، اللہ ہی کے لیے کرے۔ اور (تیسری) یہ کہ( اللہ نے جب اسے کفر سے بچا لیا ہے تو) وہ دوبارہ کفر کی طرف پلٹنے سے اس طرح نفرت کرے جیسی اس بات سے نفرت کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے"۔ ( صحیح بخاری/16 ، صحیح مسلم/43)
اس حدیث کےاندرجن تین چیزوں کو لذت ایمان سےآشنائی کا سبب قراردیاگیاہے وہ ہیں :
اول : اللہ اور اس کے رسول ﷺ کےلئےسچی محبت بایں طورکہ اس محبت کو دنیا کی تمام محبتوں پر فوقیت و ترجیح دینا۔ دوم : لوگوں سے محبت کسی دنیاوی مفاد یا ذاتی غرض کے لیے نہ ہو، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ یعنی کسی سے اس لیے محبت کرنا کہ وہ اللہ کا بندہ ہے اور نیک کام کرتا ہے، اس محبت میں کوئی مادی لالچ یا دنیاوی غرض شامل نہ ہو۔
اور سوم : دین پر مضبوطی سے قائم رہنا اور اس سے اعراض کرنے سے شدید ترین نفرت کرنا۔یعنی ایمان پر اس طرح جم جانا کہ انسان کے لیے کفر کی طرف لوٹنا اتنا ہی ناگوار اور تکلیف دہ ہو جیسے آگ میں پھینکا جانا۔
یہ تمام نکات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سچا اور کامل مومن وہ ہے جس کی رضا، محبت، تعلقات اور ثابت قدمی کا محور و مرکز صرف اور صرف اللہ کی ذات اور اس کا دین ہو۔
اللہ رب العزت نے بھی کئی مقامات پران وسائل اور طریقۂ کارکا ذکر کیاہے جو ایمان کی تکمیل اور اس کی حلاوت کی مختلف صورتوں کو واضح کرتی ہیں ، ایمان کی مٹھاس کے سب سےبڑے مظہر دل کے سکون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ ۔ (جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں، یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے)۔ (سورۃ الرعد: 28) ۔ اورایک جگہ اس مٹھاس کے حصول کا ایک اہم سبب عمل سے حاصل ہونے والی خوشگوارزندگی کا ذکرکرتےہوئے فرماتاہے: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً﴾۔( جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ اور خوشگوار زندگی عطا کریں گے)۔(سورۃ النحل :97)۔ چنانچہ جو انسان ایمان کی دولت سے نوازہ جاتاہے اس کےلئے ایمان اور اس کی مضبوطی اور مٹھاس کا حصول رب کائنات کا خاص کرم اور اس کی رحمت ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتاہے:﴿وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ﴾ ۔(لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ (مزین) کر دیا اور کفر، گناہ اور نافرمانی کو تمہارے لیے ناگوار بنا دیا، یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں)۔(سورۃ الحجرات:7)۔اور ایک جگہ فرماتاہے:﴿فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾ ۔(پس جسے اللہ ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے، اس کے سینے کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے)۔(سورۃ الانعام :125)۔
اللہ تعالی ہمیں اپنے صالح اور عاجز ومطمئن بندوں میں شامل کرے ۔آمین وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم۔

*******​
 

اٹیچمنٹس

Top