• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ دوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
اعتکاف کے بیان میں

باب۔ (رمضان کے) آخری عشرہ میں اعتکاف کر نا (مسنون ہے) اور اعتکاف سب مسجدوں میں ہو سکتا ہے
(۹۷۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ زوجۂ نبیﷺ سے روایت ہے کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں برابر اعتکاف کیا کرتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو وفات دی پھر آپﷺ کی ازواج نے آپﷺ کے بعد اعتکاف کیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ معتکف بغیر ضرورت اپنے گھر نہ جائے
(۹۷۹)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ بے شک رسول اللہﷺ اپنا سرمیری طرف جھکا دیتے تھے اس حال میں کہ آپ مسجد میں (معتکف) ہوتے تھے پس میں آپﷺ کے کنگھی کر دیتی تھی اور جب آپﷺ معتکف ہوتے تھے تو گھر میں بغیر ضرورت کے تشریف نہ لاتے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ (صرف) رات میں اعتکاف کرنا
(۹۸۰)۔ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبیﷺ سے پوچھا کہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں یہ نذر کی تھی کہ ایک رات کعبہ میں اعتکاف کروں گا (تو آیا اس نذر کو پورا کروں یا نہیں؟) تو آپﷺ نے فرمایا :'' تم اپنی نذر کو پورا کر و۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مسجد میں خیمے (نصب کرنادرست ہے)
(۹۸۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اعتکاف کا ارادہ کیا پھر جب آپﷺ اس مقام پر پہنچے جہاں آپﷺ اعتکاف کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تو آپﷺ نے چند خیمے دیکھے۔ ام المومنین عائشہؓ کا خیمہ اور ام المومنین حفصہؓ کا خیمہ اور ام المومنین زینبؓ کا خیمہ تو آپﷺ نے فرمایا :'' کیا تم اس میں نیکی سمجھتی ہو؟ '' اس کے بعد آپﷺ واپس ہو گئے اور آپﷺ نے اعتکاف نہیں کیا اور (اس کے عوض) شوال میں دس دن اعتکاف کیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کیا (یہ جائز ہے کہ) معتکف اپنی ضروریات کے (پورا کر نے کے لیے) لیے مسجد کے دروازے تک نکل آئے
(۹۸۲)۔ ام المومنین صفیہؓ زوجۂ نبیﷺ کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس آپﷺ کے اعتکاف میں آپﷺ کی زیارت کے لیے مسجد میں آئیں، رمضان کے آخری عشرہ میں اور تھوڑی دیر آپﷺ کے پاس بیٹھ کر انھوں نے باتیں کیں، اس کے بعد اٹھ کر جانے لگیں تو رسول اللہﷺ ان کو پہنچانے کے لیے ان کے ساتھ اٹھے یہاں تک کہ جب وہ مسجد کے دروازے پر اور ام المومنین ام سلمہؓ کے دروازہ کے قریب پہنچ گئیں تو انصار کے دو آدمی ادھر سے گزرے انھوں نے رسول اللہﷺ کو سلام کیا تو ان دونوں سے رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' تم دونوں ٹھہر جاؤ ! یہ صفیہ بنت حیی تھیں۔ '' ان دونوں نے عرض کی کہ سبحان اللہ ! یا رسول اللہ! (کیا ہم آپﷺ کی طرف بد گمانی کر سکتے تھے؟) اور ان دونوں پریہ بات شاق گزری تو نبیﷺ نے فرمایا :'' شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں گردش کرتا رہتا ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادہ تمہارے دلوں میں کچھ وسوسہ ڈالے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کرنا (بھی منقول ہے)
(۹۸۳)۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال:کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعتکف فی کل رمضان عشرۃ أیام، فلما کان العام الذی قبض فیہ اعتکف عشرین یوما.
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے پھر جب وہ سال آیا جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی تھی تو آپﷺ نے بیس دن اعتکاف کیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
خرید و فروخت کے بیان میں

باب۔ اللہ تعالیٰ کا (سورۂ الجمعہ میں) یہ فرمانا کہ '' پھر جب نماز (جمعہ) مکمل ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور۔۔۔ ''
(۹۸۴)۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہﷺ نے میرے اور سعد بن ربیع (رضی اللہ عنہ) کے درمیان بھائی چارہ کرایا، لہٰذا سعد بن ربیع نے (مجھ سے) کہا کہ '' میں تمام انصار کی نسبت زیادہ مالدار ہوں (لہٰذا) میں تمہیں اپنا نصف مال دے دوں گا اور تم میری دونوں بیویوں میں سے جس کو پسند کر و، میں اسے تمہارے لیے طلاق دے دوں گا پھر جب وہ عدت پوری کر چکے تو تم اس سے نکاح کر لینا ''(ابراہیم بن عبدالرحمن راوی نے کہا) پس عبدالرحمن (رضی اللہ عنہ) نے جواب دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے (تم یہ بتاؤ) یہاں کوئی بازار بھی ہے جس میں تجارت ہوتی ہو؟ جواب دیا کہ ہاں قینقاع نامی ایک بازار ہے (چنانچہ) صبح کو عبدالرحمن اس بازار میں گئے اور وہاں سے کچھ پنیر اور گھی لے آئے (راوی) کہتا ہے پھر تو انھوں نے روزانہ جانا شروع کیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد عبدالرحمنؓ (رسول اللہﷺ کی خدمت میں) آئے تو ان (کے لباس) پر زردی کا نشان تھا۔ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا :'' کیا تم نے نکاح کیا ہے؟ '' عرض کی جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' کس سے؟ '' انھوں نے ایک انصاری خاتون سے تو آپﷺ نے فرمایا :'' تم نے اس کو کسی قدر مہر دیا؟ '' انھوں نے عرض کی کہ ایک گٹھلی کے برابر سونا یا یہ کہا کہ ایک سونے کی گٹھلی پھر ان سے نبیﷺ نے فرمایا :'' ولیمہ کر و اگر چہ ایک بکری کا سہی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی اور ان دونوں کے درمیان کچھ شبہ کی چیزیں ہیں
(۹۸۵)۔ سیدنا نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان شبہ کی چیزیں ہیں تو جس شخص نے اس چیز کو ترک کر دیا جس میں اس کو گناہ کا شبہ ہو تو وہ اس کو بھی چھوڑ دے گا جو صاف، صریح اور کھلا ہوا گناہ ہو اور جو شخص اس بات پر جرأت کرے گا جس کے گناہ ہونے میں شک ہو تو عنقریب وہ صریح گناہ میں بھی مبتلا ہو جائے گا اور معاصی (یعنی گناہ) اللہ تعالیٰ کی چراگاہیں ہیں جو اس چراگاہ (یعنی گناہ) کے گرد چرے گا تو عنقریب وہ اس چراگاہ میں بھی پہنچ جائے گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ شبہات (یعنی ملتی جلتی چیزوں) کی تفسیر
(۹۸۶)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی (فاتح ایران) سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرا ہی ہے لہٰذا تم اس کو اپنے قبضہ میں لے لینا۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ پھر جب فتح مکہ کا سال آیا تو سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ نے اسے لے لیا اور کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے، مجھے میرے بھائی نے اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ چنانچہ عبد بن زمعہ کھڑے ہو گئے اور انھوں نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے۔ پھر وہ دونوں نبیﷺ کے پاس آئے تو سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ نے کہا یا رسول اللہ یہ میرا بھتیجا ہے مجھے میرے بھائی نے اس کی بابت وصیت کی تھی (اور) عبد بن زمعہؓ نے کہا کہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اس کے بستر پر پیدا ہو ا ہے تو نبیﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ '' اے عبد بن زمعہ ! وہ لڑکا تمہی کو ملے گا۔ '' اس کے بعد نبیﷺ نے فرمایا :'' بچہ اسی کا ہوتا ہے جو جائز شوہر یا مالک ہو، جس کے بستر پر وہ پیدا ہو اور زنا کرنے والے کو پتھر ملیں گے۔ '' اس کے بعد آپﷺ نے ام المومنین سودہ بنت زمعہؓ (اپنی بیوی) سے فرمایا۔ :'' تم اس سے پردہ کر و۔ '' کیوں کہ آپﷺ نے (اس بچہ) میں کچھ مشابہت عتبہ کی بھی دیکھی۔ چنانچہ ام المومنین سودہؓ کو اس لڑکے نے نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل سے مل گئیں۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ بعض لوگوں نے وسوسوں کو شبہات میں شمار نہیں کیا اس کا بیان
(۹۸۷)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہمارے پاس کچھ آدمی گوشت (بیچنے) لاتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ انھوں نے بسم اللہ اس پر پڑھی یا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا :'' تم اس پر بسم اللہ پڑھ کر کھا لیا کرو۔ ''
 
Top