• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ دوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عرفات سے واپسی پر نبیﷺ کا سکون و اطمینان سے چلنے کا حکم دینا اور آپﷺ کا کوڑے سے اشارہ فرمانا
(۸۳۳)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ وہ عر فہ کے دن رسول اللہﷺ کے ہمراہ (عرفات سے واپسی پر) چلے (وہ کہتے ہیں کہ) نبیﷺ نے اپنے پیچھے بہت زیادہ شور اور او نٹوں کو مارنے کی آواز سنی تو آپﷺ نے اپنے کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :'' اے لو گو!سکون کو قائم رکھو، کیوں کہ اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس شخص نے عورتوں اور بچوں کو رات کے وقت روانہ کر دیا تا کہ وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
(۸۳۴)۔ اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے کہ وہ شب مزدلفہ میں مزدلفہ کے پاس اتریں اور نماز پڑھنے کھڑی ہو گئیں پھر تھوڑی دیر نماز پڑھ کر پوچھا کہ اے بیٹے !کیا چاند غروب ہو گیا؟ (عبداللہ نے) کہا نہیں پس وہ تھوڑی دیر نماز پڑھتی رہیں۔ اس کے بعد پوچھا کہ اے بیٹے ! کیا چاند غروب ہو گیا؟ (عبداللہ نے) کہا کہ ہاں، تو کہنے لگیں کہ چلو اب چلیں۔ چنانچہ ہم کوچ کر کے چل دیے یہاں تک کہ اسماءؓ نے منیٰ پہنچ کر کنکریاں ماریں پھر صبح کی نماز اپنے مقام پر آ کر پڑھی۔ میں (عبداللہ)نے ان سے کہا کہ جناب ! ہمیں ایسا خیال ہے کہ ہم نے عجلت کی۔ اسماءؓ نے جواب دیا کی اے بیٹے !رسول اللہﷺ نے عورتوں کے لیے (اس بات کی) اجازت پہلے ہی سے دے رکھی ہے۔ ''

(۸۳۵)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ ہم مز دلفہ میں اترے تو ام المومنین سو دہؓ نے نبیﷺ سے اجازت مانگی کہ لوگوں کے ہجوم سے پہلے چل دیں اور وہ ایک بھاری بھرکم بدن کی خاتون تھیں تو آپﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور وہ لوگوں کے ہجوم سے پہلے چل دیں اور ہم لوگ ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پھر ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے (مگر مجھے اس قدر تکلیف ہوئی کہ میں تمنا کرتی تھی کہ) کاش ! میں نے بھی رسول اللہﷺ سے اجازت لے لی ہوتی جس طرح کہ سودہؓ نے لے لی تھی تو مجھے ہر خوشی کی بات سے زیادہ پسند ہوتا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مزدلفہ میں فجر کس وقت پڑھے؟
(۸۳۶)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ وہ سب لوگوں کے ہمراہ مزدلفہ گئے پس (وہاں) عبداللہ بن مسعودؓ نے دو نمازیں ایک سا تھ پڑھیں (مغرب اور عشا ء کی)۔ ہر نماز کے صرف فرض پڑھے، اذان و اقامت کے ساتھ اور دونوں نمازوں کے درمیان کھانا کھایا۔ اس کے بعد جب صبح کا آغا ز ہو ا تو فوراً فجر کی نماز پڑھ لی۔ اس وقت ایسا اندھیرا تھا کہ کوئی تو کہتا تھا کہ فجر ہو گئی اور کو ئی کہتا تھا کہ ابھی فجر نہیں ہوئی۔ نماز سے فراغت پانے کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :''یہ دونوں نمازیں اس مقام یعنی مزدلفہ میں اپنے وقت سے ہٹا دی گئی ہیں مغرب اور عشاء۔ پس لوگوں کو چاہیے کہ جب تک عشاء کا وقت نہ ہو جائے مزدلفہ میں نہ آئیں اور فجر کی نماز صبح صبح اسی وقت پڑھیں۔ ''پھر عبداللہ بن مسعو دؓ ٹھہر گئے یہاں تک کہ خوب سفیدی پھیل گئی۔ اس کے بعد کہا کہ اگر امیر المومنین عثمانؓ اب منیٰ کی طرف چل دیتے تو سنت کے موافق کرتے (امیر المومنینؓ نے کوچ کر دیا تو راوی عبدالرحمن کہتے ہیں کہ) میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن مسعودؓ کا قول پہلے ہوا یا امیر المومنین سیدنا عثمانؓ کا کوچ پہلے ہوا۔ پھر سیدنا ابن مسعودؓ برابر تلبیہ کرتے رہے یہاں تک کہ قربانی کے دن جمرۃ العقبہ کو کنکریاں مار یں۔ (اس وقت تلبیہ موقوف کر دیا)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مزدلفہ سے کس وقت کوچ کرے؟
(۸۳۷)۔ امیر المومنین سیدنا عمرؓ نے فجر کی نما ز مزدلفہ میں پڑھی پھر ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد فرمایا :''مشرک لوگ جب تک آفتاب طلوع نہ ہوتا یہاں سے کوچ نہ کرتے تھے اور کہا کرتے تھے :'' اے ثبیر ! (ایک پہاڑ کا نام ہے) آفتاب کی کرنوں سے چمک جا۔ ''اور بے شک نبیﷺ نے ان کی مخالفت فرمائی۔ اس کے بعد سیدنا عمرؓ نے آفتاب کے نکلنے سے پہلے ہی کوچ کر دیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قربانی کے جانور (اونٹ وغیرہ) پر سوار ہونا جائز ہے
(۸۳۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے جانور کو ہانک رہا ہے تو آپﷺ نے فرمایا :''اس پر سوار ہو جا۔ '' اس نے عرض کی (یا رسول اللہ !) یہ تو قربانی کا جانور ہے (اس پر کیوں کر سوار ہو سکتا ہوں؟) تو آپﷺ نے فرمایا :''اس پر سوار ہو جا۔ ''اس نے پھر کہا یہ قربانی کا جانور ہے۔ تو پھردوسری بار یا تیسری بار آپﷺ نے فرمایا :''تیری خرابی ہو، اس پر سوار ہو جا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جو شخص اپنے سا تھ قربانی کا جانور لے کر چلے
(۸۳۹)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ اور حج کے ساتھ تمتع فرمایا اور قربانی لائے پس ذوالحلیفہ سے قربانی اپنے ہمراہ لی اور سب سے پہلے رسول اللہﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا، اس کے بعد حج کا احرام باندھا پس اور لوگوں نے بھی نبیﷺ کے ہمراہ (آپﷺ کی متابعت کی غرض سے) عمرہ اور حج کے ساتھ تمتع کیا اور ان میں سے بعض لو گ تو قربانی ساتھ لائے تھے اور بعض نہ لائے تھے۔ پس جب نبیﷺ مکہ میں تشریف لے آئے تو لوگوں سے فرمایا :'' تم میں سے جو شخص قربانی ساتھ لایا ہو وہ احرام میں جن چیزوں سے پرہیز کرتا ہے حج مکمل ہونے تک پرہیز کرے اور جو نہیں لایا اسے چاہیے کہ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے بال کتر والے اور احرام کھول دے۔ اس کے بعد سات یا آٹھ ذوالحجہ کو صرف حج کا احرام باندھے (پھر حج کرے اور قربانی کرے)۔ پھر جسے قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے اس وقت رکھے جب اپنے گھر واپس لو ٹ کر جائے۔ ''
باب۔ جس شخص نے ذی الحلیفہ پہنچ کر قربانی کے گلے میں ہار ڈالا اور جانور کو تھوڑا سا زخم لگا کر خون نکال دیا اس کے بعد احرام باندھا۔

(۸۴۰)۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروانؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ صلح حدیبیہ میں ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نبیﷺ نے قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالا اور چھری سے تھوڑا سا زخم لگا کر نشان لگا یا اور عمرہ کا احرام باندھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس نے اپنے ہاتھ سے قلاوہ پہنایا
(۸۴۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ جو شخص کعبہ میں قربانی کا جانور روانہ کر ے اس پر تمام وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو حج کر نے والے پر حرام ہو جاتی ہیں جب تک کہ اس کی قربانی نہ کر دی جائے،ام المومنین عائشہ صدیقہؓ نے جواب دیا کہ ابن عباسؓ نے یہ جو کہا وہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی قربانی کے ہار خود اپنے ہاتھ سے بٹے تھے۔ پھر رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے جانوروں کو وہ پہنائے پھر ان جانوروں کو میرے والد (ابو بکرؓ) کے ہمراہ روانہ کیا مگر کوئی چیز جو اللہ نے رسول اللہﷺ کے لیے حلال فرمائی تھی وہ جانوروں کی قربانی تک حرام نہیں ہوئی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ (بیت اللہ میں قربانی کے لیے) قربانی کی بکریوں کو ہار پہنانا مسنون ہے
(۸۴۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے اس روایت میں منقول ہے کہ نبیﷺ نے بکریاں، قربانی کے لیے روانہ کی تھیں۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپﷺ بکریوں کو قلادہ پہنا کر روانہ کر دیتے تھے اور خود اپنے گھر میں اس حال میں مقیم تھے کہ آپﷺ حلال تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ روئی کے بنے ہوئے ہار کا بیان
(۸۴۳)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے قربانی کے جانوروں کے لیے ہار اس روئی کے بنائے تھے جو میرے پاس تھی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قربانی کے جانوروں کو جھول پہنانا اور ان کا صدقہ کر دینا
(۸۴۴)۔ امیر المومنین سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے یہ حکم فرمایا تھا کہ جو جانور قربان کیے گئے ہیں ان کے جھولوں اور ان کی کھالوں کو خیرات کر دوں۔
 
Top