• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کلونجی کا بیان۔
(۱۹۶۵)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' بے شک یہ کا لا دانہ (کلونجی) سام کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔ '' میں نے کہا کہ سام کیا چیز ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' موت۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قسط ہندی اور دریائی ناک میں ڈالنا مفید ہے۔
(۱۹۶۶)۔ سیدہ ام قیس بن محصنؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' تم عود ہندی کا استعمال کیا کرو کیونکہ یہ سات بیماریوں کی دوا ہے ، مرض عذرہ (حلق کی ورم یعنی خناق) کے لیے ناک میں ڈالی جاتی ہے اور پسلی کے درد کے لیے منہ میں رکھی جاتی ہے۔ اور باقی حدیث گزر چکی ہے۔ (دیکھیے حدیث :۱۶۷)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب بیماری کی وجہ سے پچھنے لگوانا (جائز ہے)۔
(۱۹۶۷)۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ '' ابوطیبہ نے رسول اللہﷺ کے پچھنے لگائے تھے '' حدیث : ۱۰۰۴ کے تحت گزر چکی ہے اور اس حدیث کے آخر میں کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' پچھنے لگوانا اور قسط دریائی تمہاری عمدہ دواؤں میں سے ہیں۔ '' اور فرمایا :'' تم اپنے بچوں کو حلق کی بیماری (یعنی خناق) میں تالو دبا کر تکلیف نہ دیا کر و بلکہ قسط کا استعمال کیا کرو۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس نے (بیماری کے علاج کے لیے) دم نہیں کروایا۔
(۱۹۶۸)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :' میرے سامنے گزشتہ امتیں پیش کی گئیں اور انبیاء گزرنے لگے کسی کے ساتھ ایک آدمی ، کسی کے ساتھ دو آدمی ، کسی کے ساتھ ان کی امت کے کچھ لوگ تھے اور ایک نبی کے ساتھ کوئی بھی (امتی) نہ تھا یہاں تک کہ ایک بہت بڑی جماعت میرے سامنے کی گئی ، میں نے پوچھا :'' یہ کس کی امت ہے ؟ کیا یہ میری امت ہے ؟ تو مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰؑ اور ان کی امت ہے (پھر) کہا گیا کہ تم آسمان کو دیکھو (تو کیا دیکھتا ہوں ! کہ ایک بڑی جماعت نے آسمان کے کنارے کو گھیر رکھا ہے پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر ادھر آسمان کے دوسرے کنارے بھی دیکھو۔ میں نے دیکھا کہ واقعی بہت بڑی جماعت افق کو گھیر ے ہوئے تھی۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ تمہاری امت ہے اور ان میں سے ستر ہزار بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ ''اس قدر فرما کر رسول اللہﷺ (حجرہ میں) تشریف لے گئے اور ہم لوگوں سے یہ ظاہر نہ فرمایا :'' وہ کون لوگ ہوں گے۔ (اس پر) لوگوں نے جھگڑنا شروع کیا۔ کہنے لگے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کے رسولﷺ کی فرمانبرداری کی ، اس لیے وہ لوگ ہم ہیں ورنہ ہماری اولاد ہو گی جو (کہ اب دور) اسلام میں پیدا ہوئے ہیں کیونکہ ہم دور جاہلیت کی پیدائش ہیں۔ یہ خبر نبیﷺ کو بھی پہنچ گئی۔ رسول اللہﷺ (یہ سن کر) تشریف لائے اور فرمایا :'' وہ تو وہ لوگ ہیں جو نہ دم کریں (کروائیں) اور نہ کسی شے میں بد فالی سمجھیں اور نہ (علاج کے لیے آگ سے) داغیں بلکہ اپنے اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ''۔ سیدنا عکاشہ بن محصنؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ فرمایا :''ہاں ! (تو ان میں سے ہے)۔ '' کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا کہ کیا میں بھی انہی میں سے ہوں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' بس عکاشہ تم پر سبقت کر چکا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جذام کا بیان۔
(۱۹۶۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ فرماتے تھے :'' ایک کی بیماری دوسرے کو لگنا ، بد شگونی لینا ، الوکو منحوس سمجھنا اور صفر کو منحوس سمجھنا تمام کے تمام لغو خیالات ہیں لیکن جذام والے سے اس قدر علیحدہ رہنا چاہیے جیسے شیر سے (جدا رہتے ہیں)۔ ''
فائدہ : یہ اس لیے نہیں کہ جذام والے کی بیمار ی سے لگ جائے بلکہ اس لیے دور رہنے کی تلقین کی جارہی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے اس کا بیمار ہونا بھی اتفاق سے لکھا تھا وہ بیمار ہو گیا۔ اب دل میں خیال آتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ بیٹھنے کی وجہ سے بیماری لگی ہے تو یہ گناہ ہے۔ اس گناہ میں واقع ہونے سے بچانے کے لیے '' سدذرائع '' کے طور پر رو کا جا رہا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ صفر کوئی چیز نہیں۔ (صفر پیٹ کی ایک بیماری ہے)
(۱۹۷۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ہی ایک دوسری روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا تھا :'' یہ چھوت چھات کوئی چیز ہے اور نہ صفر اور نہ الومنحوس ہے۔ '' یہ سن کر ایک اعرابی نے رسول اللہﷺ سے عرض کی کہ پھر میرے اونٹوں کا یہ حال کیوں ہوتا ہے کہ ریت (کے جنگل) میں ہرنوں کی مثل (چست اور چالاک) ہوتے ہیں پھر ایک خارشی اونٹ آتا ہے ان میں گھومتا پھر تا ہے تو خارشی اونٹ کے ملنے سے وہ بھی خارشی ہو جاتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' پہلے کی کھجلی کہاں سے آئی تھی ؟''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ پسلی کے درد (کی دوا) کا بیان۔
(۱۹۷۱)۔ سیدنا انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک انصاری کے گھر والوں کو یہ اجازت دے دی تھی کہ بچھو وغیرہ کے ڈنک مارنے اور کان کے درد کے لیے دم وغیرہ کر لیا کریں اور میں پسلی کے درد کی وجہ سے آپ کی زندگی میں داغ دلوایا اور ابو طلحہ اور انس بن نضر اور زید بن ثابتؓ موجود تھے اور ابو طلحہؓ نے داغ دیا تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ بخار بھی دوزخ کی بھاپ سے ہے۔
(۱۹۷۲)۔ اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے کہ جب وہ کسی بخار چڑھی عورت کے پاس آتیں تو اس کے لیے دعا کرتیں اور پانی لے کر گر بیان میں ڈال دیتیں اور کہا کرتیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں اسی
طرح بتلایا ہے کہ اس بخار کو پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ طاعون کا بیان۔
(۱۹۷۳)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :'' طاعون مسلمانوں کے لیے شہادت ہے (یعنی جو طاعون کی وبا سے فوت ہو جائے وہ بھی شہید ہے)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نگاہ لگ جانے سے دم کرنا (جائز ہے)
(۱۹۷۴)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ نے مجھ کو حکم دیا، یا (آپ نے اس طرح بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے) حکم فرمایا :'' نظر بد کا دم کیا جائے (تو جائز ہے)۔

(۱۹۷۵)۔ ام المومنین ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان کے مکان میں ایک لڑکی کے چہرہ پر کچھ نشان پڑے ہوئے دیکھے تو فرمایا :'' اس لڑکی کو دم کراؤ کیونکہ اس کو نظر بد ہو گئی ہے۔ ''
 
Top