• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' اور جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم ! اللہ تعالیٰ نے تجھے برگزیدہ کر لیا۔۔۔ کہ مریم کو ان میں سے کون پا لے گا ؟'' (آل عمران :۴۲۔۴۴)
(۱۴۲۹)۔ امیر المومنین سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' دنیا کی بہتر عورت عمران کی بیٹی مریم (علیہ السلام) تھیں اور (اپنے دور میں) دنیا کی بہتر عورت (ام المومنین) خدیجہ (رضی اللہ عنہ) تھیں۔ ''

(۱۴۳۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' قریش کی عورتیں ان سب عورتوں میں بہتر ہیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں ، اولاد پر بہت مہربان اور شوہر کے مال کا بہت خیال رکھنے والیاں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' اے اہل کتاب ! اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ۔۔۔ کار ساز ہے ''(النساء:۱۷۱)
(۱۴۳۱)۔ سیدنا عبادہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جو اس بات کی گواہی دے کہ '' اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اس کے بندے اور رسول ہیں اور وہ(عیسیٰ علیہ السلام) اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم علیہ السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں اور جنت بر حق ہے۔ اور وہ دوزخ برحق ہے '' تو اللہ تعالیٰ (ایک نہ ایک دن) اسے جنت میں لے جائے گا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کیجیے جبکہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر۔۔۔ '' الآ یۃ۔ '' (مریم :۶۱)
(۱۴۳۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' گود میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے ، ایک عیسیٰؑ ، دوسرے بنی اسرائیل میں جریج نامی ایک شخص تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اسے بلایا تو وہ (دل میں) کہنے لگا کہ میں نماز پڑھے جاؤں یا اپنی ماں کو جواب دوں ؟ (جواب نہ دیا) اس کی ماں نے کہا کہ یا اللہ ! یہ اس وقت تک نہ مرے جب تک چھنال عورتوں کا منہ دیکھ لے (ان سے اس کا سابقہ نہ پڑے) پھر ایسا ہو کہ جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا کہ ایک (فاحشہ) عورت آئی اور جریج سے بد کاری چاہی ، جریج نہ مانا۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی ، اس سے منہ کا لا کیا اور ایک لڑکا جنا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ لڑکا کہاں سے لائی ؟ اس نے کہا کہ یہ جریج کا ہے۔ لوگ یہ سن کر بہت غصے ہوئے کہ ایسا عابد ہو کر بد کاری کرتا ہے۔ انھوں نے آ کر اس کے عبادت خانہ کر توڑ ڈالا ، اسے نیچے اتار دیا اور گالیاں دیں۔ جریج نے وضو کیا ، نماز پڑھی ، پھر اس بچے کے پاس آیا (جو پیدا ہوا تھا) اس سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے ؟ اس نے (ایسی کم عمر ی میں بات کی) کہا میرا باپ فلاں چرواہا ہے ، یہ حال دیکھ کر لو گ شرمندہ ہوئے اور جریج سے کہنے لگے کہ ہم تیرا عبادت خانہ سونے سے بنا دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا نہیں ، مٹی سے بنا دو ، تیسرے بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی ادھر سے ایک بہت خوش وضع ، خوبصورت سوار گزرا۔ عورت اس کو دیکھ کر کہنے لگی کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو اس سوار کی طرح کرنا ، یہ سنتے ہی اس بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ دی اور سوار کی طرف منہ کر کے کہنے لگا کہ یا اللہ ! مجھے اس کی طرح نہ کرنا۔ اتنی بات کر کے پھر اپنی ماں کی چھاتی چھچھوڑنے لگا۔ '' سیدنا ابو ہریرہؓ نے کہا گویا میں (اس وقت) نبیﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپﷺ نے اپنی انگلی کو چوس کو دکھا یا کہ وہ لڑکا اس طرح چھاتی چوسنے لگا۔ '' پھر ایک لونڈی ادھر سے گزری (جسے لوگ مارتے جاتے تھے) عورت نے کہا کہ یا اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ کرنا۔ یہ سن کر بچے نے پھر چھاتی چھوڑ دی اور کہا کہ یا اللہ ! مجھے اسی لونڈی کی طرح کرنا۔ اس وقت عورت نے اپنے بچے سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے ؟ (جو تو خوش وضع سوار کی طرح نہیں ہونا چاہتا ، اس لونڈی کی طرح ذلیل وخوار ہونا چاہتا ہے) اس نے کہا یہ سوار جو گزرا ظالموں کا ایک ظالم ہے اور یہ لونڈی (بے قصور ہے) لو گ اس پر طوفان جڑتے ہیں ، کہتے ہیں کہ تو نے چوری کی ،زنا کیا حالانکہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ ''

(۱۴۳۳)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میں نے (شب معراج میں) عیسیٰ ، موسیٰ اور ابراہیمؑ کو دیکھا عیسیٰؑ سرخ رنگ ، گھونگھریالے بال اور چوڑے سینے والے تھے اور موسیٰؑ گندم گوں ، لمبے سیدھے بال والے ، جیسے زط کے لوگ ہوتے ہیں۔ ''

(۱۴۳۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے ہی روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میں نے رات خواب میں خود کو کعبہ کے پاس دیکھا (اور دیکھا کہ) ایک شخص بہت اچھا گندمی رنگ والا جس کے بال کندھوں تک (کنگھی کی وجہ سے) صاف سیدھے تھے ، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، وہ اپنے دونوں ہاتھ دو شخصوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے کعبے کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ مسیح ابن مریمؑ ہیں۔ پھر ان کے پیچھے میں نے ایک اور شخص کو دیکھا جو سخت گھونگھریالے بال اور داہنی آنکھ سے کا نا تھا ، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ ان سب میں وہ عبدالعزیٰ بن قطن کے بہت مشابہ ہے ،(جو جاہلیت کے دور میں مر گیا تھا) وہ اپنے دونوں ہاتھ ایک شخص کے کندھوں پر رکھے کعبے کا طواف کر رہا ہے تو میں نے کہا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ مسیح دجال ہے۔ ''

(۱۴۳۵)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ ہی ایک دوسری روایت میں کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! رسول اللہﷺ نے عیسیٰؑ کو یہ نہیں کہا کہ وہ سرخ رنگ کے تھے لیکن یہ فرمایا :'' میں خواب میں کعبے کا طواف کر رہا تھا (تو دیکھا) کہ ایک شخص گندم گوں سیدھے بالوں والا دو آدمیوں پر ٹیکا دیتے جا رہا ہے ، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے یا بہہ رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ہیں۔ میں نے نگاہ پھرائی تو ایک شخص سرخ رنگ ، موٹا ، گھونگھریالے بالوں والا ، داہنی آنکھ سے کا نا ، اس کی آنکھ جیسے پھولا انگور نظر آیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے کہا کہ یہ دجال ہے اور لوگوں میں (عبدالعزیٰ) ابن قطن اس کے بہت مشابہ تھا۔ ''

(۱۴۳۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' میں سب لوگوں سے زیادہ عیسیٰ ابن مریمؑ سے تعلق رکھتا ہوں ، سب پیغمبر گویا علاتی بھائی ہیں (باپ ایک یعنی عقائد مائیں جدا جدا یعنی فروعات مسائل) میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی پیغمبر نہیں۔ ''

(۱۴۳۷)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' میں سب لوگوں سے زیادہ عیسیٰ ابن مریمؑ سے قربت رکھتا ہوں ، دنیا اور آخرت دونوں میں اور پیغمبر سب بھائی ہیں ان کی مائیں جدا جدا اور دین (اعتقاد) ایک۔ ''

(۱۴۳۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ہی نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' عیسیٰ علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھ لیا تو اس سے کہا کہ کیا تو نے چوری کی ہے ؟ اس نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ پر ایمان لا یا اور اپنی آنکھوں کو جھٹلا دیتا ہوں۔ ''

(۱۴۳۸)۔ سیدنا عمر خطابؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' مجھے اتنا (بلند) مت چڑھا ؤ (میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو) جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو چڑھا دیا ، میں تو اللہ کا بندہ ہوں اور کچھ نہیں پس اس طرح کہو کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول (ﷺ)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عیسیٰ ابن مریمؑ کے آسمان سے اترنے کا بیان۔
(۱۴۴۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا کہ جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تمہاری قوم میں سے ہو گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ بنی اسرائیل کے حالات کا بیان۔
(۱۴۴۱)۔ سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ دونوں ہوں گے مگر جس کو لوگ آگ سمجھیں گے وہ درحقیقت ٹھنڈا پانی ہو گا اور جس کو لوگ ٹھنڈا سمجھیں گے وہ جلانے والی آگ ہو گی ، پس تم میں سے جو کوئی یہ دور پائے تو ظاہر میں جو آگ معلوم ہواس میں گر پڑے ، وہ حقیقت میں ٹھنڈا میٹھا پانی ہے۔ ''

(۱۴۴۲)۔ سیدنا حذیفہؓ سے ہی روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' (پہلے لوگوں میں سے) ایک شخص مرنے لگا تو جب اپنی زندگی سے نا امید ہو گیا تو اپنے گھر والوں کو یہ وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو بہت ساری لکڑیاں اکٹھا کرنا ، پھر آگ سلگانا (مجھے اس میں ڈال دینا) جب آگ میرا گوشت کھا کر ہڈی تک پہنچ جائے اور ہڈی بھی جل کر کوئلہ ہو جائے تو ہڈیاں لے کر خوب پیسنا پھر جس دن زور کی ہوا چلے دیکھتے رہنا ، اس دن وہ راکھ دریا میں اڑا دینا (کچھ ہوا میں پھیل جائے اور کچھ سمند رمیں) اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا سارا بدن اکٹھا کر لیا اور اس سے فرمایا :''تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا کہ پروردگار تیرے ڈر سے۔ پھر اللہ نے اس کو معاف کر دیا۔ ''

(۱۴۴۳)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' بنی اسرائیل کے لوگوں پر پیغمبر حکومت کیا کرتے تھے ، جب ایک پیغمبر فوت ہو جاتا تو دوسرا اس کا قائم مقام ہو تا مگر میرے بعد کوئی پیغمبر نہ ہو گا البتہ خلیفہ ہوں گے جو (بعد میں) بہت زیادہ بڑھتے جائیں گے۔ '' صحابہ نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں ایسے وقت میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا جو پہلے خلیفہ ہو جائے (اس سے تم نے بیعت کر لی ہو) تو اس کی بیعت پوری کرو پھر اس کے بعد پہلے خلیفہ ہو ، (اسی طرح کرتے رہو) ان کا حق (اطاعت) ادا کرتے رہو ، بے شک اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن پوچھے گا کہ انھوں نے رعیت کا حق کیسے ادا کیا ؟''

(۱۴۴۴)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' تم (مسلمان) بھی اگلے لوگوں کی چال پر چلو گے ، بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ ، یہاں تک کہ اگر وہ ساہنے کے سوراخ میں (جو نہایت تنگ ہوتا ہے) گھسے ہوں گے تو تم بھی اس میں گھس جا ؤ گے۔ '' ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! اگلے لوگوں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' اور کون ؟''

(۱۴۴۵)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر وؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' لوگوں کو میری طرف سے (دین کی باتیں) پہنچاؤ ، اگر چہ ایک آیت ہی سہی اور بنی اسرائیل سے جو سنو وہ بھی بیان کرو۔

(۱۴۴۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' یہود اور نصاریٰ بالوں میں خضاب نہیں کرتے تم ان کے خلاف کرو۔ (خضاب کیا کرو)۔ ''

(۱۴۴۷)۔ سیدنا جندب بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا ، اس کو ایک زخم لگا تو اس نے چھری لے کر اپنی ہاتھ کا ٹ ڈلا ، خون بہتا رہا (رکا ہی نہیں) یہاں تک کہ وہ مر گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :'' اس شخص نے جلدی کر کے جان دی ، میں نے بھی جنت اس پر حرام کر دی۔ ''

(۱۴۴۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:''بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ، ایک جذامی (کوڑھی) ، ایک گنجا اور ایک اندھا۔ اللہ نے ان تینوں کو آزمانا چاہا ، ایک فرشتے کو ان کی طرف بھجوایا۔ وہ جذامی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ اچھا رنگ اچھی جلد۔ (کیونکہ اس حال میں) لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیر دیا تو کوڑھ دور ہو گیا اور (کے بدن) کا رنگ اچھا ہو گیا ، کھال بھی اچھی ہو گئی۔ پھر فرشتے نے پوچھا تجھے دنیا کے مالوں میں سے کونسا مال بہت زیادہ پسند ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ اونٹ یا اس نے گائے کہی ، (اسحاق بن عبداللہ راوی کو) اس میں شک تھا کہ کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کی خواہش کی تھی اور دوسرے نے گائے کی۔ چنانچہ اسے دس مہینے کی گا بھن اونٹنی دی گئی اور فرشتے نے کہا اللہ تجھے اس میں برکت دے۔ پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے؟ اس نے کہا کہ اچھے بال ، یہ گنجا پن دور ہو جائے۔ (کیونکہ) لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو گنجا پن ختم ہو گیا اور بہت اچھے بال نکل آئے۔ پھر فرشتے نے کہا دنیا کا کو نسا مال تجھے زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا گائے ، فرشتے نے ایک گابھن گائے اس کو دی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں برکت دے گا۔ پھر وہ فرشتہ اندھے کے پاس گیا اور پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے ؟ کہنے لگا کہ اللہ مجھے میری بینائی واپس کر دے تا کہ لوگوں کو دیکھو ں ، فرشتے نے اس (کی آنکھوں) پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اس کی بینائی لوٹا دی ، فرشتے نے کہا کہ تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا کہ بکریاں۔ فرشتے نے اسے ایک جننے والی بکری دی۔ پھر اونٹنیاں اور گائے بکریاں بھی جنیں تو جذامی کے پاس اونٹوں کا اور گنجے کے پاس گایوں کا اور اندھے کے پاس بکریوں کا ایک جنگل ہو گیا۔ پھر (وہی فرشتہ) اپنی اسی صورت اور شکل میں (جس میں پہلے آیا تھا) جذامی کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک محتاج آدمی ہوں سفر میں میرا سارا سامان جاتا رہا ، اب میں اللہ کی مدد اور اس کے بعد تیری عنایت کے بغیر اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ سکتا۔ میں تجھ سے اس ذات (اللہ) کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تیرے بدن کا رنگ اچھا کر دیا۔ تیری جلد اچھی کر دی اور تجھے مال دیا ، مجھے ایک اونٹ دے جس پر میں سفر میں سوار ہو کر اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاؤں۔ جذامی نے اسے جواب دیا کہ بہت آدمیوں کا (قرض) دینا ہے۔ فرشتے نے کہا کہ گویا میں تجھے پہچانتا ہوں ، کیا تو کوڑھی نہ تھا ، سب لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے اور تو محتاج تھا تو اللہ نے تجھے یہ سب عنایت کیا ؟ جذامی نے کہا کہ میں تو بزرگوں کے وقت سے مالدار چلا آتا ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تو جھوٹ بولتا ہے تو اللہ پھر تجھے ویسا ہی (کوڑھی) کر دے۔ پھر وہ فرشتہ اسی شکل میں گنجے کے پاس گیا اور اس سے بھی وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا تو اس نے بھی ویسا ہی جواب دیا،تو فرشتے نے کہا کہ اگر تو جھوٹ بولتا ہے تو اللہ پھر تجھے ویسا ہی کر دے۔ پھر وہ فرشتہ اپنی اسی شکل میں اندھے کے پاس گیا اور کہا کہ میں ایک محتاج اور مسافر آدمی ہوں اور میرے پاس سفر کا سامان بالکل نہیں رہا ، اب بغیر اللہ کی مدد اور تیری توجہ کے میں اپنے وطن نہیں پہنچ سکتا ، مجھے اس اللہ کے نام پر جس نے تیری آنکھیں (دوبارہ) روشن کیں ایک بکری دے دے جس سے میں سفر میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاؤں۔ اندھے نے کہا کہ بے شک میں اندھا تھا ، اللہ نے مجھے بینائی دی محتاج تھا ، مجھے مالدار کر دیا (اس کے نام پر تو مانگتا ہے) جو تیر اجی چاہے وہ لے لے ، میں آج تجھے تنگ نہیں کرنے کا ، فرشتے نے کہا (میں محتاج نہیں ہوں) تو بکریاں رہنے دے ، اللہ نے تم تینوں کو آزمایا تھا ، تجھ سے تو خوش ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں (کوڑھے اور گنجے) سے ناراض۔ ''

(۱۴۴۹)۔ سیدنا ابوسعیدخدریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے (۹۹) آدمیوں کو(ناحق) قتل کیا تھا پھر (نادم ہو کر) مسئلہ پوچھنے نکلا تو ایک درویش (پادری) کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ اس شخص نے پادری کو بھی مار ڈالا پھر مسئلہ پوچھتا پوچھتا چلا تو ایک شخص (دوسرے پادری ) نے کہا کہ تو فلاں بستی میں جا۔ رستے میں اس کو موت آ پہنچی (مرتے مرتے) اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکا دیا اب رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے (نصرہ) اس بستی کو (جس طرف وہ جا رہا تھا) یہ حکم دیا کہ اس شخص سے نزدیک ہو جا اور اس بستی کو (جہاں سے وہ نکلا تھا) یہ حکم دیا کہ تو اس سے دور ہو جا۔ پھر فرشتوں سے فرمایا :'' ایسا کرو کہ جہاں یہ مرا ہے وہاں سے دونوں بسیتاں نا پو (ناپا) تو دیکھا کہ وہ اس بستی سے ایک بالشت زیادہ نزدیک نکلا جہاں وہ توبہ کرنے جا رہا تھا ، پس اسے بخش دیا گیا۔ ''

(۱۴۵۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نے کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' ایک شخص نے دوسرے شخص سے گھر خرید لیا ، جس نے خریدا تھا اس نے اس گھر میں سونے سے بھرا ہوا ایک گھڑا پایا اور بیچنے والے سے کہنے گا کہ بھائی یہ ٹھلیا لے جا ، میں نے تجھ سے گھر خریدا ہے سونا نہیں خریدا۔ بائع (بیچنے والا) کہنے لگا کہ میں نے گھر بیچا اور اس میں جو کچھ تھا وہ بھی بیچا۔ آخر دونوں جھگڑتے ہوئے ایک شخص کے پاس گئے۔ انھوں نے کہا کہ تمہاری اولاد بھی ہے ؟ ایک نے کہا کہ میرا لڑکا ہے اور دوسرے نے کہ میری ایک لڑکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان دونوں کا آپس میں نکاح کر دو اور یہ سونا ان دونو ں پر خرچ کر دو اور خیرات بھی کر و۔ ''

(۱۴۵۱)۔ سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے رسول اللہﷺ سے طاعون کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ تو سیدنا اسامہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :'' طاعون ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا یا(یہ کہا کہ) تم سے پہلے لوگوں پر (یہ راوی کو شک ہے) پھر جب تم سنو کہ کسی ملک میں طاعون پھیلا ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب اس ملک میں پھیلے جہاں تم لو گ رہتے ہو تو بھاگنے کی نیت سے وہاں سے مت نکلو۔ ''

(۱۴۵۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا :'' طاعون ایک عذاب ہے ، اللہ تعالیٰ جن پر چاہتا ہے یہ عذاب بھیجتا ہے اور اللہ نے اس کو مسلمانوں کے لیے رحمت بنا دیا ہے ، جب کہیں طاعون پھیلے اور مسلمان صبر کر کے ثواب کی نیت سے اپنی ہی بستی میں ٹھہرا رہے (بھاگے نہیں) اس کا یہ اعتقاد ہو کہ اللہ نے جو مصیبت قسمت میں لکھ دی ہے وہی پیش آئے گی تو اس کو شہید کا ثواب ملے گا۔ ''

(۱۴۵۳)۔ سیدنا ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ گویا میں اس وقت نبیﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپﷺ بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر کا حال بیان کر رہے تھے :'' ان کی قوم کے لوگوں نے ان کو مار مار کر لہو لہان کر دیا اور وہ اپنے منہ سے خون کو صاف کرتے جاتے اور (جب ہو ش آتا) یہ کہتے کہ اے اللہ ! میری قوم والوں کو بخش دے ، کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ ''

(۱۴۵۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' ایک شخص غرور سے اپنی تہبند (لٹکائے) کھینچ رہا تھا ، وہ (زمین میں) دھنسا دیا گیا ، قیامت تک اس میں تڑپتا (چیختا چلاتا) اترتا جائے گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
فضیلتوں کا بیان

اللہ تعالیٰ کا (سورۂ حجرات میں) ارشاد : اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد (آدم علیہ السلام) اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا۔۔۔۔ ''
(۱۴۵۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاتے ہو ،جو لوگ جاہلیت کے دور میں کرتے ہیں کہ اچھے ، شریف گنے جاتے تھے وہی اسلام کے دور میں بھی اچھے اور شریف ہیں بشرطیکہ دین کا علم حاصل کریں اور حکومت اور سرداری کے زیادہ لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سر داری کو بہت نا پسند کرتا ہو اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دور خا (دو غلا) ہو ، ان لوگوں میں ایک منہ لے کر آئے ، دوسرے لوگوں میں دوسرا منہ لے کر جائے۔ ''

(۱۴۵۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' مسلمان لوگ امامت اور خلافت میں مسلمان قریش کے تابع ہیں جیسے (عرب کے) کافر (کفر کے دور میں بھی) قریش کے تابع ہیں اور آدمیوں کا حال کانوں کی طرح ہے ، جو لوگ جاہلیت کے دور میں بھی اچھے اور شریف تھے وہی اسلام کے دور میں بھی اچھے اور شریف ہیں بشرطیکہ دین کا علم حاصل کریں۔ تم بہت اچھا آدمی اس کو پاؤ گے جو سب سے زیادہ حکومت اور سرداری کو برا سمجھتا ہو ، یہاں تک کہ اس میں گرفتار ہو جائے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قریش کی فضیلت کا بیان
(۱۴۵۷)۔ سیدنا معاویہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ عمرو بن عاصؓ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ عنقریب عرب کا بادشاہ ایک قحطانی ہو گا۔ سیدنا معاویہ یہ سن کر غصہ میں آئے اور خطبہ سنانے کھڑے ہوئے ، پہلے اللہ کی جیسی چاہیے ویسی تعریف کی پھر کہنے لگے کہ اما بعد !مجھے یہ پہنچی ہے کہ تم میں سے بعض لوگ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جن کی سند اللہ کی کتاب سے نہیں نکلتی اور نہ رسول اللہﷺ سے منقول ہیں ، پس یہ لوگ جاہل ہیں ، ان سے اور ان کے خیالات سے بچے رہو جن خیالات نے ان کو گمراہ کر دیا ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ خلافت اور سر داری قریش میں رہے گی جو کوئی ان کی دشمنی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو سر نگوں (اوندھا) کر دے گا۔ جب تک (کہ قریش) دین اور شریعت کو قائم رکھیں گے۔ ''

(۱۴۵۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، اشجع اور غفار ان سب قبیلوں کے لوگ میرے خیر خواہ ہیں اور اللہ اور رسول (ﷺ) کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں۔ ''

(۱۴۵۹)۔ سیدنا ابن عمرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' یہ خلافت قریش میں رہے گی ، جب تک (دنیا میں) ان کے دو آدمی بھی باقی رہیں۔ ''

(۲۴۶۰)۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا عثمان بن عفانؓ رسول اللہﷺ کے پاس گئے اور عرض کی کہ آپ نے (ذی القربیٰ کا حصہ) بنی مطلب کو دیا اور ہم (بنی امیہ) اور بنی مطلب آپﷺ سے ایک ہی رشتہ رکھتے ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا :'' یہ (تو صحیح ہے) مگر بنی ہاشم اور بنی مطلب ہمیشہ ایک ہی رہے۔ ''

(۱۴۶۱)۔ سیدنا ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جان بوجھ کر اپنا باپ بنایا وہ کافر ہو گیا جو شخص اپنے آپ کو کسی دوسری قوم کا بتلائے ، جس میں سے وہ نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکا نہ دوزخ میں بنا لے۔ ''

(۱۴۶۲)۔ سیدنا واثلہ بن الا سقعؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' بڑا بہتان (اور سخت جھوٹ) یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا اور کسی کو اپنا باپ کہے یا وہ بات کہے جو اس کی آنکھ نے خواب میں نہیں دیکھی یا اللہ کے رسولﷺ پر وہ (جھوٹی) بات لگائے جو آپﷺ نے نہیں فرمائی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اسلم اور غفار اور مزینہ اور جہینہ اور اشجع قبیلوں کا بیان
(۱۴۶۳)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے منبر پر (کھڑے ہو کر) فرمایا :'' قبیلہ غفار کو اللہ نے بخش دیا اور قبیلہ اسلم کو اللہ نے بچا دیا اور قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ نافرمانی کی۔ ''

(۱۴۶۴)۔ سیدنا ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ سیدنا اقرع بن حابسؓ نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ آپ سے ان لوگوں نے بیعت کی ہے جو حاجیوں کا مال اسباب چرایا کرتے تھے یعنی قبیلہ اسلم اور غفار اور مزینہ کے لوگوں نے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی کہا کہ '' اور جہینہ کے لوگوں نے '' یہ شک ابن ابی یعقوب راوی کو ہے ، تو نبیﷺ نے فرمایا :'' بتلاؤ ! اسلم اور غفار اور مزینہ اور جہینہ (یہ چاروں قبیلے) بنی تمیم ، بنی عامر اور اسد اور غطفان سے بہتر ہیں ، کیا اگلے (چاروں) خراب اور برباد ہوئے ؟ اقرع نے کہا ہاں ! آپﷺ نے فرمایا :'' قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ ان سے بہتر ہیں۔ ''

(۱۴۶۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' قبیلہ اسلم اور غفار اور کچھ لوگ مزینہ اور جہینہ کے یا یوں کہا کہ کچھ لوگ جہینہ یا مزینہ کے اللہ کے نزدیک یا یوں کہا کہ قیامت کے دن اسد اور تمیم اور ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قبیلہ قحطان کا ذکر
(۱۴۶۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک قحطان کا ایک شخص بادشاہ ہو کر لوگوں کو اپنی لاٹھی سے نہ ہانکے گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جاہلیت کی سی باتیں کرنا منع ہے۔
(۱۴۶۷)۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ ہم نے نبیﷺ کے ساتھ جہاد کیا ، اس وقت آپﷺ کے پاس مہاجرین میں سے بہت لوگ جمع ہو گئے تھے۔ ان مہاجرین میں ایک آدمی بڑا دل لگی باز تھا ، اس نے ایک انصاری کے سرین پر ضرب لگائی۔ انصاری بہت سخت غصے ہو اور اس نے اپنی ذات والوں کو پکارا ، انصاری نے کہا اے انصار ! دوڑ و (میری فریاد سنو)۔ مہاجر نے کہا کہ اے مہاجرین ! دوڑو۔ یہ (غل) سن کر رسول اللہﷺ اپنے خیمہ سے نکل کر آئے اور فرمایا :'' یہ جاہلیت کی سی باتیں کیسی ؟'' پھر پوچھا کہ قصہ کیا ہے ؟'' لوگوں نے کہا کہ ایک مہاجر نے انصاری کے سرین پر ضرب لگائی۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ایسی جہالت کی ناپاک باتیں چھوڑ دو۔ '' اور عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافق) نے کہا کہ مہاجر ہمارے اوپر اپنی قوم والوں کو پکارتے ہیں ، پس جب ہم مدینہ پہنیں گے تو یقیناً عزت دار ذلیل کو (مدینہ سے) نکال باہر کرے گا۔ سیدنا عمرؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں اس ناپاک (شخص) کا سر نہ اڑا دوں ؟ نبیﷺ نے فرمایا :'' نہیں ! لوگ کہیں گے کہ محمدﷺ اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ ''
 
Top