• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ (قبیلہ) خزاعہ کا قصہ۔
(۱۴۶۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' عمر و بن لحّی بن قمعہ بن خندف (قبیلہ) خزاعہ والوں کا باپ تھا۔ ''

(۱۴۶۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے ہی روایت ہے کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میں نے عمر و بن عامر بن لحی خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی انتڑیاں دوزخ میں کھینچ رہا تھا ، اسی نے سب سے پہلے سائبہ کی رسم نکالی۔ فائدہ : سائبہ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے کسی بت کے نام پر چھوڑا جائے اور اس پر سواری وغیرہ کرنا ناجائز تصور کیا جائے اور مزید کچھ اصطلاحات بھی اس نے گھڑی تھیں۔ دیکھیے سورۃ المائدہ :
۱۰۳۔ یہ سب صورتیں شرک میں داخل ہیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا ابو ذر غفاریؓ کے اسلام لانے کا واقعہ
(۱۴۷۰)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذرؓ نے کہا کہ میں قبیلہ غفار کا ایک شخص تھا ، ہمیں یہ خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو اپنے آپ کو پیغمبر کہتا ہے تو میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم اس شخص کے پاس جاؤ اور ان سے بات کرو اور ان کا حال مجھ سے بیان کرو۔ وہ گیا اور آپﷺ سے ملا پھر واپس آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھاَ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم بے شک میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اچھی بات کا حکم دیتا ہے اور بری بات سے منع کرتا ہے (بس اتنا ہی بیان کیا) میں نے اس سے کہا کہ اس خبر سے میری تسلی نہیں ہوئی تو میں نے (زاد راہ میں) ایک مشکیزہ اور اپنا عصا لیا اور مکہ پہنچ گیا۔ میں آپ (رسول اللہﷺ) کو نہیں پہچانتا تھا اور مجھے آپ کا حال کسی سے پوچھنا مناسب معلوم نہ ہوا اور میں آب زمزم پیتا رہا اور مسجد میں ہی بیٹھا رہا پھر (ایک دن) سیدنا علیؓ میرے سامنے سے گزرے اور کہا کہ میرے ساتھ گھر چلو ، میں ان کے ساتھ گیا ، نہ انھوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ میں نے انھیں کچھ بتایا۔ اگلی صبح پھر میں مسجد میں آگیا تاکہ میں نبیﷺ کے بارے میں کسی سے پوچھوں مگر کوئی ایسا نہ ملا جو مجھے آپﷺ کے بارے میں کچھ بتائے ، (سیدنا ابوذرؓ) کہتے ہیں کہ پھر سیدنا علیؓ میرے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا کہ کیا ابھی تک اس شخص کو (یعنی مجھے) اپنا ٹھکانا نہیں ملا؟ میں نے کہا کہ نہیں تو انھوں نے کہا کہ میرے ساتھ چلو۔ سیدناابو ذرؓ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے مجھ سے کہا بتا کہ تیرا کہا مطلب ہے ، کس کام کے لیے اس شہر میں آیا ہے ؟ میں نے ان سے کہا کہ اگر تم یہ بات چھپاؤ تو میں تم سے بیان کروں۔ انھوں نے کہا کہ میں ایسا ہی کروں گا تو میں نے کہا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی تھی کہ یہاں تک ایک شخص پیدا ہوا ہے جو اپنے آپ کو پیغمبر کہتا ہے ، پس میں نے اپنے بھائی کو ان سے بات کرنے کو بھیجا ، پس وہ لوٹ کر آیا اور (اس کی) بیان کردہ بات سے میری تشفی نہیں ہوئی پس میں نے خود ان سے ملنے کا ارادہ کیا (سیدنا علیؓ نے) ان سے کہا کہ بے شک تو نے اچھا راستہ پایا (مجھ سے ملا) میں بھی انہی کے پاس جاتا ہوں پس تو میرے پیچھے چلا آ، جس جگہ میں داخل ہوں تو بھی داخل ہو ، اگر (راستے میں) میں ڈر کی کوئی بات دیکھوں گا تو میں (یہ اشارہ کروں گا) ایک دیوار سے لگ کر کھڑا ہو جاؤں گا جیسے اپنا جو تا صاف کرتا ہوں اور تو وہاں سے چل دینا۔ پھر(سیدنا علیؓ) چلے اور میں (سیدنا ابوذرؓ) بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ وہ (ایک مکان میں) داخل ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوا۔ وہاں نبیﷺ موجود تھے ، تو میں نے آپﷺ سے عرض کی کہ مجھے اسلام سیکھایے پس آپﷺ نے مجھے سکھایا تو میں اسی جگہ (اسی وقت) مسلمان ہو گیا تو آپﷺ نے مجھ سے فرمایا :'' اے ابوذر ! تم اس کام (اپنے ایمان) کو چھپائے رکھ اور اپنے ملک میں لوٹ جا ، جب تجھے ہمارے غلبے کی خبر ملے تو اس وقت آنا۔ '' میں نے کہا کہ (یا رسول اللہ !) قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، میں تو اس (کلمہ کو) ان (کافروں) کے درمیان میں زور سے پکاروں گا (جو ہونا ہے سو ہو) پس (سیدناابو ذرؓ) مسجد میں آئے اور اور قریش کے کافر وہاں موجود تھے (سیدنا ابوذر نے) کہا کہ اے گروہ قریش ! بے شک میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں اور یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں۔ (یہ سنتے ہی) انھوں نے کہا کہ اٹھو اور اس بے دین کی خبر لو۔ پس وہ کھڑے ہوئے اور مجھے مار ڈالنے کی نیت سے خوب مارا۔ سیدنا عباس (بن عبدالمطلب) رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو وہ مجھ پر جھک گئے پھر ان (کافروں) کی طرف منہ کر کے کہنے لگے کہ تمہاری خرابی ہو (کیا غضب کرتے ہو کہ) تم قوم غفار کے ایک شخص کو مار رہے ہو اور تمہاری سودا گر ی کا اور آنے جانے کا راستہ اس قوم کے قریب سے ہے۔ (یہ سن کر) انھوں نے میرا پیچھا چھوڑ دیا پھر دوسرا دن ہوا تو میں پھر مسجد میں آیا اور جیسا کل پکارا تھا ویسا ہی پکارا تو (کفار قریش نے) کہا کہ اٹھو ! اس بے دین کی خبر لو اور جیسی کل مجھ پر تاب پڑی تھی ویسی ہی پھر پڑنے لگی اور سیدنا عباسؓ نے پھر مجھے دیکھ لیا تو وہ آ کر مجھ پر جھک گئے اور وہی کہا ، جو کل کہا تھا ، سیدنا ابن عباسؓ نے کہا کہ سیدنا ابو ذرؓ کا اسلام اس طرح شروع ہو ا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اپنے مسلمان یا کافر باپ دادوں کی طرف نسبت دینا
(۱۴۷۱)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ '' اے پیغمبر ! اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرائیے۔ '' تو آپﷺ پکارنے لگے :'' اے بنی فہر کے لوگو، اے بنی عدی کے لوگو !'' یہ سب قریش کے خاندان تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اپنے باپ دادا کو برا کہلوانا نہ چاہنا۔
(۱۴۷۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابتؓ نے نبیﷺ سے مشرکین مکہ کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی تو آپﷺ نے فرمایا :'' میں بھی انہی کے خاندان سے ہوں۔ '' تو سیدنا حسانؓ نے کہا کہ میں (اپنی شاعری کے کمال) سے آپﷺ کو ان مشرکوں میں سے اس طرح نکال لوں گا جیسے آٹے میں سے بال نکالتے ہیں۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ رسول اللہﷺ کے ناموں کا بیان۔
(۱۴۷۳)۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' میرے پانچ نام ہیں : میں محمد ہوں اور احمد اور ماحی یعنی مٹانے والا اللہ تعالیٰ کفر کو میرے ہاتھ سے مٹوائے گا اور حاشر یعنی لوگ میرے بعد حشر کیے جائیں گے اور عاقب (یعنی خاتم النبیین میرے بعد دنیا میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آئے گا) ''

(۱۴۷۴)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' کیا تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ قریش کی گالیاں اور لعنت مجھ پر سے کیسے ٹال دیتا ہے۔ وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم (ہی) پر لعنت کرتے ہیں اور میں تو محمد (ﷺ) ہوں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
با ب۔ آپ کا نام '' خاتم النبیینﷺ ہونے کا بیان
(۱۴۷۵)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میری اور دوسرے پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکمل گھر بنایا اور بہت اچھا بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی تو لو گ اس گھر میں جانے لگے اور تعجب کرنے لگے کہ یہ اینٹ کی جگہ اگر خالی نہ ہوتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا۔ ''

(۱۴۷۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے ایک دوسرے روایت میں اتنا زیادہ منقول ہے کہ۔۔۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔۔ اور آخر میں فرمایا :''۔۔ وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا وفات کا بیان
(۱۴۷۷)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ وفات کے وقت نبیﷺ کی عمر تریسٹھ برس تھی۔ ''

(۱۴۷۸)۔ سیدنا سائب بن یزیدؓ کہتے ہیں کہ اور اس وقت ان کی عمر چورانوے (۹۴) برس تھی مگر اچھے خاصے مضبوط تھے کہ میں جانتا ہوں کہ میرے جو حواس ، کان ، آنکھ سب اب تک کام دیتے ہیں یہ رسول اللہﷺ کی دعا کی برکت ہے۔ میری خالہ مجھے نبیﷺ کے پاس لے گئیں اور کہا کہ یا رسول اللہ یہ میرا بھانجا بیمار ہے ، آپ اس کے لیے دعا فرمائیے پس آپﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کے حلیہ مبارک اور اخلاق کا بیان
(۱۴۷۹)۔ سیدنا عقبہ بن حارثؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے عصر کی نماز پڑھائی پھر پیدل تشریف لے گئے (راستے میں) سیدنا حسنؓ کو دیکھا ، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ سیدنا ابو بکرؓ نے انھیں اپنے کاندھے پر اٹھایا اور کہا کہ میرا باپ تجھ پر تصدق ہو (تو بالکل) نبیﷺ کے مشابہ ہے اور علیؓ کے مشابہ نہیں ہے۔ سیدنا علیؓ یہ سن کر ہنس رہے تھے۔

(۱۴۸۰)۔ سیدنا ابو حجیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو دیکھا اور آپﷺ سیدنا حسن بن علیؓ کے مشابہ تھے تو ان (ابو حجیفہ) سے کہا گیا کہ نبیﷺ کی صورت بیان کرو تو انھوں نے کہا کہ آپﷺ سفید رنگ تھے ، بال کچھ سفید کچھ سیاہ اور نبیﷺ نے ہمیں تیرہ اونٹ دینے کا حکم دیا لیکن یہ اونٹ بھی ہم نے نہیں لیے تھے کہ آپ (نبیﷺ) کی وفات ہو گئی۔

(۱۴۸۱)۔ سیدنا عبداللہ بن بسرؓ سے جو کہ نبیﷺ کے صحابی تھے ، کہا گیا کہ کیا تم نے نبیﷺ کو دیکھا جب آپﷺ بوڑھے تھے ؟ تو انھوں نے کہا کہ آپﷺ کے نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کچھ بال سفید تھے۔ ''

(۱۴۸۲)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ میانہ قامت تھے ، نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے آپﷺ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا ، نہ ایسے کہ بالکل سفید (چونے کی طرح) نہ بہت گندمی (زرد) رنگ (بلکہ سرخی مائل) ، بال نہ سخت گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل ہی سیدھے ، آپﷺ پر چالیس برس کی عمر میں وحی نازل ہوئی ، آپﷺ دس برس مکہ میں رہے۔ وحی (قرآن) نازل ہوتی رہی اور دس برس مدینہ میں رہے اور آپﷺ کی وفات کے وقت آپﷺ کے سر اور داڑھی مبارک میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
فائدہ : اہل عرب گنتی میں کبھی دہائیاں گنتے ہیں اور اکائیاں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ مکہ میں آپﷺ بعثت کے بعد تیرہ سال رہے تھے۔

(۱۴۸۳)۔ سیدنا انس بن مالکؓ ایک دوسری روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نہ تو بہت لمبے تھے اور نہ پست قد ، نہ ایسے بالکل سفید رنگ نہ بالکل گندمی زرد رنگ ، نہ سخت گھونگھریالے بال والے اور نہ بالکل سیدھے بال والے ، اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو عمر مبارک کے چالیسویں سال کے آخر میں بعثت (وحی قرآن) سے نوازا۔۔۔ اور باقی تمام حدیث بیان کی (دیکھیے حدیث : ۱۴۸۲)

(۱۴۸۴)۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سب لوگوں میں خوبرو خوش رو ، خوبصورت اور اخلاق میں بھی سب سے اچھے تھے ، قد میں نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے تھے۔

(۱۴۸۵)۔ سیدنا انسؓ سے سوال کیا گیا کہ کی نبیﷺ نے خضاب کیا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ نہیں ، آپﷺ کی دونوں کنپٹیوں پر تھوڑی سی سفیدی آئی تھی۔

(۱۴۸۶)۔ سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ میانہ قامت کے تھے اور آپﷺ کے دونوں کندھوں میں فاصلہ تھا (سینہ چوڑا تھا)۔ آپﷺ کے بال کان کی لو تک پہنچتے تھے ، میں نے آپﷺ کو سرخ (دھاری دار) حلہ پہنے ہوئے دیکھا ، آپﷺ سے بڑھ کر خوبصورت میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

(۱۴۸۷)۔ سیدنا براءؓ سے ایک دوسری روایت میں منقول ہے کہ آپ سے کہا گیا کہ کیا نبیﷺ کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح (لمبا پتلا) تھا ؟ انھوں نے کہا کہ نہیں بلکہ چاند کی طرح گول اور چمکدار۔

(۱۴۸۸)۔ سیدنا ابو حجیفہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبیﷺ کو (دوپہر کو) وادیِ بطحاء میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور آپﷺ کے سامنے ایک برچھی (بطور سترہ) گڑی تھی۔۔۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے (دیکھیے حدیث ۳۱۳)اور اس روایت میں سیدنا ابو حجیفہ کہتے ہیں کہ لوگ اٹھ کر نبیﷺ کے ہاتھ تھام کر اپنے (برکت کے لیے) چہروں پر پھیرنے لگے۔ سیدنا ابو حجیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے بھی آپﷺ کا ہاتھ تھاما اور اپنے منہ پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبو دار تھا۔

(۱۴۸۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' میں (آدمؑ سے لے کر) برابر آدمیوں کے بہتر قرنوں میں ہوتا آیا (یعنی شریف اور پاکیزہ نسلوں میں) یہاں تک کہ وہ قرن آیا جس میں میں پیدا ہو ا۔ ''

(۱۴۹۰)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ (شروع میں) پیشانی کے بال سامنے لٹکاتے اور مشرک لوگ مانگ نکالا کرتے۔ اہل کتاب بالوں کو لٹکاتے اور رسول اللہﷺ جس بات میں کوئی حکم نہ آتا تو اہل کتاب کی موافقت (بہ نسبت مشرکوں کے) پسند فرماتے پھر اس کے بعد آپﷺ سر میں مانگ نکالنے لگے۔

(۱۴۹۱)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر وؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ فحش گو نہ تھے اور نہ ہی بد زبان بنتے اور فرماتے۔ '' تم میں بہتر لوگ وہی ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔ ''

(۱۴۹۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ کو دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تو آپﷺ اس کو اختیار کرتے جو آسان ہوتی بشرطیکہ گناہ نہ ہو ، اگر گناہ ہوتی تو آپ سب لوگوں سے زیادہ اس سے الگ رہتے اور آپﷺ نے کسی سے اپنی ذات کے لیے بد لا نہیں لیا ، بلکہ جب اللہ کے حکم کو کوئی ذلیل کرتا تو اللہ کے لیے اس سے بدلا لیا کرتے۔

(۱۴۹۳)۔ سیدناانسؓ کہتے ہیں کہ میں نے ریشم اور کوئی (بھی) باریک کپڑا رسول اللہﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ ملائم نہیں دیکھا اور نہ کوئی خوشبو یا بو نبیﷺ کی بو یا خوشبو سے بہتر سونگھی۔

(۱۴۹۴)۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اس لڑکی سے زیادہ حیا دار تھے جو کنواری ابھی پردے میں رہتی ہے۔

(۱۴۹۵)۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ جب آپﷺ کسی بات کو برا سمجھتے تو آپﷺ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔

(۱۴۹۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے کبھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا ، اگر آپﷺ کا دل چاہتا تو اس کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے (برائی نہ کرتے)۔

(۱۴۹۷)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اس طرح (آرام سے اور ٹھہر ٹھہر کر) گفتگو کرتے کہ اگر کوئی گننے والا چاہتا تو ان (الفاظ) کو گن سکتا۔

(۱۴۹۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ بے شک رسول اللہﷺ اس طرح جلدی جلدی باتیں نہ کیا کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں اور دل نہیں سوتا (غافل ہو تا) تھا۔
(۱۴۹۹)۔ سیدنا انس بن مالکؓ اس رات (شب معراج) کا ، جب رسول اللہﷺ کو مسجد کعبہ سے لے جایا گیا ،قصہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ پر وحی نازل ہو نے سے پہلے تین فرشتے آئے اور آپﷺ اس وقت مسجد حرام میں (سیدنا جعفر بن ابی طالب اور سید ناحمزہؓ کے درمیان) سو رہے تھے۔ ان (فرشتوں) میں سے ایک نے کہا کہ ان میں سے وہ کون ہے (جسے لے جانے کا حکم ہوا ہے) ؟ دوسرے نے کہا کہ وہ (درمیان والا) ان میں سے بہتر ہے۔ تیسرے نے کہا جو ان سب میں بہتر ہے ، اسی کو لے چلو۔ اس رات اتنا ہی ہوا اور اس کے بعد آپﷺ نے انھیں دوسری رات کو دیکھا جیسے آپﷺ دل سے دیکھا کرتے تھے اور نبیﷺ کی آنکھیں سوتی تھیں لیکن دل نہیں سوتا تھا اور سب پیغمبروں کا یہی حال ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔ پس جبریل علیہ السلام نے آپﷺ کو اپنے ساتھ لیا پھر آسمان پر چڑھا لے گئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اسلام میں نبوت (پیغمبری) کی نشانیوں کا بیان۔
(۱۵۰۰)۔ سیدنا انسؓ ہی کہتے ہیں کہ نبیﷺ مقام زوراء میں تھے کہ آپﷺ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا ، آپﷺ نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھ دیا ، پھر پانی آپﷺ کی انگلیوں سے پھوٹنے لگا،سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ سیدنا انسؓ سے کہا گیا کہ آپ کتنے آدمی تھے ؟ تو جواب دیا کہ تین سو یا تین سو کے قریب۔

(۱۵۰۱)۔ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تو معجزوں کو اللہ کی برکت اور عنایت سمجھتے تھے اور تم ان سے ڈرتے ہو۔ ہم نبیﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ پانی کم پڑ گیا پس رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' بچا ہوا پانی ہو تو لے آؤ تو لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا آپﷺ نے اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈال دیا پھر فرمایا:'' آؤ۔ '' برکت والا پانی لو اور برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ '' (سیدنا عبداللہؓ) کہتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا :'' پانی رسول اللہﷺ کی انگلیوں سے پھوٹ رہا تھا اور ہم (اس وقت) کھانا کھاتے وقت کھانے کی تسبیح سنتے تھے۔ ''

(۱۵۰۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:'' قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب کہ تم لوگ ان لوگوں سے نہ لڑو جو بالوں والے جوتے پہنتے ہوں گے۔۔۔ یہ طویل حدیث گزر چکی ہے (دیکھیے حدیث :۱۲۶۲)اور اس روایت کے آخر میں کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:''۔۔۔ اور ایک ایسا دور آئے گا کہ کوئی تم میں سے اپنے سارے گھر بار، مال دولت سے بڑھ کر مجھے دیکھ لینا زیادہ پسند کرے گا۔ ''

(۱۵۰۳)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم خوز اور کرمان (کے رہنے والے) عجمیوں (ایرانیوں) سے نہ لڑو جن کے منہ سرخ ، ناکیں پھیلی ہوئی، آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کے منہ تہ بہ تہ ڈھالوں کی مانند ہوں گے ،جوتے بالوں والے (پہنتے) ہوں گے۔ ''

(۱۵۰۴)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :'' قریش کا یہ قبیلہ (بنی امیہ) لوگوں کو تباہ کرے گا۔ '' صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ پھر آپﷺ ہمیں کیا کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا :'' کاش ! لوگ اس سے الگ رہیں۔ ''

(۱۵۰۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے ہی روایت ہے کہ میں نے (نبیﷺ سے) سنا جو سچے تھے ، سچے کیے گئے تھے ، فرماتے تھے :'' میری امت کی تباہی قریش کے چند چھو کروں (لڑکوں) کے ہاتھ پر ہو گی۔ '' تو مروان نے کہا چند لڑکے ؟ (سیدنا ابو ہریرہؓ نے کہا کہ) اگر تو چاہے تو ان کے نام بھی بیان کر دوں۔ فلاں کے بیٹے فلاں اور فلاں کے بیٹے فلاں۔

(۱۵۰۶)۔ سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہﷺ سے اچھی باتوں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں برائیوں کے بارے میں (جو آپﷺ کے بعد ہونے والی ہیں) پوچھا کرتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم جہالت اور برائی میں تھے اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بھیج کر یہ خیر و برکت ہمیں دی۔ کیا اس کے بعد پھر برائی ہو گی ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' ہاں۔ '' میں نے کہا کہ کیا اس برائی کے بعد پھر بھلائی ہو گی ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' ہاں اور اس میں دھواں ہو گا۔ '' میں نے کہ دھواں کیا ؟ فرمایا :'' ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میرے طریق پر نہیں چلیں گے ، ان کی کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔ '' میں نے کہا کہ کیا اس بھلائی کے بعد پھر برائی ہو گی ؟ فرمایا :'' ہاں ! ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے بلاتے ہوں گے جس نے ان کی بات سنی انھوں نے اسے دوزخ میں جھونک دیا۔ '' میں نے کہا یا رسول اللہ ! ان کا حال تو بیان فرمایے ؟ فرمایا :'' وہ ظاہر میں ہماری قوم (مسلمان) ہوں گے ، ہماری زبان بولیں گے۔ '' میں نے کہا کہ اگر میں یہ دور پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا :'' تو مسلمانوں کی جماعت اور برحق امام کے پیچھے رہ۔ '' میں نے کہا کہ اگر اس وقت جماعت یا امام نہ ہو تو ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' پھر تو سب فرقوں سے الگ رہ ، اگرچہ تو (بھوک کی وجہ سے) جنگلی درخت کی جڑ چبا تا رہے ، یہاں تک کہ تو مر جائے تو یہ تیرے لیے (ان کی صحبت میں جانے سے) بہتر ہے۔ ''

(۱۵۰۷)۔ سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہﷺ کی کوئی حدیث بیان کروں تو یہ سمجھ لو کہ آسمان سے نیچے گر پڑنا مجھ پر اس سے آسان ہے کہ نبیﷺ پر جھوٹ باندھوں اور جب میں تم سے وہ باتیں کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہوئی ہیں تو (کوئی نقصان نہیں کیونکہ) لڑائی تو تدبرّ اور فریب ہی کا نام ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' آخر دور میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو چھوٹے چھوٹے دانت والے ، کم عقل ، بیوقوف ہوں گے۔ '' بات تو وہ کہیں گے جو سارے جہان کی باتوں سے افضل ہو ، وہ دین اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے جاتا ہے (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا) ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، تم ان لوگوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو ، جو انھیں قتل کرے گا اسے اس قتل کا قیامت کے دن ثواب ملے گا۔ ''

(۱۵۰۸)۔ سیدنا خباب بن ارتؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ سے (کافروں کی ایذا دہی کا) شکوہ کیا ، آپﷺ اس وقت اپنی چادر پر ٹیک لگائے کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا کہ آپ ہمارے لیے (اللہ کی) مدد کیوں نہیں مانگتے ؟ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' تم سے پہلے کچھ لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں کہ ان کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا ، پھر انھیں اس گڑھے میں گاڑ کر آرا لا یا جاتا ، وہ ان کے سر پر چلایا جاتا ، دو ٹکڑے کے دیے جاتے مگر پھر بھی وہ اپنے سچے دین سے نہ پھرتے تھے اور لو ہے کی کنگھیاں ان کی ہڈی اور پٹھوں تک چلاتے ، پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتے ، اللہ کی قسم کہ وہ اس دین کو ضرور پورا کرے گا ، ایک شخص سوار ہو کر ضعاء سے حضر موت تک جائے گا اس کو اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا یا صرف بھیڑیے کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کی بکریاں کو نہ کھا جائے لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ ''

(۱۵۰۹)۔ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے سیدنا ثابت بن قیس (رضی اللہ عنہ) کو گم پایا (وہ حاضر نہ تھے) ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں اس کی خبر لاتا ہوں ، وہ گیا تو دیکھا کہ ثابت اپنے گھر میں (غم سے) سرجھکائے بیٹھے ہیں۔ اس نے پوچھا کیا حال ہے ؟ ثابت نے کہا کہ برا حال ہے ، وہ اپنی آواز نبیﷺ کی آواز سے بلند کرتے تھے ، تو ان کے تمام اعمال مٹ گئے اور وہ اہل دوزخ میں ہے۔ وہ آدمی دوبارہ (ثابتؓ کے پاس) یہ عظیم خوشخبری لے کر گیا کہ نبیﷺ نے اسے کہا ہے :'' تو اس (ثابت) کے پاس جا اور کہہ کہ تو اہل دوزخ میں سے نہیں بلکہ اہل جنت میں ہے۔ ''

(۱۵۱۰)۔ سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سورۂ کہف پڑھی ، ان کے گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا جو بدکنے لگا تو انھوں نے سلام پھیرا (کیونکہ وہ نماز میں تلاوت کر رہے تھے) کیا دیکھتے ہیں کہ ابر ہے جو سارے گھر میں چھا گیا ہے۔ اس نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' اے فلاں ! تو قرآن پڑھتا رہ۔ یہ سکینت ہے جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے اتری۔ ''

(۱۵۱۱)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ ایک اعرابی کی عیادت کو گئے اور نبیﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی بیمار کی عیادت کو جاتے تو فرماتے :۔ ''کوئی فکر نہیں ، ان شاء اللہ یہ بیماری گناہ سے پاک کر دے۔ '' پس آپﷺ نے اس سے بھی یہی کیا :'' کوئی فکر نہیں ان شاء اللہ یہ بیماری گناہ سے پاک کر دے گی۔ '' اس نے کہا کہ آپﷺ فرماتے ہیں کہ فکر نہیں ، نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے یہاں تو یہ حال ہے کہ بخار ایک بوڑھے شخص پر جوش مار رہا ہے یا زور کر رہا ہے جو قبر میں لے جائے بغیر نہیں چھوڑے گا تو نبیﷺ نے فرمایا :'' اچھا تو ایسا ہو گا۔ ''

(۱۵۱۲)۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص عیسائی تھا ، پھر وہ مسلمان ہو گیا اورسورۂ بقرہ اور آل عمران پڑھ لی اور وہ نبیﷺ کے لیے (وحی) لکھا کرتا تھا۔ پھر وہ دوبارہ عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد (ﷺ) کیا جانیں میں جوان کو لکھ دیتا وہی جانتے۔ پھر اللہ نے اسے موت دی تو لوگوں نے اس دفن کر دیا ، صبح ہوئی تو اس کی لاش زمین کے باہر پڑی ہوئی تھی۔ (عیسائی) لوگ کہنے لگے کہ یہ محمد (ﷺ) اور ان کے اصحاب کا کام ہے ، جب ان کو چھوڑ کر بھاگ آیا تو انھوں نے رات کو آ کر قبر کھود کر ہمارے ساتھی کی لاش کو باہر پھینک دیا۔ آخر انھوں نے بہت گہری قبر کھودی اور اس کی لاش دوبارہ گاڑی ، پھر صبح کو انھوں نے دیکھا کہ زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی ہے تو کہنے لگے کہ یہ محمد اور ان کے اصحاب کا کام ہے ، انھوں نے ہمارے ساتھی کی قبر کھود کر ، جہاں تک گہری کر سکے اس کو گاڑ دیا ،لیکن صبح کو پھر دیکھا کہ زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی ہے ، جب انھیں یہ یقین ہو گیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے (بلکہ اللہ کا غضب ہے) تو اس کی لاش کو (میدان میں) پھینک دیا۔ (یا یوں ہی چھوڑ دیا)۔ ''

(۱۵۱۳)۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' کیا تمہارے پاس قالین ہیں ؟ '' میں نے کہا (ہم غریب لو گ ہیں) ہمارے پاس قالین کہاں سے آئے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' لیکن عنقریب تمہارے پاس(عمدہ) قالین ہوں گے۔ '' اب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ چل اپنا قالین ہمارے پاس سے ہٹا دے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبیﷺ سے یہ نہیں فرمایا تھا :'' عنقریب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ '' تو میں چپ ہو جاتا ہوں۔

(۱۵۱۴)۔ سیدنا سعد بن معاذؓ کہتے ہیں کہ میں نے امیہ بن خلف سے کہا کہ میں نے محمدﷺ سے سنا ہے کہ وہ تمہیں قتل کر دیں گے۔ امیہ نے کہا کہ کیا مجھے ؟ سیدنا سعدؓ نے کہا کہ ہاں۔ امیہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! محمد (ﷺ) کی بات جھوٹی نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس بدر کے دن قتل کرا دیا۔ اس حدیث میں ایک واقعہ بھی ہے مگر اصل حدیث کا مضمون یہی ہے۔

(۱۵۱۵)۔ سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ جبریلؑ نبیﷺ کے پاس آئے ، آپﷺ کے پاس اس وقت ام المومنین ام سلمہؓ موجود تھیں ، وہ (جبریل نبیﷺ سے) باتیں کرنے لگے پھر اٹھ (کر چلے) گئے تو نبیﷺ نے ام سلمہؓ سے کہا کہ (کیا تم جانتی ہو) یہ کون تھے ؟ (یا اسی طرح کا سوال کیا) تو انھوں نے کہا کہ یہ دحیہ کلبی تھے (جو نبیﷺ کے صحابی تھے)۔ ام سلمہؓ کہتی ہیں اللہ کی قسم ! میں تو انھیں دحیہ ہی سمجھتی تھی یہاں تک کہ نبیﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جبرئیلؑ کا حوالہ دے رہے تھے اور (خطبہ میں) وہ باتیں سنائیں جو جبریلؑ نے آپﷺ سے کی تھیں۔

(۱۵۱۶)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' میں نے (خواب میں) لوگوں کو دیکھا کہ ایک میدان میں جمع ہیں ، پس ابو بکرؓ کھڑے ہوئے اور کنویں سے ایک یا دو ڈول نکالے مگر نا توانی کے ساتھ ، اللہ ان کو بخشے۔ پھر عمر (بن خطاب) نے وہ ڈول سنبھالا تو ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ (ڈول) ایک بڑا (موٹھ کا) ڈول ہو گیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلو ان ، ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا ، اتنا پانی نکالا کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلاپلا کر ان کے ٹھکانوں میں لے گئے۔ ''
 
Top