نبیﷺ کے صحابہ کے فضائل مناقب
(اور مسلمانوں میں سے جس نے نبیﷺ کی صحبت اٹھائی ہو یا آپ کی حالت ایمان میں دیکھا ہو وہ صحابی ہے)
(۱۵۲۰)۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبیﷺ کے پاس آئی۔ آپﷺ نے اسے (اب کی دفعہ لوٹ جانے اور) دوبارہ آنے کا حکم فرمایا :'' اس نے کہا کہ بتلائیے ! اگر میں آؤں اور آپﷺ نہ ملیں تو ؟ گویا وہ کہنا چاہتی تھی کہ اگر آپﷺ وفات پائیں تو ؟ نبیﷺ نے فرمایا :'' اگر میں نہ ہوں تو ابوبکرؓ کے پاس آنا۔ '' (وہ عورت مالی تعاون کے سلسلہ میں آئی تھی)۔
(۱۵۲۱)۔ عمارؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا اور اس وقت آپﷺ کے ساتھ کوئی (مسلمان) نہ تھا سوائے پانچ غلام ، دو عورتیں اور سیدنا ابو بکرؓ کے (جو کہ مسلمان ہو چکے تھے)۔
(۱۵۲۲)۔ سیدنا ابودرداءؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب سیدنا ابوبکرؓ آئے ، اپنے کپڑے کا کونا اٹھائے ہوئے یہاں تک کہ گھٹنہ کھل گیا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا :'' تمہارے صاحب (سیدنا ابو بکرؓ) کسی سے لڑ کر آ رہے ہیں۔ '' سیدنا ابو بکر نے سلام کیا اور کہا کہ یا رسول اللہﷺ !مجھ میں اور ابن خطاب (سیدنا عمرؓ) میں کچھ تکرار ہو گئی ، میں جلدی سے ان کو سخت سست کہہ دیا پھر میں شرمندہ ہوا اور ان سے معافی چاہی لیکن انھوں نے انکار کیا ، اب میں آپ کے پاس آیا ہوں ، (آپ انھیں سمجھایے) آپﷺ نے فرمایا :'' ابو بکر ! اللہ تمہیں بخشے۔ '' تین بار یہی فرمایا پھر سیدنا عمرؓ شرمندہ ہوئے اور سیدنا ابو بکرؓ کے گھر آئے اور پوچھا کہ ابو بکرؓ ہیں ؟ انھوں (گھر والوں) نے کہا کہ نہیں۔ پس وہ نبیﷺ کے پاس آئے اور سلام کیا تو نبیﷺ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا یہاں تک کہ سیدنا ابو بکرؓ ڈر گئے (کہ نبیﷺ سیدنا عمرؓ پر خفا نہ ہو جائیں) اور دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں میری ہی غلطی تھی۔ دو دفعہ یوں کہا۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا :'' (لوگو!) اللہ نے مجھے تمہاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا لیکن تم نے مجھے جھوٹا کہا اور ابو بکرؓ نے سچا کہا اور اپنے مال اور جان سے میری خدمت کی ، کیا تم میری خاطر میرے دوست کو ستانا چھوڑ سکتے ہو ؟'' دو دفعہ یہی فرمایا : پھر اس کے بعد سیدنا ابو بکرؓ کو کسی نے نہیں ستایا۔
(۱۵۲۳)۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مجھے ذات السلا سل کی لڑائی میں لشکر کا سر دار بنا کر بھیجا پس میں آپﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ کس سے محبت ہے ؟ آپ نے فرمایا :'' عائشہ سے۔ '' میں نے کہا کہ مردوں میں سے ؟ فرمایا :'' اس کے والد سے (سیدنا ابو بکرؓ)۔ '' میں نے کہا پھر کس سے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' پھر عمر بن خطاب سے۔ '' اور اسی طرح کئی آدمیوں کے نام لیے۔
(۱۵۲۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جو شخص غرور اور تکبر کی وجہ سے (کے لیے) اپنا کپڑا لٹکائے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز (رحمت کی نگاہ سے) دیکھے گا بھی نہیں۔ '' سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کہ میرا کپڑا چلنے میں ایک طرف لٹک جاتا ہے ، اگر خیال رکھوں (اور مضبوط باندھوں) تو شاید نہ لٹکے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' بے شک تو غرور اور تکبر سے یوں نہیں کرتا۔''
(۱۵۶۵)۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں وضو کیا ، پھر باہر نکلے۔ سیدنا ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آج میں دن بھر رسول اللہﷺ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا ، آپﷺ کے پاس ہی رہوں گا۔ کہتے ہیں کہ پھر مسجد میں آئے تو نبیﷺ کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ باہر اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔ میں بھی آپﷺ کے قدموں کے نشان پر چلا اور آپﷺ کے بارے میں لوگوں سے پوچھتا جاتا تھا ، چلتے چلتے معلوم ہوا کہ آپﷺ مقام اریس کے باغ میں گئے ہیں میں دروازے کے قریب بیٹھ گیا جو کھجور کی ڈالیوں کا بنا ہوا تھا یہاں تک کہ رسول اللہﷺ حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کر چکے تو میں آپﷺ کی طرف چل دیا۔ میں نے دیکھا کہ آپﷺ اریس کنویں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں ، اس کے بیچا بیچ میں اور دونوں پنڈلیاں کھول کر کنویں میں لٹکا دی ہیں۔ میں نے آپﷺ کو سلام کیا پھر میں لو ٹ آیا اور دروازے کے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے (دل میں) کہا کہ میں آج نبیﷺ کا دربان رہوں گا۔ اتنے میں سیدنا ابو بکرؓ آئے اور دروازے کو دھکیلا۔ میں نے پوچھا کون ہے ؟ انھوں نے کہا :'' ابو بکر ہوں ، میں نے کہا ذرا ٹھہر و۔ پھر میں گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! ابو بکرؓ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' ان کو آنے دو اور جنت کی خوشخبری سنا دو۔ میں آیا اور سیدنا ابو بکرؓ سے کہا کہ اندر داخل ہو جاؤ اور رسول اللہﷺ نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے۔ پس سیدنا ابو بکرؓ داخل ہوئے اور نبیﷺ کی دا ہنی طرف اسی منڈیر پر دونوں پاؤں لٹکا کر پنڈلیاں کھول کر جیسے نبیﷺ بیٹھے تھے ، بیٹھ گئے۔ میں لوٹ آیا اور پھر بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی (عامر) کو گھر میں وضو کرتے چھوڑ آیا تھا۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو فلاں (یعنی) میرے بھائی کو بھلائی منظور ہے تو اس کو یہاں لے آئے گا۔ اتنے میں (کیا دیکھتا ہوں کہ) کوئی دروازہ ہلانے لگا۔ میں پوچھا کون ہے ؟ جواب آیا کہ عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)۔ میں نے کہا ٹھہر جا۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور سلام کیا اور کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ فرمایا :'' انھیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو۔ '' پس میں گیا اور کہا کہ اندر داخل ہو اور رسول اللہﷺ نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور رسول اللہﷺ کے بائیں طرف اسی منڈیر پر بیٹھ گئے اور دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا دیے۔ پھر میں لوٹ آیا اور (دروازے پر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ کی فلاں آدمی (عامر) کی بھلائی منظور ہے تو اس کو بھی لے آئے گا۔ اتنے میں ایک اور آدمی نے دروازہ ہلایا میں نے کہا کہ کون ہے ؟ جواب دیا کہ عثمان بن عفانؓ۔ میں نے کہا کہ ٹھہر جا ، پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور بتایا تو آپﷺ نے فرمایا :'' انھیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو مگر وہ ایک بلا میں مبتلا ہو ں گے۔ '' میں آیا اور ان سے کہا کہ داخل ہو اور رسول اللہﷺ نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے مگر ایک بلا کے بعد جو تم پر آئے گی۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک حصہ بھر گیا ہے پس وہ دوسرے کنارے پر آپﷺ کے سامنے بیٹھ گئے۔
(۱۵۲۶)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میرے اصحاب کو برا نہ کہو ، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کرے تو ان کے مد یا آدھے مد (غلہ) کے برابر نہیں ہو سکتا۔ ''
(۱۵۶۷)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ احد پہاڑ پر چڑھے اور آپﷺ کے ساتھ سیدنا ابو بکر اور عمر اور عثمانؓ بھی چڑھے۔ اتنے میں پہاڑ کو جنبش ہوئی تو نبیﷺ نے فرمایا :'' اے احد (پہاڑ)ٹھہرا رہ ، بے شک تجھ پر اور کوئی نہیں سوائے ایک پیغمبر ، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے۔ ''
(۱۵۶۸)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو سیدنا عمر بن خطابؓ کے لیے مغفرت کی دعا کر رہے تھے ، ان کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے اپنی کہنی سے میرے کندھے پر رکھی اور کہنے لگا کہ (اے عمر !) اللہ تجھ پر رحم کرے ، مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے دونوں ساتھیوں (نبیﷺ اور سیدنا ابو بکرؓ) کے ساتھ ہی رکھے گا کیونکہ میں نے اکثر رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' (فلاں جگہ) میں تھا اور ابو بکر اور عمرؓ (بھی تھے) ، میں نے یہ کیا اور ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہ نے بھی کیا) ، میں چلا اور ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہ) بھی (ساتھ تھے)۔ ''پس مجھے امید ہے کہ اللہ تمہیں ان کے ساتھ رکھے گا۔ (سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ) میں نے نگاہ پھیری تو (دیکھا کہ) یہ کہنے والے سیدنا علی بن ابی طالبؓ تھے۔