• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' (جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو) اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بیٹوں کو پہچا نے ، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے'' کا بیان۔
(۱۵۱۷)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ ہی سے روایت ہے کہ یہودی لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور بیان کیا اور ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے (آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟) تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' تم تو رات میں سنگسار کرنے کے بارے میں کیا (لکھا ہوا) پاتے ہو ؟'' انھوں نے کہا کہ ہم زانی اور زانیہ کو فضیحت (منہ کا لا کر کے سوا کرنا) کرتے ہیں اور ان کو کوڑے لگاتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن سلامؓ نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ تو رات میں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ وہ تورات لائے ، اسے کھولا تو ایک یہودی نے اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ دیا اور اس کے آگے اور پیچھے والی عبارت پڑھنے لگا تو سیدنا عبداللہ بن سلامؓ نے اسے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھا اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہاں رجم کی آیت تھی۔ (یہودی) کہنے لگے کہ اے محمد ! اس نے سچ کہا ، بے شک تو رات میں رجم کا حکم ہے۔ پھر آپﷺ نے حکم دیا تو وہ دونوں (زانی مرد ، عورت) رجم کیے گئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مشرکوں کا نبیﷺ سے (نبوت کی) نشانی (معجزہ ، آیت) چاہناپس نبی نے انھیں شق القمر (چاند کا پھٹ جانا) دکھلایا۔
(۱۵۱۸)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ چاند رسول اللہﷺ کے دور میں پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تو نبیﷺ نے فرمایا :'' (لوگو!) گواہ رہنا۔ ''

(۱۵۱۹)۔ سیدنا عمر وہ البارقیؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے انھیں ایک دینار دیا کہ ایک بکری خرید لاؤ۔ وہ گئے اور ایک دینار میں دو بکریاں خریدیں پھر ان میں سے ایک (بکری) ایک دینار میں بیچ ڈالی اور ایک بکری اور ایک دینار نبیﷺ کے پاس لائے۔ آپﷺ نے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی (پھر آپﷺ کی دعا کی برکت سے عروہ کا یہ حال ہو گیا) کہ اگر وہ مٹی خرید تے تو اس میں بھی فائدہ ہوتا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
نبیﷺ کے صحابہ کے فضائل مناقب

(اور مسلمانوں میں سے جس نے نبیﷺ کی صحبت اٹھائی ہو یا آپ کی حالت ایمان میں دیکھا ہو وہ صحابی ہے)
(۱۵۲۰)۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبیﷺ کے پاس آئی۔ آپﷺ نے اسے (اب کی دفعہ لوٹ جانے اور) دوبارہ آنے کا حکم فرمایا :'' اس نے کہا کہ بتلائیے ! اگر میں آؤں اور آپﷺ نہ ملیں تو ؟ گویا وہ کہنا چاہتی تھی کہ اگر آپﷺ وفات پائیں تو ؟ نبیﷺ نے فرمایا :'' اگر میں نہ ہوں تو ابوبکرؓ کے پاس آنا۔ '' (وہ عورت مالی تعاون کے سلسلہ میں آئی تھی)۔

(۱۵۲۱)۔ عمارؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا اور اس وقت آپﷺ کے ساتھ کوئی (مسلمان) نہ تھا سوائے پانچ غلام ، دو عورتیں اور سیدنا ابو بکرؓ کے (جو کہ مسلمان ہو چکے تھے)۔

(۱۵۲۲)۔ سیدنا ابودرداءؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب سیدنا ابوبکرؓ آئے ، اپنے کپڑے کا کونا اٹھائے ہوئے یہاں تک کہ گھٹنہ کھل گیا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا :'' تمہارے صاحب (سیدنا ابو بکرؓ) کسی سے لڑ کر آ رہے ہیں۔ '' سیدنا ابو بکر نے سلام کیا اور کہا کہ یا رسول اللہﷺ !مجھ میں اور ابن خطاب (سیدنا عمرؓ) میں کچھ تکرار ہو گئی ، میں جلدی سے ان کو سخت سست کہہ دیا پھر میں شرمندہ ہوا اور ان سے معافی چاہی لیکن انھوں نے انکار کیا ، اب میں آپ کے پاس آیا ہوں ، (آپ انھیں سمجھایے) آپﷺ نے فرمایا :'' ابو بکر ! اللہ تمہیں بخشے۔ '' تین بار یہی فرمایا پھر سیدنا عمرؓ شرمندہ ہوئے اور سیدنا ابو بکرؓ کے گھر آئے اور پوچھا کہ ابو بکرؓ ہیں ؟ انھوں (گھر والوں) نے کہا کہ نہیں۔ پس وہ نبیﷺ کے پاس آئے اور سلام کیا تو نبیﷺ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا یہاں تک کہ سیدنا ابو بکرؓ ڈر گئے (کہ نبیﷺ سیدنا عمرؓ پر خفا نہ ہو جائیں) اور دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں میری ہی غلطی تھی۔ دو دفعہ یوں کہا۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا :'' (لوگو!) اللہ نے مجھے تمہاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا لیکن تم نے مجھے جھوٹا کہا اور ابو بکرؓ نے سچا کہا اور اپنے مال اور جان سے میری خدمت کی ، کیا تم میری خاطر میرے دوست کو ستانا چھوڑ سکتے ہو ؟'' دو دفعہ یہی فرمایا : پھر اس کے بعد سیدنا ابو بکرؓ کو کسی نے نہیں ستایا۔

(۱۵۲۳)۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مجھے ذات السلا سل کی لڑائی میں لشکر کا سر دار بنا کر بھیجا پس میں آپﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ کس سے محبت ہے ؟ آپ نے فرمایا :'' عائشہ سے۔ '' میں نے کہا کہ مردوں میں سے ؟ فرمایا :'' اس کے والد سے (سیدنا ابو بکرؓ)۔ '' میں نے کہا پھر کس سے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' پھر عمر بن خطاب سے۔ '' اور اسی طرح کئی آدمیوں کے نام لیے۔

(۱۵۲۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جو شخص غرور اور تکبر کی وجہ سے (کے لیے) اپنا کپڑا لٹکائے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز (رحمت کی نگاہ سے) دیکھے گا بھی نہیں۔ '' سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کہ میرا کپڑا چلنے میں ایک طرف لٹک جاتا ہے ، اگر خیال رکھوں (اور مضبوط باندھوں) تو شاید نہ لٹکے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' بے شک تو غرور اور تکبر سے یوں نہیں کرتا۔''

(۱۵۶۵)۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں وضو کیا ، پھر باہر نکلے۔ سیدنا ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آج میں دن بھر رسول اللہﷺ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا ، آپﷺ کے پاس ہی رہوں گا۔ کہتے ہیں کہ پھر مسجد میں آئے تو نبیﷺ کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ باہر اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔ میں بھی آپﷺ کے قدموں کے نشان پر چلا اور آپﷺ کے بارے میں لوگوں سے پوچھتا جاتا تھا ، چلتے چلتے معلوم ہوا کہ آپﷺ مقام اریس کے باغ میں گئے ہیں میں دروازے کے قریب بیٹھ گیا جو کھجور کی ڈالیوں کا بنا ہوا تھا یہاں تک کہ رسول اللہﷺ حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کر چکے تو میں آپﷺ کی طرف چل دیا۔ میں نے دیکھا کہ آپﷺ اریس کنویں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں ، اس کے بیچا بیچ میں اور دونوں پنڈلیاں کھول کر کنویں میں لٹکا دی ہیں۔ میں نے آپﷺ کو سلام کیا پھر میں لو ٹ آیا اور دروازے کے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے (دل میں) کہا کہ میں آج نبیﷺ کا دربان رہوں گا۔ اتنے میں سیدنا ابو بکرؓ آئے اور دروازے کو دھکیلا۔ میں نے پوچھا کون ہے ؟ انھوں نے کہا :'' ابو بکر ہوں ، میں نے کہا ذرا ٹھہر و۔ پھر میں گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! ابو بکرؓ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' ان کو آنے دو اور جنت کی خوشخبری سنا دو۔ میں آیا اور سیدنا ابو بکرؓ سے کہا کہ اندر داخل ہو جاؤ اور رسول اللہﷺ نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے۔ پس سیدنا ابو بکرؓ داخل ہوئے اور نبیﷺ کی دا ہنی طرف اسی منڈیر پر دونوں پاؤں لٹکا کر پنڈلیاں کھول کر جیسے نبیﷺ بیٹھے تھے ، بیٹھ گئے۔ میں لوٹ آیا اور پھر بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی (عامر) کو گھر میں وضو کرتے چھوڑ آیا تھا۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو فلاں (یعنی) میرے بھائی کو بھلائی منظور ہے تو اس کو یہاں لے آئے گا۔ اتنے میں (کیا دیکھتا ہوں کہ) کوئی دروازہ ہلانے لگا۔ میں پوچھا کون ہے ؟ جواب آیا کہ عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)۔ میں نے کہا ٹھہر جا۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور سلام کیا اور کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ فرمایا :'' انھیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو۔ '' پس میں گیا اور کہا کہ اندر داخل ہو اور رسول اللہﷺ نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور رسول اللہﷺ کے بائیں طرف اسی منڈیر پر بیٹھ گئے اور دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا دیے۔ پھر میں لوٹ آیا اور (دروازے پر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ کی فلاں آدمی (عامر) کی بھلائی منظور ہے تو اس کو بھی لے آئے گا۔ اتنے میں ایک اور آدمی نے دروازہ ہلایا میں نے کہا کہ کون ہے ؟ جواب دیا کہ عثمان بن عفانؓ۔ میں نے کہا کہ ٹھہر جا ، پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور بتایا تو آپﷺ نے فرمایا :'' انھیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو مگر وہ ایک بلا میں مبتلا ہو ں گے۔ '' میں آیا اور ان سے کہا کہ داخل ہو اور رسول اللہﷺ نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے مگر ایک بلا کے بعد جو تم پر آئے گی۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک حصہ بھر گیا ہے پس وہ دوسرے کنارے پر آپﷺ کے سامنے بیٹھ گئے۔

(۱۵۲۶)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میرے اصحاب کو برا نہ کہو ، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کرے تو ان کے مد یا آدھے مد (غلہ) کے برابر نہیں ہو سکتا۔ ''

(۱۵۶۷)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ احد پہاڑ پر چڑھے اور آپﷺ کے ساتھ سیدنا ابو بکر اور عمر اور عثمانؓ بھی چڑھے۔ اتنے میں پہاڑ کو جنبش ہوئی تو نبیﷺ نے فرمایا :'' اے احد (پہاڑ)ٹھہرا رہ ، بے شک تجھ پر اور کوئی نہیں سوائے ایک پیغمبر ، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے۔ ''

(۱۵۶۸)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو سیدنا عمر بن خطابؓ کے لیے مغفرت کی دعا کر رہے تھے ، ان کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے اپنی کہنی سے میرے کندھے پر رکھی اور کہنے لگا کہ (اے عمر !) اللہ تجھ پر رحم کرے ، مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے دونوں ساتھیوں (نبیﷺ اور سیدنا ابو بکرؓ) کے ساتھ ہی رکھے گا کیونکہ میں نے اکثر رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' (فلاں جگہ) میں تھا اور ابو بکر اور عمرؓ (بھی تھے) ، میں نے یہ کیا اور ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہ نے بھی کیا) ، میں چلا اور ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہ) بھی (ساتھ تھے)۔ ''پس مجھے امید ہے کہ اللہ تمہیں ان کے ساتھ رکھے گا۔ (سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ) میں نے نگاہ پھیری تو (دیکھا کہ) یہ کہنے والے سیدنا علی بن ابی طالبؓ تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: سیدنا عمر بن خطابؓ کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۲۹)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میں نے (خواب میں) دیکھا کہ میں جنت میں گیا ہوں ، کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ابو طلحہ کی بیوی رمیصاء (ام سلیم سیدنا انس کی والدہ) موجود ہیں میں نے پاؤں کی آہٹ سنی تو پوچھا ہے کہ کون ہے ؟ کسی نے کہا کہ یہ بلال ہیں اور میں نے ایک محل دیکھا اور اس کے ایک طرف ایک لڑکی وضو کر رہی تھی، میں نے پوچھا کہ یہ کس کا محل ہے ؟ کسی نے کہا کہ عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کا۔ میں نے چاہا کہ اس محل کے اندر داخل ہو ں اور اسے دیکھوں لیکن (اے عمر !) تمہاری غیرت مجھے یاد آ گئی۔ '' سیدنا عمرؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ؟

(۱۵۳۰)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبیﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ قیامت کب آئے گی ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' تو نے اس کے لیے تیار ی کر رکھی ہے ؟'' اس نے کہا کہ نہیں ! سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا :'' تو (روز قیامت) انہی کے ساتھ ہو گا جن سے محبت رکھتا ہے ؟'' سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ یہ سن کر ہم اتنا خوش ہوئے کہ اس طرح کس بات پر ہم خوش نہیں ہوئے تھے۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ اور سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمرؓ سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوں گا ، اگرچہ میں ان کے (نیک) اعمال کی طرح (نیک) اعمال نہ کر سکا۔

(۱۵۳۱)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن سے فرشتے باتیں کرتے تھے (جنہیں الہام ہوتا تھا) اگرچہ وہ نبی نہ تھے اور اگر میری امت میں سے کوئی ایسا ہوتا تو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہوں گے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا عثمان بن عفانؓ کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۳۲)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس اہل مصر سے ایک شخص آیا اور ابن عمرؓ سے کہا کہ کیا تو جانتا ہے کہ عثمان (رضی اللہ عنہ) احد کے دن بھاگ نکلے تھے ؟ انھوں نے کہا کہ ہاں ، اس نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں غیر حاضر رہے اور شریک نہیں ہوئے ؟ انھوں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ کیا تو جانتا ہے کہ عثمان بیعت رضوان کے وقت بھی غائب تھے اور اس میں حاضر نہ تھے (انھوں نے بیعت نہیں کی) سیدنا ابن عمرؓ نے کہا ہاں اس شخص نے کہا اللہ اکبر۔ سیدنا ابن عمرؓ نے کہا کہ آ،میں تجھ سے (ان سب باتوں کی حقیقت) بیان کرتا ہوں۔ احد کی لڑائی میں ان کا بھاگ جانا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے ان کے قصور سے درگزر گیا اور معاف کر دیا اور رہا بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ یا رسول اللہﷺ کی بیٹی ان کے نکاح میں تھیں جو کہ بیمار تھیں تو رسول اللہﷺ نے انھیں کہا کہ (تم مدینہ میں ان کے پاس رہو) تمہیں ایک شریک ہونے کا ثواب ملے گا اور (مال غنیمت میں) حصہ بھی ملے گا۔ اوربیعت الرضوان میں غائب ہونا (تو فضیلت ہے) اگر مکہ والوں میں نبیﷺ کے نزدیک سیدنا عثمانؓ سے زیادہ کوئی عزت والا ہوتا تو اسی کو (اپنی طرف سے) بھیجتے۔ رسول اللہﷺ نے سید نا عثمانؓ کو بھیجا اور بیعت الرضوان سیدنا عثمانؓ کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پس رسول اللہﷺ نے اپنے سیدھے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا:'' یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ '' اوراس کو بائیں ہاتھ پر مارا اور فرمایا :'' یہ عثمان کی بیعت ہے۔ '' پھر سیدنا ابن عمرؓ نے اس شخص سے کہا کہ یہ (تینوں جواب) اپنے ساتھ (مصر) لے جا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا علی بن ابی طالبؓ کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۳۳)۔ سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کو چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے تو انھوں نے اس کی شکایت کی۔ اس وقت نبیﷺ کے پاس قیدی آئے تو وہ آپﷺ کے پاس آئیں لیکن آپﷺ نہ ملے تو ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کو (ایک غلام کا) کہہ کر چلی آئیں۔ جب نبیﷺ آئے تو عائشہؓ نے آپﷺ کو سیدہ فاطمہؓ کے آنے کا بتایا۔ پس نبیﷺ ہمارے پاس آئے جب ہم لیٹ رہے تھے (اپنے بستروں میں) میں نے اٹھنا چاہا تو آپﷺ نے فرمایا :'' اپنی جگہ رہو اور آپﷺ ہمارے درمیان میں بیٹھ گئے ، یہاں تک کہ میں نے آپﷺ کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں پائی ، آپﷺ نے فرمایا :'' میں تمہیں اس چیز سے بہتر ایک بات بتاتا ہوں جس کا تم مجھ سے سوال کرتے ہوں (یعنی غلام کا) کہ جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو ۳۴مرتبہ اللہ اکبر اور ۳۳مرتبہ سبحان اللہ اور ۳۳مرتبہ الحمد اللہ پڑھو یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۳۴)۔ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں اور عمر بن ابی سلمہ (کمسنی کی وجہ سے) عورتوں میں چھوڑ دیے گئے پھر میں نے جو نگاہ کی تو دیکھا کہ زبیرؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہیں اور دو بار یا تین بار بنی قریظہ کے یہودیوں کے پاس گئے اور آئے۔ جب میں لوٹ کر آیا تو میں نے کہا کہ اے ابا جان ! میں نے دیکھا کہ تم بنی قریظہ کی طرف آتے اور جاتے تھے (یہ کیا معاملہ تھا) ؟ انھوں نے کہا کہ بیٹا تو نے مجھے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' کوئی ایسا ہے جو بنی قریظہ کے پاس جائے اور ان کی خبر لائے ؟'' پس میں گیا اور (خبر لایا)جب واپس آیا تو نبیﷺ نے اپنی ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا :'' میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدناطلحہ عبید اللہؓ کے بیان میں۔
(۱۵۳۵)۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جو لڑائیاں لڑیں ان میں سے بعض لڑائیوں میں نبیﷺ کے پاس سوائے سیدنا طلحہ اور سعد بن ابی وقاص کے کوئی نہ رہا (رضی اللہ عنہ)۔

(۱۵۳۶)۔ سیدنا طلحہ بن عبیدا للہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبیﷺ کو اپنے جس ہاتھ سے بچایا تھا وہ( ایک تیز لگنے سے) بالکل شل ہو گیا تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص الزہریؓ کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۳۷)۔ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے احد کے دن اپنے ماں باپ اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا تھا۔ (یعنی فرمایا تھا :'' اے سعد ! تیر چلاؤ تجھ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ '')
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کے دامادوں کا بیان۔
(۱۵۳۸)۔ سیدنا مسور بن مخرمہؓ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے ابو جہل کی بیٹی (جویریہ) کو شادی کا پیغام دیا۔ خبر سیدہ فاطمہ الزہراءؓ کو پہنچی تو وہ نبیﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ آپ کی قوم والے کہتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے ستانے پر کوئی غصہ نہیں آتا (اسی کا اثر ہے) اب علیؓ ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرتے ہیں۔ پس رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے (خطبہ سنایا ، مسور کہتے ہیں کہ) میں نے سنا کہ جب آپﷺ نے خطبہ پڑھا تو فرمایا :'' امابعد ! میں نے ایک بیٹی (سیدہ زینبؓ)کا نکاح ابو العاص بن ربیع سے کیا ، اس نے جو بات کہی وہ سچی کی اور فاطمہ (رضی اللہ عنہ) میرا ایک ٹکڑا ہے (اس کو جو بات بری لگے اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں) میں اس بات کو برا سمجھتا ہوں کہ اسے تکلیف دی جائے ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول اللہﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ '' پس سیدنا علیؓ نے وہ منگنی توڑ دی۔

(۱۵۳۹)۔ سیدنا مسور بن مخرمہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو بنی عبد شمس میں سے اپنے ایک داماد ابو العاص بن الربیع (رضی اللہ عنہ) کا ذکر کرتے ہوئے سنا ، آپﷺ نے ان کی تعریف کی کہ انھوں نے دامادی کا پورا پورا حق ادا کیا اور فرمایا :'' انھوں نے جو بات کہی ، سچی کہی اور جو وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ ''
 
Top