• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختلف موبائل کمپنیوں نے صارفین کو ایڈوانس بیلنس کی سہولت ! کیا یہ سود ہیں ؟

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,404
پوائنٹ
562
اس سلسلے میں میرا رجحان یہ ہے کہ یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ہے ،جس کے دو بنیادی سبب ہیں۔
1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اضافی رقم کمپنی کے سروس چارجز اور حکومتی ٹیکس ہوتا ہے جو وہ ایزی لوڈ اور کارڈ لوڈ پر بھی کاٹ لیتے ہیں۔آج کل اگر 100 روپے کا کارڈ لوڈ کریں تو 75 روپے آتے ہیں،اب کیا ہم یہاں بھی یہ کہیں گے کہ کمپنی نے 75 دے کر ہم سے 100 روپے لئے ہیں۔یہاں ایسا کوئی بھی نہیں کہتا ہے،ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ یہ حکومتی ٹیکس اور سروس چارجز ہیں جو ہر کارڈ کے ساتھ ساتھ ہر کال پر بھی کٹتے رہتے ہیں اور یہ ایسے اصول ہیں جو سم لیتے وقت ہی کمپنی آپ کو بتا دیتی ہے کہ ہم ان ان شرائط پر آپ کو اپنی کمپنی کی سروس مہیا کریں گے،اور ہم کمپنی کی ان شرائط کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ تحریری معاہدہ بھی کرتے ہیں کہ ہم کمپنی کی تمام شرائط سے متفق ہیں۔
2۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے کمپنی سے نقد رقم نہیں لی ہوتی بلکہ ایک سروس اور خدمت لی ہوتی ہے ،جس کے چارجز ہم خدمت کے حصول کے بعد ادا کرتے ہیں۔(جبکہ کارڈ یا ایزی لوڈ میں پہلے ہی ادا کر دیتے ہیں۔)اب اس کو سود کیسے کہا جا سکتا ہے۔سود تو یہ ہے کہ نقدی رقم کے بدلے میں ہم زیادہ رقم ادا کر یں،یہاں تو ہم نے نقدی رقم لی ہی نہیں ہے۔اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ یہ سروس چارجز ایزی لوڈ اور کارڈ پر کاٹے گئے چارجز سے کم ہیں۔فرق صرف تقدیم وتاخیر کا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
جزاک اللہ خیرا برادر۔
@یونس بھائی نے اپنے بریلویت و حنفیت والے دھاگہ میں جو طرز عمل اختیار کیاہے۔ وہ بھی ایک طرح سے ”تقلید“ ہی ہے کہ جو ”ہمارا عالم“ کہے، وہ ہر حال میں درست ہے اور جو ”تمہارا عالم“ کہے وہ ہر صورت میں غلط ہے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,077
ری ایکشن اسکور
6,748
پوائنٹ
1,069
جزاک اللہ خیرا برادر۔
@یونس بھائی نے اپنے بغض بریلویت و حنفیت والے دھاگہ میں جو طرز عمل اختیار کیاہے۔ وہ بھی ایک طرح سے ”تقلید“ ہی ہے کہ جو ”ہمارا عالم“ کہے، وہ ہر حال میں درست ہے اور جو ”تمہارا عالم“ کہے وہ ہر صورت میں غلط ہے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون

میرے بھائی اس معاملے میں کچھ اشکال ہیں

1- پہلی بات جو آپ ایڈوانس لون لیتے ہیں 10 یا 15 روپے کا اس میں ٹیکس وہ پہلے ہی کاٹ لیتے ہیں

2- جو ایڈوانس لون دیتے ہیں وہ آپ کے کارڈ ری چارز پر 10 یا 15 روپے کے بجائے زیادہ کاٹا جاتا ہے -

3 - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہیں

اس معاملے میں علماء اپنی رائے پیش کریں
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,077
ری ایکشن اسکور
6,748
پوائنٹ
1,069
ایڈوانس حاصل کرنا، کیا سود کے ذیل میں آتا ہے؟

کچھ روز پہلے میں نے ایک دوست کو اس کی مِسڈ کال ملنے پر کال بیک کی لیکن کچھ ہی دیر بعد بیلنس ختم ہونے کی وجہ سے کال بند ہوگئی۔ میں نے ایڈوانس 15 روپے حاصل کرکے دوست کو دوبارہ فون کیا۔ اس نے کال بند ہونے کی وجہ پوچھی تو میں نے بتا دیا کہ بیلنس ختم ہوگیا تھا، اب ایڈوانس حاصل کرکے دوبارہ کال کی ہے۔ اس نے کہا ایسے نہیں کرنا تھا کیونکہ اس طرح تو یہ تو سودی کام ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کیونکہ ایڈوانس حاصل کرنے کے بدلے میں موبائل کمپنی بیلنس لوڈ کرانے یا کارڈ ری چارج کرنے پر ایڈوانس کی کٹوتی کے ساتھ ساتھ 60 پیسے اضافی چارجز وصول کرتی ہے اور یہ سود کے زمرے میں آجاتا ہے۔ وقتی طور پر تو میں نے اس کی بات نظر انداز کردی۔ لیکن بعد میں غور کرنے پر مجھے اس کی بات میں وزن محسوس ہوا
میں یوفون اور زونگ کے نمبر استعمال کرتا ہوں، میں نے بہت کم شاید ایک یا دو مرتبہ زونگ ریسکیو سے ایڈوانس حاصل کیا ہے۔ زونگ پر ایڈوانس منگوانے کے بعد ری چارج کرانے پر معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے اکائونٹ سے کٹوتی کی ہے یا نہیں کیونکہ کمپنی نے اسے ریسکیو یعنی ہنگامی امداد کا نام دیا ہے اور میرا خیال ہے وہ کٹوتی نہیں کرتے۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ مجھے ایک یا دو مرتبہ ریسکیو سے ایڈوانس حاصل کرنا پڑا، اور جب میں نے ری چارج کرایا تو تصدیقی ایس ایم ایس میں ایسی معلومات نہیں تھیں کہ انہوں نے ٹیکسز وغیرہ کے علاوہ کوئی اور کٹوتی کی ہے۔ کوئی بھائی یا بہن جو زونگ کا نمبر استعمال کرتے ہوں اور اس بارے واضح معلومات رکھتے ہوں آگاہ کریں۔

یوفون کمپنی کے بارے مستند معلومات ہیں کہ کمپنی سے 15 روپے ''یو لون'' (u loan) حاصل کرنے پر 60 پیسے سکہ رائج الوقت کی اس وقت اضافی کٹوتی کی جاتی ہے جب صارف ری چارج کراتے ہیں۔ ری چارج کرانے کے بعد کمپنی کی طرف سے تصدیقی ایس ایم ایس میں واضح لکھا ہوتا ہے کہ 15 روپے کے ساتھ 60 پیسے کٹوتی کی گئی ہے۔ اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ یوفون کمپنی ایڈوانس کو ''یو لون'' کا نام دیتی ہے اور 15 روپے کے ساتھ 60 پیسے اضافی کٹوتی کرتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 15 روپے قرض پر جو ہنگامی صورتحال میں کمپنی سے حاصل کیا جاتا ہے اس پرجو 60 پیسے اضافی دئیے جاتے ہیں کیا وہ سود کے زمرے میں آتے ہیں؟؟؟ اور دیگر کمپنیاں جو اس خدمت کو ایڈوانس کا نام دیتی ہیں اگر واپسی پر اضافی کٹوتی کرتی ہیں تو کیا وہ بھی سود ہی کہلائے گا؟؟؟

اکثر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ تھوڑا بیلنس لوڈ کراتے ہیں جب بیلنس ختم ہوجاتا ہے تو لون یا ایڈوانس حاصل کرکے بات کرلیتے ہیں، اور ری چارج پر اضافی چارجز ادا کرتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس طرح روزانہ لاکھوں‌ لوگ یہ طریقہ اختیار کرتے ہوں گے۔ اگر علماء‌ کے نزدیک یہ سود کے زمرے میں آتا ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے روزانہ لاکھوں لوگ اللہ کی ناراضگی مول لے رہے ہیں۔ انجانے میں ہم اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور احکامات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ حالانکہ ہمارے نزدیک یہ عام معاملہ ہے۔

جواب :

یہ تو واضح ترین سود ہے
اور سود حرام ہے
لہذا اس سے ہرممکن بچنے کی کوشش کریں
اور ہاں
میں نے سنا ہے کہ ان موبائل کمپنیوں میں سے ایک کمپنی ایسی بھی ہے جو یہ اضافی رقم نہیں کاٹتی
بلکہ جتنا ایڈوانس دیتی ہے اتنا ہی کاٹتی ہے
بہر حال اگر جتنا دیا ہے اتنا ہی واپس لیں تو جائز و درست وگرنہ سود و حرام ہے

رفیق طاھر

 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,077
ری ایکشن اسکور
6,748
پوائنٹ
1,069
آپ کسی سے 100 روپے قرض لیتے ہو مگر واپسی پر وہ آپ سے 120 روپے کا تقاضا کرتا ہے تو اس اضافی رقم ،20 روپے ، کو آپ کیا نام دوگے ؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,404
پوائنٹ
562
میرے بھائی اس معاملے میں کچھ اشکال ہیں
1- پہلی بات جو آپ ایڈوانس لون لیتے ہیں 10 یا 15 روپے کا اس میں ٹیکس وہ پہلے ہی کاٹ لیتے ہیں
ج: یہاں ٹیکس کا معاملہ زیر بحث نہیں ہے۔ نہ ہی ٹیکس کا سود سے کوئی تعلق ہے

2- جو ایڈوانس لون دیتے ہیں وہ آپ کے کارڈ ری چارز پر 10 یا 15 روپے کے بجائے زیادہ کاٹا جاتا ہے -
ج: وہ لون (قرضہ) نہیں دیتے نہ ہی صارف لون لیتا ہے۔ اسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ ایئر ٹائم ادھار دیتے ہیں، جس کی ادائیگی بعد میں کی جاتی ہے، اضافی ریٹ پر

3 - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہیں
ج: سود سے متعلق تمام احادیث کو یکجا کرکے پڑھئے۔ دوس ایک ہی قسم (نوع) کی اشیا کے تبادلہ پر ہوتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,077
ری ایکشن اسکور
6,748
پوائنٹ
1,069
موبائل نمبر پر ایڈوانس حاصل کرنا، کیا سود کے ذیل میں آتا ہے؟


جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

جزاک اللہ خیرا، بھائی گلاب خان صاحب، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو گناہ سے بچنے کے لالچ میں اضافہ دے، گناہ سے خوف زدہ رہنا یقینا ایک محمود عمل ہے، اللہ ہم سب کو ہر گناہ کو پہنچاننے اور سے بچنے کی ہمت دے،
اور جزاک اللہ خیرا، شمشاد بھائی، ماشاء اللہ بہت اچھا جواب پیش کیا ہے،
یقینا سود تو کیا ہر ایک مسئلے کا حل جاننے کے پہلے اس سے متعلق معاملات کا شرعی تعارف حاصل کرنا بہت ضروری ہے،
بھائی گلاب خان صاحب نے جو صورت حال بتائی ہے، اس سے تو واضح ہوتا ہے کہ قرض کے طور پر دی گئ چارجنگ ویلیو سے بڑھ کر جو لیا جاتا ہے وہ سود ہے،

اب کوئی اس کو کچھ بھی نام دیتا رہے، علم الاصول الفقہ میں ایک قانون ہے کہ """"" تغیر اسم الشیء لا یغیر حقیقتہ ::: کسی چیز کا نام تبدیل کرنے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی """"

اور اس قانون کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ایک صحیح ثابت شدہ فرمان مبارک ہے،

جی تونام بدلنےسے کسی چیز کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی اور شریعت کا حکم کسی چیز پر اس کی حقیقت کے مطابق لگتا ہے، کسی قرض پر اس کی اصل قدر و قیمت سے زیادہ کچھ لینا خواہ اسے "سروس چارجز" کہا جائے، یا کچھ اور وہ رہے گا سود ہی،

بھائی گلاب خان صاحب، آپ نے ٹیلی کمیونیکشن کمپنی کی طرف سے بطورء قرض چارجنگ دینے پر جو اضافی پیسے کاٹنے کا معاملہ بتایا ہے، وہ کم از کم مجھے تو واضح طور پر سود کے سودے میں نظر آتا ہے،
اگر ہم ایسے کسی حیلے بہانے سے قرض کی مد سے نکال بھی لیں تو بھی یہ مال کے بدلے میں مال کی خیرد و فروخت میں شامل ہے، کیونکہی کمیونیکشن کمپنی والے آپ سے جو جنس وصول کرتے ہیں و ہی جنس واپس دیتے ہیں، جس کی ظاہری صورت مختلف ہوتی ہے لیکن اس کی قدر و قمیت کہنے سننے پڑھنے لکھنے لینے دینے میں اسی جنس کی قدر و قیمت میں ہی رہتی ہے، جنس تبدیل نہیں ہوتی، پندرہ روپے نقد لے کر پندرہ روپے ہی کے طور پر واپس دیے جاتے ہیں، اور بتایا بھی یہی جاتا ہے کہ ا ب آپ کے حساب میں ہمارے پاس پندرہ روپے موجود ہیں، اورآپ ان پندرہ روپوں میں سے جیسے جیسے ان کے مقرر کردہ نرخ پر ان کی کوئی خدمت استعمال کرتے ہیں وہ آپ کی حسابی ملکیت میں سے ان کی ملکیت میں منتقل ہوتے جاتے ہیں، اور ان کے مقرر کردہ نرخ میں ان لوگوں نے اپنے سارے اخراجات اور منافع وغیرہ جمع کر رکھے ہوتے ہیں، یعنی ابتداء سے لے کر ان کی خدمت استعمال کرنے تک آپ کی ان کے ساتھ خرید و فروخت ایک ہی جنس کی ہوتی ہے، اور اس مسئلے کے بارے میں کئی بالکل صاٖف واضح الفاظ پر مشتم احادیث مبارکہ میسر ہیں،
یہاں میں صرف اُن ایک دو فرامین مبارکہ کا ذکر کرتا ہوں جو خالصتاً آپ کے بتائے ہوئے معاملے کا حکم بتانے والے ہیں،


::: (۱) ::: تیسرے بلا فصل خلیفہ، امام مظلوم، ذوالنورین، عُثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہ ُسے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِرشاد فرمایا

(((((لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ :::ایک دینار کے بدلے میں دو دینار (کی خرید و) فروخت مت کرو، اور نہ ہی ایک درھم کے عوض دو درھم کی)))))

صحیح مسلم/حدیث 1585/کتاب المساقاۃ/باب14،




::: (۲) ::: ابی سیعد الخُدری رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا

(((((لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ:::

سونے کے بدلے سونے کی خرید و فروخت مت کرو سوائے بالکل ایک ہی جیسی مقدار میں، اور ان کو ایک دوسرے پر زیادہ مت کرو، اور نہ ہی چاندی کے بدلے میں چاندی کی خرید و فروخت مت کرو سوائے بالکل ایک ہی جیسی مقدار میں، اور ان کو ایک دوسرے پر زیادہ مت کرو، اور نہ ہی اس میں سے کچھ بعد میں قبضہ دیے جانے کے لیے خرید و فروخت کرو)))))

متفق ٌ علیہ، صحیح البخاری /حدیث2068 /کتاب البیوع/باب 78، صحیح مسلم/حدیث 1584/کتاب المساقاۃ/باب14،


پس میرے بھائی، اس قسم کی خرید و فروخت اور لین دین اگر سود کی حدود سے کسی طور نکال بھی لیا جائے تو بھی شرعاً جائز نہیں ہے،

رہا معاملہ سود کا تو یقینا اس کے حرام ہونے میں مسلمانوں کے کسی مکتب ء فکر میں کوئی شک نہیں، جی ہاں اس کی مختلف صورتوں کے بارے میں اختلاف ہوتا ہے، جسے سمجھنے کے لیے اللہ نے عُلماء مہیا فرما رکھے ہیں، ہم جیسے عام مسلمانوں کو اُس علم کے ماہر عُلماء کے علم اور تحقیق سے یقینا استفادہ کرنا چاہیے اور سود کے معاملات کو بہت ہی سنجیدگی سے لینا چاہیے، اور کوشش کی جانی چاہیے کہ معاملے اور موضوع سے متلعق تمام نصوص کو جانے اور سمجھے بغیر کوئی فیصلہ صادر نہ کیا جائے،

یہ کوئی چھوٹا گناہ نہیں بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، یہ ایک ہی ایسا گناہ ہے جس میں ملوث لوگوں کے لیے اللہ نے اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے اعلان جنگ کیا ہے، اور اس میں شامل ہر شخص پر اللہ کے رسول نے لعنت فرمائی ہے، اور جانتے بوجھتے ہوئے ایک درھم سود کھانا چھتیس 36 زنا سے زیادہ گناہ کا کام بتایا ہے،

لہذا ہر ایک مسلمان کواپنے مالی معاملات میں ممکنہ سود کے بارے میں بھی خوب اچھی طرح سے چھان بین کرنا چاہیے،

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے، اور بھائی گلاب خان کو بہترین اجر سے نوازے کہ انہیں نے ایک اہم موجودہ مسئلے کی طرف سے سب کو متوجہ فرمایا،

والسلام علیکم۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,077
ری ایکشن اسکور
6,748
پوائنٹ
1,069
1- پہلی بات جو آپ ایڈوانس لون لیتے ہیں 10 یا 15 روپے کا اس میں ٹیکس وہ پہلے ہی کاٹ لیتے ہیں
ج: یہاں ٹیکس کا معاملہ زیر بحث نہیں ہے۔ نہ ہی ٹیکس کا سود سے کوئی تعلق ہے

2- جو ایڈوانس لون دیتے ہیں وہ آپ کے کارڈ ری چارز پر 10 یا 15 روپے کے بجائے زیادہ کاٹا جاتا ہے -
ج: وہ لون (قرضہ) نہیں دیتے نہ ہی صارف لون لیتا ہے۔ اسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ ایئر ٹائم ادھار دیتے ہیں، جس کی ادائیگی بعد میں کی جاتی ہے، اضافی ریٹ پر

3 - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہیں
ج: سود سے متعلق تمام احادیث کو یکجا کرکے پڑھئے۔ دوس ایک ہی قسم (نوع) کی اشیا کے تبادلہ پر ہوتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

میرے بھائی جب آپ کا بیلنس ختم ہو جاتا ہو تو وہاں سے جو میسج آتا ہے کہ ایڈوانس بیلنس حاصل کریں

آپ نے کہا ہے

وہ ایئر ٹائم ادھار دیتے ہیں، جس کی ادائیگی بعد میں کی جاتی ہے، اضافی ریٹ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہیں

انس بھائی یہاں کچھ وضاحت کر دیں
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,434
پوائنٹ
463
ویسے کمپنی خود اسے لون کا نام دیتی ہے۔تو پھر ’’ائیر ٹائم ‘‘ کہنا بھی دوسری بات ہوئی۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا کچھ مفہوم یہ بھی ہے کہ قیامت کے قریب لوگ بعض حرام چیزوں کو حلال کر لیں گے ، مگر ان کا نام بدل دیں گے۔
آج بھی حکم دیکھنے کی ضرورت ہے اور اہل علم سے پوچھنے کی۔ورنہ ’’ آفرز ‘‘ کے نام پر ہم سخت غفلت میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,434
پوائنٹ
463
سعودیہ میں بھی ’’ لون ‘‘ کی سہولت متعارف کروائی گئی ہے ۔اور اسے کمپنی لون ہی کہتی ہے،
مگر اس میں ایک ھلالہ بھی زائد نہیں کاٹتے ، بلکہ جتنی رقم لی جاتی ہے ، اتنی ہی بیلنس ری چارج کرنے پر کاٹ لی جاتی ہے۔
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,103
پوائنٹ
412
جناب @قاری مصطفی راسخ صاحب
یہاں اشکال یہ ھوتا ھیکہ موبائل کمپنی جو پیسے پہلے کاٹتی ھے وہ ٹیکس ھوتا ھے۔ لیکن لون لینے کے بعد جو پیسے اضافی طور پر لیتی ھے وہ کیوں لیتی ھے؟
 
Top