• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مدخلی فرقہ حکمرانوں کے لیے مرجئہ، مسلمانوں پر خوارج — شیخ محمد ابو رحیم کی گواہی

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
846
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
مدخلی فرقہ حکمرانوں کے لیے مرجئہ، مسلمانوں پر خوارج — شیخ محمد ابو رحیم کی گواہی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فضیلۃ الشيخ الدكتور محمد ابو رحيم فرماتے ہیں:

مرجئة الحكام ، خوارج على المسلمين
أولاَ: هي جماعة ربيع بن هادي المدخلي وهي جماعة تدعي الإنتماء لمنهج السلف الصالح وهي في الحقيقة من غلاة المرجئة وخوارج العصر ، ظهرت في الجزيرة العربية بدعم العرب والغرب لخلخلة العقيدة السلفية وتمزيقها ولها انتشار واسع في دول الجوار والدول الغربية، بل هم في عين هؤلاء ورعايتهم .


حکمرانوں کے مرجئہ، مسلمانوں پر خوارج
اولاً: یہ جماعت ربیع بن ہادی المدخلی کی ہے، جو اپنے آپ کو منہجِ سلف صالحین سے منسوب کرتی ہے، حالانکہ درحقیقت یہ غالی مرجئہ اور عصرِ حاضر کے خوارج میں سے ہے۔ یہ جماعت جزیرہ عرب میں ظاہر ہوئی، اور اس کے پیچھے عرب اور مغرب دونوں کی پشت پناہی تھی، تاکہ سلفی عقیدہ کو کمزور کیا جائے اور اس میں انتشار پیدا کیا جائے۔ یہ جماعت نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ مغربی دنیا میں بھی بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے، بلکہ مغرب اور حکمرانوں کی جاسوس اور ان کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔


ثانياً: عقيدتها ؛ عقيدة الارجاء ، وفكرها فكر الخوارج ( مرجئة مع الحكام ، خوارج على المسلمين ) ويظهر ذلك فيما يلي :
أ)الوقوف مع الحكام الغالبين ولو كان يهوديا، أو نصرانياً أو ملحداً.
ب) تكفير كل من رفض البيعة لهؤلاء الحكام وتكفير المخالف والمشاركة في قتاله تحت رايات هؤلاء الحكام .
ج) كلّ من دعا أو طالب بتطبيق الشريعة وجهر بها أمام هؤلاء الحكام فهو عندهم خارجي يجب قتاله.
د) التهوين من شأن الصلاة
ه) التهوين من شأن الولاء والبراء
س) التهوين من شأن الجهاد بدفع العدو الصائل


ثانیاً: ان کا عقیدہ "ارجاء" کا عقیدہ ہے، اور ان کی سوچ خوارج جیسی ہے۔ یعنی "حکمرانوں کے ساتھ مرجئہ، مسلمانوں پر خوارج"۔ یہ بات ان کے رویے سے صاف ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ:
الف) وہ ہر غالب حکمران کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، چاہے وہ یہودی ہو، نصرانی ہو یا دہریہ۔
ب) جو ان حکمرانوں کی بیعت سے انکار کرے، اس کی تکفیر کرتے ہیں، اور مخالفین کے قتل میں حکمرانوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
ج) جو شخص بھی شریعت کے نفاذ کی دعوت دے، یا حکمرانوں کے سامنے اس کا مطالبہ کرے، اسے یہ "خارجی" قرار دے کر قتل کا مستحق سمجھتے ہیں۔
د) نماز کو معمولی چیز سمجھتے ہیں۔
ہ) "ولاء و براء" (یعنی دوستی و دشمنی صرف اللہ کے لیے) کو معلولی سمجھتے ہیں۔

س) دشمن کے حملے کے دفاع میں جہاد کو بھی کم اہمیت دیتے ہیں۔

ثالثاً) لا زال المسلمون يعانون منهم في العالم العربي ؛ سفكوا دماء المسلمين وأفتوْ بهدر دم المخالف فضلاً عن تحريف عقيدة المسلمين في مسألة الإيمان ! هم من أخطر الفرق المعاصرة لظهورها بثوب السلف والسلف منهم براء ! يجب التحذير منهم ؛ لإرجائهم ولخارجيتهم !

ثالثاً: آج بھی مسلمان ان کے شر سے عرب دنیا میں مصیبت جھیل رہے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کا خون بہایا، اور (خوارج کے) فتوے دے کر اپنے مخالفین کے خون کو مباح قرار دیا، اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے ایمان کے مسئلے میں عقیدہ اہلِ سنت میں تحریف کی! یہ دورِ حاضر کی خطرناک ترین گمراہ فرقوں میں سے ہیں، کیونکہ یہ "سلفی" لبادے میں چھپے ہوئے ہیں، حالانکہ سلف ان سے بری ہیں۔ لہٰذا ان سے خبردار رہنا لازم ہے، ان کے ارجاء اور خارجیت کی وجہ سے۔


[المصدر : صفحة الأستاذ الدكتور محمد أبو رحيّم الرسمية‎]

مدخلیت کا فتنہ عصرِ حاضر کے ان مہلک ترین فتنوں میں سے ہے جنہوں نے سلفیت کو مسخ کرنے، جہاد فی سبیل اللہ کو بدنام کرنے کے لیے طاغوتی قوتوں کی پشت پناہی سے جنم لیا اس فتنے نے شریعتِ مطہرہ کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ فتنہ مدخلیت کی سرپرستی نہ فقط طاغوتی حکمرانوں نے کی، بلکہ مغربی صلیبی استعمار بھی اس کے فروغ میں شریکِ کار رہا۔

یہ فتنہ ربیع مدخلی کی فکری گندگی کا نتیجہ ہے، جس نے "منہجِ سلف" کے مقدس نام کو بطور نقاب استعمال کیا، اسلام دشمن قوتوں نے اسے پال پوس کر ایک "علمی" نقاب پہنا دیا، تاکہ اسے سلفیت کا نمائندہ ظاہر کر کے مسلمانوں کو گمراہ کیا جا سکے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص اور اس کی جماعت نہ صرف سلف بلکہ اسلام سے بھی بری الذمہ ہیں۔

ربیع مدخلی نے "منہجِ سلف" کی دہائی دے کر مسلمانوں کو دھوکا دیا، لیکن اس کا اصل منہج "مرجئہ" کا ہے جو ایمان کو صرف زبانی اقرار اور دل کی تصدیق تک محدود کرتے ہیں، اور اعمال کو ایمان سے خارج کر کے حکمرانوں کے کفر، ظلم اور بدترین معاصی کے لیے دینی تاویلات گھڑ کر جواز فراہم کرتے ہیں۔ یہ وہی خطرناک گمراہی ہے جس کی نشاندھی شیخ محمد ابو رحیم نے ان الفاظ میں کی "وهي جماعة تدعي الإنتماء لمنهج السلف الصالح وهي في الحقيقة من غلاة المرجئة وخوارج العصر

یہی لوگ ہیں جو حکمران اگر کفر کرے، ظلم کرے، شریعت کو معطل کرے تو یہ اسے "ولی الامر" کہہ کر اس کی اطاعت کو واجب گردانیں! اور جو کوئی اس ظلم پر نکیر کرے، شریعت کا مطالبہ کرے، یا جہاد کی بات کرے تو یہ اسے "خارجی" کہہ کر قتل کا مستحق گردانتی ہے۔

گویا حکمران کی طرف سے ہونے والے ظلم و جبر، کفر و طغیانی، قتل و غارت، شریعت دشمنی سب کچھ قابلِ قبول ہے لیکن اگر ایک مسلمان اس پر تنقید کرے تو وہ ان کے نزدیک "خوارج" اور واجب القتل ہے۔ یہ وہی منہج ہے جو آج سی آئی اے، موساد، اور عرب طواغیت کی گود میں پلنے والے ایجنٹ اپنائے ہوئے ہیں۔ ربیع مدخلی کی جماعت اسی ایجنڈے کا فکری بازو ہے۔

شیخ محمد ابو رحیم فرماتے ہیں "عقيدتها ؛ عقيدة الارجاء ، وفكرها فكر الخوارج (مرجئة مع الحكام ، خوارج على المسلمين)" اللہ اکبر! کیا ایسا دوغلہ منہج کبھی سلفِ صالحین کا ہوسکتا ہے؟ کیا سلف صالحین کبھی ایسے حکمرانوں کے سامنے اس طرح جھکنے کی دعوت دیتے؟

یہ مدخلی گروہ وہ ہے جس نے شریعت کو موجودہ حکمرانوں کی منشاء پر قربان کیا، جہاد کو فتنہ قرار دیا، ولاء و براء کے فریضہ کو پسِ پشت ڈالا، اور ایمان کے باب میں اہل السنۃ کے اجماعی عقیدے کو پامال کیا اور اعمال کے ترک پر بھی ایمان کا دعویٰ باقی رکھا۔ بلکہ ان کے علماء نما فتوے فروشوں نے مسلمانوں کے خون کو مباح قرار دیا۔ جو ان کے نزدیک "خارجی" یا "مخالفِ حکمران" ہو، اس کی گردن مار دینا باعثِ ثواب سمجھا۔ جس کو شیخ محمد ابو رحیم نے یوں بیان کیا کہ "كلّ من دعا أو طالب بتطبيق الشريعة وجهر بها أمام هؤلاء الحكام فهو عندهم خارجي يجب قتاله"

مدخلیوں کی فتوے بازی نے امت کے نوجوانوں کو شریعت سے برگشتہ کیا، حکمرانوں کی غلامی سکھائی، اور حق گو علما کے خلاف محاذ کھولا۔ مدخلیوں نے امت مسلمہ کے ان سلفی علماء اور مجاہدین کو بدنام کیا جو طواغیت کے خلاف کھڑے ہوئے۔ مدخلیوں کے فتوے خون مسلم کو مباح قرار دینے والے ہیں، یہ "منہج" نہیں بلکہ "سازش" ہے۔

یہ دین فروش گروہ صرف چند سلفی اصطلاحات کا استعمال کر کے نوجوانوں کو دھوکا دیتا ہے۔ ان کے خطبات، کتابیں، اور فتوے سب اسی غرض سے ترتیب دیے گئے ہیں کہ مسلمان خلافت، شریعت اور جہاد کے خواب کو چھوڑ کر طواغیت کے سامنے سرنگوں ہو جائیں۔

ربیع مدخلی کا مشن ہی یہ تھا کہ امت میں جمود پیدا کیا جائے، ہر طرح کی اسلامی بیداری کو کچلا جائے، اور جہاد کو "خارجیت" کہہ کر بدنام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مدخلیوں نے مجاہدین اسلام کو سب و شتم کا نشانہ بنایا اور عوام کو طاغوتی حکمرانوں کی غلامی پر راضی کیا۔

یہ لوگ دین کے نام پر دین کے دشمن ہیں، جن کی موجودگی خود سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہ سلف کے نہیں، سلف دشمنوں کے نمائندے ہیں۔ یہ دین کے نہیں، دین فروشوں کے پیروکار ہیں۔ یہ "اہل السنۃ" نہیں، فتنۂ مرجئہ و خوارج کا نیا چہرہ ہیں۔

سلف صالحین کی طرف منسوب ہونا ان کا سب سے بڑا فریب ہے۔ سلف ان سے بری ہیں۔ اسلام ان سے بری ہے۔ امت کو ان سے ہر صورت خبردار رہنا ہوگا۔ شیخ محمد ابو رحیم فرماتے ہیں "هم من أخطر الفرق المعاصرة لظهورها بثوب السلف والسلف منهم براء ! يجب التحذير منهم ؛ لإرجائهم ولخارجيتهم !" پس واجب ہے کہ ان سے براءت کا اعلان کیا جائے، ان کے افکار کا رد کیا جائے، ان کے فتووں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے، اور امت کو ان کی خفیہ سازشوں سے آگاہ کیا جائے۔

والله المستعان، و علیه التکلان، و لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم. وصلی الله علی سیدنا محمد و علی آلہ و صحبہ أجمعین۔
 
Top