• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مدخلی و اخوانی؛ صلیبی و لبرل ایجنڈے کے غلام

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
928
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
مدخلی و اخوانی؛ صلیبی و لبرل ایجنڈے کے غلام
​

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، نبينا محمد، وعلى آله وأصحابه أجمعين، أما بعد:

عہدِ حاضر میں جب باطل افکار اور گمراہ جماعتوں نے اسلام کی اصل تعلیمات کو مسخ کرنے اور اہلِ ایمان کو بدنام کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، ایسے میں حق کو واضح کرنا اور اہلِ بدعت کو بے نقاب کرنا ہر صاحبِ علم اور اہلِ ایمان پر واجب ہے۔ سلفِ صالحین کا یہی طریقہ رہا کہ وہ باطل فرقوں پر سختی کرتے، ان کی تلبیس کو فاش کرتے اور امت کو ان کے شر سے خبردار کرتے۔

اسی منہج پر چلتے ہوئے شیخ بن باز اور شیخ ابن عثیمین کے شاگردِ رشید، علامہ خالد بن علی المرضی الغامدی نے نہایت جرات مندانہ انداز میں سروری، اخوانی، جامیہ اور مدخلیہ جیسے گمراہ ٹولوں کے متعلق فرمایا:

وإذا كان السلف قالوا : إن الأشاعرة مخانيث المعتزلة، فنحن نقول : السرورية والإخوان والجامية المداخلة مخانيث الرافضة العلمانية والليبرالية، وهم مخانيث الصليبين، وقد جمعت بفضل الله فيهم وفي رؤوسهم ومقالاتهم كتابا يسر الله إخراجه قريبا، وإن من الواجب على أهل الفضل والعلم التشهير بهؤلاء دون أن تأخذهم في الله لومة لائم، وليفرح المؤمن بإغاظتهم وليغلظوا عليهم كما أغلظ سلفنا على أسلافهم من أهل الأهواء والبدع، والحمد لله رب العالمين.

اگر سلف نے کہا کہ اشاعرہ معتزلہ کے زنانہ ہیں، تو ہم کہتے ہیں کہ سروریہ، اخوان المسلمون، جامیہ اور مدخلیہ روافض، سیکولرزم اور لبرل ازم کے زنانہ ہیں۔ بلکہ یہ صلیبیوں کے بھی زنانہ ہیں۔ اللہ کے فضل سے میں نے ان کے عقائد، رہنماؤں اور بیانات پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی ہے، جسے اللہ جلد منظرعام پر لانے میں آسانی پیدا کرے۔ اہلِ علم و فضل پر واجب ہے کہ ان لوگوں کو بے نقاب کریں اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کریں۔ مومن ان کے غیظ و غضب سے خوش ہوں اور ان کے خلاف سختی کریں، جیسا کہ ہمارے اسلاف نے اہلِ بدعت اور گمراہی کے اسلاف کے ساتھ سختی کی تھی۔ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔


[القناة جميع كتب وفتوى وأقوال الشيخ خالد المرضي الغامدي ]

پس یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مدخلیہ، جامیہ، سروریہ اور اخوانیہ محض گمراہ ٹولے ہی نہیں بلکہ دراصل اسلام دشمن صلیبی، صہیونی اور لبرل ایجنڈے کے فکری زنانہ اور ان کے رکھیل ہیں۔ ان کے قلم، زبان اور منبر ہمیشہ اسلام کے خلاف اور طواغیت کے حق میں برسرِ پیکار رہتے ہیں۔ یہ ایمان والوں پر بھونکتے ہیں مگر اپنے آقاؤں کے تلوے چاٹتے ہیں۔

شیخ خالد الغامدی فرماتے ہیں «السرورية والإخوان والجامية المداخلة مخانيث الرافضة العلمانية والليبرالية» یعنی سروریہ، اخوان، جامیہ اور مدخلیہ درحقیقت روافض سیکولرزم اور لبرل ازم کے زنانہ ہیں۔

شیخ نے مدخلیوں اور اخوانیوں کو براہِ راست روافض اور لبرلز کے زنانہ کہا گی۔ مدخلی و اخوانی دراصل رافضیت کا ایک مکروہ عکس ہیں۔ جیسے رافضی ایرانی حکمرانوں کے درباری ہوتے ہیں، ویسے ہی یہ سعودی و ترکی طواغیت کے درباری ہیں۔

یہ لبرلز و سیکولرز کے زنانہ اس لیے ہیں کہ ان کی فکر اور طرزِ عمل ہمیشہ اسلام دشمن ایجنڈے کو سہارا دیتی ہے۔ ان کی زبانیں مجاہدین اسلام اور سلفی علماء پر کھلتی ہیں، مگر مغرب کے لبرل نظریات اور سیکولر آقاؤں کے آگے دم ہلاتی ہیں۔

بلکہ مدخلی ٹولہ تو دراصل صلیبی استعمار کا ہی فکری آلہ کار ہے اسی لئے شیخ خالد الغامدی فرماتے ہیں «وهم مخانيث الصليبين» یعنی یہ صلیبیوں کے بھی زنانہ ہیں۔ ان کی تقریریں، فتوے اور تحریریں صلیبی امریکہ، برطانیہ اور صیہونی ریاست کے حق میں کام آتی ہیں۔

مجاہدین اسلام کو خوارج اور فتنہ پرور کہنے کا بیانیہ انہی صلیبی ایجنڈوں کا حصہ ہے۔ یوں ان مدخلیوں کو "صلیبیوں کے زنانہ" کہنا ایک دقیق مگر سچائی پر مبنی تعبیر ہے۔

پھر شیخ خالد الغامدی فرماتے ہیں «وإن من الواجب على أهل الفضل والعلم التشهير بهؤلاء دون أن تأخذهم في الله لومة لائم» یعنی اہل علم و فضل پر واجب ہے کہ ان کو بے نقاب کریں، اور اللہ کے معاملے میں ملامت کرنے والے کی پروا نہ کریں۔

مدخلیوں اور اخوانیوں کے ساتھ نرمی کرنا خیانت ہے، ان کی گمراہیوں پر خاموش رہنا بزدلی ہے، اور ان کے فتنوں پر پردہ ڈالنا امت سے غداری ہے۔ ہر صاحبِ ایمان پر واجب ہے کہ ان کو ذلیل کرے، ان کی تحریروں اور تقریروں کو رد کرے، اور ان کے باطل افکار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ یہی منہجِ سلف ہے اور یہی دین کا تقاضا۔

شیخ خالد الغامدی کے بیان میں اہلِ ایمان کے لیے ایک ہدایت بھی ہے کہ «وليفرح المؤمن بإغاظتهم وليغلظوا عليهم كما أغلظ سلفنا على أسلافهم من أهل الأهواء والبدع»

اللہ کی قسم! یہ مدخلی و اخوانی ٹولہ جس قدر چیختا ہے، اتنا ہی مومن کو خوش ہونا چاہیے، کیونکہ ان کی چیخ و پکار اس بات کی دلیل ہے کہ ان پر وار کاری ہوا ہے اور ان کے باطل پر ضربِ مومن لگی ہے۔ پس اہلِ ایمان کو ان کے خلاف تیز و تند بننا ہے، جیسا کہ سلفِ صالحین نے اپنے زمانے کے زندیقوں اور اہلِ بدعت کو کچلا۔

اللہ تعالیٰ ان زندیقوں کے مکر کو انہی پر لوٹائے اور ان کو رسوا کرے، اور اہلِ ایمان کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top