• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مراقبہ کی کیا حقیقت ہے اسلام میں؟

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
لأن ابن أبى هند لم يسمع من أبى موسى شيئا , كما قال الدارقطنى , وتبعه الحافظ فى " الدراية " (ص 328) وغيره.
قلت: له علة , وهى الانقطاع بين سعيد وأبى موسى , فقد ذكر أبو زرعة وغيره أن حديثه عنه مرسل.(الارواء:۲۶۷۰)
[/arb]

قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: خَبَرُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى - فِي هَذَا الْبَابِ - مَعْلُولٌ لَا يَصِحُّ.(التعلیقات علی ابن حبان:۵۴۱۰)
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
لأن ابن أبى هند لم يسمع من أبى موسى شيئا , كما قال الدارقطنى , وتبعه الحافظ فى " الدراية " (ص 328) وغيره.
ويؤيد ذلك أن كثيرا من الرواة عن نافع أدخلوا فى إسناده بين سعيد بن أبى هند وأبى موسى رجلا وصفه بعضهم بأنه من أهل البصرة ,(الارواء:۲۷۷
یہ کہنا غلط ہے کہ الالبانی صاحب کو اس سند کا علم نہیں ہے وہ اس سند سے واقف تھے اور انہوں اس کو انقطاع کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے واللہ اعلم
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,951
ری ایکشن اسکور
9,805
پوائنٹ
722
علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا:
868 - " يبعث الله العباد يوم القيامة، ثم يميز العلماء، ثم يقول: يا معشر العلماء إني لم أضع علمي فيكم إلا لعلمي بكم، ولم أضع علمي فيكم لأعذبكم، انطلقوا فقد غفرت لكم ".
ضعيف جدا.
رواه ابن عدي
(205 / 2) وأبو الحسين الكلابي في " نسخة أبي العباس طاهر التميمي " (5 - 6) وابن عبد البر في " الجامع " (1 / 48) وأبو المعالي عفيف الدين في " فضل العلم " (114 / 2) عن صدقة بن عبد الله عن طلحة بن زيد عن موسى بن عبيدة عن سعيد بن أبي هند عن أبي موسى الأشعري مرفوعا.
ومن هذا الوجه رواه أبو بكر الآجري في " الأربعين "
(رقم 16) إلا أنه وقع فيه " يونس بن عبيد " بدل " موسى بن عبيدة "، ولعله تصحيف. وقال ابن عدي: " وهذا الحديث بهذا الإسناد باطل، وإن كان الراوي عنه صدقة بن عبد الله ضعيف، فابن شابور ثقة وقد رواه عنه ". يعني أن طلحة بن زيد تفرد به، فلزمه الحديث كما قال ابن الجوزي في " الموضوعات " (1 / 263) .
قلت: وطلحة هذا متهم بالوضع، فهو آفة الحديث، وإن كان شيخه موسى بن عبيدة ضعيفا جدا كما قال ابن كثير في " التفسير " (3 / 141) والهيثمي في " المجمع " (1 / 127)
، واقتصرا على إعلاله به، وهو قصور بين إذا علمت أن الراوي عنه متهم. ومن هذا القبيل قول الحافظ العراقي في " المغني " (1 / 7) : " سنده ضعيف "! وعزاه هو والهيثمي وغيرهما للطبراني. وقد روي الحديث عن ثعلبة بن الحكم وابن عباس وأبي أمامة أو واثلة بن الأسقع (هكذا على الشك) وأبي هريرة وابن عمر وجابر بن عبد الله الأنصاري والحسن البصري موقوفا عليه.
[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 2/ 259]

علامہ البانی رحمہ اللہ نے یہاں انقطاع کی علت کو بنیاد نہیں بنایا کیونکہ اس سے بڑی علت یہاں موجود تھی ۔
اور ممکن ہے کہ انقطاع والی بات اس وقت علامہ البانی رحمہ اللہ کو مستحضر نہ رہی ۔
اور چونکہ یہاں علامہ البانی رحمہ اللہ نے مسندالرویانی کا حوالہ نہیں دیا مزید یہ کہ مسند رویانی میں منقول اس روایت میں وہ راوی ہے بھی نہیں جس کی بنیاد پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس سند کو سخت ضعیف بتلایا ہے ۔ شاید اسی وجہ سے بعض اہل علم نے جب مسند رویانی میں اس حدیث کو دیکھا اور اس کی سند میں اس مجروح راوی کو نہیں پایا تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔
حالانکہ اس میں دوسری علت انقطاع بھی موجود ۔
بلکہ سند کے ابتدائی ٹکڑے میں جو دوسرا طریق جڑا ہوا ہے اس کی صحت بھی تحقیق طلب ہے ، مسند رویانی کے محقق نے بھی اس الگ تھلگ طریق کو غریب کہا ہے۔
بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کے مرکزی طریق میں انقطاع ہے اب اگر اس نیچے بعض طبقات میں کسی راوی کی متابعت مل بھی جائے تو اوپر جاکر تمام طرق ایسے مقام پر متحد ہورہے ہیں جہاں انقطاع ہے تو گویا فی الحقیقت اس کا مرکزی طریق ایک ہی ہے اور وہ منقطع ہے اس لئے یہ روایت ضعیف معلوم ہوتی ہے ، واللہ اعلم۔

حافظ عمران بھائی کا تعاقب درست ہے لیکن یہ کہنے کے لئے دلیل چاہئے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ مسندرویانی کے طریق سے بھی آگاہ تھے ، اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو انقطاع کی وجہ سے ضعیف کہا ہے۔کیونکہ انقطاع والی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے دیگر احادیث کی تحقیق کرتے ہوئے کہی ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ کے اصول کی روشنی میں بھی مسند رویانی والی یہ روایت ضعیف ہے۔
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا:
868 - " يبعث الله العباد يوم القيامة، ثم يميز العلماء، ثم يقول: يا معشر العلماء إني لم أضع علمي فيكم إلا لعلمي بكم، ولم أضع علمي فيكم لأعذبكم، انطلقوا فقد غفرت لكم ".
ضعيف جدا.
رواه ابن عدي
(205 / 2) وأبو الحسين الكلابي في " نسخة أبي العباس طاهر التميمي " (5 - 6) وابن عبد البر في " الجامع " (1 / 48) وأبو المعالي عفيف الدين في " فضل العلم " (114 / 2) عن صدقة بن عبد الله عن طلحة بن زيد عن موسى بن عبيدة عن سعيد بن أبي هند عن أبي موسى الأشعري مرفوعا.
ومن هذا الوجه رواه أبو بكر الآجري في " الأربعين "
(رقم 16) إلا أنه وقع فيه " يونس بن عبيد " بدل " موسى بن عبيدة "، ولعله تصحيف. وقال ابن عدي: " وهذا الحديث بهذا الإسناد باطل، وإن كان الراوي عنه صدقة بن عبد الله ضعيف، فابن شابور ثقة وقد رواه عنه ". يعني أن طلحة بن زيد تفرد به، فلزمه الحديث كما قال ابن الجوزي في " الموضوعات " (1 / 263) .
قلت: وطلحة هذا متهم بالوضع، فهو آفة الحديث، وإن كان شيخه موسى بن عبيدة ضعيفا جدا كما قال ابن كثير في " التفسير " (3 / 141) والهيثمي في " المجمع " (1 / 127)
، واقتصرا على إعلاله به، وهو قصور بين إذا علمت أن الراوي عنه متهم. ومن هذا القبيل قول الحافظ العراقي في " المغني " (1 / 7) : " سنده ضعيف "! وعزاه هو والهيثمي وغيرهما للطبراني. وقد روي الحديث عن ثعلبة بن الحكم وابن عباس وأبي أمامة أو واثلة بن الأسقع (هكذا على الشك) وأبي هريرة وابن عمر وجابر بن عبد الله الأنصاري والحسن البصري موقوفا عليه.
[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 2/ 259]

علامہ البانی رحمہ اللہ نے یہاں انقطاع کی علت کو بنیاد نہیں بنایا کیونکہ اس سے بڑی علت یہاں موجود تھی ۔
اور ممکن ہے کہ انقطاع والی بات اس وقت علامہ البانی رحمہ اللہ کو مستحضر نہ رہی ۔
اور چونکہ یہاں علامہ البانی رحمہ اللہ نے مسندالرویانی کا حوالہ نہیں دیا مزید یہ کہ مسند رویانی میں منقول اس روایت میں وہ راوی ہے بھی نہیں جس کی بنیاد پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس سند کو سخت ضعیف بتلایا ہے ۔ شاید اسی وجہ سے بعض اہل علم نے جب مسند رویانی میں اس حدیث کو دیکھا اور اس کی سند میں اس مجروح راوی کو نہیں پایا تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔
حالانکہ اس میں دوسری علت انقطاع بھی موجود ۔
بلکہ سند کے ابتدائی ٹکڑے میں جو دوسرا طریق جڑا ہوا ہے اس کی صحت بھی تحقیق طلب ہے ، مسند رویانی کے محقق نے بھی اس الگ تھلگ طریق کو غریب کہا ہے۔
بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کے مرکزی طریق میں انقطاع ہے اب اگر اس نیچے بعض طبقات میں کسی راوی کی متابعت مل بھی جائے تو اوپر جاکر تمام طرق ایسے مقام پر متحد ہورہے ہیں جہاں انقطاع ہے تو گویا فی الحقیقت اس کا مرکزی طریق ایک ہی ہے اور وہ منقطع ہے اس لئے یہ روایت ضعیف معلوم ہوتی ہے ، واللہ اعلم۔

حافظ عمران بھائی کا تعاقب درست ہے لیکن یہ کہنے کے لئے دلیل چاہئے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ مسندرویانی کے طریق سے بھی آگاہ تھے ، اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو انقطاع کی وجہ سے ضعیف کہا ہے۔کیونکہ انقطاع والی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے دیگر احادیث کی تحقیق کرتے ہوئے کہی ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ کے اصول کی روشنی میں بھی مسند رویانی والی یہ روایت ضعیف ہے۔
جزاکم اللہ خیرا
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا:
868 - " يبعث الله العباد يوم القيامة، ثم يميز العلماء، ثم يقول: يا معشر العلماء إني لم أضع علمي فيكم إلا لعلمي بكم، ولم أضع علمي فيكم لأعذبكم، انطلقوا فقد غفرت لكم ".
ضعيف جدا.
رواه ابن عدي
(205 / 2) وأبو الحسين الكلابي في " نسخة أبي العباس طاهر التميمي " (5 - 6) وابن عبد البر في " الجامع " (1 / 48) وأبو المعالي عفيف الدين في " فضل العلم " (114 / 2) عن صدقة بن عبد الله عن طلحة بن زيد عن موسى بن عبيدة عن سعيد بن أبي هند عن أبي موسى الأشعري مرفوعا.
ومن هذا الوجه رواه أبو بكر الآجري في " الأربعين "
(رقم 16) إلا أنه وقع فيه " يونس بن عبيد " بدل " موسى بن عبيدة "، ولعله تصحيف. وقال ابن عدي: " وهذا الحديث بهذا الإسناد باطل، وإن كان الراوي عنه صدقة بن عبد الله ضعيف، فابن شابور ثقة وقد رواه عنه ". يعني أن طلحة بن زيد تفرد به، فلزمه الحديث كما قال ابن الجوزي في " الموضوعات " (1 / 263) .
قلت: وطلحة هذا متهم بالوضع، فهو آفة الحديث، وإن كان شيخه موسى بن عبيدة ضعيفا جدا كما قال ابن كثير في " التفسير " (3 / 141) والهيثمي في " المجمع " (1 / 127)
، واقتصرا على إعلاله به، وهو قصور بين إذا علمت أن الراوي عنه متهم. ومن هذا القبيل قول الحافظ العراقي في " المغني " (1 / 7) : " سنده ضعيف "! وعزاه هو والهيثمي وغيرهما للطبراني. وقد روي الحديث عن ثعلبة بن الحكم وابن عباس وأبي أمامة أو واثلة بن الأسقع (هكذا على الشك) وأبي هريرة وابن عمر وجابر بن عبد الله الأنصاري والحسن البصري موقوفا عليه.
[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 2/ 259]

علامہ البانی رحمہ اللہ نے یہاں انقطاع کی علت کو بنیاد نہیں بنایا کیونکہ اس سے بڑی علت یہاں موجود تھی ۔
اور ممکن ہے کہ انقطاع والی بات اس وقت علامہ البانی رحمہ اللہ کو مستحضر نہ رہی ۔
اور چونکہ یہاں علامہ البانی رحمہ اللہ نے مسندالرویانی کا حوالہ نہیں دیا مزید یہ کہ مسند رویانی میں منقول اس روایت میں وہ راوی ہے بھی نہیں جس کی بنیاد پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس سند کو سخت ضعیف بتلایا ہے ۔ شاید اسی وجہ سے بعض اہل علم نے جب مسند رویانی میں اس حدیث کو دیکھا اور اس کی سند میں اس مجروح راوی کو نہیں پایا تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔
حالانکہ اس میں دوسری علت انقطاع بھی موجود ۔
بلکہ سند کے ابتدائی ٹکڑے میں جو دوسرا طریق جڑا ہوا ہے اس کی صحت بھی تحقیق طلب ہے ، مسند رویانی کے محقق نے بھی اس الگ تھلگ طریق کو غریب کہا ہے۔
بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کے مرکزی طریق میں انقطاع ہے اب اگر اس نیچے بعض طبقات میں کسی راوی کی متابعت مل بھی جائے تو اوپر جاکر تمام طرق ایسے مقام پر متحد ہورہے ہیں جہاں انقطاع ہے تو گویا فی الحقیقت اس کا مرکزی طریق ایک ہی ہے اور وہ منقطع ہے اس لئے یہ روایت ضعیف معلوم ہوتی ہے ، واللہ اعلم۔

حافظ عمران بھائی کا تعاقب درست ہے لیکن یہ کہنے کے لئے دلیل چاہئے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ مسندرویانی کے طریق سے بھی آگاہ تھے ، اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو انقطاع کی وجہ سے ضعیف کہا ہے۔کیونکہ انقطاع والی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے دیگر احادیث کی تحقیق کرتے ہوئے کہی ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ کے اصول کی روشنی میں بھی مسند رویانی والی یہ روایت ضعیف ہے۔
شیخ صاحب میرا بھی یہی مقصد تھا کہ یہ روایت کمزور ہے ایک دوسری حدیث کی سند میں اس راری(ابن ابی ہند ) پر جرح کی ہے اور وہی جرح یہاں بھی صادق آتی ہے جہا ں تک اس حدیث کے ضعف کا معاملہ تو اس میں اؕٓپ نے بجا فرمایا
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
مکالمہ کو بہترین بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مخاطب کی نفسیات کو سامنے رکھا جائے۔ مثلا اگر ایک سلفی کسی صوفی سے مکالمہ کرنا چاہتا ہے تو اسے صوفی کی نفسیات سے واقف ہونا چاہیے۔

مراقبہ کی حقیقت کیا ہے، جو صوفیاء نے سمجھا ہے، وہ اوپر بیان ہو چکا۔ اس میں ایک چیز اہم نظر آتی ہے اور وہ حواس ظاہری یا حواس خمسہ کا تعطل ہے تا کہ کل توجہ اللہ کی طرف منتقل ہو جائے۔ باقی رہی اس کی ٹائمنگ یا ہیئت تو یہ درست نہیں ہے۔ مثلا صوفیاء کہتے ہیں کہ مراقبے میں آنکھیں بند ہونی چاہییں۔ میرے خیال میں اس کا تعلق مراقبے سے نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ حواس کا تعطل آنکھیں کھول کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جیسا کہ بعض لوگ کھلی آنکھوں سوتے ہیں یا ہم اگر سٹرک پر سفر کر رہے ہوں تو راستے میں ہزاروں چیزوں کو دیکھتے ہیں لیکن ہماری توجہ چونکہ ان کی طرف نہیں ہوتی، ہم کچھ اور سوچ رہے ہوتے ہیں لہذا انہیں ہمارا دیکھنا یا نہ دیکھنا برابر ہوتا ہے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ یا تابعین یا ائمہ ایسے مراقبہ نہیں کرتے تھے جیسا کہ صوفیاء کرتے ہیں۔ لیکن صوفیاء کی بعض باتیں قابل توجہ معلوم ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ان کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کی طرف کامل توجہ کے لیے حواس ظاہری کو معطل کر دیں۔ اس بنیاد کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم مراقبے کی بہترین صورت متعین کرنا چاہیں تو وہ تہجد کی نماز ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ المزمل میں وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلاً کا حکم دیا گیا یعنی دنیا وما فیہا سے انقطاع کامل جو اللہ کی طرف توجہ کامل کا سبب بنے گا۔ یہی وہی بات ہے جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تعبد اللہ کانک تراہ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ مراقبہ کا مقام نماز ہے۔ اور نماز میں بھی خاص طور تہجد کی نماز کیونکہ عام فرض نمازوں میں استغراق کی کیفیت نہیں ہوتی تھی جیسا کہ قرآن نے بھی کہا ہے: ( إِنَّ لَكَ فِي اَلنَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلا ) فرض نمازوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دیتے تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فرائض میں استغراق مطلوب نہیں ہے۔ واللہ اعلم

مراقبے کی حقیقت یہی ہے کہ انسان تہجد کی دو رکعت میں قرآن مجید کی تلاوت کرے اور تلاوت وتسبیحات میں تبتل یعنی انقطاع کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اگر انقطاع حاصل نہ ہو رہا ہو تو آنکھیں بھی بند کی جا سکتی ہیں جیسا کہ امام ابن قیم نے لکھا ہے کہ نماز میں خشوع وخضوع کے لیے آنکھیں بند کر سکتے ہیں۔ توجہ الی اللہ کا پہلا قدم انقطاع دنیا ہے۔ دنیا و ما فیہا سے انقطاع ہو گا تو توجہ کے حصول کا آغاز ہو گا۔ توجہ میں استغراق کے لیے قرآن مجید کی آیات اور تسبیحات کے معنی ومفہوم پر غور کرے۔

ایک شبہ یہ ہو سکتا ہے کہ مراقبے میں تو کسی ایک تصور پر غور کیا جاتا ہے تا کہ مرکزیت قائم ہو تو قرآن مجید کی آیات پر غور کرنے کی صورت میں متفرق مضامین پر غور کرے گا تو مرکزیت کیسے قائم ہو گی، ذہن تو ادھر ادھر منتقل ہوتا رہے گا۔ اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید اللہ کی صفت ہے، صفت الہی ہونے کے اعتبار سے وہ ایک ہے، اگرچہ مضامین کے اعتبار سے متنوع ہے۔ قرآن مجید میں غور وفکر ایک اعتبار سے صفت کلام میں غور بھی ہے۔ اور اللہ کی صفات کے ذریعے اس کی ذات کا جو قرب حاصل کیا جا سکتا ہے، شاید کسی اور ذریعے سے حاصل نہ ہو۔ اس دنیا میں اللہ کی ذات کے تعارف کا سب سے بڑا ذریعہ بھی اس کی صفات ہی ہیں کہ جسے ہم توحید اسماء وصفات کا نام دیتے ہیں اور اس کے قرب کا ذریعہ بھی اس کی صفات ہی ہیں۔ اور ان صفات میں اللہ اور انسان کے مابین تعلق قائم کرنے کے لیے جو اہم ترین صفت ہے، وہ صفت کلام ہے یعنی قرآن مجید۔ باقی رہی یہ بات توجہ کے حصول کے لیے انقطاع کا حصول کیسے ہو تو اس بارے مزید کچھ لکھوں گا۔
 

عزمی

رکن
شمولیت
جون 30، 2013
پیغامات
190
ری ایکشن اسکور
304
پوائنٹ
43
ماشاء اللہ حضرت آپ بہت اچھے انداز میں بات سمجھا رہے ہیں ،اور یہ حقیقت ہے کہ:۔
۔ صوفیاء کا خیال یہ ہے کہ تزکیہ نفس ان کا تخصص ہے اور اس معاملے میں کوئی ان کا ثانی تو دور کی بات شریک بھی نہیں ہے۔ مولانا ذوالفقار نقشبندی، جو ایک معروف سلسلے کے امیر طریقت بھی ہیں، نے اپنی ایک کتاب میں تصوف پر نقد کرنے والوں پر لکھتے ہوا کہا کہ ہم نے ہزاروں پیدا کیے ہیں، تم اپنی صفوں میں ان جیسا ایک بھی دکھا دو۔ اور تو اور مولانا رومی نے غیر متصوفین کے بارے لکھا ہے کہ کتوں کی طرح ہڈیوں پر لڑتے ہیں۔ بہر حال یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے۔ ان کے نزدیک اعلی اخلاق، رویے، عبادت میں احسان، حضور الہی کی کیفیات، مشاہدات وغیرہ یہ سب کچھ جس درجے میں صوفیاء کو حاصل ہوتا ہے، غیر صوفی کو حاصل نہیں ہے اور غیر صوفی کو اس وقت تک بھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان کے معروف سلاسل یا طریقوں یا مناہج میں سے تزکیہ نفس کے کسی سلسلے یا طریقے یا منہج کو اختیار نہ کر لے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے مراقبہ نماز کا اہتمام سے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے مراقبہ کے ساتھ مشارطہ اور محاسبہ دو اور اصطلاحات بھی بیان کی ہیں۔ مشارطہ یہ ہے کہ صبح اٹھ کر اپنے نفس کو یہ تلقین کرے کہ آج کے دن میں یہ خیر کا کام کرنا ہے اور اس شر سے بچنا ہے۔ اور مراقبہ سے مراد یہ ہے کہ اپنے نفس کو کی گئی اس تلقین کی دن بھر نگہداشت اور نگرانی کرے۔ محاسبہ یہ ہے کہ رات کو یہ معلوم کرنے کے لیے بیٹھے کہ جس خیر کے حصول اور شر سے اجتناب کے لیے مشارطہ کیا تھا، وہ حاصل ہوا یا نہیں۔ مولانا کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مروجہ معنی میں صوفیاء کے مراقبے کے حامی نہیں ہیں اگرچہ انہوں نے اس کا انکار بھی نہیں کیا ہے۔
مولانا عبد القادر رائے پوری رحمہ اللہ کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ نئے بیعت کرنے والوں کو نماز کی مشق کرواتے تھے۔ کہ دو رکعت نماز نفل اس مقصد کے ساتھ پڑھے کہ اس میں توجہ اللہ کے غیر کی طرف نہ جائے۔ یہ نفل نماز ایسے وقت میں پڑھے کہ جب دنیا کے کاموں سے فارغ ہو۔ اور اگر نماز میں غیر کی طرف توجہ چلی جاتی ہے تو دوبارہ سے نفل پڑھے۔ اس طرح کئی دن نوافل کی پریکٹس کرنے سے فرض نماز میں توجہ اللہ ہی کی طرف مبذول رہے گی۔
سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ نے سید عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے مجھ سے حدیث سیکھی اور میں نے ان سے نماز سیکھی۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ سالک کی اصلاح میں اول اور آخر مراتب نماز ہی کے ذریعے طے ہوں گے۔ سورۃ مومنون کے پہلے رکوع میں اہل ایمان اور جنت الفردوس کے وارثین کی چھ صفات میں سے اول و آخر نماز ہی ہے۔ اول مرتبہ تو یہ ہے کہ اس خیال کے ساتھ نماز پڑھے کہ اللہ مجھے دیکھ رہے ہیں اور یہ خیال نماز میں ہمہ وقت رہے اور انتہائی مرتبہ یہ ہے کہ اس خیال کے ساتھ نماز ادا ہو کہ میں اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہوں اور یہ خیال نماز میں ہمہ وقت رہے۔ یہ دو مراتب حدیث جبرئیل میں بیان ہوئے ہیں۔ اور نماز تمام عبادات میں اصل ہے۔ جب نماز میں ایک کیفیت حاصل ہو جائے تو دیگر عبادات میں بھی منتقل ہو گی۔ واللہ اعلم
 
شمولیت
اکتوبر 16، 2011
پیغامات
106
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
65
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے مراقبہ نماز کا اہتمام سے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے مراقبہ کے ساتھ مشارطہ اور محاسبہ دو اور اصطلاحات بھی بیان کی ہیں۔ مشارطہ یہ ہے کہ صبح اٹھ کر اپنے نفس کو یہ تلقین کرے کہ آج کے دن میں یہ خیر کا کام کرنا ہے اور اس شر سے بچنا ہے۔ اور مراقبہ سے مراد یہ ہے کہ اپنے نفس کو کی گئی اس تلقین کی دن بھر نگہداشت اور نگرانی کرے۔ محاسبہ یہ ہے کہ رات کو یہ معلوم کرنے کے لیے بیٹھے کہ جس خیر کے حصول اور شر سے اجتناب کے لیے مشارطہ کیا تھا، وہ حاصل ہوا یا نہیں۔ مولانا کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مروجہ معنی میں صوفیاء کے مراقبے کے حامی نہیں ہیں اگرچہ انہوں نے اس کا انکار بھی نہیں کیا ہے۔
مولانا عبد القادر رائے پوری رحمہ اللہ کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ نئے بیعت کرنے والوں کو نماز کی مشق کرواتے تھے۔ کہ دو رکعت نماز نفل اس مقصد کے ساتھ پڑھے کہ اس میں توجہ اللہ کے غیر کی طرف نہ جائے۔ یہ نفل نماز ایسے وقت میں پڑھے کہ جب دنیا کے کاموں سے فارغ ہو۔ اور اگر نماز میں غیر کی طرف توجہ چلی جاتی ہے تو دوبارہ سے نفل پڑھے۔ اس طرح کئی دن نوافل کی پریکٹس کرنے سے فرض نماز میں توجہ اللہ ہی کی طرف مبذول رہے گی۔
سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ نے سید عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے مجھ سے حدیث سیکھی اور میں نے ان سے نماز سیکھی۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ سالک کی اصلاح میں اول اور آخر مراتب نماز ہی کے ذریعے طے ہوں گے۔ سورۃ مومنون کے پہلے رکوع میں اہل ایمان اور جنت الفردوس کے وارثین کی چھ صفات میں سے اول و آخر نماز ہی ہے۔ اول مرتبہ تو یہ ہے کہ اس خیال کے ساتھ نماز پڑھے کہ اللہ مجھے دیکھ رہے ہیں اور یہ خیال نماز میں ہمہ وقت رہے اور انتہائی مرتبہ یہ ہے کہ اس خیال کے ساتھ نماز ادا ہو کہ میں اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہوں اور یہ خیال نماز میں ہمہ وقت رہے۔ یہ دو مراتب حدیث جبرئیل میں بیان ہوئے ہیں۔ اور نماز تمام عبادات میں اصل ہے۔ جب نماز میں ایک کیفیت حاصل ہو جائے تو دیگر عبادات میں بھی منتقل ہو گی۔ واللہ اعلم
اسلام علیکم !محترم ابو الحسن علوی صاحب اللہ آپ کے فہم میں مزید برکت فرمائے آمین ! اس موضوع پر آپکی مفصل تحریر کا انتظار ہے ۔
 
Top