• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مردہ مچھلی کھانا کیسا ہے؟

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
السلام علیکم ،

میرا ایک سوال ہے، جب مردہ جانور کھانا حرام ہے تو مردہ مچھلی کیوں کھا سکتے ہے؟
اور ایک سوال کیا ہم جھینگا اور کیکڑا کھا سکتے ہے؟
قرآن اور سنّت کی روشنی میں جواب دے. جزاکللہ

اور ایک سوال یہ ہے کی حلال جانوروں کے جسم کے کون سے حصّے کھانا حرام ہے یا مکروہ ہے؟

کیا ہم جانوروں کا دل کھا سکتے ہے،؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شیخ صالح المنجد سے جب اس بارے سوال ہوا تو انہوں نے یوں جواب دیا:
سمندرى جانور كھانا

كيا كوئى ايسا سمندرى جانور بھى ہے جو كھانا جائز نہيں ؟
الحمد للہ:
ہم پر اللہ سبحانہ و تعالى كى نعمت ہے كہ اس نے ہمارے دين كو بہت آسان اور سہل بنايا ہے، اور ہم پر كوئى سختى اور شدت نہيں، اور ہم پر ہمارى استطاعت و طاقت سے باہر كوئى كام لازم نہيں كيا، ہمارے ليے بہت سارى اشياء حلال كر دى ہيں جو پہلى شريعتوں ميں حرام كى گئى تھيں۔
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اللہ تعالى تمہارے ساتھ آسانى كرنا چاہتا ہے، اور تم پر تنگى نہيں چاہتا }۔
اور اس ميں سمندرى كھانے والى اشياء بھى شامل ہيں، چاہے وہ حيوان ہو يا نباتات، زندہ ہو يا مردہ۔
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ تمہارے ليے سمندر كا شكار كرنا اور اس كا كھانا حلال كيا گيا ہے، تمہارے فائدہ كے ليے، اور مسافروں كے واسطے }المآئدۃ ( 96 )۔
ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں:
اس كا شكار وہ ہے جو اس سے زندہ پكڑا جائے، اور اس كا كھانا وہ ہے جو سمندر مرا ہوا باہر پھينك دے۔
اور بہت ہى قليل سمندرى جانور ايسے ہيں جنہيں بعض اہل علم نے مندرجہ بالا اباحت سے مستثنى كيا ہے، اور وہ درج ذيل ہيں:
1 - مگرمچھ:
صحيح يہى ہے كہ اس كا كھانا جائز نہيں، كيونكہ اس كى كچلى ہے، اور پھر يہ خشكى پر بھى رہتا ہے ـ اگرچہ يہ زيادہ وقت پانى ميں بھى بسر كرے ـ تو ممنوعہ جانب غالب سمجھى جائيگى۔
( اور وہ يہ ہے كہ يہ خشكى والا اور كچلى والا جانور ہے )۔
2 - مينڈك:
اسے كھانا جائز نہيں، كيوكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے قتل كرنے سے منع فرمايا ہے، جيسا كہ درج ذيل حديث ميں وارد ہے:
عبد الرحمن بن عثمان رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مينڈك قتل كرنے سے منع فرمايا "
اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے، اور صحيح الجامع حديث نمبر ( 6970 ) ميں بھى ہے۔
اور قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ جسے قتل كرنا منع كيا گيا ہو اسے كھانا جائز نہيں، كيونكہ اگر اس كا كھانا جائز ہوتا تو اسے قتل كرنا جائز ہوتا۔
3 - بعض اہل علم نے سمندری سانپ كو بھى مستثنى كيا ہے،
ليكن صحيح يہ ہے كہ اگر وہ صرف سمندر ميں ہى رہتا ہو تو درج ذيل فرمان بارى تعالى كے عموم كى بنا پر كھانا جائز ہو گا:
فرمان بارى تعالى ہے:
{ تمہارے ليے سمند كا شكار كرنا اور اس كا كھانا حلال كيا گيا ہے، تمہارے فائدہ كے ليے }المآئدۃ ( 96 )۔
4 - پانى ميں رہنے والا سمندرى كتا اور كچھوا:
ليكن صحيح يہ ہے كہ اسے ذبح كرنے كے بعد كھانا جائز ہے، كيونكہ يہ خشكى اور سمندر دونوں جگہ رہتا ہے، اس ليے ممنوعہ جانب كو غالب كيا گيا ہے، اور يہاں ايك قاعدہ اور اصول ہے وہ يہ كہ:
" جو چيز بھى سمندر اور خشكى دونوں جگہ رہتى ہے اسے ـ احتياطا ـ خشكى ميں رہنے والے جانور كا حكم ديا جائيگا، اس ليے اسے ذبح كرنا ضرورى ہے "
ليكن اس سے سرطان (جسے ہم اردو میں کیکڑا اور انگلش میں کریب کہتے ہیں، علوی)خارج ہے، اسے ذبح كرنا لازم نہيں چاہے وہ سمندر اور خشكى دونوں جگہ رہتا ہے، كيونكہ اس ميں خون نہيں۔
5 - ہر وہ چيز جس ميں ضرر اور نقصان ہو اس كا كھانا جائز نہيں، چاہے وہ سمندرى ہی كيوں نہ ہو۔
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اور تم اپنے نفسوں كو قتل مت كرو، يقينا اللہ تعالى تمہارے ساتھ رحم كرنے والا ہے ۔
اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى اس طرح ہے:
{ اور تم اپنے آپ كو ہلاكت ميں مت ڈالو }۔
ديكھيں: المغنى ( 11 / 83 ) اور حاشية الروض ( 7 / 430 ) اور تفسير ابن كثير ( 3 / 197 ) اور احكام الاطعمةتاليف الشيخ فوزان۔
واللہ اعلم ۔
الشيخ محمد صالح المنجد

نوٹ: ایک پوسٹ میں ایک ہی سوال کیا جائے۔ دوسرے سوال کے لیے دوسری نئی پوسٹ شیئر کی جائے۔ ہم اس تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔
 
Top