ڈاکٹر عادل ایوب سلفی
مبتدی
- شمولیت
- مئی 24، 2015
- پیغامات
- 18
- ری ایکشن اسکور
- 16
- پوائنٹ
- 9
السلام علیکم و رحمة الله وبركاته!
احناف کی طرف سے پیش کی گئی چند روایات کی تحقیق درکار ہے
نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا صحیح دلائل سے ثابت ہے اور یہی سنّت عمل ہے۔چند دلائل پیشِ خدمت ہیں۔
حدیث نمبر1:
" حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلاَةِ تَحْتَ السُّرَّةِ "
(مصنف ابن ابی شیبہ ج:1 ص:427 ،رقم الحدیث 6،باب وضع الیمین علی الشمال )
حدیث نمبر 2:
عن علی رضی اللہ عنہ قال ثلاث من اخلاق الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم تعجیل الافطار وتاخیر السحور ووضع الکف علی الکف تحت السرۃ ۔
(مسند زید بن علی ص:204 ،205،باب الافطار )
فائدہ : یہ سند اہل بیت کی سند ہے ۔
حدیث نمبر 3:
" حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ السُّوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مِنْ سُنَّةِ الصَّلاَةِ وَضْعُ الأَيْدِي عَلَى الأَيْدِي تَحْتَ السُّرَرِ"
(مصنف ابن ابی شیبہ ج:1 ص:427رقم الحدیث 13)
یہ موقف ان دلائل سے ثابت ہے:
1: عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍرضی اللہ عنہقَالَ کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ اَنْ یَّضَعَ الرَّجُلُ الْیَدَ الْیُمْنٰی عَلٰی ذِرَاعِہِ الْیُسْریٰ فِی الصَّلٰوۃِ ۔
(صحیح البخاری ج 1ص 102باب وضع الیمنی علی الیسریٰ)
2: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : لَاَ نْظُرَنَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَیْفَ یُصَلِّیْ؟ قَالَ فَنَظَرْتُ اِلَیْہِ قَامَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی حَاذَتَا اُذُنَیْہِ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلٰی ظَھْرِکَفِّہِ الْیُسْریٰ وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ۔
(صحیح ابن حبان:ص577رقم الحدیث1860،سنن النسائی:ج1ص141،سنن ابی داؤد ج 1ص112 باب تفریع استفتاح الصلوٰۃ)
3: عَنِ ابْنِ عَبَّاس رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّا مَعْشَرَالْاَنْبِیَائِ اُمِرْنَااَنْ نُؤَخِّرَسُحُوْرَنَا وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَاوَاَنْ نُمْسِکَ بِاَیْمَانِنَاعَلٰی شَمَائِلِنَا فِیْ صَلٰوتِنَا۔
( صحیح ابن حبان ص 555.554ذکر الاخبار عما یستحب للمرئ، رقم الحدیث 1770، المعجم الکبیر للطبرانی ج 5ص233 رقم الحدیث 10693)
4: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَضَعَ یَمِیْنَہٗ عَلَی شِمَالِہٖ فِی الصَّلٰوۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج3 ص321،322، وضع الیمین علی الشمال،رقم الحدیث 3959 )
دلائل اہل السنۃ و الجماعت:
قرآن مع التفسیر :
روی الامام الحافظ المحدث ابو بکر الاثرم المتوفی273ھقال حدثنا ابو الولید الطیالسی قال حدثنا حماد بن سلمۃ عن عاصم الجحدری عن عقبۃ بن صبھان سمع علیا یقول فی قول اللہ عزوجل فصل لربک والنحر قال وضع الیمنیٰ علی الیسریٰ تحت السرۃ ۔
(سنن الاثرم بحوالہ التمھید لابن عبد البر ج:8 ص:164)
توثیق روات :
1: امام ابو بکر الاثرم احمد بن محمد بن ہانی: ثقۃ ، حافظ ، لہ تصانیف ۔(تقریب التھذیب ص:122رقم الترجمہ 103)
2: امام ابو الولید الطیالسی المتوفی 227 ھ نام ھشام بن عبد الملک الباھلی یہ صحاح سۃ کے راوی ہیں ائمہ نے ان کو ثقۃ ، ثبت قرار دیا ہے۔ (تقریب التھذیب ص:603،رقم الترجمہ 7301)
3: حمام بن سلمہ المتوفی 167ھ یہ صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں ائمہ نے ان کو شیخ الاسلام الحافظ صاحب السنۃ وغیرہ قرار دیا ہے ۔ (تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:151،رقم الترجمہ 197)
4: امام عاصم الجحدری المتوفی129ھ ائمہ نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے ۔(الجرح والتعدیل للرازی ج:6ص؛456،رقم الترجمہ 11176)
5: امام عقبہ بن صبھان المتوفی 75ھ او82ھ یہ صحیح بخاری اورصحیح مسلم کے راوی ہیں ۔ائمہ نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
(تقریب التھذیب ص:425رقم الترجمہ 4640)
6: امام سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ صحابی رسول وداماد رسول ہیں ۔
7: امام ابن عبد البر مالکی المتوفی 463یہ مشہور مالکی امام ہیں ائمہ نے ان کو شیخ الاسلام حافظ المغرب قرار دیا ہے (تذکرۃ الحفاظ ج:3ص:217)
تو یہ روایت ثقہ عن ثقہ سے مروی ہے لھذا اصول کی رو سے یہ حدیث بالکل صحیح ہے ۔
احناف کی طرف سے پیش کی گئی چند روایات کی تحقیق درکار ہے
نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا صحیح دلائل سے ثابت ہے اور یہی سنّت عمل ہے۔چند دلائل پیشِ خدمت ہیں۔
حدیث نمبر1:
" حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلاَةِ تَحْتَ السُّرَّةِ "
(مصنف ابن ابی شیبہ ج:1 ص:427 ،رقم الحدیث 6،باب وضع الیمین علی الشمال )
حدیث نمبر 2:
عن علی رضی اللہ عنہ قال ثلاث من اخلاق الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم تعجیل الافطار وتاخیر السحور ووضع الکف علی الکف تحت السرۃ ۔
(مسند زید بن علی ص:204 ،205،باب الافطار )
فائدہ : یہ سند اہل بیت کی سند ہے ۔
حدیث نمبر 3:
" حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ السُّوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مِنْ سُنَّةِ الصَّلاَةِ وَضْعُ الأَيْدِي عَلَى الأَيْدِي تَحْتَ السُّرَرِ"
(مصنف ابن ابی شیبہ ج:1 ص:427رقم الحدیث 13)
یہ موقف ان دلائل سے ثابت ہے:
1: عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍرضی اللہ عنہقَالَ کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ اَنْ یَّضَعَ الرَّجُلُ الْیَدَ الْیُمْنٰی عَلٰی ذِرَاعِہِ الْیُسْریٰ فِی الصَّلٰوۃِ ۔
(صحیح البخاری ج 1ص 102باب وضع الیمنی علی الیسریٰ)
2: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : لَاَ نْظُرَنَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَیْفَ یُصَلِّیْ؟ قَالَ فَنَظَرْتُ اِلَیْہِ قَامَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی حَاذَتَا اُذُنَیْہِ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلٰی ظَھْرِکَفِّہِ الْیُسْریٰ وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ۔
(صحیح ابن حبان:ص577رقم الحدیث1860،سنن النسائی:ج1ص141،سنن ابی داؤد ج 1ص112 باب تفریع استفتاح الصلوٰۃ)
3: عَنِ ابْنِ عَبَّاس رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّا مَعْشَرَالْاَنْبِیَائِ اُمِرْنَااَنْ نُؤَخِّرَسُحُوْرَنَا وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَاوَاَنْ نُمْسِکَ بِاَیْمَانِنَاعَلٰی شَمَائِلِنَا فِیْ صَلٰوتِنَا۔
( صحیح ابن حبان ص 555.554ذکر الاخبار عما یستحب للمرئ، رقم الحدیث 1770، المعجم الکبیر للطبرانی ج 5ص233 رقم الحدیث 10693)
4: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَضَعَ یَمِیْنَہٗ عَلَی شِمَالِہٖ فِی الصَّلٰوۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج3 ص321،322، وضع الیمین علی الشمال،رقم الحدیث 3959 )
دلائل اہل السنۃ و الجماعت:
قرآن مع التفسیر :
روی الامام الحافظ المحدث ابو بکر الاثرم المتوفی273ھقال حدثنا ابو الولید الطیالسی قال حدثنا حماد بن سلمۃ عن عاصم الجحدری عن عقبۃ بن صبھان سمع علیا یقول فی قول اللہ عزوجل فصل لربک والنحر قال وضع الیمنیٰ علی الیسریٰ تحت السرۃ ۔
(سنن الاثرم بحوالہ التمھید لابن عبد البر ج:8 ص:164)
توثیق روات :
1: امام ابو بکر الاثرم احمد بن محمد بن ہانی: ثقۃ ، حافظ ، لہ تصانیف ۔(تقریب التھذیب ص:122رقم الترجمہ 103)
2: امام ابو الولید الطیالسی المتوفی 227 ھ نام ھشام بن عبد الملک الباھلی یہ صحاح سۃ کے راوی ہیں ائمہ نے ان کو ثقۃ ، ثبت قرار دیا ہے۔ (تقریب التھذیب ص:603،رقم الترجمہ 7301)
3: حمام بن سلمہ المتوفی 167ھ یہ صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں ائمہ نے ان کو شیخ الاسلام الحافظ صاحب السنۃ وغیرہ قرار دیا ہے ۔ (تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:151،رقم الترجمہ 197)
4: امام عاصم الجحدری المتوفی129ھ ائمہ نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے ۔(الجرح والتعدیل للرازی ج:6ص؛456،رقم الترجمہ 11176)
5: امام عقبہ بن صبھان المتوفی 75ھ او82ھ یہ صحیح بخاری اورصحیح مسلم کے راوی ہیں ۔ائمہ نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
(تقریب التھذیب ص:425رقم الترجمہ 4640)
6: امام سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ صحابی رسول وداماد رسول ہیں ۔
7: امام ابن عبد البر مالکی المتوفی 463یہ مشہور مالکی امام ہیں ائمہ نے ان کو شیخ الاسلام حافظ المغرب قرار دیا ہے (تذکرۃ الحفاظ ج:3ص:217)
تو یہ روایت ثقہ عن ثقہ سے مروی ہے لھذا اصول کی رو سے یہ حدیث بالکل صحیح ہے ۔