• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر اصغر علی نے کی "آپریشن سندور" کی حمایت

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر اصغر علی نے کی "آپریشن سندور" کی حمایت

۶ اور ۷ مئی کی درمیانی شب انڈین آرمی نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا جسے "آپریشن سندور" کا نام دیا گیا۔ لیکن یہ کوئی عسکری جھڑپ نہ تھی، نہ کسی فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا، نہ کوئی سرحدی تصادم ہوا، بلکہ میزائل حملے شہری بستیوں، مدارس و مساجد پر ہوئے۔

اس کے نتیجے میں عام پاکستانی شہری مارے گئے جن میں نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مساجد کی دیواریں ملبہ بن گئیں۔

اس موقع پر بی جے پی، آر ایس ایس کی سنگھی حکومت کے ہمنوا مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر اصغر علی نے "آپریشن سندور" کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ

"ملک کی بہادر جانباز مسلح افواج اور چوکس سیکورٹی اداروں نے اس ظلم وعدوان کے مرتکبین اور عالمی و آپسی امن معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جو آپریشن سندور شروع کیا ہے، اس پر پورا ملک متحد ہے، اور اتفاق واتحاد اور قومی یکجہتی کے مظاہرے کا یہی سب سے اہم موقع ومحل ہے۔ لہذا ہم فوج کے ساتھ پوری مضبوطی اور یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔"

IMG_20250510_160428_244.jpg

382-2973-1362-3424.png

یہ شخص مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا امیر ہے اور خود کو سلفی کہتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک بےشرم، منافق، اور مودی حکومت کے ٹکڑوں پر پلنے والا ایجنٹ ہے۔

یعنی جب مسجد پر بم گرا، جب بچوں کو قتل کیا گیا، جب ان پاکستانی شہریوں پر حملہ ہوا، تب اصغر علی بھارت کی فوج کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ فوج جو کشمیری مسلمانوں کی قاتل اور ہندؤں کے ایجنڈے کی محافظ ہے۔ کیا کوئی ایمان والا ایسی فوج کا حامی ہو سکتا ہے؟ نہیں! صرف طاغوت کا غلام، دین کا دلال، اور نفاق کا سردار ہی ایسا کر سکتا ہے۔

اصغر علی سنگھی کی دعوت ہمیشہ سے وطن پرستی، بی جے پی حکومت کی اطاعت، گنگا جمنی تہذیب کی پیروی اور طاغوتی اداروں کی وفاداری سے عبارت ہے۔ یہ اصغر سنگھی وہی منافق ہے کہ جب طاغوتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کو ڈھا کر اُس کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، اُس وقت اصغر علی سنگھی نے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا :

"یہ فیصلہ ہندو اور مسلمان کی نہیں بلکہ پورے بھارتیوں کی جیت ہے"
"ہم اس فیصلے پر سب کو مبارکباد دیتے ہیں"
"یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت پوری دنیا کا باپ ہے"


یہ کلمات محض نفاق نہیں، صریح زندقہ، کفر اور ارتداد ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب امت زخموں سے چور تھی، اور یہ شخص کفار کو مبارکباد دے کر، طاغوت کو باپ بنا کر، اللہ کی مسجد کو ڈھا کر وہاں حرام مندر بنانے والوں کو "فاتح" کہہ رہا تھا۔

اصغر علی کی قیادت میں جمعیت اہل حدیث ہند کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ اسلام دشمن بی جے پی حکومت کے ایجنڈے کی گونج بن چکی ہے جو فوجی کارروائیوں، طاغوتی فیصلوں اور سیکولر آئین کی وکالت کرتی ہے اور نفاذ شریعت، جہاد، اقامت دین، اور طاغوت سے براءت جیسے اصولوں کا مذاق اڑاتی ہے۔ یہ جمعیت اب کوئی دینی ادارہ نہیں بلکہ بھاجپائی، سنگھی حکومتی نیٹ ورک کا ایک پے رول یونٹ ہے۔
 
Last edited:

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
بندۂ ناچیز کی اس پوسٹ پر ابو عثمان الخراسانی حفظہ اللہ نے نہایت بصیرت افروز تبصرہ فرمایا :

"یہ انڈیا کے جمعیت اہل حدیث کی حالت ہے، سب قوم پرستی کے شرک میں لتھڑے ہوئے مـرتدیں بن گئے ہیں، ہندو اور مسلمان کے درمیان تفریق کرنا ان مشرکین کو فرقہ بازی لگتا ہے، مسلمان اور ہندو کو متحد اور یکجہتی کی دعوت دیتے ہیں۔۔۔! حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

ہم دنیا والوں سے کیا گلہ کریں، وطن پرست، قوم پرست، سکیولر وغیرہ مشرکین سے کیا گلہ کریں، ہمیں تو ان داڑھی اور پگڑیوں والوں نے لوٹ لیا، اپنی مسلمان قوم کو نبوی منہج اور صحیح راہ بتانے کے بجائے کفـری شرکی منہج سکھا رہے ہیں اور اسی کی طرف دعوت دے رہے ہیں، اللہ المستعان۔

بہت بہت افسوس کا مقام ہے، رونے کا مقام ہے، ہم مسلمان روزانہ ایسے علم اور سفید لباس میں ملبوس غنڈوں کی وجہ سے لٹے جا رہے ہیں، ہمارے عقائد چوری ہو رہے ہیں، اسلامی تعلیمات میں سر عام تحریف ہو رہی ہے، کسی کو بھی اس پر غم نہیں، کسی کو بھی اس کا پرواہ نہیں، پرواہ اگر ہے تو وہ پاکستانی اور ہندوستانی ہونے کا ہے، حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

ہم مسلمان بہت بیغیرت بن گئے ہیں، اگر بیغیرت نہیں ہوتے تو ان غنڈے ملاؤں نے ایسے سر عام ہمارے اسلام میں تحریف نہیں کرنا تھا، کرنے کی جرأت بھی نہیں کرتے، ہم نے جہاد چھوڑا، دنیا کی محبت اپنے اوپر غالب کیا تو حالت ایسی ہوگئی، بیغیرت بن گئے، اللہ المستعان۔"
 
Top