عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,573
- ری ایکشن اسکور
- 9,998
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں ،جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابتِ وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا درخشاں دور ہے۔جس میں اندرونی طور پر امن و امان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی۔ لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گرد و غبار میں روپوش ہو کر رہ گیا ہے۔ کئی اہل علم اور نامور صاحب قلم حضرات نے سیدنا معاویہ ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے متعلق مستند کتب لکھ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب،اسلام کی خاطر ان کی عظیم قربانیوں کا ذکر کر کے ان کے خلاف کیے جانے والے اعتراضات کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ مسالبُ المثالب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما پر مطاعن کی حقیقت‘‘ مولانا صاحبزادہ برق التوحیدی حفظہ اللہ کے ماہنامہ ’’ التوحید ‘‘ میں قسط وار مضامین کی کتابی صورت ہے اس میں انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر ان کے معاندین و طاعنین کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اور پھیلائے جانے والے شکوک کا جائزہ لیا ہے۔ فاضل مصنف نے ہر اعتراض کے ایک سے زائد جوابات دئیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مولانا برق توحیدی صاحب کی تحقیقی و تصنیفی ، دعوتی و تدریسی اور صحافتی جہود کو قبول فرمائے اور انہیں صحت و عافیت ،ایمان و سلامتی والی لمبی زندگی دے۔آمین (م۔ا)