عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,539
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ (80ھ -150ھ) ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اسلامی فقہ میں امام ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نے بیس برس کی عمر میں تحصیل علم کی ابتدا کی ، امام موصوف کو کبار تابعین سے استفادہ کا اعزاز حاصل ہے امام موصوف رحمہ اللہ کی اسلامی فقہیات میں گراں قدر خدمات ہیں ، آپ اپنے دور میں تقویٰ و پرہیزگاری اور دیانتداری میں بہت معروف تھے اور خلافت عباسیہ میں متعدد عہدوں پر فائز رہے ،آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے، آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بذات خود تو کئی علمی تصنیف نہیں ہے ،تاہم ان کے تلامذہ اور دیگر علمائے احناف نے فقہ و حدیث میں ان کے علوم و معارف کو مدون و مرتب کرنے کی سعی ضرور کی ہے۔جن میں سے ایک مجموعہ شیخ خوارزمی کی ’’جامع المسانید‘‘ ہے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نام پر مرتب کردہ پندرہ مسندوں سے ماخوذ ہے اور اس میں مذکور روایات کی تعداد 1878 ہے۔ زیر نظر کتاب محقق دوراں فضیلۃ الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی مختلف رسائل و جرائد میں مطبوعہ تحریروں کا مجموعہ ہے حافظ شاہد رفیق حفظہ اللہ نے انہیں ’’مسانید امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر تحقیقی نظر‘‘ کے نام سے یکجا کر کے طبع کیا ہے ۔ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے اس میں چند حنفی علماء کی مرتب کردہ پانچ کتب کا علمی جائزہ لیا ہے اور ان کے متون و اسانید پر تحقیقی نظر ڈالی ہے۔ یاد رہے اس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی شخصیت پر کوئی طعن و تنقید کی گئی ہے کیونکہ اس کتاب میں امام صاحب کی ذات زیرِ بحث نہیں بلکہ ان کے نام پر مختلف راویوں اور بعض حنفی علماء کی جمع مسانید کے علمی و فنی مقام پر بحث کی گئی ہے اور علم حدیث میں ان کی حیثیت واضح کی گئی ہے۔ (م۔ا)
ڈاؤن لوڈ لنک