• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلم نوجوانوں کے لیے جدید علوم کی ضرورت و اہمیت

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
مسلم نوجوانوں کے لیے جدید علوم کی ضرورت و اہمیت

محمد آصف احسان​
اسلام دین فطرت ہے جو اپنے واضح احکام وفرامین کی کشش کے باعث قلب ِانسانی میں گھر کرتا ہے، فطرتِ بشری کی تجزیہ کاری اس کے متنوع علوم ومعارف کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی افادیت کی مظہر ہے۔ درحقیقت اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسان کو کائنات کے سربستہ اَسرار معلوم کرنے کی دعوت دیتاہے تاکہ اس کے ماننے والے محض نام کے مسلمان نہ کہلائیں بلکہ وہ اپنے قلب وذہن کی پوری آمادگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، رسول اللہﷺکی رسالت اور اسلام کے جملہ احکام پر ایما ن لانے والے ہوں۔ اس کا بنیادی مقصد حقیقی اور باعمل مسلمان کے نمونے کی تیاری ہے جوکفار کے لئے اسلام کی دعوت کا ذریعہ ثابت ہو۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
علم کی اہمیت سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں۔ زمانہٴ قدیم سے دورِ حاضر تک کا ہر متمدن ومہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے۔ فطرتِ بشری سے مطابقت کی بنا پر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے ابتدائی آثار ہمیں صدرِ اسلام یعنی رسولﷺ کے عہد ِمبارک میں ملتے ہیں۔ چنانچہ غزوئہ بدر (رمضان ۲ھ) کے قیدیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی۔ ان میں سے جو نادار تھے، وہ بلامعاوضہ ہی چھوڑ دیئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے، انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیئے جائیں گے۔ چنانچہ سیدنا زید بن ثابت﷜ نے جو کاتب وحی تھے، اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔ (سیرت النبی از شبلی نعمانی: ۱/۱۹۶)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
یہ معمولی واقعہ ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی اقدسﷺ کی نگاہوں میں تحصیل علم کس قدر ضروری تھا۔ اسلام بجا طور پر جملہ مباح علوم کی اور بالخصوص سائنس کی افادیت کو نہ صرف تسلیم کرتاہے بلکہ دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے اس کی ترویج کو مقتضاے شریعت کی تکمیل تصور کرتا ہے۔ جو مذاہب انسان کو دنیا سے فرار کا درس دیتے ہیں، اسلام ان کے برعکس سائنس اور دیگر جائز علوم کو نظامِ قدرت میں مداخلت قرار نہیں دیتا بلکہ ایک سچے اور کھرے مسلمان کے ساتھ ساتھ دنیا میں مروّجہ علوم کا ماہربھی اسے درکار ہے جو اسلام کے پیغا مِ حق کو جدید ذرائع کی وساطت سے غیر مسلمانوں تک پہنچاسکے۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اسلام کی اس حقیقت پسندانہ سوچ کے باوجود عصر حاضر کا یہ عظیم المیہ ہے کہ مسلمانوں کا جس قدر علمی عروج اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر کئی صدیوں تک قائم رہا، اسی قدر وہ آج انحطاط وتنزل کا شکار ہیں۔ صرف علم میں فقدان کے باعث ہم کئی اور شعبوں میں بھی مغرب کے غلام بن چکے ہیں۔ معیشت ، معاشرت، ثقافت وسیاست اور دیگر کئی معاملات میں ہم اَغیار کے محتاج ہیں۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے جس کا بدقسمتی سے ہمیں سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ مسلمان جس کی تخلیق دنیا کی راہنمائی کے لئے کی گئی تھی آج خود نشانِ منزل کھو چکا ہے اور سرابِ سفر کو مقصودِ حقیقی سمجھ کر اس پر قانع وشاکر ہے۔ اسی لئے ذلت ومسکنت کے گہرے بادل شش جہت سے ہمیں اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شاندار ماضی اور عبرتناک حال کو دیکھ کر مستقبل کو درخشان کرنے کی بہترمنصوبہ بندی کریں۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
جدید سائنسی ارتقا میں مسلمانوں کا حصہ
اس دور میں جب پورا یورپ جہالت کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا، مدارسِ اسلامیہ بالخصوص غرناطہ، طلیطلہ اور بغداد میں علم کی قندیلیں روشن تھیں۔ یورپ کے بیشتر جویانِ علم مسلمان اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرکے اپنی علمی تشنگی دور کرتے تھے۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ یورپ کی موجودہ تہذیب وترقی مسلمانوں کے سائنسی ارتقا کی رہین منت ہے۔ اسلامی علوم وفنون نے کچھ تو ہنگری اور بلقانی ریاستوں کے ذریعے اور زیادہ تر اندلس وصقلیہ (سپین اور سسلی) کے رستے یورپ میں نفوذ کیا۔ خلافت ِاندلس میں پوری علمی آزادی تھی۔ طلیطلہ اور قرطبہ کے مضافات میں بے شمار خانقاہیں تھیں جو مسافروں کے لئے اقامت گاہوں کا کام دیتی تھیں۔ یورپ کے تمام ممالک سے طالبانِ علم عربوں کے علمی مراکز کا رخ کرتے تھے اور وہاں آکر مسلمانوں کی علمی فیاضی سے مستفید ہوتے تھے۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
صقلیہ میں فریڈرک دوم اور اس کے جانشینوں نے مختلف علوم وفنون (فلسفہ، سائنس اور طب) کی کتابیں لاطینی میں بکثرت ترجمہ کروائیں۔ یورپ میں اندلس کے اسلامی علوم وفنون کی اشاعت بھی فریڈرک کے واسطے سے اٹلی (اطالیہ) اور سسلی (صقلیہ) کی راہ سے ہوئی اور فلسفہ وطب کے علاوہ دیگر علوم کی کتب بھی لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئیں۔ ان کتابوں کے بیشتر مترجم یہودی علما تھے۔ جنہوں نے یورپ کے ثقافتی ارتقا میں بھر پور حصہ لیا اور اسلامی ثقافت کویورپ کے دوردراز اور نیم مہذب علاقوں تک پہنچایا۔ عربی کتابوں کے عبرانی اور لاطینی تراجم یورپ کے لئے سرچشمہ رحمت ثابت ہوئے۔ فرانسیسی اور جرمن راہبوں نے علوم کی درسی کتب یہودی فضلا سے پڑھیں۔ ولیم آف نارمنڈی کے ساتھ بے شمار یہودی فضلا انگلستان آئے، جہاں آکسفورڈ میں ان کے ہاتھوں پہلا مدرسہ قائم ہوا۔ اسی سکول میں راجر بیکن (Roger Bacon) نے عربی زبان اور دیگر علومِ حکمیہ حاصل کئے۔ کہاجاتا ہے کہ مغرب میں تجربی علوم کا سہرا راجر بیکن کے سر ہے۔ مسیحی یورپ نے مسلمانوں کے علوم راجر بیکن سے سیکھے جس نے خود آکسفورڈ کے علاوہ پیرس میں قیام کرکے مسلمانوں کے علوم سیکھے تھے۔ وہ برملا یہ اعتراف کرتا تھا کہ ”اس کے معاصرین کے لئے ’علم صحیح‘ کا واحد ذریعہ صرف عربی زبان اور اس کے علوم ہیں“۔ اسے اعتراف تھا کہ اس نے ارسطو کا فلسفہ ابن رشد کی تصانیف کے تراجم سے سمجھا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے اردو دائرئہ معارف اسلامیہ، دانش گاہ پنجاب ، لاہور، مقالہ علم: جلد ۱۳ / ۱،۱۴)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
جدید علوم اور عیسائیت کا طرزِ عمل
اسلام کی معارف پروری کے برعکس عیسائیت کا علوم کے ساتھ طرزِ عمل ملاحظہ کیجئے۔ عیسائی راہبوں نے علم کو مذہب سے متصادم قرار دیاہے۔ اس کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ جس شخص کو انہوں نے تحصیل علم اور اس کی تدریس وتعلیم میں منہمک دیکھا، اسے یا تو ختم کردیا، یا مستوجب ِسزا وتعزیر قرار دے دیا۔ مذکورہ سائنسدان راجر بیکن کو جادوگر اور شیطانی علم کا پرچارک قرار دیا گیا اور کلیسا کی جانب سے سنائی گئی سزا کے مطابق اسے ۲۴ سال جیل میں گزارنے پڑے۔ گلیلیو گلیلی (۱۵/ نومبر ۱۵۶۴ء تا ۸/ جنوری ۱۶۴۲ء) اور کوپرنیکس Copernicus (۱۴۷۳ء تا ۱۵۴۳ء) کو بھی اپنے افکار ونظریات کے عیسائیت سے متصادم ہونے کے باعث بے پناہ مصائب وآلام کا سامنا کرنا پڑا۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اسکندریہ یونیورسٹی
سکندرِ اعظم نے ۳۳۴ قبل مسیح میں مصر پر قبضہ کیا اور ۳۳۳ قبل مسیح میں اسکندریہ کی بنیاد رکھی جو یورپ اور ایشیا کی تجارت کا مرکز ہونے کے باعث رفتہ رفتہ تہذیب وثقافت اور فکر ودانش کا مرکز بن گیا۔ اس میں موجود یونیورسٹی قریباً چھ سو سال تک تشنگانِ علم کو سیراب کرتی رہی۔ اس میں موجود کتب کی تعداد چھ لاکھ سے متجاوز تھی۔ اسکندریہ کی یہ عظیم لائبریری جسے انسانی فکر کے ارتقا میں سنگ ِمیل کی حیثیت حاصل تھی، عیسائی مذہب کے سائنس کے خلاف تعصب کی نذر ہوگئی۔ ۳۹۰ء میں پشپ تھیوفیلس کے فتویٰ کی بنا پر اسے نذرِ آتش کردیا گیا۔ ان کتب کی کوکھ سے جن مشہور ومعروف سائنسدانوں نے جنم لیا، ان میں اقلیدس (۳۲۳۔ ۲۸۵ قبل مسیح) ، ارشمیدس (۲۸۷۔۲۱۲ قبل مسیح ) ، جالینوس (۱۲۹۔ ۲۵۹ء) اور بطلیموس (۹۵۔۱۶۸ء) وغیرہ شامل ہیں۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اسی یونیورسٹی سے وابستہ ایک مشہور معلمہ جس کا نام ہائی پیشیا (Hypatia) تھا، عیسائی تعصبات کا شکار ہوگئی۔ وہ فلسفہ ارسطو کی تشریحات میں مہارت رکھتی تھی۔ ایک دن وہ اپنے مدرسہ جا رہی تھی کہ پادریوں اور عیسائی راہبوں نے اسے گھیر لیا اور بیچ بازار میں کپڑے پھاڑ کر اسے بالکل برہنہ کردیا پھر گھسیٹتے ہوئے ایک گرجا میں لے گئے اور وہاں مقدس عصاے پطرس کی متواتر ضربات سے اس کا سرپاش پاش کرڈالا۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
مسلمانوں میں علوم کا فروغ
مسلمان سائنسدانوں نے علم کائنات ، علم حشرات الارض وحیوانات، علم نباتات، علم جہاز رانی، جغرافیہ وحساب، علم طب یعنی علم الابدان، علم ریاضی، علم کیمیا ، علم طبیعات، علم فلکیات، علم توانائی اور علم تعمیرات وغیرہ سے دنیا کو روشناس کرایا۔ جن عظیم مسلمان سائنسدانوں نے اس سلسلے میں کارہاے نمایاں سر انجام دیئے ان میں جابر بن حیان (۷۲۲۔ ۸۱۷ء) عبدالملک اصمعی (۷۹۰۔ ۸۳۱ء) ، محمد بن موسیٰ الخوارزمی (۷۸۰۔۸۵۰ء)، یعقوب بن اسحق الکندی اور الجاحظ (متوفی ۸۶۹ء ) وغیرہ شامل ہیں۔
مذکورہ بالامسلمان سائنسدانوں کے جملہ علمی کارناموں کی مکمل تفصیل ایک ضخیم کتاب کی متقاضی ہے تاہم اِجمال وایجاز کے پیش نظر کچھ تفصیل حسب ِذیل ہے
 
Top