• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسند الشہاب للقضاعی کی جامع روایتی و درایتی تخریج اور تنقیدی تحقیق سے ایک حدیث

شمولیت
اگست 13، 2011
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
172
پوائنٹ
82
حدیث نمبر ۵۵
باب
الشبابُ شُعبةٌ من الجُنون

صحابی راوی
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک طویل خطبہ

متنِ حدیث
قضاعی نے ایک طویل خطبے کے ضمن میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

«الشبابُ شُعبةٌ من الجُنون، والنساءُ حبائلُ الشيطان، والخمرُ مِجماعُ الإثم، والنياحةُ من عملِ الجاهلية، والسعيدُ من وُعظ بغيره، والشقيُّ من شقي في بطن أمه».
تخریج
قضاعی کی سند عبد اللہ بن نافع صائغ، عبد اللہ بن مصعب بن زید بن خالد جہنی، ان کے والد اور دادا کے واسطے سے ہے۔ راوی کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ طویل خطبہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے۔

اس طویل خطبے کے بعض اجزاء یا ان سے ملتے جلتے الفاظ متفرق کتب میں ملتے ہیں، مگر مکمل متن اپنی اس ہیئت میں معتبر حدیثی ماخذ سے ثابت نہیں۔ دارقطنی نے خطبے کے ایک طریق کو روایت کیا ہے، اور بعض فقروں کے لیے الگ الگ، ضعیف یا مختلف طرق موجود ہیں۔

سندِ قضاعی کا تجزیہ
اس طویل روایت کی بنیادی سند میں عبد اللہ بن مصعب بن زید بن خالد اور ان کے والد کا حال معروف و مضبوط نہیں۔ ائمۂ رجال نے ان کے ضبط اور حدیثی مقام کو ایسا ثابت نہیں کیا کہ اس طویل اور منفرد خطبے کا بوجھ ان پر رکھا جا سکے۔ اسی وجہ سے سند ضعفِ شدید کا شکار ہے۔

متابعات و شواہد
اس خطبے کا پورا متن کسی صحیح یا حسن سند سے نہیں ملتا۔ اس کے بعض فقروں کا مستقل حکم مختلف ہے:

  • «الشقي من شقي في بطن أمه» کا معنی صحیح حدیث سے ثابت ہے، مگر اس طویل خطبے کے ساتھ اس کا اتصال ثابت نہیں۔
  • «النياحة من عمل الجاهلية» کا معنی صحیح نصوص سے مؤید ہے۔
  • «الشباب شعبة من الجنون»، «النساء حبائل الشيطان» اور «الخمر مجماع الإثم» کے اس مخصوص سیاق و ترکیب کے لیے کوئی صحیح سند ثابت نہیں۔
لہٰذا صحیح یا ثابت اجزاء کو اس غیر ثابت مجموعی خطبے کے لیے دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

اقوالِ ائمہ
اس روایت کے بعض راویوں کو مجہول قرار دیا گیا ہے۔ متاخر مخرجین نے بھی واضح کیا ہے کہ خطبے کے متعدد فقرے ایک ہی معتبر سند سے ثابت نہیں، بلکہ بعض الگ الگ کمزور طرق یا غیر ثابت روایات سے جمع ہوئے ہیں۔

درایتی و عللی بحث
یہ متن متعدد وعظی فقروں کا مجموعہ ہے، اور اس کی طوالت، منفرد سند، مجہول راویوں اور مختلف ابواب کے کلمات کا ایک خطبے میں جمع ہونا نکارت کا قرینہ ہے۔ بالخصوص عورتوں کو مطلقاً «حبائل الشيطان» کہنا نبوی منہجِ عدل و تکریم کے ثابت نصوص کے خلاف تاثر پیدا کرتا ہے؛ اس لیے اسے سندی ضعف کے ساتھ متن کے غیر محفوظ ہونے کی تائید بھی حاصل ہے۔

حکمِ حدیث
ضعیف جداً

وجہِ حکم
طویل خطبے کی سند میں مجہول یا غیر ثابت الحال راوی ہیں، اور پورا متن کسی دوسرے معتبر طریق سے ثابت نہیں۔ بعض فقروں کی مستقل صحت یا درستی اس مجموعی، مرفوع اور طویل روایت کو تقویت نہیں دیتی۔

تربیتی فائدہ
واعظانہ اقوال کو حدیث کہہ کر نقل کرنے سے پہلے ان کی سند کا اعتبار ضروری ہے۔ نوجوانی کی جذباتی کیفیت، شراب کی قباحت، نوحہ کی ممانعت اور دوسروں کے انجام سے عبرت کا درس صحیح شرعی دلائل سے بیان کیا جا سکتا ہے؛ لیکن اس پورے خطبے کو نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔
 
Top