• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسکین ؟ مسکین ؟

اعتصام

مشہور رکن
شمولیت
فروری 09، 2012
پیغامات
483
ری ایکشن اسکور
725
پوائنٹ
130
زبردست۔۔۔۔

بهت لرزانے والي عبارت هے۔۔۔۔۔

عربی سيکهنا واجب کفايی هے پر انگلش واجب کفايي بهي نهيي هے۔۔۔۔۔

مين کہونگا که عربی، کلام رب الناس کو سمجهنے کے ليے ہے تو انگلش کلام دشمنان ربّ کو سمجهنے اور اسکو رد کرنے کے ليے ضروری هے۔۔۔

دکھ يہ ضرور ہوتا هے که اسلام کسی بهی حکمت سے خالی نهيں پر همارے پاس سوائے حرص اور چاپلوسی(امريکه اسرائيل) کے کوئی حکمت نهيں!!!
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
ایک معروف دانشور جوکہ ہمارے ملک کےمشہور ترین مقام سے گفتگو کر رہا تھا ۔ اور ان کی گفتگو بعض طبقوں میں بڑے شوق اور علمی معلومات کے حصول کے لیے سنی جاتی ہے ۔
اس نے دوران گفتگو کسی صحابیہ کا نام لیا او ر الفاظ ترضی یوں کہے
رضی اللہ عنہ
کچھ دن بعد اس نے معذرت کی اور کہا کہ مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک صحابیہ کے بارے یہ غلطی ہوگئی ہے ۔ اور یہ غلطی اس سے اس کے بقول پہلے بھی ہوچکی ہے ۔
اور پھر کہنے لگا کہ جو خواتین صحابی یا صحابیات ہوتی ہیں ان کے لیے رضی اللہ عنہا بولا جاتا ہے ۔
جس شخص کو ادنی سا بھی عربی سے لگاؤ ہےوہ جانتا ہے کہ اس طرح کی غلطیاں کسی بچے سے ہوں تو ہوں ایک ایسے شخص سے ان کا صدور جو اتنی اتنی بڑی سندیں سجائے ہوئے بیٹھا ہے اس کی علمیت کے لیے عیب ہے ۔
یہاں سے یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک اسلامی ملک کے باشندے غیروں سے کتنا مرعوب و متأثر ہیں اور اپنے دینی اور تہذیبی ورثے سے ان کا تعلق کتنا ہے ۔ اللہ المستعان ۔

اور یہی لوگ جب انگریزی بولتے ہیں ( اور اکثر یہی بولتے ہیں ) تو ایسی احتیاط اور دقت کے ساتھ بول رہےہوتے ہیں کہ تاکہ لوگ یہ نہ کہہ دیں یہ بھی کوئی آدمی ہے اس کو تو انگریزی ہی نہیں بولنی آتی ہے ۔ حالانکہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اس کی قومی زبان اردو ہے دینی زبان عربی ہے ۔ پتہ نہیں انگریزی تکلم کی کیا ضرورت ہے ؟

گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی ۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,356
پوائنٹ
800
بعض علماء سورۃ العصر کے حوالہ سے کہتے ہیں کہ عمومی حالت میں جنت میں جانے (اُخروی خسارے سے بچنے) کے چار شرائط میں سے تیسری شرط وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ ہے۔ کیا اس آیت کی رو سے تبلیغ دین، فرض عین نہیں ہے؟ یہ سوال وضاحت کی غرض سے کیا جا رہا ہے، (خدا نخواستہ) اعتراض کی غرض سے نہیں۔
﴿ وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ‌ وَيَأْمُرُ‌ونَ بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ١٠٤ ﴾ ۔۔۔ سورة آل عمران
کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں (104)

﴿ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُ‌وا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ‌ مِن كُلِّ فِرْ‌قَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُ‌وا قَوْمَهُمْ إِذَا رَ‌جَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُ‌ونَ ١٢٢ ﴾ ۔۔۔ سورة التوبة
کہ اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہئے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وه دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وه ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وه ڈر جائیں (122)
 
Top