• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
فيه عن أبي سفيان
اس باب میں ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔


‏‏ وقال عوف بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثم تكون هدنة بينكم وبين بني الأصفر ‏"‏‏.‏ وفيه سهل بن حنيف وأسماء والمسور عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ ایک دن آئے گا کہ پھر تمہاری رومیوں سے صلح ہو جائے گی۔ اس باب میں سہل بن حنیف اسماء اور مسور رضی اللہ عنہم کی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات ہیں۔


حدیث نمبر: 2700
وقال موسى بن مسعود حدثنا سفيان بن سعيد،‏‏‏‏ عن أبي إسحاق،‏‏‏‏ عن البراء بن عازب ـ رضى الله عنهما ـ قال صالح النبي صلى الله عليه وسلم المشركين يوم الحديبية على ثلاثة أشياء على أن من أتاه من المشركين رده إليهم،‏‏‏‏ ومن أتاهم من المسلمين لم يردوه،‏‏‏‏ وعلى أن يدخلها من قابل ويقيم بها ثلاثة أيام،‏‏‏‏ ولا يدخلها إلا بجلبان السلاح السيف والقوس ونحوه‏.‏ فجاء أبو جندل يحجل في قيوده فرده إليهم‏.‏ قال لم يذكر مؤمل عن سفيان أبا جندل وقال إلا بجلب السلاح‏.‏

موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ مشرکین کے ساتھ تین شرائط پر کی تھی، (1) یہ کہ مشرکین میں سے اگر کوئی آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جائے تو آپ اسے واپس کر دیں گے۔ لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی مشرکین کے یہاں پناہ لے گا تو یہ لوگ ایسے شخص کو واپس نہیں کریں گے۔ (2) یہ کہ آپ آئندہ سال مکہ آ سکیں گے اور صرف تین دن ٹھہریں گے۔ (3) یہ کہ ہتھیار، تلوار، تیر وغیرہ نیام اور ترکش میں ڈال کر ہی مکہ میں داخل ہوں گے۔ چنانچہ ابوجندل رضی اللہ عنہ (جو مسلمان ہو گئے تھے اور قریش نے ان کو قید کر رکھا تھا) بیڑیوں کو گھسیٹتے ہوئے آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (شرائط معاہدہ کے مطابق) مشرکوں کو واپس کر دیا۔ امام بخاری نے کہا کہ مؤمل نے سفیان سے ابوجندل کا ذکر نہیں کیا ہے اور الابجلبان السلاح کے بجائے الا بجلب السلاح کے الفاظ نقل کیے ہیں۔


حدیث نمبر: 2701
حدثنا محمد بن رافع،‏‏‏‏ حدثنا سريج بن النعمان،‏‏‏‏ حدثنا فليح،‏‏‏‏ عن نافع،‏‏‏‏ عن ابن عمر،‏‏‏‏ رضى الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج معتمرا،‏‏‏‏ فحال كفار قريش بينه وبين البيت،‏‏‏‏ فنحر هديه،‏‏‏‏ وحلق رأسه بالحديبية،‏‏‏‏ وقاضاهم على أن يعتمر العام المقبل،‏‏‏‏ ولا يحمل سلاحا عليهم إلا سيوفا،‏‏‏‏ ولا يقيم بها إلا ما أحبوا،‏‏‏‏ فاعتمر من العام المقبل فدخلها كما كان صالحهم،‏‏‏‏ فلما أقام بها ثلاثا أمروه أن يخرج فخرج‏.‏

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن نعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے، تو کفار قریش نے آپ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا۔ اس لیے آپ نے قربانی کا جانور حدیبیہ میں ذبح کر دیا اور سر بھی وہیں منڈوا لیا اور کفار مکہ سے آپ نے اس شرط پر صلح کی تھی کہ آپ آئندہ سال عمرہ کر سکیں گے۔ تلواروں کے سوا اور کوئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں گے۔ (اور وہ بھی نیام میں ہوں گی) اور قریش جتنے دن چاہیں گے اس سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہر سکیں گے۔ (یعنی تین دن) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا اور شرائط کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، پھر جب تین دن گزر چکے تو قریش نے مکے سے چلے جانے کے لیے کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس چلے آئے۔


حدیث نمبر: 2702
حدثنا مسدد،‏‏‏‏ حدثنا بشر،‏‏‏‏ حدثنا يحيى،‏‏‏‏ عن بشير بن يسار،‏‏‏‏ عن سهل بن أبي حثمة،‏‏‏‏ قال انطلق عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود بن زيد إلى خيبر،‏‏‏‏ وهى يومئذ صلح‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ان دنوں صلح تھی۔


کتاب الصلح صحیح بخاری
 
Top