• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرک کے لئے دعا، سابقہ امت کی عبادات، حجاب، مشورہ اور استخارہ سے متعلق سوالوں کے جواب

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,331
ری ایکشن اسکور
419
پوائنٹ
209
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرے کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات قرآن وحدیث کی روشنی میں چاہئے۔

(۱) ہم جانتے ہیں کہ مشرک کی موت کے بعد اس کی ہدایت اور مغفرت کے لئے دعا نہیں کرسکتے ہیں تو کیا اس کی زندگی میں کرسکتے ہیں ؟

(۲) کیا نماز، روزہ اور زکوۃ شروع سے چلی آرہی ہے یعنی ساری امتوں پر فرض تھی؟

(۳) کسی مجبوری کی وجہ سے عورت پردہ نہ کرے تو کیا گناہ ملے گا جیسے بطور دلہن تصویر لی گئی ، کسی کو منع نہیں کیا جاسکتا تھا جبکہ میں پردہ بھی کرتی ہوں اور اسی طرح تصویر کے علاوہ کوئی مجبوری ہوتب بھی گناہ ملے گا؟

(۴) دینی یا دنیاوی معاملات میں ہمیں کس سے مشورہ لینا چاہئے جو ہمیں صحیح طرح سے گائیڈ کرسکے والدین کے علاوہ ؟

(۵) استخارہ ایک دفعہ کرنا کافی ہے یا اس وقت تک کرنا ہے جب تک دل مطمئن نہ ہوجائے؟

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جواب(۱): ہدایت اور مغفرت کی دعا میں فرق ہے ۔ مشرک کی زندگی میں ہدایت کی دعا کرسکتے ہیں جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل اور حضرت عمر کے لئے ہدایت کی دعا فرمائی لیکن مشرک کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد اس کی مغفرت کے لئے دعا نہیں کرسکتے ہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (التوبة:113)
ترجمہ: نبی اور اہل ایمان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں جب کہ ان پر واضح ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔

جواب(۲): ہاں ، سابقہ امتوں میں بھی نماز، روزہ اور زکوۃ جیسی عبادات موجود تھیں جیساکہ اللہ تعالی نے انبیاء کے حوالے سے قرآن میں تذکرہ کیا ہے ۔
اسماعیل علیہ السلام کے متعلق اللہ کا فرمان ہے:وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا{مريم:31}
ترجمہ:اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے جہاں بھی میں ہوں ، اور اس نے مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں ۔
ابراہیم علیہ السلام کے متعلق اللہ کا فرمان ہے:رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء{إبراهيم:40}
ترجمہ:اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد سے بھی ، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما ۔
شعیب علیہ السلام کے متعلق اللہ کا فرمان ہے:قَالُواْ يَا شُعَيْبُ أَصَلاَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاء إِنَّكَ لَأَنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ{هود:87}
ترجمہ:انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! کیا تیری صلاۃ تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں تو تو بڑا ہی با وقار اور نیک چلن آدمی ہے ۔

جواب(۳): جیساکہ آپ نے لکھا کہ آپ پردہ بھی کرتی ہیں مگر کبھی کسی مجبوری کی وجہ سے بے پردہ ہونا پڑتا ہے یعنی چہرہ کھولنا پڑتا ہےتو کیا اس کا گناہ ملے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے متعلق یہ اچھی بات ہے کہ آپ پردہ بھی کرتی ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ آپ ہمیشہ بے پردہ رہتی ہیں تاہم کبھی کبھی مجبوری کے تحت چہرہ کھولنا پڑتا ہے ۔ اس کے لئے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنی استطاعت کے مطابق مکمل حجاب کا اہتمام کریں اور اجنبی مردوں سے اپنے چہروں سمیت جسم کی مکمل زینت کو چھپائیں۔ عورت کے حق میں اصل یہ ہے کہ وہ فحش کاری سے بچے، اپنی عفت و عصمت اور شرمگاہ کی حفاظت کرے اور حیا کا پرتو بنے۔ یہ خوبی عورت میں ہے تو وہ قابل مبارکباد ہے۔ آپ صرف اس وجہ سے پریشان ہیں کہ کبھی کبھار چہرہ کھولنا پڑتا ہے تاہم جسم کے باقی حصے مکمل حجاب میں ہوتے ہیں۔ آپ سے عرض ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں ، اگر کبھی ضرورت یا مجبوری کے تحت چہرہ کھولنا پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے بس آپ کی نیت اورکوشش ہو کہ ہمیں طاقت بھر اسلامی حجاب کرنا ہے۔ ان شاء اللہ ، آپ کی غیبی مدد ہوگی اور اللہ ہر شر سے محفوظ رکھے گا۔

جواب(۴): اللہ تعالی نے ایک طرف یہ ہمیں یہ حکم دیا کہ اپنے معاملات میں مشورہ کرلیا کرو تو دوسری طرف حکم فرمایا کہ جو بات تمہیں نہیں معلوم ہو وہ علم والوں سے پوچھ لیا کرو۔
اللہ کے فرامین کے مطابق ایک طرف ہمیں مشورہ کا اہتمام کرنا چاہئے تو دوسری طرف ہمیں ان باتوں میں جو نہیں جانتے اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن سے ہم مشورہ طلب کریں وہ کس قسم کے علم والے ہوں جیساکہ آپ کا سوال ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جس قسم کے معاملات ہوں اس میدان میں مہارت رکھنے والے خیرخواہ سے مشورہ طلب کیا جائے مثلا گھریلو معاملہ ہو تو گھر والوں سے پوچھا جائے، طب کا مسئلہ ہو تو اطباء سے پوچھا جائے، تجارت کا معاملہ ہو تو تاجر سے پوچھا جائے اور خالص دین کا معاملہ ہو تو جو قرآن اور حدیث کا علم رکھنے والا معتبر عالم ہو ان کی طرف رجوع کیا جائے ۔
ترمذی، ابوداود، ابن ماجہ اور مسند احمد میں صحیح سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: المستشارُ مؤتمنٌ(صحيح الترمذي:2822) یعنی مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے۔ بایں سبب جس سے مشورہ طلب کریں وہ مطلوبہ معاملہ کا خبیرہو ، ساتھ ہی وہ خیرخواہ بھی ہو تاکہ امانتداری سے مشورہ دے سکے اور بعد میں راز کی حفاظت بھی کرسکے۔

جواب(۵): استخارہ کی نماز ایک مرتبہ پڑھنا کافی ہے لیکن اگر کسی کا دل ایک مرتبہ نماز پڑھنے کے بعد مطمئن نہ ہو تو وہ دوسری بار، تیسری بار یعنی اطمینان قلب کے لئے ایک سے زائد بار استخارہ کرسکتا ہےاس کی تعداد متعین نہیں ہے۔ استخارہ کے ساتھ ثقہ اور اہل خیر سے اپنے معاملات میں مشورہ بھی لیا جائے خصوصا جب استخارہ کرکے بھی اطمینان نہ ہو ۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی / شعبہ جالیات طائف- سعودی عرب
 
شمولیت
اپریل 10، 2021
پیغامات
42
ری ایکشن اسکور
9
پوائنٹ
16
جواب(۳): جیساکہ آپ نے لکھا کہ آپ پردہ بھی کرتی ہیں مگر کبھی کسی مجبوری کی وجہ سے بے پردہ ہونا پڑتا ہے یعنی چہرہ کھولنا پڑتا ہےتو کیا اس کا گناہ ملے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے متعلق یہ اچھی بات ہے کہ آپ پردہ بھی کرتی ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ آپ ہمیشہ بے پردہ رہتی ہیں تاہم کبھی کبھی مجبوری کے تحت چہرہ کھولنا پڑتا ہے ۔ اس کے لئے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنی استطاعت کے مطابق مکمل حجاب کا اہتمام کریں اور اجنبی مردوں سے اپنے چہروں سمیت جسم کی مکمل زینت کو چھپائیں۔ عورت کے حق میں اصل یہ ہے کہ وہ فحش کاری سے بچے، اپنی عفت و عصمت اور شرمگاہ کی حفاظت کرے اور حیا کا پرتو بنے۔ یہ خوبی عورت میں ہے تو وہ قابل مبارکباد ہے۔ آپ صرف اس وجہ سے پریشان ہیں کہ کبھی کبھار چہرہ کھولنا پڑتا ہے تاہم جسم کے باقی حصے مکمل حجاب میں ہوتے ہیں۔ آپ سے عرض ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں ، اگر کبھی ضرورت یا مجبوری کے تحت چہرہ کھولنا پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے بس آپ کی نیت اورکوشش ہو کہ ہمیں طاقت بھر اسلامی حجاب کرنا ہے۔ ان شاء اللہ ، آپ کی غیبی مدد ہوگی اور اللہ ہر شر سے محفوظ رکھے گا۔
شرعی غذر یا دنیاو ی مجبوری؟
کیا دلہن کا پردہ نہ کرنا شرعی غذر کیسےبن گیا؟جبکہ نکاح پردئے میں رہ کربھی ہوسکتا ہے۔اس میں غیرمحرم سے تصویرکھچوانا غذر میں کیسے شمار ہوگیا؟
 
Top