اُمِ حیا
مبتدی
- شمولیت
- جون 14، 2025
- پیغامات
- 9
- ری ایکشن اسکور
- 2
- پوائنٹ
- 2
سلسلہ وار تربیتی احادیث
موضوع: مصائب و تکالیف پر صبر اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا
از: ام حیا
قسط نمبر: 1 / 40
زندگی کے دکھ ، درد اور آزمائشیں… مگر ایمان افروز راہنمائی!
تمہید:
اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے ہمیں دکھ اور مصائب میں صبر ، رضا اور اجر کی وہ روشن راہیں دکھائیں ، جو ہمیں حوصلہ بھی دیتی ہیں اور اللہ کے قریب بھی کرتی ہیں۔
اس سلسلے میں ہم پیش کر رہے ہیں چالیس (40) صحیح احادیث ، جو آزمائشوں میں امید ، تسلی اور قربِ الٰہی کا دروازہ کھولتی ہیں۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى:
وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(الأنبياء: 83)
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"اور یاد کرو ایوب کو، جب اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ: مجھے تکلیف پہنچ چکی ہے، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔"
حدیث نمبر 1
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"طاقتور مومن ، کمزور مومن کی نسبت اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ محبوب ہے ، اگرچہ بھلائی دونوں میں ہے۔
تم اس چیز میں رغبت کرو جو تمہیں فائدہ دے ، اور اللہ سے مدد مانگو ، کمزور مت بنو۔
اگر کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش! میں یوں کرتا تو ایسا ہو جاتا۔
بلکہ یوں کہو: یہ اللہ کی تقدیر ہے ، وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
کیونکہ "کاش" کہنا شیطان کے لیے (وسوسے کا) دروازہ کھول دیتا ہے۔"
(صحیح مسلم ، کتاب القدر ، حدیث: 6774)
فوائد و نکات:
❶ طاقتور مومن اپنی ذہنی و جسمانی توانائی کو نیکی ، خیر اور برائی سے روکنے میں استعمال کرتا ہے ، جبکہ کمزور مومن یہ سب کچھ نہیں کر پاتا ، اسی لیے طاقتور مومن افضل ہے۔
❷ ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے جائز کوشش کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
❸ ان قوتوں کا غلط استعمال ، جیسے ظلم یا زیادتی ، اللہ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے ، اور ایسے انسان کی فضیلت ختم ہو جاتی ہے۔
❹ مومن اگر دنیا کے فوائد بھی حاصل کرے ، تو وہ انہیں نیکی اور دین کی خدمت کے لیے استعمال کرتا ہے ، جو باعثِ اجر ہے۔
❺ کامیابی کے لیے پوری کوشش لازم ہے ، مگر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔
اگر کامیابی ملے تو شکر ، اور اگر نہ ملے تو یقین رکھو کہ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔
❻ ناکامی پر افسوس اور مایوسی میں گِھرنے کی بجائے اپنی غلطی کو پہچان کر آئندہ بہتری کی کوشش کرنی چاہیے۔
❼ شیطان انسان کی ناکامی کو بڑا بنا کر پیش کرتا ہے ، تاکہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائے یا شکوہ کرنے لگے ، یہ سب آخرت کو برباد کر دینے والے رویے ہیں۔
❽ بعض اوقات انسان اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے ، جس سے حسد ، بغض اور انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے۔
(ماخوذ از: سنن ابن ماجہ، شرح از مولانا عطا اللہ ساجد، حدیث: 4168)
ایمان افروز پیغام:
زندگی میں کبھی بھی ناکامی کو اپنے رب سے دُوری کا سبب نہ بننے دو۔
ہر حال میں اللہ پر بھروسا رکھو ، کیونکہ بعض دروازے صرف صبر اور یقین سے کھلتے ہیں… کاش سے نہیں!
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
موضوع: مصائب و تکالیف پر صبر اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا
از: ام حیا
قسط نمبر: 1 / 40
زندگی کے دکھ ، درد اور آزمائشیں… مگر ایمان افروز راہنمائی!
اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے ہمیں دکھ اور مصائب میں صبر ، رضا اور اجر کی وہ روشن راہیں دکھائیں ، جو ہمیں حوصلہ بھی دیتی ہیں اور اللہ کے قریب بھی کرتی ہیں۔
اس سلسلے میں ہم پیش کر رہے ہیں چالیس (40) صحیح احادیث ، جو آزمائشوں میں امید ، تسلی اور قربِ الٰہی کا دروازہ کھولتی ہیں۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى:
وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(الأنبياء: 83)
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"اور یاد کرو ایوب کو، جب اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ: مجھے تکلیف پہنچ چکی ہے، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔"
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"طاقتور مومن ، کمزور مومن کی نسبت اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ محبوب ہے ، اگرچہ بھلائی دونوں میں ہے۔
تم اس چیز میں رغبت کرو جو تمہیں فائدہ دے ، اور اللہ سے مدد مانگو ، کمزور مت بنو۔
اگر کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش! میں یوں کرتا تو ایسا ہو جاتا۔
بلکہ یوں کہو: یہ اللہ کی تقدیر ہے ، وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
کیونکہ "کاش" کہنا شیطان کے لیے (وسوسے کا) دروازہ کھول دیتا ہے۔"
(صحیح مسلم ، کتاب القدر ، حدیث: 6774)
❶ طاقتور مومن اپنی ذہنی و جسمانی توانائی کو نیکی ، خیر اور برائی سے روکنے میں استعمال کرتا ہے ، جبکہ کمزور مومن یہ سب کچھ نہیں کر پاتا ، اسی لیے طاقتور مومن افضل ہے۔
❷ ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے جائز کوشش کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
❸ ان قوتوں کا غلط استعمال ، جیسے ظلم یا زیادتی ، اللہ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے ، اور ایسے انسان کی فضیلت ختم ہو جاتی ہے۔
❹ مومن اگر دنیا کے فوائد بھی حاصل کرے ، تو وہ انہیں نیکی اور دین کی خدمت کے لیے استعمال کرتا ہے ، جو باعثِ اجر ہے۔
❺ کامیابی کے لیے پوری کوشش لازم ہے ، مگر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔
اگر کامیابی ملے تو شکر ، اور اگر نہ ملے تو یقین رکھو کہ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔
❻ ناکامی پر افسوس اور مایوسی میں گِھرنے کی بجائے اپنی غلطی کو پہچان کر آئندہ بہتری کی کوشش کرنی چاہیے۔
❼ شیطان انسان کی ناکامی کو بڑا بنا کر پیش کرتا ہے ، تاکہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائے یا شکوہ کرنے لگے ، یہ سب آخرت کو برباد کر دینے والے رویے ہیں۔
❽ بعض اوقات انسان اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے ، جس سے حسد ، بغض اور انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے۔
(ماخوذ از: سنن ابن ماجہ، شرح از مولانا عطا اللہ ساجد، حدیث: 4168)
زندگی میں کبھی بھی ناکامی کو اپنے رب سے دُوری کا سبب نہ بننے دو۔
ہر حال میں اللہ پر بھروسا رکھو ، کیونکہ بعض دروازے صرف صبر اور یقین سے کھلتے ہیں… کاش سے نہیں!
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ