• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
74
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
56


بسم اللہ الرحمن الرحیم



مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام



1۔صلاۃ وسلام کا معنی ومفہوم 2۔ درود وسلام کے فضائل ومناقب 3۔آپﷺ پر سب سے زیادہ درود وسلام کون سی جماعت پڑھتی ہے 4۔درود وسلام نہ پڑھنے کے نقصانات 5۔من گھڑت درودوسلام

6۔درود ابراہیمی کا معنی ومفہوم​



ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:

برادران اسلام!

اہل زیغ وضلال نے عوام الناس کو حق سے روکنے اور اہل حق سے دور ومتنفر کرنےاور اپنی بدعت کی دوکان وفیکٹری چلانے اور اپنا دھارمک بیوپار کرنےکے لئےیہ افواہ اوریہ پروپیگنڈہ پھیلادی ہے کہ۔نعوذباللہ۔ثم نعوذ باللہ۔ اہل حدیث لوگ یہ آپﷺ پر درودوسلام نہیں بھیجتے ہیں!اعاذناللہ۔اللہ کی پناہ!اللہ ہدایت دے ان لوگوں کو جو یہ الزام جماعت اہل حدیث پر لگاتے ہیں اوریہ تو جماعت اہل حدیث کے اوپر بہتان عظیم ہے،کائنات کے رب کی قسم!اس روئے زمین پر اگر کوئی جماعت سب سے زیادہ آپﷺ پر درود وسلام بھیجتی ہے تو وہ جماعت اہل حدیث ہیہے،اور یہ کوئی پھیک (Fake)دعوی نہیں ہے بلکہ صد فیصدحقیقت پرمبنی ہے اور اس پر میں عنقریب آپ کو دلیل بھی سناؤں گا، مگر میں سب سے پہلےایسے لوگوں کے لئے تین باتیں پیش کرنا چاہتاہوں جو یہ الزام جماعت اہل حدیث پر لگاتے ہیں کہ یہ لوگ آپﷺ پر درود وسلام ہی نہیں بھیجتے ہیں:



1۔ نمبر ایک : اگرکسی انسان کو اس بارے میں کوئی شک وشبہ ہو تو وہ آئے ہماری مسجدوں میں اوروہ اپنے کانوں سےہم اہل حدیثوں کے جمعہ کے خطبات ودروس اور بیانات کو سن کر دیکھیں کہ ہم اپنے محبوب جناب محمدعربیﷺ پر درودوسلام کا نذرانہ پیش کرتے ہیں یا نہیں؟ اورکوئی بھی انسان صرف سنی سنائی ہوئی باتوں پر یقین نہ کرے کیونکہ ہرسنی سنائی ہوئی بات جھوٹی ہوتی ہے۔

2۔ نمبر دو: اگرکسی بھی شخص کوذرہ برابربھی کوئی شک وشبہ ہو کہ جماعت اہل حدیث یہ آپﷺ کے اوپردرودوسلام بھیجنے میں کوتائی کرتی ہے تو وہ انسان جماعت اہل حدیث کے کسی بھی مکاتب و مدارس اورجامعات میں جائے اور وہ پھر خوداپنی آنکھوں سے دیکھے اوراپنے کانوں سے سنے کہ جماعت اہل حدیث اپنے اپنے مکاتب ومدارس اور جامعات میں صبح سے شام تک کتنی مرتبہ قال قال رسول اللہ ﷺ کا نعرہ لگاتی ہے۔

3۔اور نمبر تین:اگرکسی انسان کو ذرہ برابربھی اس بارے میں کوئی شک وشبہ ہوکہ جماعت اہل حدیث یہ آپﷺ کے اوپر درودوسلام بھیجنے میں کوتاہی کرتی ہے تو وہ انسان جماعت اہل حدیث کی احادیث کی کتابوں کو اٹھائےاورپھر دیکھے کہ وہاں پر کتنی مرتبہ ﷺ لکھاہوا ہے،کعبے کی رب کی قسم!اوریہ قسم میں علی وجہ البصیرۃ پورے یقین کے ساتھ کھاتے ہوئے کہہ رہاہوں کہ جتنی مرتبہ احادیث کولکھنے اورپڑھنے میں جماعت اہل حدیث آپﷺ کے اوپر درودوسلام کا تحفہ بھیجتی ہے ،اس کا عشرعشیر (یعنی بہت ہی کم ،دسویں حصے کا دسواں حصہ)بھی کوئی جماعت پیش نہیں کرسکتی ہے! اب آپ یہ کہیں گے کہ کیسے؟ تو سنئے!یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ جماعت اہل حدیث کے بچے بچے کو قرآن وحدیث سے والہانہ عقیدت ومحبت ہے،صرف عقیدت ومحبت ہی نہیں بلکہ قال اللہ وقال الرسولﷺ یہ تو جماعت اہل حدیث کے خون ورگوں میں دوڑتا ہے،بخدا اس روئے زمین پر جماعت اہل حدیث ہی کو یہ امتیازی شرف حاصل ہوا ہے کہ ان کے مکاتب و مدارس اورجامعات میں ابتداء تا انتہاء، ہرسال ہرکلاس میں اور ہردن بلاناغہ احادیث کی کتابیں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں،جس کے ہر صفحے پر ایک بار نہیں بلکہ کئی مرتبہ یہ جملہ آتاہے کہ قال قال رسول اللہ ﷺ اور ہر بار عبارت خوانی وترجمہ کے وقت ﷺ پڑھی جاتی ہے ،تو اب ہمیں کوئی یہ بتاے کہ کیا یہ درودوسلام نہیں ہے؟اور یہی تو جماعت اہل حدیث کی شان ہے۔’’ وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ ‘‘اور اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔ (آل عمران:26) اور یہ تو اللہ کا فضل ہے جو صرف جماعت اہل حدیث کو ملا ہے’’ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ‘‘اور یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے اپنا فضل دے۔(الجمۃ:04) ورنہ آپ نے سنا ہوگا اور دیکھا بھی ہوگا کہ جماعت اہل حدیث کے علاوہ جتنی بھی جماعتیں ہیں انہیں قرآن وحدیث سے وہ شغف کہاں جو جماعت اہل حدیث کے اندر ہے،انہیں تو بس فقہ کی فکر ولگن ہوتی ہے اور ان کی صبح شام بھی فقہ کی تدریس اورفقہ کی ترویج واشاعت میں گذرتی ہے ،جس فقہ میں برائےنام ہی آپﷺ کا نام اور درود وسلام لکھاہوتاہے،اس میں توبس یہی باتیں ہوتی ہیں کہ فلاں امام نے ایسا کہا تو فلاں امام نے ایسا کہا؟اگر کسی انسان کو میری باتوں یقین نہ آرہاہوں تو وہ انسان خود سے بخاری یا مسلم یاپھر کوئی بھی حدیث کی کتاب کھولے اور وہ خود سےایک ،دوصفحہ پر یہ گن کردیکھے کہ اس میں کتنی مرتبہ درودوسلام لکھاہوا ہے اور پھروہی انسان خود سے فقہ کی کوئی بھی کتاب کھول کردیکھے اور اس کے بھی ایک ،دوصفحات پر یہ تلاش کرے کہ کتنی مرتبہ درودوسلام لکھا ہواہے،جب کوئی انسان اس کا موازنہ کرے گا تواسے خود اس بات کا اندازہ ہوجائے گا کہ کون سی جماعت نبیﷺ پر کثرت سےدرودوسلام بھیجتی ہے اور کون سی جماعت نہیں؟ اوریقیناً جو بھی شخص تعصب کی عینک اتار کراحادیث کی کتابوں اور فقہ کی کتابوں کا اس تعلق سے موازنہ کرے گاتو وہ اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ ہم تو الزام ان کو دیتے تھے اور قصور اپنا نکل آیا،بقول شاعر:

یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا

میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا​

ستیاناس ہوجائے ان لوگوں کا جو یہ الزام ہمارے سرزبردستی تھوپنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں ورنہ ہمارا تو یہ ماننا ہے اور صرف ماننا ہی نہیں بلکہ ہماراتو یہ عقیدہ ہے کہ نبیﷺ پر درودوسلام کے نذرانے پیش کرنا یہ ایک عظیم عبادت اورایک عظیم نیکی ہے،تو اب آئیے سب سے پہلے درود وسلام کے معانی ومفاہیم کو سنتے اور سمجھتے ہیں!اللھم صل وسلم علی نبینا محمدﷺ۔

پیارے پیارے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اور بہنو!

اس عالم رنگ وبو میں صرف اور صرف آپﷺ کی ذات واحد ہی ایک ایسی ذات اقدس ومقدس ہے جن کے لئے فرشتے ہرآن اورہرلمحہ بلندیٔ درجات کی دعائیں کرتے رہتے ہیں اور رب العزت بھی ہمہ وقت ان نورانی مخلوق کے سامنے میں آپﷺ کی تعریفیں کرتا رہتاہے اوررحمتیں نازل کرتا رہتا ہےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:’’ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ‘‘ اللہ تعالی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے ایمان والو!تم بھی ان پردرود بھیجواور خوب سلام بھی بھیجتے رہاکرو۔ (الاحزاب:56)ذراغورکریں ! اللہ رب العالمین نے اس آیت کریمہ کولفظ ’’اِنَّ‘‘ کے ساتھ شروع کیا ہے،جونہایت ہی تاکید کے لئے استعمال کیا جاتاہے،پھر مزید مضارع کے صیغے’’یُصَلُّوْنَ ‘‘ سے ذکرفرماکراس بات کے استمراراور دوام کی دلیل دی کہ آپ کے اوپر رب کی رحمتوں کا نزول اور فرشتوں کا آپﷺکے لئے طلب مغفرت اور رفع درجات کی دعاکرنا،یہ ایک بارنہیں بلکہ شب وروز کے ہرآن ،ہرلمحے اور ہرساعت کےساتھ ہوتارہتاہے،یقیناًاس کائنات میں اول تاآخریہ مقام ومرتبہ پانے والے ماسواآپ کے اور کوئی نہیں ،اور نہ ہی آپ سے پہلے کسی پیغمبر ورسل کو یہ مقام ومرتبہ حاصل ہوا تھا،اس اعتبار سے نبیﷺ کا یہ شرف ابوالآباء آدم علیہ الصلاۃ والسلام کے مسجودِ ملائکہ ہونےسے بھی بڑھ کرہے کیونکہ نبیﷺ کے اس اعزاز اواکرام میں تو اللہ تعالی خودبھی شامل ہے جب کہ آدم علیہ الصلاۃ والسلام کے اعزازمیں صرف فرشتے ہی شامل ہوئے تھے اور وہ بھی صرف ایک مرتبہ شامل ہوئے جب کہ یہاں پر دوام واستمرار ہے،کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:

یُصَلِّیْ عَلَیْہِ اللہُ جَلَّ جَلَالُہُ

بِھٰذَا بَدَا لِلْعَالَمِیْنَ کَمَالُہُ​

(ترجمہ)اللہ جل جلالہ بھی نبیﷺ پر درود بھیجتاہے اور یہ بات تمام جہانوں کے لئے نبیﷺکے شرف وکمال کی عمدہ دلیل ہے۔تو میں یہ کہہ رہاتھا کہ اللہ رب العزت کا ہمارے لئے یہ حکم ہے کہ ہم اپنے نبیﷺ پر کثرت سے درود وسلام بھیجتے رہاکریں کیونکہ اللہ بذات خود اور فرشتے بھی جناب محمدعربیﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں،اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اللہ کے درود بھیجنے اور فرشتوں کے درود بھیجنے کا مطلب کیا ہے تو اس کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابوالعالیہؒ کہتے ہیں کہ ’’صَلاَةُ اللَّهِ ثَنَاؤُهُ عَلَيْهِ عِنْدَ المَلاَئِكَةِ وَصَلاَةُ المَلاَئِكَةِ الدُّعَاءُ ‘‘ آپﷺ پر اللہ رب العزت کا درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العزت ہروقت فرشتوں کے سامنے میں آپ کی تعریف بیان کرتاہےاور فرشتوں کے درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے آپﷺ کے لئے ہر وقت بلندیٔ درجات کی دعا ئیں کرتے رہتے ہیں،اور ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ’’ يُصَلُّونَ : يُبَرِّكُونَ ‘‘ یصلون کا معنی برکت کی دعا کرنا ہے۔(بخاری:4797،قبل الحدیث)اورامام ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ’’ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَخْبَرَ عِبَادَهُ بِمَنْزِلَةِ عَبْدِهِ وَنَبِيِّهِ عِنْدَهُ فِي الْمَلَأِ الْأَعْلَى بِأَنَّهُ يُثْنِي عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْهِ ثُمَّ أَمَرَ تَعَالَى أَهْلَ الْعَالَمِ السُّفْلِيِّ بِالصَّلَاةِ وَالتَّسْلِيمِ عَلَيْهِ لِيَجْتَمِعَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ مِنْ أَهْلِ الْعَالَمِينَ الْعُلْوِيِّ وَالسُّفْلِيِّ جَمِيعًا ‘‘ اس آیت کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اس بات کی خبر دے رہاہے کہ اللہ کے نزدیک آسمانوں میں آپﷺ کا کیا مقام ومرتبہ ہے،یعنی اللہ بذات خود مقرب فرشتوں کے سامنے میں آپﷺ کی تعریف وتوصیف بیا ن کرتاہے،نیز فرشتے بھی آپﷺ کے لئے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں،اس طرح سے اللہ رب العزت نے اہل زمین کو یہ حکم دیا کہ وہ نبیﷺ پر درود وسلام بھیجتے رہاکریں تاکہ آپﷺ کی تعریف وتوصیف بیان کرنے میں اہل آسمان واہل زمین یہ دونوں ایک ساتھ جمع ہوجائیں۔(تفسیر ابن کثیر:6/457) اور امام طبری ؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’ أَنَّ اللَّهَ يَرْحَمُ النَّبِيَّ وَتَدْعُو لَهُ مَلَائِكَتُهُ وَيَسْتَغْفِرُونَ ‘‘بے شک اللہ رب العزت نبیﷺ پررحم فرماتاہے،اور فرشتے آپﷺ کے لئے دعا واستغفار کرتے ہیں۔(تفسیر طبری:19/174) پتہ یہ چلا کہ آسمان وزمین ہردوجگہ میں ہروقت اور ہرآن وہرلمحہ آپﷺ کا ذکر خیر ہوتا رہتاہے،سچ فرمایا باریٔ تعالی نے کہ ’’ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ‘‘ اور ہم نے تیرا ذکربلندکردیا۔(الم نشرح:4)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اور بہنو!اب آئیے درودوسلام کی کیاکیا فضیلتیں ہیں اس کو سنتے ہیں:

1۔ نمبر ایک درودوسلام یہ رحمت الٰہی کو حاصل کرنے اور پانے کا سب سے آسان طریقہ ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حبیب کائنات ومحبوب خداﷺ نے یہ فرمایا کہ ’’ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ‘‘ جو بھی مسلمان میرے اوپر دس مرتبہ درود( وسلام) کا نذرانہ پیش کرے گا تو اللہ رب العزت اس کے اوپر دس مرتبہ رحمتیں نازل کرے گا۔(مسلم:408،ابوداؤد:1530)سبحان اللہ۔درودوسلام کی کتنی عظیم فضیلت ہےاس لئے میر ےبھائیو اور بہنو !اگر تمہیں اللہ کی رحمت چاہئے تو پھر اپنے نبیﷺ پر کثرت سے درودوسلام بھیجتے رہا کرو۔

2۔ نمبر دو درودوسلام کے چار عظیم فائدے:

میرے دوستو!اگرآپ اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما کر آپ کو جنت میں اعلی مقام عطا کردے تو پھر اپنے آقاومحبوب جناب محمدعربیﷺ پرکثرت سے درودوسلام بھیجتے رہا کریں،جیسا کہ سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ محبوب خداوحبیب کائنات جناب محمدعربی ﷺ نے یہ فرمایا کہ ’’ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ ‘‘ جوبھی شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود(وسلام)کا نذرانہ پیش کرے گا تو اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا،اور اس کے دس گناہ معاف کردئے جائیں گے اور مزید یہ کہ جنت میں اس کے لئے دس درجے بھی بلند کردئے جائیں گے۔(نسائی:1297،اسنادہ صحیح)صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دس نیکیاں بھی ملتی ہے جیسا سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً كُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ ‘‘کہ جو شخص میرے اوپر ایک مرتبہ درود شریف پڑھے گا تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔(صحیح ابن حبان:905،الصحیحۃ:3359،احمد:16352)اورایک دوسری روایت کے اندر ہے ،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مِنْ أُمَّتِي صَلَاةً مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَكَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ‘‘ میر اجوبھی امتی خلوص دل سے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا تو اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اوراس کے دس درجے بلند کردے گا اورمزید یہ کہ اللہ اس کے لئے دس نیکیوں کو بھی لکھ دے گااور اس کی دس برائیوں کو بھی مٹادے گا۔(الصحیحۃ:3360)سبحان اللہ۔درودوسلام بھیجنے کا کتنا بڑا اجروثواب ہے اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!اگر ہم اپنی مغفرت چاہتے ہیں؟ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے دامن کواپنی رحمتوں سے بھردے، اوراگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ نیکیوں سے ہمارا ترازوں بھی بھر جائے تو ہم کثرت سے درود وسلام پڑھتے رہا کریں۔

3۔نمبر تین یہ کہ نبیﷺ پرایک مرتبہ (درود و)سلام بھیجنے والے پر اللہ رب العزت دس مرتبہ سلامتی نازل فرماتاہے،جی ہاں میرے بھائیو اور بہنو!سن لو!یہ کوئی معمولی نیکی نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک ایسی نیکی ہے جس کے کرنے والے کے اوپر رب کی رحمت وسلامتی نچھاور ہوجاتی ہے جیسا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے دیکھا کہ آپﷺ کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور وہاں پر طویل سجدہ کیا اورپھر مجھ سے فرمایا کہ ’’ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَالَ لِي أَلا أُبَشِّرُكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ ‘‘ مجھ سے جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ کیا میں آپ کو وہ خوشخبری نہ سناؤں جو اللہ نے آپ کے لئے مقررکیا ہے،وہ یہ ہے کہ ’’ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ ‘‘ اللہ نے آپ کے لئے یہ وعدہ کررکھا ہے کہ جو آپ پر درودشریف پڑھے گا تو میں اس پراپنی رحمت نازل کروں گا اور اسی طرح سے جو آپ پر سلام بھیجے گا تو میں بھی اس پر سلام بھیجوں گا،’’ فَسَجَدْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شُكْرًا ‘‘ تو اسی خوشی میں ،میں نے سجدۂ شکر ادا کیا ہے۔(مسنداحمد:1662،ارواء الغلیل:3،فضل الصلاۃ علی النبیﷺ للألبانیؒ:7)سبحان اللہ۔ کیا عظیم فضیلت ہے اپنے نبیﷺ پر درودوسلام بھیجنے کی، اور یہ رحمت و سلامتی اللہ رب العزت کے طرف سے صرف ایک بارہی نازل نہیں کی جاتی ہے بلکہ ایک کے بدلے اللہ رب العزت دس دس مرتبہ رحمت وسلامتی کونازل کرتا ہے ۔۔سبحان اللہ۔۔کتنی عظیم عبادت ہے،سنئے حدیث،سیدنا ابوطلحہ انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبُشْرَى فِي وَجْهِهِ ‘‘ ایک دن آپﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپﷺ کاچہرۂ مبارک خوشی سے چمک ودمک رہاتھا تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے حبیبﷺ!’’ إِنَّا لَنَرَى الْبُشْرَى فِي وَجْهِكَ ‘‘ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آج آپ بہت ہی زیادہ خوش ہیں !توآپﷺ نے فرمایا کہ هاں کیوں نہیں! (بیشک آج تو میں بہت ہی زیادہ خوش ہوں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ) میرے پاس جبرئیل امین یہ خوشخبری لے کر آئے کہ اے محمدﷺ آپ کے رب نے آپ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ’’ أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ، إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا ‘‘ کیا آپ اس بات سےخوش نہیں ہیں کہ جو بھی شخص آپ پر ایک مرتبہ درودشریف کا نذرانہ پیش کرے گا تو میں اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل کروں گا اور جوبھی شخص آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے گا تو میں اس پر دس مرتبہ سلام نازل کروں گا،تو میں نے کہا کہ ’’ بَلَى ‘‘ کیوں نہیں اے میرے رب میں راضی ہوں۔ (نسائی:1283،الصحیحۃ:829،احمد:16363،16352)سنا آپ نے اس درود وسلام کی کتنی عظیم فضیلت ہے اس لئے اے میرے بھائیو اور بہنو!اس عظیم نیکی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لواور کھانے پینے سے کہیں زیادہ اس کا اہتمام کیاکرو۔

4۔نمبر چار یہ کہ جب تک ہم اپنے نبیﷺ پر درودوسلام کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے تب تک فرشتے ہمارے لئے رحمت کی دعائیں کرتے رہیں گے۔سبحان اللہ۔دیکھئے درودوسلام کی کتنی عظیم فضیلت ہے کہ اِدھر ہم پاپی انسان اس روئے زمین پر اپنے نبیﷺ پر درود وسلام کے نذرانے پیش کریں گے اور اُدھر آسمانوں پر نورانی اور معصوم عن الخطاء مخلوق ہمارے لئے رحمت ومغفرت کی دعائیں کریں گیں جیسا کہ سیدنا عامر بن ربیعہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا صَلَّى عَلَيَّ ‘‘کہ جومسلمان بھی مجھ پر درود بھیجتاہے تو فرشتے مسلسل اس کے لئے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتارہتاہے ،’’ فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ ‘‘ اب ایک مسلمان کی مرضی ہے کہ یہ عمل کم کرے یا پھر زیادہ کرلے۔(ابن ماجہ:907،وقال الألبانیؒ:اسنادہ حسن،صحیح الجامع للألبانیؒ:5744)

5۔درودوسلام کے فضائل ومناقب میں سے پانچویں فضیلت ہے کہ ہم اِدھر ایک مرتبہ اپنے نبیﷺ پر درود وسلام کا تحفہ پیش کریں گے اور اُدھر فرشتے ہمارےلئے سترمرتبہ دعائے رحمت کریں گے۔سبحان اللہ۔کتنی عظیم عبادت ہے مگر ہم اور آپ اس سے غافل رہتے ہیں ،سنئے حدیث،سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ ’’ مَنْ صَلَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ ‘‘ جوانسان ایک باردرودشریف پڑھے گا تو اللہ رب العزت اس کے اوپر ستر/70 مرتبہ رحمتیں نازل کرتاہے اور فرشتے بھی ایسے انسان کے لئے ستر/70 مرتبہ دعائے رحمت کرتے ہیں،اب بندے کے اختیار میں ہے کہ یہ عمل کم کرے یا پھر زیادہ کرلے ۔(مسنداحمد:6605،6754،شیخ احمد شاکرؒ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے)

6۔میرے دوستو!درودوسلام کی چھٹی فضیلت تو بہت ہی عظیم ہےوہ یہ ہے کہ جو مسلمان بھی کثرت سے درودوسلام پڑھے گا تواسے میدان محشراور جنت میں آپﷺ کی صحبت ومعیت ملے گی،سبحان اللہ۔کتنی عظیم عبادت ہے،اس لئے میرے بھائیو اور بہنو!اگرتمہیں جنت میں اپنے نبیﷺ کے ساتھ رہنا ہے تو پھر کثرت سےہروقت اور ہرآن وہرلمحہ درودوسلام کا اہتمام کرتے رہا کرو،جیسا کہ سیدنا ابن مسعودؓبیان کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا ’’ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً ‘‘کہ قیامت کے دن میرے قریب سب سے زیادہ وہ لوگ ہوں گے جو کثرت سے میرے اوپر درودوسلام کا نذرانہ پیش کرتے تھے۔(صحیح ابن حبان:911،الصحیحۃ:3382)سبحان اللہ۔اس درودوسلام کی کتنی عظیم فضیلت ہےمگر آج کا اکثرمسلمان اس سے غفلت میں ہے،بس رسماً ورواجاً خودساختہ کیفیت وطریقے اور خودساختہ الفاظ میں درود وسلام کو پڑھ کر یہ سمجھتاہے کہ اس کائنات میں وہی سب سے زیادہ نبیﷺ پر درود وسلام کا نذرانہ پیش کرنے والا ہے،ہرگز نہیں !یہ تواس کااپنا بھرم ہے ،ورنہ اس کائنات میں سب سے زیادہ اگرکوئی جماعت نبیﷺ کے حضور میں درودوسلام کا نذرانہ پیش کرتی ہے تو وہ صرف اور صرف جماعت اہل حدیث ہی ہے،اور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں اور نہ ہی یہ میرا کوئی پھیک (Fake)دعوی ہے بلکہ یہ دعوی امام ابوحاتم ؒنے کیا ہے،جیسا کہ امام ابن حبانؒ نے اسی حدیث ،حدیث نمبر911 کے نیچے ہی امام ابوحاتمؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِيَامَةِ يَكُونُ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ ‘‘اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ کل قیامت کے دن آپﷺ کے سب سے زیادہ قریب یہ اصحاب الحدیث یعنی اہل حدیث ہی ہوں گے کیوں کہ اس روئے زمین پر’’إِذْ لَيْسَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ أَكْثَرَ صَلَاةٍ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ‘‘اس امت میں اصحاب الحدیث سے زیادہ کوئی ایسی قوم ہے ہی نہیں جو ان سے زیادہ آپﷺ پر درودوسلام کا نذرانہ پیش کرتی ہو۔(صحیح ابن حبان:911)سبحان اللہ۔اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے؟تو اس کابھی جواب سن لیجئے،امام ابونعیمؒ کہتے ہیں کہ ’’ وَهَذِهِ مَنْقَبَةٌ شَرِيفَةٌ يَخْتَصُّ بِهَا رُوَاةُ الْآثَارِ وَنَقَلَتُهَا لِأَنَّهُ لَا يُعْرَفُ لِعِصَابَةٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِمَّا يُعْرَفُ لِهَذِهِ الْعِصَابَةِ نَسْخًا وَذِكْرًا ‘‘ یہ زبردست بزرگی اور اعلی فضیلت حدیثوں کی روایت کرنے اور حدیثوں کے نقل کرنے والوں کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ کوئی جماعت رسول اللہﷺپر درود پڑھنے میں ان علمائے حدیث کی جماعت سے بڑھ کر نہیں،نہ درودشریف کے لکھنے میں اورنہ ہی پڑھنے میں۔(شرف اصحاب الحدیث للخطیب البغدادی:ص34، اردو ترجمہ فضائل اہل حدیث:ص41)

7۔درودوسلام کی ساتویں ایک اور عظیم فضیلت یہ ہے کہ درودوسلام کا کثرت سے اہتمام کرنے سے جناب محمدعربیﷺ کی شفاعت بھی ملے گی،جیسا کہ سیدنا ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ حِيْنَ يُصْبِحُ عَشْراً وَحِيْنَ يُمْسِيْ عَشْراً أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘کہ جوبھی مسلمان میرے اوپر صبح وشام دس دس مرتبہ درود بھیجے گا توکل بروزقیامت اسےمیری سفارش ضروربالضرورملے گی۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:6357،صحیح الترغیب للألبانی:232)

8۔درودوسلام کی آٹھویں فضیلت یہ ہے کہ جو بھی انسان درودوسلام کو لازم پکڑلے گا وہ انسان ہمیشہ شاد وخوشحال رہے گا،کوئی پریشانی وٹینشن اورغم والم اسے لاحق نہیں ہوگی اور مزید یہ کہ اس کے گناہ بھی معاف ہوتے رہیں گے جیسا کہ سیدنا ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے یہ پوچھا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرم ﷺ ’’ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي ‘‘میں کثرت سے آپ پر درود پڑھتارہتاہوں تو میں اپنی دعاؤں میں اس کا کتنا حصہ رکھوں؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَا شِئْتَ ‘‘ جتنا تم چاہو اتنا پڑھو،تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اب سے میں ’’ الرُّبُعَ ‘‘ چوتھائی حصہ کے برابراپنی دعا میں درودشریف پڑھوں گا ،یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‘‘اگر تم اورزیادہ درود پڑھوگے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہے،تو میں نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو اب سے میں ’’ النِّصْفَ ‘‘آدھی تعداد میں اپنی دعا میں درود شریف ہی پڑھوں گا،پھر یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‘‘جیسا تم چاہو لیکن اگر تم درود زیادہ پڑھوگے تو تمہارے لئے بہت ہی زیادہ بہتر ہوگا،تو میں نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو ’’ فَالثُّلُثَيْنِ ‘‘پھر میں اپنی دعاؤں میں دوتہائی کے برابر درود ہی پڑھتا رہوں گا،پھر یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‘‘ اگر اور زیادہ درود پڑھوگے تو یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ثابت ہوگا،یہ سن کر میں نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ آئندہ سے میں ’’ أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا ‘‘اپنی ساری دعاؤں کو آپ کے نام کردیتاہوں،یعنی کہ میں دعاؤں میں صرف اور صرف درود ہی پڑھوں گا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا کروگے تو پھر سن لو! ’’ إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ‘‘ اگرتم بکثرت درود پڑھوگے تو پھر تمہارے سارے غم والم،ٹینشن وپریشانی کے لئےیہ کافی ہوجائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردئے جائیں گے۔(ترمذی:2457،وقال الألبانیؒ:اسنادہ حسن)

9۔نمبر نو درودوسلام کی ایک عظیم فضیلت یہ بھی ہے کہ اس سے زندگی میں برکت ہی برکت نازل ہوتی ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیا ن کرتے ہیں کہ آﷺنے فرمایا ’’ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ عَلَيَّ زَكَاةٌ لَكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ ‘‘ كه تم لوگ مجھ پر درود پڑھتے رہا کرو کیونکہ مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لئے باعثِ برکت ورحمت ہے اور میرے لئے اللہ تعالی سے وسیلہ کا بھی سوال کیاکرو۔(الصحیحۃ:3268)

10۔ اور نمبر دس میرے دوستو!اپنے آقا جناب محمدعربیﷺ کے اوپر سلام بھیجنا یہ کتنا اہم اور کتنا افضل عمل ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ ہمارے اور آپ کے درودوسلاموں کو آپﷺ کے حضور پیش خدمت کرنے کے لئے فرشتوں کی ایک جماعت مقرر ہے جو روئے زمین پر صرف اور صرف اس لئے چکرلگاتی ہیں کہ وہ ہمارا درودوسلام آپﷺ تک پہنچائیں۔سبحان اللہ۔ اور فرشتے صرف درودوسلام کا نذرانہ ہی پیش خدمت نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ کہتے ہوئے پیش کرتے ہیں کہ فلاں نے یعنی کہ نام کے ساتھ ،آپ پر درود وسلام کا نذرانہ پیش کیا ہے،اللہ اکبر کبیرا۔ ذرا سوچئے کہ اس درود وسلام کی کتنی عظیم فضیلت ہےکہ ہم یہاں پر اپنے نبی ﷺ کےاوپر درود وسلام پڑھتے ہیں اور وہاں نبیﷺ کے حضور ہمارا نام لیا جاتاہے،سبحان اللہ۔اور یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہاہوں بلکہ خود جناب محمدعربی ﷺ نے اس بات کی جانکاری دی ہے،جیسا کہ سیدنا ابن مسعودؓ بیا ن کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ ‘‘کہ بے شک کہ زمین میں اللہ تعالی کےایسے فرشتے بھی گشت کرتے رہتے ہیں جو میری امت کے لوگوں کے طرف سے پیش کئے گئے سلام کو مجھ تک پہنچاتے رہیں گے۔ (مسنداحمد:3666،الصحیحۃ:2853)اورمیرے دوستوں! فرشتے یہ صرف سلام کا نذرانہ ہی نہیں سناتے ہیں بلکہ نام کے ساتھ آپﷺ کو اس بات کی جانکاری دیتے ہیں کہ فلاں نے آپ کے لئےدرود وسلام کا تحفہ بھیجا ہے،جیسا کہ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ سیاحین یعنی فرشتے یہ کہتے ہیں کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ ’’ فُلَانٌ سَلَّمَ عَلَيْكَ وَيُصَلِّيْ عَلَيْكَ فُلَانٌ يُصَلِّيْ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ ‘‘ فلاں نے یعنی نام کے ساتھ آپ کے اوپر سلام کا تحفہ بھیجا ہے اور فلاں نے آپ کے اوپر درودوسلام کا نذرانہ پیش کیا ہے۔(الصحیحۃ:2853)اسی بارے میں ایک دوسری حدیث بھی سنئے سیدنا اوس بن اوسؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ ‘‘کہ بے شک تمہارے افضل دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے زیادہ فضیلت والا دن ہے کیوں کہ اسی دن حضرت آدم کی تخلیق ہوئی اور اسی دن صورمیں پھونک ماری جائے گی اور اسی دن لوگوں میں بے ہوشی طاری ہوگی،’’ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ ‘‘ لہذا تم اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتارہے گا،یہ سن کر ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ’’ كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ ‘‘جب آپ کا جسم مبارک توخاک میں مل جائے گا تب کس طرح سے ہمارا درودآپ کے سامنے میں پیش کیا جائے گا ،تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ ‘‘اللہ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے۔(ابن ماجہ:1085،ابوداؤد:1047،نسائی:1374،الصحیحۃ:1527)اور ایک تیسری حدیث کے اندر ہے کہ آپﷺ کے قبرکے پاس بھی فرشتوں کو مقررکیا گیا ہے جو آپ تک آپ کے امتیوں کا درودوسلام پہونچاتے رہتے ہیں جیساکہ فرمان نبوی ﷺ’’ أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ فَإِنَّ اللهَ وَكَّلَ بِي مَلَكًا عِنْدَ قَبْرِي فَإِذَا صَلَّى عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي قَالَ لِي ذَلِكَ الْمَلَكُ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ صَلَّى عَلَيْكَ السَّاعَةَ ‘‘ مجھ پر کثرت سے درود بھیجاکرو،کیونکہ اللہ تعالی نے میری قبرکےپاس ایک فرشتہ مقررکیا ہے(جومیرے امتی کا درود مجھ تک پہنچاتا رہے گا)جب کبھی میراامتی مجھ پر درود بھیجتاہے تو وہ فرشتہ مجھے کہتا ہے کہ اے محمدﷺ فلاں بن فلاں نے(یعنی فرشتہ اس انسان کا نام لے کرکہتاہے کہ)ابھی ابھی آپ پردرودبھیجاہے۔(الصحیحۃ للألبانی:1530)اور ایک چوتھی روایت کے اندر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ ‘‘تم میری قبر کو عید (میلے ٹھیلے کی جگہ یا پھر باربارآنے کی جگہ)مت بناؤ،اور مجھ پر درود پڑھو اس لئے کہ تم جہاں کہیں سے بھی درود پڑھوگے تمہارا درود مجھ تک پہنچادیا جائے گا۔(ابوداؤد:2042،صحیح الجامع للألبانیؒ:7226،اسنادہ صحیح)اور ایک پانچویں روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ‘‘جو شخص بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالی مجھ پر میری روح کو لوٹا دیتاہے یہاں تک کہ میں اسے جواب دیتاہوں۔(ابوداؤد:2041،وقال الألبانیؒ:اسنادہ حسن،صحیح الجامع للألبانیؒ:5679،الصحیحۃ:2266)

میرے پیارے پیارے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اوربہنو!

ذرا غور کیجئے کہ آپﷺ نے یہ نہیں کہا کہ میں بلا فاصلہ سب کی درود کو سنتا ہوں بلکہ آپ نے یہ کہا کہ میرے سامنے میں درود پیش کیا جاتاہے ،یا پھر فرشتوں کی ایک جماعت مجھ تک میری امتیوں کے درود وسلام کو پہنچاتی ہے، یاپھر یہ کہا کہ اللہ میری روح کو لوٹا دیتا ہے،اور آپﷺ نے اس تعلق سےجو جو باتیں بیان کی ہیں ان سب پر ہمارا ایمان ویقین ہے کہ سب باتیں بالکل ہی حقیقت پر مبنی ہے،مگر یہ سب کیسے ہوتاہے؟ کب ہوتاہے؟دن ورات میں کتنی بار ہوتاہے؟باربارآپﷺ کی روح کیسے لوٹائی جاتی ہے؟پوری دنیا میں اربوں اور کھربوں کی تعداد میں مسلمان درودوسلام کا نذرانہ ہروقت اور ہرآن وہرلمحہ پیش کرتے ہی رہتے ہیں اب آپﷺ دورونزدیک ہرایک کے سلام کا جواب کیسے دیتے ہیں؟ فرشتے یہ درودوسلام کے نذرانے آپ تک کیسے اور کس طرح سے اور کب کب پہنچاتے ہیں تو ان سب کی حقیقتوں کا علم صرف اور صرف اللہ ہی کو ہےکیونکہ یہ برزخی معاملہ ہے اور برزخ کا معاملہ غیبیات میں سے ہے جس کے اوپر بس ہمیں ایمان ویقین رکھنااور یہ نہیں سوچنا ہے کہ کیسے ہوتاہے؟اور کیسے ہوسکتاہے؟بس یہ جان لیں کہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل امرومعاملہ نہیں ہے کیونکہ’’ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ‘‘ اللہ پر تو یہ امر بالکل ہی آسان ہے۔(الحج:70)اور پھریہ بھی تو ہے کہ ’’ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘‘ یقیناً اللہ ہرچیز پر قادرہے۔(البقرۃ:20)تو

دیکھا اور سنا آپ نے کہ اس درودوسلام کے کیسے کیسے عظیم فضائل ومناقب ہیں مگر آج کا مسلمان خودساختہ درود وسلام کے پیچھے پڑ کر اپنی دنیا وآخرت کو تباہ وبرباد کررہاہے کیونکہ خودساختہ درودوسلام سے نہ تو یہ سب فضیلتیں ملنے والی ہیں اور نہ ہی اللہ اور اس کے رسولﷺ اس سےراضی اورخوش ہونے والے ہیں۔اب آئیے میں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ آپﷺ پر درود وسلام نہ بھیجنے کے کیا کیا نقصانات ہیں:۔

میرے دوستو! سب سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ اپنے آقا جناب محمدعربیﷺ پر درود وسلام کا اہتمام نہ کرنا یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے برابر ہے ،اور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ خود جناب محمدعربیﷺ نے یہ اعلان کردیا ہے کہ ’’ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ ‘‘ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اوراس مجلس میں نہ تو اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے نبیﷺ پر درود پڑھتے ہیں تو یہ مجلس ان کے لئے باعث حسرت نقصان ہوگی،اب اللہ کی مرضی کہ اللہ انہیں عذاب دے یا پھر انہیں معاف فرمادے۔(ترمذی:3380،الصحیحۃ:74)

2۔نمبر دو درود وسلام نہ پڑھنے کا نقصان یہ ہے کہ آج جس محفل ومجلس میں درود نہ پڑھا جائے گا توکل بروز قیامت وہ مجلس ومحفل اہل مجلس واہل محفل والوں کے لئےباعث حسرت وندامت ہوگی ،یعنی اگر کچھ لوگ آج اس دنیا میں کسی محفل ومجلس میں بیٹھتے ہیں اور اگر وہ اپنی مجلسوں میں درودوسلام نہیں پڑھتے ہیں تووہ کل بروز قیامت بہت پچھتائیں گےاور حسرت وافسوس کریں گے جیسا کہ سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُصَلُّوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ دَخَلُوْا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ ‘‘کہ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور پھر اس مجلس میں نہ تو اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی نبیﷺ پر درود پڑھتے ہیں تو یہ مجلس ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی،گرچہ وہ اپنے دیگر نیکیوں کے اجروثواب کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجائیں ۔(الصحیحۃ:76،احمد:9965،ابن حبان:591)

3۔ نمبر تین،ابھی آپ نے یہ سنا کہ جس مجلس ومحفل میں لوگ درود نہیں پڑھیں گے تو کل بروز قیامت اس مجلس ومحفل کو یاد کرکےبہت پچھتائیں گے ،یہ تو اپنی جگہ پر مسلم ہے مگر ایک اور حقیقت آپﷺ نے ایسی مجلسوں ومحفلوں کی بیان کی ہے کہ جس محفل ومجلس میں درود وسلام نہ پڑھی گئی ہو تو وہ مجلس ایسی ہے گویا کہ سب کے سب ایک بدبودار سڑی لاش کے اوپر بیٹھے تھے ۔اعاذنااللہ۔جیسا کہ سیدنا جابرؓ بیا ن کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ ثُمَّ تَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ وَصَلَاةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَامُوا عَنْ أَنْتَنِ مِنْ جِيفَةٍ ‘‘ کہ جب لوگ کسی مجلس میں جمع ہوئے اور پھر بغیر اللہ کا ذکر کئے اور بغیراپنے نبیﷺ پر درود پڑھے منتشر ہوگئے تو یہ ایسے ہی ہے گویاکہ وہ لوگ ایک بدبودارسڑی لاش کے اوپر بیٹھے تھے۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:5506،الصحیحۃ:80)

4۔نمبر چار جو انسان آپﷺ پر درود وسلام میں کوتاہی کرے گا تو وہ جنت کے راستے سے بھٹک جائے گا ۔اللہ کی پناہ۔جیسا کہ سیدنا ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حبیب کائنات ومحبوب خدا ﷺ نےفرمایا ’’ مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ ‘‘ کہ جس نے مجھ پر درود وسلام کا پڑھنا چھوڑدیا تو سمجھو وہ جنت کا راستہ بھول گیا ۔(ابن ماجہ:908،صحیح الجامع للألبانیؒ:6568)

5۔ نمبر پانچ، درود وسلام نہ پڑھنے کا ایک عظیم خسارہ یہ بھی ہے کہ جس دعا میں درود نہ ہو وہ دعا معلق رہ جاتی ہے یعنی اس دعا کو شرف قبولیت سے نوازا نہیں جاتاہے جیسا کہ سیدنا علیؓ اور دیگر کئی صحابۂ کرام ؓ سے یہ موقوفا اور مرفوعا روایت موجود ہے کہ ’’ كُلُّ دُعَاءٍ مَحْجُوبٌ حَتَّى يُصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‘‘ کوئی بھی دعا اس وقت تک قبول نہیں کی جاتی ہے جب تک کہ آپﷺ کے اوپر درود نہ پڑھ لیا جائے۔(الصحیحۃ:2035)اور امیرالمومنین سیدنا عمربن خطابؓ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ’’ إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘‘جب تک تم اپنے نبیﷺ پر درود نہیں پڑھوگے تب تک تمہاری دعا آسمان وزمین کے درمیان کھڑی رہے گی اور کچھ بھی اوپر نہیں جائے گی،یعنی جس دعا میں درود نہ ہو اس دعا کو شرف قبولیت سے نوازا نہیں جاتاہے۔(ترمذی:486،الصحیحۃ:2036)

6۔نمبر چھ،درود وسلام نہ پڑھنے والاانسان اس کائنات کا سب سے بڑا بخیل انسان ہےجیسا کہ سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ أَلْبَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ ‘‘کہ وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میں میرا نام لیا گیا مگر اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔(ترمذی:3546،وقال الألبانیؒ: اسنادہ صحیح)اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ ‘‘کہ بے شک لوگوں میں سب سے بڑا بخیل وہ مسلمان ہے جس کے سامنے میں میرا نام لیا جائے مگر وہ میرے اوپر درود نہ بھیجے۔(فضل الصلاۃ علی النبیﷺ للألبانیؒ:37)میرے دوستو!سوچنے اور غوروفکرکرنے والی بات ہے کہ آپﷺ نے ایسے انسان کو سب سے بڑا بخیل کیوں کہاہے جو آپ ﷺ کا نام سننے کے باوجود بھی آپﷺ کے اوپر درود وسلام نہیں بھیجتاہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ذرا یاد کیجئےآپﷺ نے اپنی امت یعنی ہمارے لئے کیا کچھ نہیں کیا،کیسی کیسی قربانیاں نہیں دی،ہمارے لئے آپﷺ نے پتھرکھائے، ہرطرح کے دکھ ودرد اور تکلیف کو سہا،تیروتلوار کے زخم بھی کھائے،اور تو اور ہےتمام انبیاء ورسل میں آپﷺ ہی کو سب سے زیادہ تکالیف سے دوچار ہونا پڑا ،راتوں میں اٹھ کر ہمارے لئے یہ کہہ کر آنسو بہایا کرتے تھے کہ ’’ أللهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي ‘‘ اے اللہ میری امت !میری امت۔ (مسلم:346) اب ذرا سوچئے کہ جس ذات نے جس انسان کی اتنی خیرخواہی کی اور جس کے لئے اتنا کچھ برداشت کیا اور سہا، اس کو اتنی سی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس ذات اقدس ومقدس پر درودوسلام بھیج دے،اب آپ خود ہی فیصلہ کرلیجئے کہ جومسلمان اپنے اتنے بڑےمحسن کا نام سن کرکے بھی خاموش ہےتو ایسا مسلمان اس کائنات کاکتنا بڑا بخیل ہے،بخیل ہی نہیں بلکہ بہت بڑا بدبخت بھی ہے جس سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کم سے کم اپنے محسن نبی کا نام سنتے ہی درود وسلام کا تحفہ بھیج دیتا۔

7۔نمبر سات،اپنے نبیﷺ پر درودوسلام کا ہدیہ وتحفہ نہ بھیجنے والے انسان کے لئے تو جبرئیل امین نےبددعا کی ہے کہ اللہ ایسوں کو غارت کرے جو اپنے محسن نبیٔ اکرم ومکرمﷺ کا نام سن کرکے بھی درودوسلام کا نذرانہ ، نہ پیش کرے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیا ن کرتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ نے منبر پر اپنا قدم مبارک رکھتے ہی آمین کہا،جب ہم سب نے آپﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ ابھی ابھی میرے پاس جبرئیل امین آئے تھے اور انہوں نے کہا کہ ’’ وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَأَبْعَدَهُ الله ‘‘ ایسے شخص کے لئے ہلاکت وبربادی ہےجس کے سامنے آپﷺ کا ذکر کیا گیا مگر اس نے آپ پر درود نہ بھیجا،تو اسی بات پر میں نے بھی آمین کہا۔اللہ کی پناہ!۔ (التعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان:410،فضل الصلاۃ علی النبیﷺ للألبانیؒ:18،صحیح الجامع للألبانیؒ:75)

اور میرے دوستو !نبیﷺ کا نام سن کر درود وسلام نہ پڑھنے والے انسان کے لئے صرف جبرئیل امین نے ہی بددعا نہیں کی ہے بلکہ خود جناب محمدعربیﷺ نے یہ کہا ہے کہ ایسے انسان کا ستیاناس ہوجائے جو میرا نام سن کرکے بھی خاموش رہ جائے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ ‘‘ کہ اس شخص کا ناک خاک آلود ہویا پھر اس کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ انسان ذلیل ورسواہوجائے۔(جلاء الأفہام،ص:47) جس کے سامنے میں میرا ذکر ہوا اور وہ مجھ پر درود وسلام نہ بھیجا۔(ترمذی:3545،صحیح الجامع للألبانیؒ:3510،صحیح ابن حبان:905)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اوربہنو!دیکھا اور سنا آپ نے کہ آپﷺ کے اوپر درودوسلام نہ پڑھنے کا کتنا برا انجام ہے اس لئے ہم اور آپ کوشش یہ کریں کہ هروقت اور هرآن وہرلمحے بالخصوص صبح وشام دس دس مرتبہ ضرور بالضرورکثرت سے درودوسلام پڑھتے رہا کریں،اور ہاں درود وسلام وہی پڑھیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ہمیں سکھایا ہے،لوگوں نے اس درودوسلام کے نام پر بھی طرح طرح کی بدعتیں وخرافتیں گڑھ لیں ہیں،کوئی کہتاہے کہ کھڑے ہوکر درودوسلام پڑھنی چاہئے تو کوئی کہتاہے کہ فلاں فلاں درود پڑھو،اور میں آپ کو کیا بتاؤں ؟لوگوں نے کیسے کیسے درود وسلام کے صیغے والفاظ اور نام گڑھ لئے ہیں،جیسے درود تاج،درود لکھی،درود غوثیہ،درودشفاعت،درود تنجینا،درود خضری،درود ناریہ،درود عبدوسی،درود ماہی،درود ہزارہ،درودزیارت،درود کوامل،درود اکبر،درود کبریت احمر،درود مستغاث،درود مقدس وغیرہ وغیرہ یہ سب کے سب درودوسلام کے صیغے ونام قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہیں ، آپ ان تما م درود وسلام کے الفاظ وصیغے اور ناموں کو میڈ ان انڈیایا پھرمیڈ ان ایشیاء کہہ سکتے ہیں،مگر پھر بھی لوگ بڑے ہی ذوق وشوق سے اس کے پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔کتنا افسوس کا مقام ہے نا کہ لوگوں کو آپﷺ کے بتائے طریقے والفاظ پرایمان ویقین نہیں ہے تبھی تو وہ خودساختہ درود وسلام کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور’’ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا ‘‘ یہ سمجھتے ہیں کہ وه بهت اچھا کام کررہے ہیں۔(الکہف:104)مگر حقیقت میں وہ اچھا نہیں بہت برا کام کررہے ہیں کیونکہ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے نہیں سکھلائی اور نہیں بتلائی ہے اس کو انہوں نےاختیار کیا ہے،اس لئے میرے بھائیو اور بہنو!جتنا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے اتنا ہی عمل کرو اور جوجو درود وسلام صحیح حدیثوں سے ثابت ہو صرف اسے ہی پڑھو، اوراللہ رب العزت کا یہ حکم یاد رکھ لو کہ ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ‘‘اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسولﷺ سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو،یقیناً اللہ سننے والا ،جاننے والا ہے۔(الحجرات:01)اب کوئی انسان یہ نہ کہنے لگے کہ پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ہم اپنے نبیﷺ کی تعریف ہی تو کررہے ہیں!ہم درودوسلام ہی تو بھیج رہے ہیں اور کیا درودوسلام بھیجنا غلط ہے؟تو اس طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ یہ سن لیں اور یہ جان لیں کہ درودوسلام پڑھنا یہ غلط نہیں ہے بلکہ جو جو الفاظ وطریقے لوگوں نے گھڑرکھے ہیں وہ الفاظ اور وہ طریقے وکیفیت غلط ہیں کیونکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ہمیں درودوسلام کے وہ الفاظ اور وہ طریقے وکیفیت نہیں سکھائے ہیں جن کو لوگوں نے اختیار کررکھا ہے،اور یہ بات اچھی طرح سے ہرمسلمان جان لیں کہ جب اللہ اور اس کے رسولﷺ نے درودوسلام پڑھنے کا حکم دیا ہےتو اس کے الفاظ اور اس کی کیفیت اور اس کے طریقوں کو بھی واضح کردیا ہے اب اس کائنات میں کسی انسان کو بھی اس بات کی قطعی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بتلائے ہوئےالفاظ وطریقوں میں ذرہ برابر بھی کمی وبیشی کرے،آئیے اسی بات پر ایک عمدہ دلیل سن لیتے ہیں کہ جب ایک صحابیٔ رسول نے آپﷺ کی بتلائی اور سکھلائی ہوئی دعا میں کچھ آگے پیچھے کیا تو آپﷺ نے ان سے کیا کہا؟سیدنا براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم سونے لگو تو سونے سے پہلے نماز کی طرح وضو کرو اور پھر دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لو،اور ان کلمات کو تم اپنی آخری گفتگو بنالو یعنی اس دعا کے پڑھنے کے بعد پھرکسی سے کچھ بات چیت نہ کرنا اور چپ چاپ سوجانا،اگر تم نے ایسا کیا اور اگر تمہاری موت اس رات میں ہوگئی تو تمہاری موت دین اسلام پر ہوگی،اور اگر تم صبح کروگے تو تمہاری یہ صبح اس حال میں ہوگی کہ تم بہت ہی زیادہ بھلائی حاصل کرچکے ہوگے،وہ دعا ہے ’’ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي،إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ،وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ،لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‘‘ اس دعا کامعنی ومفہوم یہ ہے کہ اے اللہ میں نے اپنا چہرہ تیری طرف جھکادیا،اور اپنا معاملہ تیرے سپردکردیاہے،میں نے تیرے ثواب کی امید اور تیرے عذاب کے ڈرسے تجھے ہی اپنا آسرابنالیا ہے،تیرے سوا کہیں بھی پناہ اور نجات کی جگہ نہیں،اے اللہ!جو کتاب تو نے نازل کی میں اس پر ایمان لایااور جوتونے نبی بھیجاہےاس پر بھی ایمان لایاہوں۔ (بخاری:247،6311،ابن ماجہ:3876،ترمذی:3574) اب ذرا غور سے سنئے،یہ دعا آپﷺ نے سیدنا براء بن عازبؓ کو سکھائی تو سیدنا براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘‘ میں نے اس دعا کو آپﷺ کے سامنے میں دوبارہ پڑھا،’’ فَلَمَّا بَلَغْتُ ‘‘ تو جب میں اس جملے پر پہنچا ’’ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ‘‘ تو میں نے اس جملے کے بعد’’ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‘‘میں ’’ وَبِنَبِيِّكَ ‘‘ کی جگہ رسول کا لفظ لگاتے ہوئے یہ کہا کہ ’’ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‘‘ تو آپﷺ نے فوراً یہ کہا کہ ’’ لاَ ‘‘ نہیں نہیں!جو میں نے سکھایا ہے’’ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‘‘ یہی جملہ تم کہو۔اب ذرا سوچئے کہ سیدنا براء بن عازبؓ نے کیا غلط کہا تھا،بالکل صحیح کہا تھا،بس الفاظ کو بدل دیا تھا مگر جناب محمدعربیﷺ نے کہا کہ نہیں نہیں !جو میں نے سکھایا ہے بس وہی پڑھو،اور یہی تو ہم کہتے ہیں کہ جتنا اللہ اور اس کے رسولﷺ نے سکھایا ہے اس سے نہ تو آگے بڑھاجائے اور نہ ہی اس سے ایک انچ پیچھے ہٹاجائے،ذراسوچئےکہ جب صحابیٔ رسول کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی باتوں میں ذرہ برابر بھی کمی وبیشی کرسکے تو ایک عام انسان کو اس بات کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟اس حدیث کو سننے کے بعد اب آپ خود ہی یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ لوگ کتنے بڑے گستاخ ہیں جو درود وسلام اور دعا وغیرہ میں اپنی طرف سے کمی وبیشی کردیتے ہیں،اس لئے میرے بھائیو اور بہنو!کسی کے بہکاوےمیں نہ آنا اورجتنا اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ہمیں سکھایا ہے بس اتنا ہی کرنا ۔

توخیر میرے دوستو میں یہ کہہ رہاتھا کہ ہم کثرت سے اپنے نبیﷺ پر درود وسلام کا نذرانہ پیش کرتے رہا کریں،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں درود وسلام پڑھنے کے لئے کیاطریقہ اور کیا کیا الفاظ سکھاے ہیں تو آئیے اس بارے میں صرف ایک حدیث کو سنا کر اپنی بات کو ختم کردیتاہوں، سیدناکعب بن عجرۃؓبیان کرتے ہیں کہ صحابۂ کرامؓ نے آپﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرم ﷺ ’’ أَمَّا السَّلاَمُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ ‘‘آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے،(کون سا سلام ؟وہی سلام جو ہم اور آپ تشہد میں التحیات کے اندر پڑھتے ہیں کہ ’’ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ‘‘بخاری:831،لوگ کہتے ہیں کہ اہل حدیث نبیﷺ پر سلام نہیں بھیجتے ہیں ،نعوذ باللہ۔بڑے ہی ظالم ہیں وہ لوگ جو اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہیں،ہم تو اپنے نبیﷺ پر نماز میں سلام بھیجتے ہیں اور درود بھیجتے ہیں،)تو میں یہ کہہ رہاتھا کہ صحابۂ کرام ؓ نے کہا کہ ہم نے سلام بھیجنے کا طریقہ تو سیکھ لیا ہے،لیکن ’’ فَكَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكَ ‘‘ آپ پر درود بھیجنے کا طریقہ کیا ہے؟ اور ایک روایت کے اندر ہے کہ آپ کے جاں نثاروں نے کہا کے اے میرے آقاﷺ ’’ كَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ البَيْتِ ‘‘ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح سے درود بھیجاکریں؟ کیونکہ ’’ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكُمْ ‘‘ اللہ تعالی نے سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں خود ہی سکھا دیا ہے۔(بخاری:3370) تو آپﷺ نے وہی مشہور ومعروف درودابراہیمی سکھاتے ہوئے فرمایا کہ یوں پڑھا کرو ’’ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ،اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‘‘کہ اے ہمارے رب تو محمدﷺ اور ان کے آل واولاد پر بھی ٹھیک ویسے ہی اپنی رحمتیں نازل فرما جس طرح تونے سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی آل واولاد پر رحمتیں نازل کی ہیں ،بے شک کہ تو تعریف کیا گیا اور بزرگ ہے،اے اللہ!محمدﷺ اور ان کے آل واولاد پر ٹھیک ویسے ہی برکتیں نازل فرما جس طرح سے تو نے سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی آل واولاد پر برکتیں نازل کی ہیں،بے شک کہ تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔(بخاری:4797،3370)اور اس درود ابراہیمی میں جو لفظ برکت مذکور ہے اس کا ایک معنی بڑھوتری اور ہمیشگی ہے تو اس لحاظ سے درود ابراہیمی کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اے اللہ! جو بھلائیاں تو نے آل ابراہیم کوعطا کی ہیں وہ نبیﷺ کو بھی عطا کر اورانہیں بڑھا کرکئی گنا کردے اور انہیں ہمیشہ قائم ودائم رکھ۔(تفسیر ذکرللعالمین:1/446)اسی طرح سے اس درودابراہیمی کی تشریح کرتے ہوئےشارح بخاری حافظ ابن حجر ؒ نے کیا ہی خوب نقل کیا ہے ،وہ علامہ حلیمیؒ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ ’’ مَعْنَى الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْظِيمُهُ فَمَعْنَى قَوْلِنَا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَظِّمْ مُحَمَّدًا وَالْمُرَادُ تَعْظِيمُهُ فِي الدُّنْيَا بِإِعْلَاءِ ذِكْرِهِ وَإِظْهَارِ دِينِهِ وَإِبْقَاءِ شَرِيعَتِهِ وَفِي الْآخِرَةِ بِإِجْزَالِ مَثُوبَتِهِ وَتَشْفِيعِهِ فِي أُمَّتِهِ وَإِبْدَاءِ فَضِيلَتِهِ بِالْمَقَامِ الْمَحْمُودِ وَعَلَى هَذَا فَالْمُرَادُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى صلوا عَلَيْهِ ادْعُوا رَبَّكُمْ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ ‘‘ نبیﷺ پر درود بھیجنے کا معنی آپﷺ کی تعظیم ہے ،توجب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ‘‘ تو اس کا معنی یہ ہوتاہے کہ اے اللہ!(تو دنیا وآخرت میں )محمدﷺ کو عظمت عطا فرما،اور دنیا میں آپﷺ کو عظمت دینے سے مراد آپ کے ذکر کوبلندکرنا،آپ کے دین کو غالب کرنا اور آپ کی شریعت کو باقی رکھنا ہے،اور آخرت میں عظمت دینے سے مرادآپﷺ کے اجروثواب میں اضافہ،آپ کی اپنی امت کے حق میں شفاعت کو قبول کرنے کی درخواست کرنا،اور مقام محمود کے ذریعے آپ کی فضیلت کو ظاہر کرنا ہے تو اس لحاظ سے اللہ کا یہ فرمان کہ تم اپنے نبی پر درود بھیجو کا معنی یہ ہوا کہ تم اپنے رب سے دعاکرو کہ وہ آپﷺ عظمت عطافرمائے۔سبحان اللہ۔(فتح الباری:11/156) اللھم صل وسلم علی نبینا محمدﷺ۔



اب آخر میں اللہ رب العزت سے دعا گوہوں کہ اے الہ العالمین تو ہم سب کو زیادہ سے زیادہ اپنے محبوبﷺ پر درودوسلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما۔آمین ثم آمین ۔یارب العالمین۔



کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی​
 

اٹیچمنٹس

Top