- شمولیت
- ستمبر 13، 2026
- پیغامات
- 17
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 6
معاشرتی بگاڑ میں والدین کی غفلت کا کردار قرآن و حدیث کی روشنی میں
تحریر ! شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری
معاشرہ افراد سے بنتا ہے، افراد کی تعمیر خاندان کے اندر ہوتی ہے، اور خاندان کی اصلاح و تربیت میں والدین بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ، والدین اس کے پہلے استاد اور ان کا کردار اس کی ابتدائی تربیت کا سب سے اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ بچہ دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد سب سے پہلے اپنے والدین کو دیکھتا، ان کی باتیں سنتا، ان کے اخلاق سے متاثر ہوتا اور ان کے طرزِ زندگی سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔
اگر والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اولاد کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کریں تو یہی بچے مستقبل میں معاشرے کے مفید، صالح اور ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں۔ لیکن جب والدین اپنی اولاد کی تربیت سے غافل ہو جائیں، انہیں محض کھانے پینے، لباس، تعلیم اور دنیاوی آسائشوں کی فراہمی تک محدود سمجھیں، تو اس غفلت کے اثرات صرف گھر تک محدود نہیں رہتے، بلکہ رفتہ رفتہ پورا معاشرہ اس سے متاثر ہونے لگتا ہے۔
آج معاشرے میں جھوٹ، بددیانتی، بے حیائی، بدزبانی، والدین کی نافرمانی، اساتذہ کی بے ادبی، منشیات، نشے کی مختلف صورتوں، سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور دینی اقدار سے دوری جیسے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ان کے مختلف اسباب کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان اسباب میں والدین کی تربیتی غفلت بھی ایک اہم سبب ہے۔ تاہم یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار صرف والدین کو قرار نہیں دیا جا سکتا؛ تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، معاشرتی ماحول، دوستوں اور خود فرد کے انتخاب کا بھی اپنا کردار ہوتا ہے۔
اسلام نے والدین کو اولاد کے سلسلے میں بڑی ذمہ داری سونپی ہے۔ اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ہے اور امانت بھی۔ اس امانت کا حق صرف اس کی جسمانی ضروریات پوری کر دینا نہیں، بلکہ اس کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت کرنا بھی ہے۔
1۔ اولاد کی تربیت والدین کی شرعی ذمہ داری ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔‘‘
(سورۃ التحریم: 6)
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ خود بھی جہنم سے بچنے کی کوشش کریں اور اپنے اہل و عیال کی نجات کے لیے بھی مناسب تدابیر اختیار کریں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے:
عَلِّمُوهُمْ وَأَدِّبُوهُمْ
ترجمہ: ’’انہیں تعلیم دو اور ان کی تربیت کرو۔‘‘
حوالہ: تفسیر الطبری، تفسیر سورۃ التحریم، آیت 6۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ خانہ کی اصلاح میں تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
والدین کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ بچوں کو اچھے اسکول میں داخل کرائیں، ان کے لیے اچھے کپڑوں اور کھانے کا انتظام کریں اور ان کے مستقبل کے لیے مال جمع کریں، بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید، نماز، قرآن، اچھے اخلاق، سچائی، امانت داری، حیا اور حقوق العباد کی تعلیم دینا بھی ضروری ہے۔
اگر والدین اولاد کی دنیا بنانے کے لیے دن رات محنت کریں، لیکن اس کی آخرت کی فکر نہ کریں تو ان کی تربیت کا ایک بنیادی پہلو تشنہ رہ جاتا ہے۔
2۔ اولاد کے بارے میں والدین سے باز پرس ہوگی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
ترجمہ: ’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘
(صحیح البخاری: 893؛ صحیح مسلم: 1829)
یہ حدیث والدین کی ذمہ داری کو واضح کرتی ہے۔ گھر کے سربراہ اور گھر کی نگراں، دونوں اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں جواب دہ ہیں۔
والدین سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ انہوں نے اولاد کو کتنا مہنگا لباس پہنایا، کتنی بڑی عمارت میں رکھا یا کتنا مال جمع کرکے دیا؛ بلکہ ان کی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے اولاد کی تربیت کے لیے کیا کوشش کی، انہیں نیکی کی طرف کس طرح بلایا، برائی سے بچانے کے لیے کیا تدابیر اختیار کیں اور اپنے قول و عمل سے انہیں کیا نمونہ پیش کیا۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے: والدین اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے مکلف ہیں، وہ اولاد کے ہر عمل پر مکمل اختیار نہیں رکھتے۔ اگر والدین نے اخلاص کے ساتھ درست تربیت کی کوشش کی اور اس کے باوجود اولاد نے غلط راستہ اختیار کیا تو محض اس نتیجے کی بنا پر والدین کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
3۔ والدین کی غفلت اور اولاد کی دینی تربیت سے محرومی
معاشرتی بگاڑ کی ایک اہم صورت یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے تو منصوبہ بندی کی جاتی ہے، لیکن ان کی دینی تعلیم و تربیت کو غیر ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔
بعض والدین بچوں کے امتحانات، نمبروں، ملازمت اور کاروبار کے بارے میں بہت فکر مند رہتے ہیں، لیکن انہیں نماز کی پابندی، قرآن مجید کی تلاوت، سچ بولنے اور حرام سے بچنے کی تعلیم دینے میں مطلوبہ توجہ نہیں دیتے۔
نتیجتاً بعض بچے دنیاوی اعتبار سے کامیاب ہونے کے باوجود اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں کا ذکر فرمایا ہے:
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ
ترجمہ: ’’اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو۔‘‘
(سورۃ لقمان: 17)
غور کیجیے کہ حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو صرف دنیاوی کامیابی کے طریقے نہیں سکھاتے، بلکہ نماز، دعوت، اصلاح اور صبر کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔
یہی وہ تربیتی شعور ہے جس کی آج کے گھروں میں ضرورت ہے۔
4۔ والدین کے قول و عمل میں تضاد
بچوں کی تربیت میں والدین کا اپنا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ اگر والدین بچوں کو سچ بولنے کی نصیحت کریں، لیکن خود جھوٹ بولیں؛ انہیں نماز کی تاکید کریں، لیکن خود نماز میں غفلت برتیں؛ انہیں بدزبانی سے روکیں، لیکن گھر میں خود گالم گلوچ کریں، تو ان کی نصیحت کا اثر کمزور پڑ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔‘‘
(سورۃ الصف: 2-3)
اگرچہ ان آیات کا سیاق اہلِ ایمان کو قول و عمل کے تضاد سے روکتا ہے، لیکن ان میں بیان کردہ اصول والدین کی تربیت کے لیے بھی ایک اہم سبق رکھتا ہے۔
بچے صرف نصیحتوں سے نہیں، بلکہ مشاہدے اور عملی نمونے سے بھی سیکھتے ہیں۔ اس لیے والدین کو اپنی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
5۔ بچوں کو وقت نہ دینا اور تربیت کو دوسروں کے حوالے کر دینا
آج بہت سے والدین روزگار، کاروبار اور دیگر مصروفیات میں اس قدر مشغول ہو جاتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ بیٹھنے، ان کی بات سننے اور ان کے مسائل سمجھنے کے لیے مناسب وقت نہیں نکال پاتے۔
بعض گھروں میں بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وسائل تو موجود ہوتے ہیں، لیکن ان کی جذباتی، اخلاقی اور دینی ضروریات پر توجہ کم ہوتی ہے۔
بچہ اگر گھر میں اپنی بات کہنے کے لیے کسی کو تیار نہ پائے تو وہ اپنی الجھنوں کے حل کے لیے دوستوں، انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کا رخ کر سکتا ہے۔ وہاں اسے اچھی رہنمائی بھی مل سکتی ہے، لیکن نامناسب مواد اور نقصان دہ صحبت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کے ساتھ ضرور گزاریں، ان کے سوالات سنیں، ان کی دلچسپیوں کو سمجھیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جس میں بچے خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنی بات کہہ سکیں۔
یاد رکھیے! بچے کو صرف گھر میں موجود والدین نہیں چاہییں، بلکہ ایسے والدین بھی چاہییں جو اس کی بات سنیں، اس کی رہنمائی کریں اور ضرورت کے وقت اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
6۔ موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال میں غفلت
موبائل فون اور انٹرنیٹ بذاتِ خود برے نہیں ہیں۔ ان کے ذریعے تعلیم، دعوت، رابطے اور مفید معلومات کے حصول کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ لیکن ان کا بے نگرانی اور غیر ذمہ دارانہ استعمال بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
اگر بچوں کو کم عمری ہی سے بغیر کسی رہنمائی کے ہر قسم کے مواد تک رسائی دے دی جائے تو ان کے سامنے بے حیائی، تشدد، بدزبانی، دھوکا دہی اور دوسری نامناسب چیزیں آ سکتی ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
ترجمہ: ’’مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘
(سورۃ النور: 30)
یہ حکم بالغ مردوں کے لیے بھی ہے اور اس سے والدین کو اپنی اور اپنی اولاد کی نگاہوں اور اخلاق کی حفاظت کے بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں کی عمر کے مطابق اسکرین ٹائم مقرر کریں، نامناسب مواد سے حفاظت کے لیے مناسب انتظامات کریں، خود بھی موبائل کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور بچوں کو یہ سمجھائیں کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز قابلِ اعتماد یا جائز نہیں ہوتی۔
صرف موبائل چھین لینا کافی نہیں؛ بچوں میں صحیح اور غلط کی پہچان پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
7۔ بری صحبت سے حفاظت میں غفلت
انسان کے اخلاق اور عادات پر اس کے دوستوں اور ماحول کا اثر پڑتا ہے۔ اگر بچہ مسلسل ایسے لوگوں کی صحبت میں رہے جو جھوٹ، بدزبانی، نشہ، بے حیائی یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کو معمولی سمجھتے ہوں، تو اس کے متاثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ
ترجمہ: ’’اچھے اور برے ہم نشین کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔‘‘
(صحیح البخاری: 5534؛ صحیح مسلم: 2628)
اس حدیث میں نیک اور برے ساتھی کے اثرات کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے دوستوں سے واقف رہیں، ان کی سرگرمیوں پر مناسب توجہ دیں اور انہیں اچھے دوست منتخب کرنے کی تربیت دیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دوست پر بلاوجہ بدگمانی کی جائے یا بچے کی نگرانی کے نام پر اس کی ہر جائز سرگرمی محدود کر دی جائے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اعتماد، گفتگو اور حکمت کے ساتھ رہنمائی کی جائے۔
8۔ اولاد کے درمیان ناانصافی اور امتیازی سلوک
والدین کی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کریں۔ کسی ایک بچے کو بلاجواز ترجیح دینا، دوسرے کو مسلسل نظر انداز کرنا یا بچوں کے درمیان تحقیر آمیز موازنہ کرنا خاندانی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ایک عطیہ دینا چاہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:
أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا؟
ترجمہ: ’’کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟‘‘
انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ
ترجمہ: ’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔‘‘
(صحیح البخاری: 2587؛ صحیح مسلم: 1623)
اس حدیث سے اولاد کے درمیان عدل کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
جب گھر میں انصاف، محبت اور احترام کا ماحول ہو تو بچوں کے لیے باہمی اعتماد اور ذمہ داری سیکھنا آسان ہوتا ہے۔ البتہ بچوں کی عمروں، ضروریات اور حالات میں فرق ہو سکتا ہے؛ اس لیے عدل کا تقاضا ہر صورت میں یکساں برتاؤ کے بجائے حکمت کے ساتھ منصفانہ معاملہ کرنا ہے۔
9۔ تربیت میں سختی، تحقیر اور مارپیٹ کا غلط استعمال
جس طرح بے جا نرمی نقصان دہ ہو سکتی ہے، اسی طرح غیر ضروری سختی، مسلسل ڈانٹ ڈپٹ، تذلیل اور تشدد بھی بچوں کی تربیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بعض والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کو خوف زدہ رکھنا ہی تربیت ہے، حالاں کہ حقیقی تربیت میں محبت، حکمت، مناسب حدود، وضاحت اور جواب دہی سب شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی نرمی کو لوگوں کے آپ کے گرد جمع رہنے کا ایک سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ
ترجمہ: ’’پس اللہ کی رحمت ہی سے آپ ان کے لیے نرم خو ہوئے، اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔‘‘
(سورۃ آل عمران: 159)
یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے طرزِ دعوت کے بارے میں ہے، لیکن نرمی اور حسنِ سلوک کا یہ اصول والدین کے لیے بھی اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ غلطی پر بچے کو سمجھائیں، اس کے عمل کے نتائج واضح کریں اور مناسب حدود قائم کریں۔ بچے کی شخصیت کو حقیر سمجھنے کے بجائے اس کے غلط عمل کی اصلاح کریں۔
10۔ نکاح، خاندان اور گھر کے ماحول سے متعلق تربیتی غفلت
اولاد کی تربیت کا تعلق صرف بچے سے نہیں، بلکہ پورے خاندانی ماحول سے ہوتا ہے۔ گھر میں اگر مسلسل جھگڑے، گالم گلوچ، جھوٹ، دھوکا، ایک دوسرے کی تحقیر اور حقوق کی پامالی ہو تو بچوں کے لیے اس ماحول سے متاثر ہوئے بغیر رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اس لیے والدین کو چاہیے کہ اختلافات کو حکمت اور احترام کے ساتھ حل کریں، بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی تذلیل سے بچیں اور گھر کو امن، عبادت، گفتگو اور باہمی تعاون کا مرکز بنائیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ والدین کو ہر اختلاف بچوں سے چھپانے کے لیے مصنوعی رویہ اختیار کرنا چاہیے؛ بلکہ بچوں کے سامنے اختلاف حل کرنے کا مہذب طریقہ پیش کرنا بھی ان کی تربیت کا حصہ ہے۔
جب بچہ دیکھتا ہے کہ گھر کے افراد غلطی تسلیم کرتے ہیں، معافی مانگتے ہیں، وعدہ پورا کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، تو اسے عملی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اچھے اخلاق زندگی میں کیسے اختیار کیے جاتے ہیں۔
11۔ والدین کی غفلت کا ازالہ کیسے کیا جائے؟
معاشرتی اصلاح کے لیے صرف والدین پر تنقید کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے اور تربیت کے عملی طریقے بھی بتائے جائیں۔
چند اہم تدابیر درج ذیل ہیں:
1۔ گھر میں قرآن و سنت کی تعلیم کا اہتمام: روزانہ کچھ وقت قرآن مجید کی تلاوت، ترجمہ اور مختصر دینی گفتگو کے لیے مقرر کیا جائے۔
2۔ نماز کی پابندی: والدین خود نماز کے پابند بنیں اور بچوں کو محبت و حکمت کے ساتھ نماز کی عادت ڈالیں۔
3۔ اچھے اخلاق کی عملی تربیت: سچائی، امانت داری، وعدے کی پابندی، احترام اور معافی مانگنے کی عادت گھر سے شروع کی جائے۔
4۔ بچوں کے لیے وقت نکالنا: روزانہ بچوں سے ان کے دن، دوستوں، تعلیم، پریشانیوں اور سوالات کے بارے میں گفتگو کی جائے۔
5۔ موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال میں رہنمائی: عمر کے مطابق حدود مقرر کی جائیں اور مفید ڈیجیٹل سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
6۔ اچھی صحبت کا انتظام: بچوں کو صالح دوستوں، مفید تعلیمی حلقوں، مساجد اور مناسب تربیتی سرگرمیوں سے جوڑا جائے۔
7۔ اساتذہ کے ساتھ رابطہ: والدین بچوں کی تعلیمی اور اخلاقی پیش رفت کے بارے میں اساتذہ سے رابطے میں رہیں۔
8۔ محبت اور نظم و ضبط میں توازن: نہ بچوں کو مکمل طور پر بے لگام چھوڑا جائے اور نہ ہر معاملے میں غیر ضروری سختی اختیار کی جائے۔
9۔ بچوں کے ساتھ عدل: ان کی ضروریات اور حالات کو سمجھتے ہوئے منصفانہ برتاؤ کیا جائے۔
10۔ والدین کی اپنی اصلاح: والدین اپنی عبادات، اخلاق، گفتگو اور معاملات کا جائزہ لیتے رہیں، کیونکہ عملی نمونہ تربیت کا مؤثر ذریعہ ہے۔
11۔ دعا کا اہتمام: والدین اپنی اولاد کے لیے ہدایت، صلاح اور تقویٰ کی دعا کریں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی دعا نقل فرمائی ہے:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
ترجمہ: ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا۔‘‘
(سورۃ الفرقان: 74)
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ نیک اولاد کی خواہش کے ساتھ اس کی تربیت کے لیے کوشش اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا بھی ضروری ہے۔
اختتامیہ
معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کے لیے خاندان کی اصلاح بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اور خاندان کی اصلاح میں والدین کا کردار نہایت اہم ہے۔ جب والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اولاد کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کرتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات گھر سے نکل کر معاشرے تک پہنچ سکتے ہیں۔
لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔ اس میں صرف نصیحت کافی نہیں، بلکہ محبت، عملی نمونہ، مناسب نگرانی، حکمت، صبر اور دعا سب کی ضرورت ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف دنیا میں کامیاب دیکھنے کی فکر نہ کریں، بلکہ انہیں اچھا انسان، ذمہ دار فرد، بااخلاق مسلمان اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا بننے میں بھی مدد دیں۔
معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے: والدین گھر میں، اساتذہ تعلیمی اداروں میں، علما و داعیان اصلاحی میدان میں اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اپنے اپنے دائرے میں۔
یاد رکھیے! اولاد کی تربیت میں آج کی سنجیدہ کوشش کل کے معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تحریر ! شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری
معاشرہ افراد سے بنتا ہے، افراد کی تعمیر خاندان کے اندر ہوتی ہے، اور خاندان کی اصلاح و تربیت میں والدین بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ، والدین اس کے پہلے استاد اور ان کا کردار اس کی ابتدائی تربیت کا سب سے اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ بچہ دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد سب سے پہلے اپنے والدین کو دیکھتا، ان کی باتیں سنتا، ان کے اخلاق سے متاثر ہوتا اور ان کے طرزِ زندگی سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔
اگر والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اولاد کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کریں تو یہی بچے مستقبل میں معاشرے کے مفید، صالح اور ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں۔ لیکن جب والدین اپنی اولاد کی تربیت سے غافل ہو جائیں، انہیں محض کھانے پینے، لباس، تعلیم اور دنیاوی آسائشوں کی فراہمی تک محدود سمجھیں، تو اس غفلت کے اثرات صرف گھر تک محدود نہیں رہتے، بلکہ رفتہ رفتہ پورا معاشرہ اس سے متاثر ہونے لگتا ہے۔
آج معاشرے میں جھوٹ، بددیانتی، بے حیائی، بدزبانی، والدین کی نافرمانی، اساتذہ کی بے ادبی، منشیات، نشے کی مختلف صورتوں، سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور دینی اقدار سے دوری جیسے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ان کے مختلف اسباب کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان اسباب میں والدین کی تربیتی غفلت بھی ایک اہم سبب ہے۔ تاہم یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار صرف والدین کو قرار نہیں دیا جا سکتا؛ تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، معاشرتی ماحول، دوستوں اور خود فرد کے انتخاب کا بھی اپنا کردار ہوتا ہے۔
اسلام نے والدین کو اولاد کے سلسلے میں بڑی ذمہ داری سونپی ہے۔ اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ہے اور امانت بھی۔ اس امانت کا حق صرف اس کی جسمانی ضروریات پوری کر دینا نہیں، بلکہ اس کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت کرنا بھی ہے۔
1۔ اولاد کی تربیت والدین کی شرعی ذمہ داری ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔‘‘
(سورۃ التحریم: 6)
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ خود بھی جہنم سے بچنے کی کوشش کریں اور اپنے اہل و عیال کی نجات کے لیے بھی مناسب تدابیر اختیار کریں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے:
عَلِّمُوهُمْ وَأَدِّبُوهُمْ
ترجمہ: ’’انہیں تعلیم دو اور ان کی تربیت کرو۔‘‘
حوالہ: تفسیر الطبری، تفسیر سورۃ التحریم، آیت 6۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ خانہ کی اصلاح میں تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
والدین کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ بچوں کو اچھے اسکول میں داخل کرائیں، ان کے لیے اچھے کپڑوں اور کھانے کا انتظام کریں اور ان کے مستقبل کے لیے مال جمع کریں، بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید، نماز، قرآن، اچھے اخلاق، سچائی، امانت داری، حیا اور حقوق العباد کی تعلیم دینا بھی ضروری ہے۔
اگر والدین اولاد کی دنیا بنانے کے لیے دن رات محنت کریں، لیکن اس کی آخرت کی فکر نہ کریں تو ان کی تربیت کا ایک بنیادی پہلو تشنہ رہ جاتا ہے۔
2۔ اولاد کے بارے میں والدین سے باز پرس ہوگی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
ترجمہ: ’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘
(صحیح البخاری: 893؛ صحیح مسلم: 1829)
یہ حدیث والدین کی ذمہ داری کو واضح کرتی ہے۔ گھر کے سربراہ اور گھر کی نگراں، دونوں اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں جواب دہ ہیں۔
والدین سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ انہوں نے اولاد کو کتنا مہنگا لباس پہنایا، کتنی بڑی عمارت میں رکھا یا کتنا مال جمع کرکے دیا؛ بلکہ ان کی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے اولاد کی تربیت کے لیے کیا کوشش کی، انہیں نیکی کی طرف کس طرح بلایا، برائی سے بچانے کے لیے کیا تدابیر اختیار کیں اور اپنے قول و عمل سے انہیں کیا نمونہ پیش کیا۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے: والدین اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے مکلف ہیں، وہ اولاد کے ہر عمل پر مکمل اختیار نہیں رکھتے۔ اگر والدین نے اخلاص کے ساتھ درست تربیت کی کوشش کی اور اس کے باوجود اولاد نے غلط راستہ اختیار کیا تو محض اس نتیجے کی بنا پر والدین کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
3۔ والدین کی غفلت اور اولاد کی دینی تربیت سے محرومی
معاشرتی بگاڑ کی ایک اہم صورت یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے تو منصوبہ بندی کی جاتی ہے، لیکن ان کی دینی تعلیم و تربیت کو غیر ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔
بعض والدین بچوں کے امتحانات، نمبروں، ملازمت اور کاروبار کے بارے میں بہت فکر مند رہتے ہیں، لیکن انہیں نماز کی پابندی، قرآن مجید کی تلاوت، سچ بولنے اور حرام سے بچنے کی تعلیم دینے میں مطلوبہ توجہ نہیں دیتے۔
نتیجتاً بعض بچے دنیاوی اعتبار سے کامیاب ہونے کے باوجود اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں کا ذکر فرمایا ہے:
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ
ترجمہ: ’’اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو۔‘‘
(سورۃ لقمان: 17)
غور کیجیے کہ حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو صرف دنیاوی کامیابی کے طریقے نہیں سکھاتے، بلکہ نماز، دعوت، اصلاح اور صبر کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔
یہی وہ تربیتی شعور ہے جس کی آج کے گھروں میں ضرورت ہے۔
4۔ والدین کے قول و عمل میں تضاد
بچوں کی تربیت میں والدین کا اپنا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ اگر والدین بچوں کو سچ بولنے کی نصیحت کریں، لیکن خود جھوٹ بولیں؛ انہیں نماز کی تاکید کریں، لیکن خود نماز میں غفلت برتیں؛ انہیں بدزبانی سے روکیں، لیکن گھر میں خود گالم گلوچ کریں، تو ان کی نصیحت کا اثر کمزور پڑ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔‘‘
(سورۃ الصف: 2-3)
اگرچہ ان آیات کا سیاق اہلِ ایمان کو قول و عمل کے تضاد سے روکتا ہے، لیکن ان میں بیان کردہ اصول والدین کی تربیت کے لیے بھی ایک اہم سبق رکھتا ہے۔
بچے صرف نصیحتوں سے نہیں، بلکہ مشاہدے اور عملی نمونے سے بھی سیکھتے ہیں۔ اس لیے والدین کو اپنی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
5۔ بچوں کو وقت نہ دینا اور تربیت کو دوسروں کے حوالے کر دینا
آج بہت سے والدین روزگار، کاروبار اور دیگر مصروفیات میں اس قدر مشغول ہو جاتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ بیٹھنے، ان کی بات سننے اور ان کے مسائل سمجھنے کے لیے مناسب وقت نہیں نکال پاتے۔
بعض گھروں میں بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وسائل تو موجود ہوتے ہیں، لیکن ان کی جذباتی، اخلاقی اور دینی ضروریات پر توجہ کم ہوتی ہے۔
بچہ اگر گھر میں اپنی بات کہنے کے لیے کسی کو تیار نہ پائے تو وہ اپنی الجھنوں کے حل کے لیے دوستوں، انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کا رخ کر سکتا ہے۔ وہاں اسے اچھی رہنمائی بھی مل سکتی ہے، لیکن نامناسب مواد اور نقصان دہ صحبت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کے ساتھ ضرور گزاریں، ان کے سوالات سنیں، ان کی دلچسپیوں کو سمجھیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جس میں بچے خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنی بات کہہ سکیں۔
یاد رکھیے! بچے کو صرف گھر میں موجود والدین نہیں چاہییں، بلکہ ایسے والدین بھی چاہییں جو اس کی بات سنیں، اس کی رہنمائی کریں اور ضرورت کے وقت اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
6۔ موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال میں غفلت
موبائل فون اور انٹرنیٹ بذاتِ خود برے نہیں ہیں۔ ان کے ذریعے تعلیم، دعوت، رابطے اور مفید معلومات کے حصول کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ لیکن ان کا بے نگرانی اور غیر ذمہ دارانہ استعمال بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
اگر بچوں کو کم عمری ہی سے بغیر کسی رہنمائی کے ہر قسم کے مواد تک رسائی دے دی جائے تو ان کے سامنے بے حیائی، تشدد، بدزبانی، دھوکا دہی اور دوسری نامناسب چیزیں آ سکتی ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
ترجمہ: ’’مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘
(سورۃ النور: 30)
یہ حکم بالغ مردوں کے لیے بھی ہے اور اس سے والدین کو اپنی اور اپنی اولاد کی نگاہوں اور اخلاق کی حفاظت کے بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں کی عمر کے مطابق اسکرین ٹائم مقرر کریں، نامناسب مواد سے حفاظت کے لیے مناسب انتظامات کریں، خود بھی موبائل کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور بچوں کو یہ سمجھائیں کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز قابلِ اعتماد یا جائز نہیں ہوتی۔
صرف موبائل چھین لینا کافی نہیں؛ بچوں میں صحیح اور غلط کی پہچان پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
7۔ بری صحبت سے حفاظت میں غفلت
انسان کے اخلاق اور عادات پر اس کے دوستوں اور ماحول کا اثر پڑتا ہے۔ اگر بچہ مسلسل ایسے لوگوں کی صحبت میں رہے جو جھوٹ، بدزبانی، نشہ، بے حیائی یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کو معمولی سمجھتے ہوں، تو اس کے متاثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ
ترجمہ: ’’اچھے اور برے ہم نشین کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔‘‘
(صحیح البخاری: 5534؛ صحیح مسلم: 2628)
اس حدیث میں نیک اور برے ساتھی کے اثرات کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے دوستوں سے واقف رہیں، ان کی سرگرمیوں پر مناسب توجہ دیں اور انہیں اچھے دوست منتخب کرنے کی تربیت دیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دوست پر بلاوجہ بدگمانی کی جائے یا بچے کی نگرانی کے نام پر اس کی ہر جائز سرگرمی محدود کر دی جائے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اعتماد، گفتگو اور حکمت کے ساتھ رہنمائی کی جائے۔
8۔ اولاد کے درمیان ناانصافی اور امتیازی سلوک
والدین کی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کریں۔ کسی ایک بچے کو بلاجواز ترجیح دینا، دوسرے کو مسلسل نظر انداز کرنا یا بچوں کے درمیان تحقیر آمیز موازنہ کرنا خاندانی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ایک عطیہ دینا چاہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:
أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا؟
ترجمہ: ’’کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟‘‘
انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ
ترجمہ: ’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔‘‘
(صحیح البخاری: 2587؛ صحیح مسلم: 1623)
اس حدیث سے اولاد کے درمیان عدل کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
جب گھر میں انصاف، محبت اور احترام کا ماحول ہو تو بچوں کے لیے باہمی اعتماد اور ذمہ داری سیکھنا آسان ہوتا ہے۔ البتہ بچوں کی عمروں، ضروریات اور حالات میں فرق ہو سکتا ہے؛ اس لیے عدل کا تقاضا ہر صورت میں یکساں برتاؤ کے بجائے حکمت کے ساتھ منصفانہ معاملہ کرنا ہے۔
9۔ تربیت میں سختی، تحقیر اور مارپیٹ کا غلط استعمال
جس طرح بے جا نرمی نقصان دہ ہو سکتی ہے، اسی طرح غیر ضروری سختی، مسلسل ڈانٹ ڈپٹ، تذلیل اور تشدد بھی بچوں کی تربیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بعض والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کو خوف زدہ رکھنا ہی تربیت ہے، حالاں کہ حقیقی تربیت میں محبت، حکمت، مناسب حدود، وضاحت اور جواب دہی سب شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی نرمی کو لوگوں کے آپ کے گرد جمع رہنے کا ایک سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ
ترجمہ: ’’پس اللہ کی رحمت ہی سے آپ ان کے لیے نرم خو ہوئے، اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔‘‘
(سورۃ آل عمران: 159)
یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے طرزِ دعوت کے بارے میں ہے، لیکن نرمی اور حسنِ سلوک کا یہ اصول والدین کے لیے بھی اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ غلطی پر بچے کو سمجھائیں، اس کے عمل کے نتائج واضح کریں اور مناسب حدود قائم کریں۔ بچے کی شخصیت کو حقیر سمجھنے کے بجائے اس کے غلط عمل کی اصلاح کریں۔
10۔ نکاح، خاندان اور گھر کے ماحول سے متعلق تربیتی غفلت
اولاد کی تربیت کا تعلق صرف بچے سے نہیں، بلکہ پورے خاندانی ماحول سے ہوتا ہے۔ گھر میں اگر مسلسل جھگڑے، گالم گلوچ، جھوٹ، دھوکا، ایک دوسرے کی تحقیر اور حقوق کی پامالی ہو تو بچوں کے لیے اس ماحول سے متاثر ہوئے بغیر رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اس لیے والدین کو چاہیے کہ اختلافات کو حکمت اور احترام کے ساتھ حل کریں، بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی تذلیل سے بچیں اور گھر کو امن، عبادت، گفتگو اور باہمی تعاون کا مرکز بنائیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ والدین کو ہر اختلاف بچوں سے چھپانے کے لیے مصنوعی رویہ اختیار کرنا چاہیے؛ بلکہ بچوں کے سامنے اختلاف حل کرنے کا مہذب طریقہ پیش کرنا بھی ان کی تربیت کا حصہ ہے۔
جب بچہ دیکھتا ہے کہ گھر کے افراد غلطی تسلیم کرتے ہیں، معافی مانگتے ہیں، وعدہ پورا کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، تو اسے عملی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اچھے اخلاق زندگی میں کیسے اختیار کیے جاتے ہیں۔
11۔ والدین کی غفلت کا ازالہ کیسے کیا جائے؟
معاشرتی اصلاح کے لیے صرف والدین پر تنقید کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے اور تربیت کے عملی طریقے بھی بتائے جائیں۔
چند اہم تدابیر درج ذیل ہیں:
1۔ گھر میں قرآن و سنت کی تعلیم کا اہتمام: روزانہ کچھ وقت قرآن مجید کی تلاوت، ترجمہ اور مختصر دینی گفتگو کے لیے مقرر کیا جائے۔
2۔ نماز کی پابندی: والدین خود نماز کے پابند بنیں اور بچوں کو محبت و حکمت کے ساتھ نماز کی عادت ڈالیں۔
3۔ اچھے اخلاق کی عملی تربیت: سچائی، امانت داری، وعدے کی پابندی، احترام اور معافی مانگنے کی عادت گھر سے شروع کی جائے۔
4۔ بچوں کے لیے وقت نکالنا: روزانہ بچوں سے ان کے دن، دوستوں، تعلیم، پریشانیوں اور سوالات کے بارے میں گفتگو کی جائے۔
5۔ موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال میں رہنمائی: عمر کے مطابق حدود مقرر کی جائیں اور مفید ڈیجیٹل سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
6۔ اچھی صحبت کا انتظام: بچوں کو صالح دوستوں، مفید تعلیمی حلقوں، مساجد اور مناسب تربیتی سرگرمیوں سے جوڑا جائے۔
7۔ اساتذہ کے ساتھ رابطہ: والدین بچوں کی تعلیمی اور اخلاقی پیش رفت کے بارے میں اساتذہ سے رابطے میں رہیں۔
8۔ محبت اور نظم و ضبط میں توازن: نہ بچوں کو مکمل طور پر بے لگام چھوڑا جائے اور نہ ہر معاملے میں غیر ضروری سختی اختیار کی جائے۔
9۔ بچوں کے ساتھ عدل: ان کی ضروریات اور حالات کو سمجھتے ہوئے منصفانہ برتاؤ کیا جائے۔
10۔ والدین کی اپنی اصلاح: والدین اپنی عبادات، اخلاق، گفتگو اور معاملات کا جائزہ لیتے رہیں، کیونکہ عملی نمونہ تربیت کا مؤثر ذریعہ ہے۔
11۔ دعا کا اہتمام: والدین اپنی اولاد کے لیے ہدایت، صلاح اور تقویٰ کی دعا کریں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی دعا نقل فرمائی ہے:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
ترجمہ: ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا۔‘‘
(سورۃ الفرقان: 74)
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ نیک اولاد کی خواہش کے ساتھ اس کی تربیت کے لیے کوشش اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا بھی ضروری ہے۔
اختتامیہ
معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کے لیے خاندان کی اصلاح بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اور خاندان کی اصلاح میں والدین کا کردار نہایت اہم ہے۔ جب والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اولاد کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کرتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات گھر سے نکل کر معاشرے تک پہنچ سکتے ہیں۔
لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔ اس میں صرف نصیحت کافی نہیں، بلکہ محبت، عملی نمونہ، مناسب نگرانی، حکمت، صبر اور دعا سب کی ضرورت ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف دنیا میں کامیاب دیکھنے کی فکر نہ کریں، بلکہ انہیں اچھا انسان، ذمہ دار فرد، بااخلاق مسلمان اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا بننے میں بھی مدد دیں۔
معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے: والدین گھر میں، اساتذہ تعلیمی اداروں میں، علما و داعیان اصلاحی میدان میں اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اپنے اپنے دائرے میں۔
یاد رکھیے! اولاد کی تربیت میں آج کی سنجیدہ کوشش کل کے معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔