عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,539
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
منحۃ الباری شرح صحیح البخاری جلد اول
مصنف
محمد رمضان یوسف سلفی
تبصرہ
امام بخاری رحمہ اللہ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری رحمہ اللہ نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شمار اہل علم اور ائمہ حدیث نے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کو فوقیت حاصل ہے ۔ برصغیر میں متعدد علمائے کرام نے صحیح بخاری کے تراجم ،فوائد اور شروحات لکھی ہیں ۔جن میں علامہ وحید الزمان اور مولانا داؤد راز رحمہما اللہ کے تراجم و فوائد قابل ذکر ہیں ۔ شیخ الحدیث مولانا عبد الحلیم رحمہ اللہ کی ’’توفیق الباری شرح صحیح بخاری ‘‘ ، مفتی جماعت شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد حفظہ اللہ کی’’ ہدایۃ القاری شرح صحیح بخاری ‘‘اور شیخ الحدیث و التفسیر حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی رحمہ اللہ کی ’’ فتح السلام بشرح صحیح البخاری الامام ‘‘کے نام سے نئی شروح بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔بھٹوی صاحب کی شرح بخاری اردو زبان میں لکھی جانے والی شروحات میں سے ان کی شرح کئی لحاظ سے منفرد اور نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ منحۃ الباری شرح صحیح البخاری‘‘استاذی المکرم جامع المعقول و المنقول استاذ الاساتذہ محمد رمضان سلفی حفظہ اللہ(تلمیذ رشید محدث زماں حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ،شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ ) کی کاوش ہے جسے انہوں نے اپنے استاد گرامی حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کے افادات سے استفادہ کر کے اس شرح کو مرتب کیا ہے ۔شیخ رمضان سلفی حفظہ اللہ کو 1977ء میں جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں محدث گوندلوی رحمہ اللہ سے استفادہ کا موقع میسر ہوا ۔ شیخ رمضان سلفی صاحب محدث گوندلوی رحمہ اللہ کے علمی دروس کو نوٹ کرتے رہے اور ان مسودات کو اپنے پاس محفوظ رکھا اور دوران تدریس ان مسودات سے استفادہ کرتے رہے ۔بالآخر جامعہ لاہور الاسلامیہ میں صحیح بخاری کی تدریس کے دوران اپنے استاد گرامی کے افادات کو کتابی صورت میں مرتب کرنے کا آغاز کیا ۔مقدمے میں علوم حدیث اور حجیت حدیث کے متعلق ابحاث پیش کرنے کے علاوہ محدث گوندلوی رحمہ اللہ کے اور اپنے مختصر حالات زندگی پیش کیے ہیں ۔شیخ رمضان سلفی حفظہ اللہ نے جہاں اس شرح کو مرتب و مدون کیا ہے وہاں کئی ایک مقامات پر نہایت قیمتی تعلیقات، اضافہ و تخریج سے اس شرح کو مزین کیا ہے۔ یہ شرح طلبہ، اساتذہ، خطباء اور طلباء کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہے۔ کتاب کا اسلوب تحقیقی ہونے کے ساتھ ساتھ عام قاری کے لیے بھی قابلِ فہم ہے۔ کتاب کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں روایات کی تشریح کے ساتھ دیگر ائمہ محدثین کے اقوال، مختلف فقہی مکاتبِ فکر کے دلائل پیش کیے گیے ہیں ۔ الحمد للہ شیخ رمضان سلفی صاحب اس شرح کی تکمیل کر چکے ہیں ۔جن میں سے13؍جلدیں پرنٹ ہو چکی ہیں شاید آخری جلد کی پرنٹنگ ابھی باقی ہے۔یاد رہے اس ضخیم شرح کے ناشر شیخ خود ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ شیخ کی اس کاوش کو قبول فرمائے ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور انہیں صحت و عافیت ، ایمان و سلامتی والی لمبی زندگی دے ،ان کی تدریسی و دعوتی اور تصنیفی جہود کو قبول فرمائے ۔آمین (م۔ا)