• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منشیات بم

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
منشیات بم


جاوید چوہدری

شاہ میر 21 سال کا خوبصورت نوجوان تھا‘ والد بزنس مین ہیں‘ کراچی میں رہتے ہیں‘ یہ لمز لاہور میں بی سی ایس آنرز کا طالب علم تھا‘ یہ 9 دسمبر جمعہ کی شام ہاسٹل سے نکلا اور اتوار 11 دسمبر کو واپس آیا‘ کمرے میں گیا اور اگلی صبح باہر نہ نکلا‘ انتظامیہ نے دروازہ کھولا‘ وہ بیڈ پر بے سود پڑا تھا‘ ہسپتال لے جایا گیا‘ ڈاکٹروں نے بتایا‘ وہ رات کے کسی پہر فوت ہو گیا تھا‘ پوسٹ مارٹم ہوا‘ پتہ چلا شاہ میر ہیروئن کا عادی تھا‘

وہ مسلسل تین دن ہیروئن پیتا رہا‘ اس نے ہیروئن کی زیادہ ڈوز لے لی اور وہ زندگی کی سرحد پار کر گیا‘ یہ خبر خوفناک تھی‘ ملک کے لاکھوں والدین دہل گئے‘ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ملک میں اگر لمز جیسے اداروں کے یہ حالات ہیں تو پھر عام تعلیمی اداروں کی کیا حالت ہو گی؟ پاکستانی والدین کو یہ سوچنے کی ضرورت نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ پانی سر سے بلند ہو چکا ہے‘ پاکستان منشیات کی خوفناک وباءکا شکار ہے اور یہ وباءآنے والے برسوں میں ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہو گی۔پاکستان میں روزانہ شاہ میر جیسے سات سو بچے منشیات کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں‘ آپ اس تعداد کو 30اور بعد ازاں 12 سے ضرب دے کر دیکھ لیں آپ کا دل دہل جائے گا‘ آپ کسی دن اعداد و شمار نکال کر دیکھ لیجئے آپ دھاڑیں مارنے پر مجبور ہو جائیں گے‘ پاکستان میں 60 لاکھ لوگ منشیات کے عادی ہیں‘ دنیا میں 41 ایسے ملک ہیں جن کی آبادی ہمارے نشئیوں سے کم ہے‘ کے پی کے کے 11 فیصد لوگ منشیات کے چنگل میں ہیں جبکہ باقی صوبوں کے 5 سے 6 فیصد لوگ اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہو سکتے‘ ملک میں پانچ برسوں میں منشیات کے استعمال میں 35 فیصد اضافہ ہوا‘ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں تین سال پہلے تک روزانہ منشیات کا ایک مریض آتا تھا‘ یہ تعداد اب 8 سے 10 مریض روز ہو چکی ہے‘ ملک میں ہر سال 44 ٹن ہیروئن استعمال ہوتی ہے‘ یہ امریکا اور یورپ میں استعمال ہونے والی ہیروئن سے تین گنا زیادہ ہے‘ پاکستان کے 30 لاکھ نشئیوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے لیکن حکومت کے پاس 40 مریضوں کی گنجائش ہے اور ملک کے زیادہ تر نشئیوں کی عمریں 24 سال سے کم ہیں‘ ہم اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ لوگ منشیات کے عادی کیوں ہو رہے ہیں؟

تین وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ منشیات کی دستیابی ہے‘ ہم منشیات کے مرکز افغانستان کی سرحد پر واقع ہیں اور افغانستان میں پانچ سال پہلے تک 7 ہزار ہیکٹر رقبے پر پوست کاشت ہوتی تھی‘ یہ کاشت بڑھ کر 2 لاکھ 25 ہزار ہیکٹر ہو چکی ہے اور اس پیداوار کا 80 فیصد حصہ پاکستان پہنچ رہا ہے‘ یہ ہمارے بچوں کی رگوں کا رزق بن رہا ہے‘ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی پاکستان میں 2011ءمیں پوست کی کاشت سو فیصد ختم ہو گئی تھی‘ ہمارے ملک میں اب تمام منشیات سرحد پار سے آ رہی ہیں‘ دوسری وجہ منشیات کی روک تھام کا کمزور نظام ہے‘ ملک میں اینٹی نارکوٹکس فورس موجود ہے لیکن اس کا بجٹ‘ افرادی قوت اور ٹیکنالوجی قابل افسوس ہے‘ یہ لوگ اتنے کم ہیں کہ ہم اگر ساری فورس اسلام آباد پر لگا دیں تو بھی ہم ایک شہر کو منشیات فری نہیں کر سکیں گے‘ ہمارا نظام اس قدر کمزور ہے کہ 21 دسمبر کو 17 کلو گرام ہیروئن پی آئی اے کی فلائیٹ کے اندر پہنچ گئی‘
ہماری ائیر ہوسٹس تک منشیات سمگلنگ میں پکڑی جاتی ہیں‘ ملک کے بے شمار منشیات فروش پارلیمنٹ تک پہنچ جاتے ہیں‘ یہ اوپر تک رابطوں میں رہتے ہیں اور کوئی ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتا‘ تھانے‘ مال خانے اور جیلیں منشیات فروشی کے اڈے ہیں‘ پورا ملک یہ حقیقت جانتا ہے لیکن سسٹم یہ اڈے بند نہیں کرا پا رہا اور تیسری وجہ ہمارے جغرافیائی حالات ہیں‘ ہمارے خطے میں 35 سال سے جنگیں چل رہی ہیں‘ افغانستان کی جنگ ہوئی‘ پھر امریکا کی وار آن ٹیرر کا آغاز ہوا اور اب ملک کی گلیاں‘ مسجدیں‘ سکول اور بازار دہشت گردوں کا نشانہ ہیں اور یہ حقیقت ہے دنیا میں جہاں لڑائیاں ہوتی ہیں وہاں بے سکونی‘ بے راہ روی اور مذہبی شدت پسندی تینوں بڑھ جاتی ہیں اور یہ تینوں مل کر معاشرے کو منشیات کی طرف دھکیل دیتی ہیں ‘ ہم 35 برسوں سے اس صورتحال کا شکار ہیں اور یہ صورتحال اب پوری طرح گل کھلا رہی ہے۔

ہمارے حالات کس قدر خراب ہیں آپ اس کا اندازہ صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لگا لیجئے‘ ماریہ سلطان نے 19 اکتوبر کو سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے نارکوٹکس کو بریفنگ دی‘ بریفنگ میں انکشاف ہوا اسلام آباد کے نجی سکولوں کے 44 سے 53 فیصد طالب علم منشیات کے عادی ہیں‘ یہ 8 سے 16 سال کے بچے ہیں‘ یہ بچے اساتذہ‘ کینٹین‘ ساتھی طالب علموں اور سکول کے سامنے موجود ٹھیلوں سے منشیات خریدتے ہیں‘ یہ شراب‘ چرس‘ ہیروئن‘ کوکین اور گولیاں استعمال کرتے ہیں‘ یہ خوشحال گھرانوں کے بچے ہیں‘ پیسہ ان کا ایشو نہیں چنانچہ یہ بچپن ہی سے منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں‘

کمیٹی کے ارکان یہ سن کر دہل گئے اور انہوں نے حکومت سے 15 دن میں رپورٹ مانگ لی لیکن حکومت نے اڑھائی ماہ گزرنے کے باوجود کمیٹی کو رپورٹ نہیں دی‘ قائداعظم یونیورسٹی ملک کی معتبر ترین یونیورسٹی ہے‘ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا قائداعظم یونیورسٹی میں منشیات کے استعمال میں خوفناک اضافہ ہوچکا ہے‘ وائس چانسلر نے حکومت سے درخواست کی‘ یونیورسٹی میں انسداد منشیات فورس کا نیٹ ورک اور پولیس چوکیاں قائم کی جائیں‘ یہ ہیں حالات لیکن ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بلی کے سامنے بیٹھے ہیں۔

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان درد دل رکھتے ہیں‘ یہ جرات مند اور مخلص بھی ہیں‘ یہ کسی دن اسلام آباد کی انٹیلی جنس رپورٹیں منگوا کر دیکھ لیں‘ ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے‘ وفاقی دارالحکومت میں شراب کی سپلائی کے 32 اڈے ہیں‘ ان اڈوں پر ماہانہ اربوں روپے کی شراب بکتی ہے‘ شہر میں کوکین بھی عام ہے‘ ہیروئن بھی وباءبن چکی ہے اور چرس کو لوگ اب نشہ ہی نہیں سمجھتے‘ شہر میں بیسیوں پرائیویٹ کلب ہیں‘ یہ کلبز روز رات کے وقت آباد ہوتے ہیں اور پولیس ان کی حفاظت کرتی ہے‘ پارٹی کلچر وفاقی دارالحکومت کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے اور ان پارٹیوں میں سب کچھ چلتا ہے‘ سکولوں اور کالجوں میں بھی منشیات عام ہیں‘ یہ عفریت زنانہ کالجوں میں بھی سرایت کر چکا ہے‘

پیرودہائی کا بس اڈہ منشیات فروشی اور میل پراسٹی چیوشن کا مرکز ہے‘ اینٹی نارکوٹکس فورس نے وہاں سے درجنوں مرتبہ بااثر اور معزز خاندانوں کی بچیاں برآمد کیں‘ یہ بچیاں نشے کی ایک پڑیا کے بدلے کنڈیکٹروں اور بس ڈرائیوروں کے ہاتھوں ذلیل ہوتی ہیں‘ یہ گھر سے کالج جاتی ہیں‘ کالج سے غائب ہوتی ہیں اور شام کے وقت گھر واپس پہنچ جاتی ہیں‘ وزیر داخلہ کسی دن انٹیلی جینس رپورٹیں منگوائیں‘ یہ اے این ایف کا ڈیٹا بھی منگوا لیں‘ مجھے یقین ہے یہ رو پڑیں گے‘ چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ بھی کسی رات بھیس بدل کر شہر میں نکل جائیں‘ یہ سڑکوں پر ایسی مخلوق دیکھ کر پریشان ہو جائیں گے جو شکل سے انسان دکھائی دیتی ہے لیکن یہ جانوروں کی طرح کچرے کے ڈھیروں اور نالیوں میں گری ہو گی‘ آپ کسی رات بارہ بجے کے بعد اسلام آباد کی مارگلہ روڈ پر کھڑے ہو جائیں‘ آپ کو زیادہ تر گاڑیاں لہراتی دکھائی دیں گی‘

یہ لوگ کون ہیں‘ یہ نشے میں ڈرائیونگ کیوں کرتے ہیں اور پولیس انہیں روکتی کیوں نہیں؟‘ آپ کو یہ جواب ایک ہی رات میں مل جائے گا‘ اسلام آباد میں اوسطاً بیس سے تیس ایکسیڈنٹ روز ہوتے ہیں اور ان ایکسیڈنٹس کا محرک نشہ ہوتا ہے لیکن ہم اس ایشو کو قابل غور ہی نہیں سمجھتے‘ ہمارے ملک میں ہر سال کچی شراب کی وجہ سے ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں‘ کرسمس پر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 49 لوگ ہلاک اور 60 آنکھوں‘ پھیپھڑوں اور گردوں سے محروم ہو گئے‘ ان لوگوں کو آفٹر شیو لوشن میں کیمیکل ڈال کر دے دیا گیا تھا‘ شراب بیچنے والے نے اس سودے میں صرف پانچ ہزار روپے کمائے‘یہ کیا ہے؟ یہ سماجی منافقت ہے‘ ملک میں شراب پر پابندی ہے لیکن یہ کچی اور پکی دونوں حالتوں میں سرعام بک رہی ہے‘

لوگ پی بھی رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں‘ کیا ہم اس منافقت کے ساتھ معاشرہ چلا لیں گے؟ میرا خیال ہے نہیں اور وفاقی حکومت اگر ملک کو ڈرگ فری نہیں کر سکتی تو یہ کچھ بھی نہیں کر سکتی‘ یہ اگر سکولوں اور کالجوں کو نہیں بچا سکتی اور ہم اگر صرف اسلام آباد کو منشیات سے پاک نہیں کر سکتے تو پھر ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے‘ ہمیں پھر قوم کہلانے کا کوئی حق نہیں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجئے‘ ہماری پانچ چھ فیصد آبادی اگر منشیات کا شکار ہو گی‘ یہ اگر نشے کے عالم میں نالیوں میں پڑی ہو گی تو ہم خواہ ملک میں دس ”سی پیک“بنا دیں لوگوں کو کیا فائدہ ہو گا‘ وزیراعظم خواہ پوری قوم کا مقدر بدل دیں قوم کو کیا فائدہ ہو گا؟۔ملک منشیات کے بم پر بیٹھا ہے‘ شاہ میر جیسے بچے روز مر رہے ہیں لیکن ہم کامیابیوں کے ڈھول پیٹ رہے ہیں‘ کیا دنیا میں ہم سے بڑا کوئی بے وقوف ہے‘ سوچئے اور جواب دیجئے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
قوم کا مستقبل
علامہ ابتسام الہٰی ظہیر
یہ روح فرسا رپورٹ پڑھ کر اس بات کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی اس قسم کے واقعات ہوتے ہوں گے ۔ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ اپنے سیاسی حریفوں کی پکڑ دھکڑ کے لیے کوشاں رہتے ہیں وہاں وہ اس قسم کے معاملات کے حل پر بھی اپنی توجہ مرتکز کریں

نوجوان کسی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ملک کے معاملات کو چلانا اور آنے والے دنوں میں اس کے سیاسی اور سماجی رویوں کی تشکیل اور نگرانی کرنا قوم کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ نوجوان ضحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلام کی نشر و اشاعت ، اسلامی ریاست کے دفاع اور پھیلاؤ اور علم و عمل کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوجوانوں پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے اور ان کی اصلاح و تربیت پر بھر پور توجہ دیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ، حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت اسامہ بن زیدؓ اورحضرت انس ابن مالکؓ کی تاریخی شخصیات نے اسلام کی نشر و اشاعت اور فروغ میں نمایاںکردار ادا کیا۔ خواتین اسلام میں سے حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمہؓ کی شخصیات ہمارے سامنے ہیں۔ ان دوعظیم خواتین نے علم و عمل کے فروغ کے لیے جو کردار ادا کیا وہ امت کی بہنوں اور بیٹیوں کے لیے تا قیامت ایک تابناک مثال رہے گا۔

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کو بھی نوجوانوں سے خصوصی دلچسپی تھی اور وہ ان کی قوت ِ عمل کو بیدار کرنے کے لیے ان کے سامنے شاہین کا تصور رکھا کرتے تھے۔ ان کی نظروں میں ایک مثالی نوجوان باکردار، باحیا، غیرت مند اور جد و جہد کا خوگر ہوتا ہے۔ آپ نے نوجوانوں کے حوالے سے بہت سے خوبصورت اشعار کہے جن میں سے ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں

؎
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں ؎
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اس کے برعکس اگر کسی قوم کے نوجوان کسی اخلاقی برائی کا شکار یا کسی جرم میں مبتلا ہوجائیں تو قوم کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔تاریخ انسانیت اس بات پر شاہد ہے کہ قوموں کے زوال میں ان کے نوجوانوں کے اخلاقی انحطاط نے کلیدی کردار ادا کیا۔ چنانچہ جب کبھی نوجوانوں کی اخلاقی بدحالی کی خبر ملتی ہے تو اعصاب بوجھل اور روح بے قرار ہو جاتی ہے۔ چند ر وز قبل ''دنیا ‘‘ میں ایک روح فرسا رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا شراب، چرس، ہیروئن اور دیگر منشیات کا استعمال کر رہے ہیں۔

قائداعظم یونیورسٹی کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں قائداعظم یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر وسیم احمد نے انکشاف کیا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں ہر قسم کی منشیات سپلائی ہو رہی ہیں۔ طلبہ شراب، چرس، ہیروئن کے علاوہ لاہور میں تیار ہونے والی 5 سے 15 ہزار مالیت کی نشہ آور گولی استعمال کر رہے ہیں۔ استعمال کرنے والا پانچ سے چھ گھنٹے بے ہوش رہتا ہے۔ ڈسپلن کمیٹی نے بعض طلبا کو جرمانے بھی کئے ہیں۔ یونیورسٹی کے ذمہ داران اس حوالے سے کئی بار پولیس کو بھی آگاہ کر چکے ہیں۔ یونیورسٹی کی چار دیواری نہ ہونے کی وجہ سے منشیات کی کھلے عام سپلائی کی جا رہی ہے اور سیکورٹی کے مسائل بھی ہیں۔ ڈین قائداعظم یونیورسٹی نے کمیٹی سے درخواست کی کہ یونیورسٹی کے اندر پولیس چوکی قائم کرکے ریزرو پولیس فراہم کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمن ملک نے افغانستان سے منشیات سپلائی کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات اور دہشت گردی کو روکا جائے۔ امریکہ، بھارت اور افغانستان کا اتحاد خطے کے لیے نقصان دہ ہے۔ قائمہ کمیٹی میں کہا گیا کہ منشیات کی پیداوار افغانستان میں ہوتی ہے اور سپلائی یورپ میں جبکہ بدنام پاکستان کو کیا جاتا ہے؛ حالانکہ پاکستان خود منشیات اور دہشت گردی کا شکار ہے۔ دنیا اس سلسلے میں توجہ دے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ منشیات کے حوالے سے جیلوں کا بھی سروے کیا جائے، ہسپتالوں میں لیے گئے خون ٹیسٹ کو بھی سروے کا حصہ بنایا جائے ۔ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ کیاگیا کہ ملک بھر میں نشہ آور ادویات کی فہرست میں ہیروئن ، چرس، بھنگ اور کوکین کی پیداوار اور استعمال کا بھی سروے کیا جائے۔

ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس بریگیڈیئر محمد بشارت نے کہا کہ جب سے اے این ایف بنی ہے ایک منشیات فروش کو پھانسی دلوائی گئی اور 141 منشیات فروش پکڑے گئے۔ تعلیمی اداروں میں ہیروئن اور چرس دوستی کی بنیاد پر پلائی جاتی ہے۔ با اثر اور امیر خاندانوں کی نجی محفلوں میں نوجوان 15 سو سے 5 ہزار تک کی نشہ آور گولیاں استعمال کرتے ہیں۔کمیٹی میں قائد اعظم یونیورسٹی کی سکیورٹی اور منشیات کی سپلائی پر اظہار تشویش کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل کی حفاظت کے لیے اقدامات نہ کئے گئے تو ان کا مستقبل خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یونیورسٹی ڈین کو حقائق منظر عام پر لانے پر مبارک باد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اور منشیات کے مسائل جان کر دکھ ہوا۔ کمیٹی کی طرف سے ہدایات کی گئیں کہ این اے ایف اور پولیس قائداعظم یونیورسٹی میں کومبنگ آپریشن کرے اور سیکرٹری داخلہ اے این ایف اور پولیس کی مدد کرے۔ سینیٹر امیر اسرار اللہ خان زہری نے کہا کہ بلوچستان کے بڑے بڑے جاگیر داروں کے گھروں میں پوپی کی کاشت کی جا رہی ہے جس کے خلاف اے این ایف کا رروائی کرے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ ایک این جی او کی طرف سے تعلیمی اداروں میں منشیات کے حوالے سے رپورٹ سے والدین میں خوف اور منفی پیغام گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے اجلاس میں متعلقہ این جی او کو طلب کیا جائے۔ سینیٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ منشیات استعمال کرنے والوں کی ذہنی کیفیات کے حوالے سے اگلے اجلاس میں ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹر کو بھی رائے اور تجاویز کے لیے شریک کیا جائے۔ سینیٹر کرنل طاہر مشہدی نے کہا کہ تھوڑے بجٹ اور کم عملے کے باوجود اے این ایف کی کارکردگی اچھی ہے۔ سیکرٹری اے این ایف کی طرف سے ڈرگ فرانزک لیبارٹری کے لیے سی ڈی اے سے پلاٹ کے حصول پر چیئرمین کمیٹی نے میٹروپولیٹن اسلام آباد کو پلاٹ الاٹ کرنے کی سفارش کی جس پر پرمیئر نے رضا مندی کا اظہار کیا۔

یہ روح فرسا رپورٹ پڑھ کر اس بات کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی اس قسم کے واقعات ہوتے ہوں گے ۔

حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ اپنے سیاسی حریفوں کی پکڑ دھکڑ کے لیے کوشاں رہتے ہیں وہاں وہ اس قسم کے معاملات کے حل کے لیے بھی اپنی توجہ مرتکز کریں۔ اگر اس مسئلے کے حوالے غفلت اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا گیا تو نہ صرف ملک کے بہت سے گھرانوں میں جرائم پیشہ اور بدکردار نوجوان پرورش پانا شروع ہو جائیں گے بلکہ آنے والے ایام میں ملک کو قیادت اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد کی فراہمی کے حوالے سے شدید قسم کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت کو اس سلسلے میں ٹھوس لائحہ عمل اپنانا چاہیے، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں حکومت کو مذہبی رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے اور ان سے نوجوانوں کی تربیت کے لیے معاونت حاصل کرنی چاہیے۔ مذہبی رہنماؤں کو بھی اس حوالے سے ازخود اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے موثرکردار ادا کرنا ہوگا اور علماء کو جمعے کے خطبات اور دروس میں منشیات کی لعنت اور اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں موجود تعلیمات سے نوجوانوں کو آگاہ کرنا ہوگا تاکہ وہ اس حوالے سے دینی رہنمائی حاصل کرکے اس لعنت سے بچ سکیں۔ یاد رہے کہ شراب نوشی اور منشیات کی لعنت جہاں دنیا میں ذلت ورسوائی کا باعث ہے وہاں یہ اخروی تباہی پر بھی منتج ہو سکتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری قوم کے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ فرمائے۔ آمین

http://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2016-12-18/17907/25914397#tab2
 
Top