محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
شریعت کا عام اصول یہی ہے کہ اجنبی عورت کو دیکھنا حرام ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (النور: 30)
’’مؤمن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔‘‘
لیکن جس عورت سے آدمی نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اسے ضرورت کی بنا پر دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح (طے) کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےفرمایا: ’’کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا (صحيح مسلم، النكاح: 1424)
’’جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔‘‘
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا، تونبی اکرمﷺ نے فرمایا:
انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا (سنن ترمذي، أبواب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 1087، سنن نسائي، النكاح: 3235) (صحيح)
’’تم اسے دیکھ لو بلاشبہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت پیداکرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘‘
ارشاد باری تعالی ہے:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (النور: 30)
’’مؤمن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔‘‘
لیکن جس عورت سے آدمی نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اسے ضرورت کی بنا پر دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح (طے) کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےفرمایا: ’’کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا (صحيح مسلم، النكاح: 1424)
’’جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔‘‘
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا، تونبی اکرمﷺ نے فرمایا:
انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا (سنن ترمذي، أبواب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 1087، سنن نسائي، النكاح: 3235) (صحيح)
’’تم اسے دیکھ لو بلاشبہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت پیداکرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘‘
- جب انسان نے عورت کو دیکھ کر منگنی کر لی ہے تو اب اسے دیکھنا یا اس کی تصویر دیکھنا پہلے کی طرح ہی حرام ہے، کیونکہ وہ اجنبی عورت ہے، ابھی تک آپ کے نکاح میں نہیں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جلد از جلد نکاح کر لے تاکہ منگیتر اس کی بیوی بن جائے اور وہ ہر طرح کے گناہ سے بچ جائے۔