• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

من کا صیغہ خصوصیت پر دلالت کرتا ہے یا عمومیت پر قرآن اور صحیح احادیٹ سے دلائل چاہییں؟

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ
من کا صیغہ خصوصیت پر دلالت کرتا ہے یا عمومیت پر قرآن اور صحیح احادیٹ سے دلائل چاہییں؟
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
801
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عربی زبان میں "مَنْ" کے معنی بحسبِ مقام مختلف ہوتے ہیں اور اس کی دلالت عموم ہے، نہ کہ خصوصیت۔

اول: "مَنْ" بطورِ اسمِ موصول بمعنی جو، جس نے، جو کوئی آتا ہے اور اس کی وضع ہی عام کے لئے ہے؛ یعنی ہر وہ شخص جو صلہ موصول کے حکم میں داخل ہو۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ﴾ یعنی جو کوئی ذرّہ برابر نیکی کرے دیکھ لے گا۔ [سورۃ الزلزال، آیت 7]

اس آیتِ کریمہ کی عمومیت ہے، اس میں نہ مومن مستثنیٰ اور نہ کافر خارج؛ بلکہ سب کے سب اس کے تحت شامل۔

اسی طرح فرمایا: ﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ [سورۃ النساء، آیت 80] یہاں بھی "مَنْ" عام ہے اور ہر مطیع و ہر فرمانبردار اس کے حکم میں داخل۔

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَن غَشَّ فليسَ مِنِّي" [صحيح مسلم] یہاں "مَنْ" ہر دھوکا دینے والے پر منطبق ہوتا ہے؛ اس میں نہ عرب کی تخصیص، نہ عجم کا استثناء۔

پس ثابت ہوا کہ اسمِ موصول "مَنْ" عموم کے لئے ہے، خصوصیت کے لئے نہیں۔

دوم: "مَنْ" بطورِ اسمِ شرط اس وقت آتا ہے جب شرط و جزا کا باب مقصود ہو؛ اس میں بھی اصل دلالت عموم ہی کی ہے، بلکہ یہاں تو عموم اشد و اقویٰ ہے؛ کیونکہ شرط ہر فرد کے لئے کھلی ہوتی ہے، جو شرط کو پورا کرے جزاء اس پر لازم آتی ہے۔

ارشادِ ربانی: ﴿فَمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ یعنی جو کوئی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے…[سورۃ الفرقان، آیت 71] اس میں ہر انسان داخل ہے مومن ہو یا فاسق جو توبہ کرے، یہ وعدہ اس کے لئے ثابت۔

حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : "مَن صَلَّى عَلَيَّ واحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عليه عَشْرًا" یعنی جو میرے اوپر درود بھیجے اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ [صحيح مسلم] یہ بھی عمومِ شرط ہے، ہر درود پڑھنے والا اس مژدے میں شریک ہے۔

سوم: "مَنْ" بطورِ اسمِ استفہام جو سوال کے لئے آتا ہے؛ یعنی کون؟ اس میں بھی اصل عموم ہی ہے، کیونکہ سوال کرنے والا ہر ممکن فرد کے متعلق پوچھتا ہے۔

جیسے رب کریم کا کلام: ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا﴾ [سورۃ البقرۃ، آیت 245] یہاں خطاب عام ہے؛ ہر اہلِ خیر، ہر سخی، ہر منیب کو دعوت ہے۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے "مَن رَأَى مِنكُم مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بيَدِهِ" [صحيح مسلم] یہاں "مَنْ" شرطیہ ہے، اور عموم پر دلالت واضح ترین۔

چنانچہ "مَنْ" خواہ موصول ہو، خواہ شرطیہ ہو، خواہ استفہامیہ ہر صورت میں اصل دلالت اس کی عموم ہی ہے۔
 
Top