• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موجودہ خلیجی بحران اور ہماری شرعی اور اخلاقی ذمہ داریاں

شمولیت
اگست 25، 2013
پیغامات
40
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
72
موجودہ خلیجی بحران اور ہماری شرعی اور اخلاقی ذمہ داریاں
عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی

خلیجی ممالک اور ایران میں جاری موجودہ بحران اور اس سے پہلے بھی بہت سارےاحداث و مواقع جن کا تعلق براہ راست امت مسلمہ سے رہاہے ان کے اندرمثبت ومنفی نتائج کے ساتھ ایمان اور کفرونفاق کا پیمانہ واضح ہوکر سامنے آتارہا ہے ۔او ریہ حقیقت ہے کہ جب جب حق وباطل میں معرکہ آارائی ہوتی ہے کم ظرفوں اور اسلام دشمن عناصرکی طرف سے أصحاب حق اور اہل توحیدکی طرف انگشت نمائی ضرور کی جاتی ہے، ان کے خلاف الزامات اور تہمتوں کا کشکول لے کر اہل کفرو نفاق ناروا تشہیر ی اورتزویری صداؤں کے ساتھ فتنہ کے بازاروں اور گلیوں میں گھومتے نظرآتےہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں گرفتار کرکے حق وباطل کو معکوسی اندازمیں متصورکرانے کی کوشش کرتےہیں ۔ اوریہ بالکل عجیب نہیں ہے کہ ان کے یہاں جودن ہے اسے رات بنا کر پیش کیاجائے اور جورات ہے اسے دن بناکرپیش کیاجائے،"جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے"، حالانکہ گزرتےاوربدلتے وقت کے ساتھ حقیقت طشت ازبام ہوجاتی ہے، لیکن اس وقت تک بسا أوقات ہر طرح کے مشاعرواحساس ذکر ویاد سے محو ہوچکےہوتےہیں ،لوگ ماضی کو بھول چکے ہوتےہیں کہ ماضی میں کیاہواتھا اور اس کا انجام کیارہا اورامت پر اس کے کون سے اچھے برے اثرات مرتب ہوئے؟ بلکہ نئے بحران اور نئے حادثات نئے رنگ اور نئے جو ش کے ساتھ عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں اور پھر لوگ انہیں ہتھکنڈوں کے شکار ہوجاتےہیں جنہیں لگ بھگ بھول چکے ہوتےہیں ۔پھر جب معاملہ عالمی ہو او رخاص طورسے خلیج وعرب سے متعلق ہو تو پھر ا ن کے جوش وخروش کےکیاکہنے ۔بعض عرب منافقین کا یہی رویہ رہا ہے جس کی وجہ سے کئی جنگوں کے بعد بھی بیت المقدس کا معاملہ اب تک ا دھر میں لٹکا ہواہے ۔ اور کچھ منافق صفت حکمرانوں اور تنظیموں کا حال یہ ہےکہ معاملہ اگر خلیج عرب کا ہوتو سعودی عرب ضرور مجرم بنا دیاجاتاہے او ر ایسا باور کرایا جاتاہے جیسے یہ سارے فتنےاور فساد اسی کی وجہ سےبرپاہیں ،کبھی اس کے "نام" کو لے کر ، کبھی اس کے "کام "کو لےکر ، کبھی اس کی "سیاست" کو لے کر تو کبھی اس کی "قیادت "کو لے کر ۔ اور اگر معاملہ "منہج وعقیدہ "کا ہو تو پھر مت پوچھئے ،یہ انہیں ہرگز برداشت نہیں ہوتا،ایسی طوفان بد تمیزی برپاکی جاتی ہے کہ الأمان والحفیظ ۔جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ ان معاملات کا اگر کسی بھی طرح کا تعلق سعودی عرب سے رہاہے تو اس نے ہمیشہ ایک مضبوط اور منصفانہ رویہ پیش کیاہے ، معاملہ عرب اسرائیل جنگ سے متعلق ہو ، عراق وایران قضیہ سے متعلق ہو ، کویت وعراق کا سانحہ ہو ، داعش والقاعدہ اورحوثی جیسی تنظیموں سے نمٹنےکا ہو اور خواہ صدام حسین کی پھانسی سے متعلق ، ہر موڑ پر سعودی عرب کی قیادت اور اس کے علماء اور عوام نے اپنا دینی اور اخلاقی فریضہ بخوبی انجام دیاہے۔فجزاھم اللہ خیرا عن الإسلام والمسلمین۔
کویت اور عراق معاملہ کی طرح موجودہ ایرانی بحران نے نفاق وکفرکی مکمل قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔عربوں اور خاص طور سےسنی مسلانوں کے خلاف سیاسی ، اقتصادی اور نظریاتی ہر اعتبار سے اندرونی اور بیرونی عداوتوں نےجو چالیں چلی ہیں ، ان کے فریب کاشکار ہونا ان لوگوں کے لئے بہت آسان ہے، جو ہر معاملے میں سعودی عرب کو مجرم ٹھہرانے کے عادی ہوچکے ہیں ۔تعجب کی بات ہے کہ ایک ملک کہہ رہاہے کہ ایران پر حملے سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے ،پھر بھی اسےمجرم باور کرایاجاتاہے ، اس کے لئے بہانے تلاش کئے جاتےہیں اورتمام حادثات کے لئے بھی مورد الزام اسی کو ٹھہرایا جا تاہے ،جب کوئی بہانہ نہیں ملتاہے توخطےمیں امریکہ کی موجودگی کو دلیل بنایا جاتاہے،جبکہ امریکہ ان خطوں میں آج سے موجود ہے اور نہ صرف انہیں ممالک میں موجود ہے جن پر حملہ کیاجارہاہے ۔ اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ امریکہ کی خطے میں موجودگی میں کہیں نہ کہیں خارجی پالیسیوں کا ہاتھ رہاہے،اور اہل بصیرت وتجزیہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ کو کن حالات میں اور کن أسباب کی بناپر خطے میں جگہ دی گئی تھی اور اب تک کیوں موجود ہے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاسی بصیرت اپنے مفاد کو پیش نظررکھ کر اور مناسب وقت دیکھ کرہی کوئی فیصلہ لیتی ہے ، یہ گلی کے غنڈے اورچھٹ بھیئےنیتا توہیں نہیں کہ آؤ بہکاؤ،لفڑا کرو،مارو، لوٹو اور چلتے بنو۔
قابل تعریف ہیں اس ملک کے حکمراں جنہوں نے اپنی اسلامی بھائی چارگی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی بھی معاملےمیں ہمیشہ صبر وتحمل سے کام لیاہے اور کسی بھی ایکشن سے پہلے اس کے مالہ اور ماعلیہ کا اچھی طرح تجزیہ کیاہےاور خاطور سے موجودہ معاملے میں اب تک کسی بھی طرح کی جوابی کارروائی کرنے سے پرہیز کیاہے ۔ لیکن خاص طور سے برصغیر کی تحریکیت اوررافضیت اپنی عداوت ونفاق کی آگ بجھانے کے لئے ہمہ دم موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کیسے ان کے خلاف پرپگنڈہ کرکے او رانہیں مطعون کرکے اپنی نظریاتی اور فکری انارکی کو ان پر تھوپ دیں یا انہیں غیرمستحکم کردیں ،اوراہل بدعت وشرک تو ایسے مواقع کی تلاش میں رہتےہی ہیں ۔اور قابل افسو س ہیں وہ لوگ جو خود کو صاحب علم او رصاحب بصیرت کہتے ہیں لیکن یاتو سعودیہ دشمنی میں یا پھر رافضیت سے ہمنوائی کی بنا پر یا ان کے دام فریب میں آکر سعودی عرب پراول جلول الزامات عائدکرنےمیں پیش پیش رہتے ہیں ۔انہوں نے رافضیت اور صہیونیت کے تعلق کو یاتو سمجھا ہی نہیں ہے یا پھر بغض معاویہ میں اتنے ڈوب چکے ہیں کہ صحیح اور غلط کا إحساس کھوچکے ہیں ۔انہیں چاہئے تھا کہ وہ ہمیشہ حق کی طرفداری کرتے اور اپنی شرعی اور اخلاقی ذمہ داریو ں کوسمجھتے ہوئے کسی مناسب موقف کو اختیا رکرتے جس کامثبت اورایجابی پہلوواضح ہوتااور اس سے قوم وملت کسی بھی طرح کی ذہنی اور فکری انارکی کا شکار ہونے سے بچتی، لیکن انہوں نے اپنی بےبصارتی کا ثبوت دیتےہوئے اپنی ذمہ داریوں کو صحیح راہ سے ہٹاکر معاملے کو منفی اور سلبی اندازمیں پیش کرنے کی پوری کوشش کی ہے ۔ کہیں ایسانہ ہو کہ جب دنیا کے اوپر حقیقت واشگاف ہو تو انہیں خود کی سوچ پر شرمندگی اٹھانی پڑے ، حالانکہ ان میں بہت سارے کم ظرف اور کم حیاء قسم کے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو "بےحیاء باش چہ خواہی کن " کے مصداق ہوتے ہیں ۔
یہاں اس قسم کے لوگوں سے ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی ہچک نہیں ہے کہ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ صہیونیت او ر رافضیت دونوں اسلام اور مسلمانوں کے لئے یکساں خطرنا ک ہیں ، ان کی ملی بھگت جگ ظاہر ہے ،بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ را‌فضیت نے ہمیشہ صہیونیت سے زیاد اسلا م ، مسلمان ، اسلامی عقائد اوفکار اور اسلامی ممالک کو سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور دینی ہر اعتبار سے زک پہونچایاہے ۔ اللہ تعالی انہیں عقل سلیم دے اور اسلام اور مسلمانوں کو ہر طرح کے شروفساد سے محفوظ رکھے ۔آمین وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔
***********************************​
 

اٹیچمنٹس

Top