• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولوی اسماعیل کا حضور کے متعلق مر کر مٹی میں ملنے کا عقیدہ

عدیل سلفی

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 21، 2014
پیغامات
1,718
ری ایکشن اسکور
423
پوائنٹ
197
’’انبیاء کی قبور میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں وہ ان کے ساتھ شب باشی فرماتے ہیں۔(ملفوظات احمد رضا‘جلد سوم ص ۲۵۷)

؟؟
ima zarqawi.gif

کہیں یہ عقیدہ تو نہیں ہے آپ کا بھی؟؟؟؟
معاذللہ
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
میرے خیال میں قلابازیاں کھانے سے آپ کی مراد کے مندرجہ ذیل دو احتمالات ہو سکتے ہیں
1-ہم (اہل حدیث) ہر معاملہ میں کبھی اپنی مرضی سے ایک بات کو اختیار کر لیتے ہیں اور کبھی دوسری بات کو اختیار کر لیتے ہیں جس کے پیچھے ہمارا مفاد ہوتا ہے

2-ہم (اہل حدیث) محکم باتوں پر تو متفق ہیں (جن کے بارے قرآن نے کہا ہے کہ ھن ام الکتاب) اور کچھ غیر محکم یا اختلافی باتوں میں ہمارا آپس میں اختلاف ہو جاتا ہے جیسے اوپر ارسلان بھائی کہا کہ انبیاء کے اجسام مٹی نہیں ہوتے اور مولوی اسماعیل کہ رہے ہیں کہ انبیاء کے اجسام مٹی ہو جاتے ہیں
پہلا اھتمال
بھائی میں نے دو احتمالات لکھے تھے
1- پہلا یہ تھا کہ ایک ہی اہل حدیث ایک معاملہ میں اپنی مرضی سے کبھی کوئی بات اختیار کر لیتا ہے اور کبھی دوسری بات
2-دوسرا یہ تھا کہ دو مختلف اہل حدیث ایک معاملہ میں اپنی سمجھ سے مختلف باتیں اختیار کرتے ہیں جیسے اوپر محترم ارسلان بھائی نے مولوی اسماعیل رحمہ اللہ کے خلاف بات اختیار کی ہے

اب آپ نے کہا ہے کہ آپ اس دھاگہ میں پہلے احتمال پر بات کر رہے ہیں تو آپ کے لازمی ہے کہ

آپ ثابت کریں اور نشاندہی کریں کہ اوپر معاملہ میں کہاں مولوی اسماعیل رحمہ اللہ نے دو مختلف باتیں کو اختیار کیا ہے یا ارسلان بھائی نے اس معاملہ میں دو مختلف باتوں کو اختیار کیا ہے

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اوپر میرے احتمالات کو صحیح سمجھ نہیں سکے اور اب آپ کہتے ہیں کہ آپ دوسرے احتمال کو چنتے ہیں یعنی آپ کا مندرجہ ذیل اعتراض ہے

بعض اہل حدیث ایک معاملہ میں ایک بات کو اختیار کرتے ہیں اور اسی معاملہ میں دوسرے اہل حدیث دوسری بات کو اختیار کرتے ہیں

اگر ایسا ہے تو بتائیں تاکہ اس کے پس منظر میں جواب دیا جا سکے ورنہ پھر اوپر والی بات ثابت کریں
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
675
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
93
شب باشی والی بات علامہ عبد الباقی زرقانی نے خلیل حنبلی سے نقل کی ہے اور اولحضرت صرف ناقل ہیں اور فتوی ناقل پر نہیں لگتا ۔
upload_2014-6-28_1-21-38.png
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,969
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
412
شب باشی والی بات علامہ عبد الباقی زرقانی نے خلیل حنبلی سے نقل کی ہے اور اولحضرت صرف ناقل ہیں اور فتوی ناقل پر نہیں لگتا ۔8125 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
بڑی عجیب بات کی آپ نے۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ جب مصنف کسی کی عبارت نقل کرتا ہے اور اسکی تردید نہیں کرتا تو اسکا موقف بھی وہی ہوتا ہے۔ اس طرح جو فتویٰ زرقانی صاحب پر لگے گا وہی فتویٰ احمد رضا پر بھی لگے گا اور وہی فتویٰ احمد رضا کے مقلدین پر بھی لگے گا کیونکہ احمد رضا کے کسی مقلد نے اس نقل پر احمد رضا کی تردید نہیں کی۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,342
پوائنٹ
800
تو اس عبارت میں برائی کیا ہے؟
اگر برائی نہیں ہے تو پہلے براءت کا اظہار کیوں کیا گیا؟ کہ اعلیٰ حضرت کا یہ موقف نہیں وہ تو محض ناقل ہیں؟؟؟

اب نہ جانے آپ کے نزدیک کونسی بات صحیح ہے؟
 
Top