• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکہ معظمہ پر حوثیوں کے میزائل حملہ، عالم اسلام کا شدید رد عمل

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
مکہ معظمہ پر حوثیوں کے میزائل حملہ، عالم اسلام کا شدید رد عمل

ایران نواز حوثی باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات


ہفتہ 28 محرم 1438هـ - 29 اکتوبر 2016م

http://ara.tv/648p4
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ


گذشتہ روزیمن میں حکومت کے خلاف سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پر راکٹ حملے کی ناکام مجرمانہ کوشش پر عالم اسلام اور عرب ممالک کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے مکہ معظمہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنائے جانے کی ناکام کوشش کے بعد عرب ممالک اور اسلامی دنیا کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ کل جمعہ کے روز سعودی فورسز نے یمن سے مکہ مکرمہ پر داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضاء ہی میں تباہ کردیا تھا۔

مکہ کو راکٹ حملے سے نشانہ بنانے کی مجرمانہ اور مذموم حرکت پر عالم اسلام کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیاجا رہا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل نے مکہ پر راکٹ حملے کی کوشش کو کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے حوثیوں کے خلاف سخت پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی سازش کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے جو یمن کے حوثی باغیوں کو اس نوعیت کا اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے مکہ معظمہ کو نہیں بلکہ بیت اللہ کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی رجیم ایک طرف خود کو عالم اسلام کی نمائندہ قرار دینے کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسری طرف وہ مکہ معظمہ پر راکٹ برسانے کے لیے یمن کے حوثی شدت پسندوں کی مدد بھی کررہا ہے۔

بحرین اور قطر کی طرف سے بھی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے راکٹ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حوثی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

قطرمیں سپریم علماء کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں مکہ مکرمہ پر راکٹ حملے کی کوشش کو عالم اسلام پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔

جامعہ الازھر کا رد عمل :

مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں مکہ مکرمہ پر راکٹ حملے کی سازش کی شدید الفاظ میں مذمت کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ کو میزائلوں سے نشانہ بنانے والے ایمان سے عاری ہیں۔ ایسا مجرمانہ اور خبیث جرم وہی عناصر کرسکتے ہیں جن کے دل میں رتی برابر ایمان نہ ہو۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جامعہ الازھر حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ کی طرف میزایل داغے جانے کو تمام حدیں پھلانگنے اور مسلمانوں کے قبلہ کو نشانہ بنانے کی سازش کے مترادف قرار دیتی ہے۔

مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوق علام نے بھی ایک بیان میں حوثی ملیشیا کی طرف سے مکہ مکرمہ کی طرف راکٹ حملے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ پرراکٹ حملے کی کوشش فساق اور فجار کی کارستانی ہوسکتی ہے جو اللہ کے گھر کی حرمت کا خیال رکھنے کے بجائے اسے خطرےمیں ڈالنے کی مجرمانہ کوشش کرتے ہیں۔

تیونس کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ نے حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کی ناکام کوشش کی مذمت کی ہے۔ تحریک النہضہ کے سربراہ علامہ راشد الغنوشی کاکہنا ہے کہ مکہ مکرمہ پر یمن کے الصعدہ کے علاقے سے باغیوں کی جانب سے راکٹ داغنا انتہائی قبیح اور مجرمانہ حرکت ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک النہضہ اس واقعے کو عالم اسلام کے مذہبی جذبات مشتعل کرنے کی سازش قرار دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی فورسز کی طرف سے بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنانے ریاض حکومت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

باغیوں نے آخری حدیں بھی پھلانگ دیں :

یمن کے وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے ایک بیان میں حوثی باغیوں کے مکہ مکرمہ پر میزائل حملے پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کی طرف سے میزائل حملے کوئی نئی بات نہیں مگر اب باغیوں نے مکہ معظمہ اور مسلمانوں کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ کی طرف میزائل داغ کر تمام حدیں پھلانگ دی ہیں۔

انہوں نے الزام عاید کیا کہ مکہ معظمہ پرحملے جیسے مجرمانہ واقعے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے جو یمن میں شورش پھیلانے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو بھی نشانہ بنانے کی سازشوں میں سرگرم عمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اور حوثی باغی علاقائی جنگ چھیڑنے کی سازش کررہے ہیں۔ مکہ معظمہ پر راکٹ حملے کی کوشش کے بعد کوئی مسلمان ملک اس پرخاموش نہیں رہے گا۔ عبدالملک المخلافی کاکہنا تھا کہ مقدس مقامات کو خطرے میں ڈالنے کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا وقت آگیا ہے۔ عالم اسلام کو حوثی باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے یمن اور سعودی عرب کا ساتھ دینا ہوگا۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
مکہ پرحملہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں پرحملہ ہے: السدیس

امام کعبہ اور حرمین شریفین کی نگراں کمیٹی کے چیئرمین الشیخ عبدالرحمان السدیس نے کہا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے میزائل سے صرف مکہ معظمہ کو نشانہ بنانے کا سنگین جرم نہیں کیا کہ مکہ مکرمہ پرحملہ کرکے ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر حملہ کیا گیا ہے۔

مکہ معظمہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الشیخ عبدالرحمان السدیس نے کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ یمنی شیعہ باغیوں نے مکہ پر میزائل حملہ کرکے وہاں پر موجود مقدس مقامات کو نشانہ بنانے اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل یمن کے حوثی باغیوں نے الصعدہ کے مقام سے مکہ مکرمہ کی سمت میں ایک بیلسٹک میزائل داغا تھا تاہم سعودی عرب کے میزائل شکن نظام نے باغیوں کے میزائل کو فضاء ہی میں تباہ کردیا تھا۔
اس میزائل حملے کے رد عمل میں بات کرتے ہوئے الشیخ عبدالرحمان السدیس کا کہنا تھا کہ حوثیوں کا یہ اقدام بدترین جرم، ام القریٰ[مکہ معظمہ] کے خلاف ننگی جارحیت اور مسلمانوں کے دلوں کی ٹھنڈک خانہ کعبہ کونشانہ بنانے کی انتہائی گھٹیا اور مذموم کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ خانہ کعبہ کی طرف راکٹ پھینکنے والوں کا کوئی دین، کوئی اصول اور مذہب نہیں۔ عقل وخرد سے محروم دین بیزار ایسے سرکش اور باغیوں کو ان کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔

http://ara.tv/jf42t
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ کس ایرانی شخصیت کے حکم پر کیا گیا؟

پیر‬‮ 31 اکتوبر‬‮ 2016 | 11:42

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی اپوزیشن کی جلا وطن رہ نما اور قومی مزاحمتی کونسل کی چیئرپرسن مریم رجوی نے یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ معظمہ پر میزائل حملے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایران نواز حوثیوں نے میزائل حملہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حکم پر کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں مریم رجوی نے کہا کہ یمن سے مکہ کی طرف میزائل “القدس فورس” نامی تنظیم کی نگرانی میں داغا گیا جسے براہ راست ایران کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے مکہ معظمہ پر میزائل حملے کو عالم اسلام کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا۔مریم رجوی نے اپنے بیان میں ایرانی رجیم کو ایک بار پھر مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں مسلط نظام نہ تو انسانی ہے اور نہ اسلامی ہے۔ ایران کو اسلامی تعاون تنظیم کی رکنیت سے نکال باہر کیا جائے اور پوری اسلامی دنیا ایران کے بائیکاٹ کا اعلان کرے۔اپوزیشن رہ نما کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں بھی بیت اللہ اور مسجد حرام کے خلاف سازشوں کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔ سنہ 1986ء4 میں ایران نے مکہ معظمہ میں دہشت گردی کے لیے دھماکہ خیز مواد وہاں پہنچایا اور سنہ 1987ء4 میں حج کے موقع پر بگدڑ کی سازش ایران کی طرف سے کی گئی تھی جس میں 400 حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ حال ہی میں یمن میں حکومت کے خلاف سرگرم حوثی باغیوں نے مکہ معظمہ پر ایک بیلسٹک میزائل داغا تھا جسے سعودی محکمہ دفاع کے میزائل شکن نظام نے فضاء4 ہی میں مار گرایا۔ اس میزائل حملے پر عالم اسلام کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
مکہ مکرمہ پر سکڈ میزائل کا حملہ –

عبدالرحمان الراشد

28/10/2016

خبر ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے مکہ کی طرف بیلسٹک میزائل فائر کیا، مکہ کے اطراف نصب اینٹی میزائل سسٹم نے جسے تباہ کردیا۔

میزائل حملے کی نیویارک ٹائمز میں خبر

http://www.nytimes.com/aponline/2016/10/27/world/middleeast/ap-ml-yemen.html?_r=0

یہ یمن میں جاری جنگ میں ایک نئی اور خطرناک پیش رفت ہے۔اس سے اس بات کی بھی یاد دہانی ہوتی ہے کہ یمن میں جاری تنازعہ علاقائی ہے اور سعودی عرب کا یہ مؤقف درست ثابت ہوتا ہے کہ اس جنگ کا آغاز سے ہی ہدف وہی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی بیلسٹک میزائل فائر کر رہے ہیں اور وہ غالباً یہ کام سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ تعاون کے ذریعے کر رہے ہیں اور ان کے پاس روسی ہتھیار موجود ہیں۔

ان حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے جن کے نتیجے میں یمن میں تنازعے کی راہ ہموار ہوئی اور جب سعودی عرب کی قیادت میں عرب خلیجی اتحاد نے مداخلت کی تو اس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس تنقید میں درست طور پر یہ اشارہ بھی کیا گیا تھا کہ قبائلی تنازعات میں الجھے ہوئے اس پہاڑی ملک میں جنگ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔ سعودی عرب نے چار سال تک تنازعے کے پُرامن حل کی کوشش کی تھی۔ یہ عمل ابتدا میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن یمن کی کل آبادی کے 15 فی صد سے بھی کم کی نمائندگی کرنے والے حوثیوں نے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی اور یہ امن منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اس کے بعد انھوں نے بزور طاقت دارالحکومت صنعا پر چڑھائی کردی، اس پر قبضہ کر لیا اور وہاں اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی۔ حوثیوں کے صنعا پر قبضے کے بعد بھی بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سعودی عرب صورت حال کو کنٹرول کرسکتا ہے یا وہ اس کو بالکل نظرانداز کردے، اپنی سرحدوں کو بند کردے اور یمنیوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دے لیکن حوثیوں نے بعد میں طاقت کے ذریعے عملی طور پر قریب قریب تمام یمن پر قبضہ کر لیا۔ یوں پہلی مرتبہ علاقائی محاذ آرائی کے دوران میں سعودی عرب کے جنوب میں واقع ملک ایران کی جھولی میں جا گرا۔

یہ کم وبیش اس وقت ہوا جب ایران عراق، سعودی عرب کے شمال اور شام کو کنٹرول کرنے کے لیے کوشاں تھا۔ اس کے علاوہ وہ بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی خطے میں بھی گڑ بڑ پھیلانے کی کوششیں کر رہا تھا۔ سعودی عرب کو تین اطراف سے گھیرنے کے لیے ایران کے منصوبے کو سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ حوثیوں کے صنعا میں اقتدار پر قبضے کے بعد یمن ایرانیوں کے لیے ایک فوجی اڈا بن گیا۔ حوثی لبنانی حزب اللہ کی طرح تہران کے لیے ایک ملیشیا بن گئے۔ ممکن ہے کہ اس جغرافیائی سیاسی تجزیے کی بنیاد پر بھی سعودی عرب اور اس کے اتحادی اس جنگ میں شامل نہ ہوتے۔ پھر ہوا یہ کہ حوثی باغیوں نے یمنی فوج کے ہتھیاروں اور فوجی آلات پر بھی قبضہ کر لیا۔ ان میں سکڈ میزائلوں کا ذخیرہ بھی شامل تھا۔ یہ سعودی عرب کے قلب کے لیے خطرہ بننا کی صلاحیت رکھتے ہیں۔گذشتہ سال کے اوائل میں، میں نے ایک مضمون لکھا تھا اور اس میں بتایا تھا کہ سعودی عرب کی جنوبی سرحد کے ساتھ واقع شہر ہی حوثیوں سے درپیش خطرے سے دوچار نہیں ہوں گے بلکہ وہ دور دراز واقع شہر جدہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

روسی سکڈ ڈی میزائل 800 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں سعودی فضائیہ نے اس اڈے کو نشانہ بنایا تھا جہاں یہ میزائل رکھے گئے تھے مگر یہ بھی یقین کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض میزائلوں کو خفیہ جگہوں پر بھی ذخیرہ کیا گیا ہے۔

اسی ہفتے ایک سکڈ ڈی میزائل 700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے طائف میں آ کر گرا ہے۔ یہ شہر صوبہ مکہ میں واقع ہے اور سعودی عرب کا قلب شمار ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے دفاعی نظام نے اس میزائل کا سراغ لگا لیا تھا۔ اپنی نوعیت کی یہ پہلی پیش رفت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یمنی جنگ کوئی داخلی مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ بہت سے لوگ یقین کرتے ہیں بلکہ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یمن سعودی عرب کے خلاف ایران کا ایک فوجی اڈا بن چکا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور یہ محض اس نظریے کی بنیاد پر ایک تجزیہ نہیں ہے کہ یمن میں مختلف دھڑوں کے درمیان تنازعہ ہے۔ جب ایران نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ تخلیق کی تو اس کا مقصد بھی لبنانی مزاحمت کی مدد کرنا نہیں تھا جو جنوبی لبنان کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے جاری تھی۔ حزب اللہ ایران کے لیے ایک ہر اول فوجی قوت کے طور پر ابھری تھی۔ اس کو وہ مغرب کے ساتھ مذاکرات اور خطے کے ممالک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کرتا رہا تھا۔ آج حزب اللہ ایرانیوں کی جانب سے شام اور عراق میں جنگ آزما ہے۔ اس نے ماضی میں یمنی حوثیوں کو تربیت دی تھی اور انھیں حزب اللہ کے مشابہ انصاراللہ کا نام دیا تھا۔ اس نے انھیں یہ بھی سکھایا تھا کہ یمن میں نعروں کو کیسے دُہرانا ہے، جیسے مرگ بر امریکا اور مرگ بر اسرائیل کے نعرے کیسے لگانے ہیں۔

یمن بحران کے آغاز سے ایک ایرانی مسئلہ بھی بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مصالحت اور سیاسی حل کی ہر کوشش کو سبوتاژ کر دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب، اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اور مغربی ممالک نے تنازعے کے حل کے لیے دو تصورات سے اتفاق کیا تھا: سیاسی فریم ورک میں حوثیوں کی شرکت اور دوسرا مسئلے کے جمہوری حل کی حمایت۔ یعنی عوام کے نمائندے اپنا آئین خود وضع کریں اور حکومت کے لیے اپنے نمائندوں کا بھی خود انتخاب کریں، تاہم ایران نے حوثیوں کو اس فارمولے کو تبدیل کرنے کے لیے آشیرباد دی، چنانچہ انھوں نے پہلے صوبے عمران پر قبضہ کر لیا، پھر دارالحکومت صنعا پر بھی قابض ہوگئے اور اقتدار میں حصہ بقدر جثہ کے بجائے زیادہ حصہ مانگنے لگ گئے۔

اس میزائل حملے سے سعودی عرب کے اس مؤقف کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ایران اس وقت یمن کے شمال میں ایک فوجی علاقہ بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ سعودی عرب کو ڈرایا دھمکایا جاسکے اور اسی کام کے لیے اس نے حوثیوں کا انتخاب کیا تھا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یمن میں جاری تنازعے کا خواہ کوئی سیاسی یا فوجی حل تلاش کیا جاتا ہے، اس تنازعے کو علاقائی محاذ آرائی سے الگ تھلگ نہیں کیا جاسکتا اور خطہ یمن میں جاری جنگ کے پس پردہ محرکات کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
یمن کے باغی کون ہیں؟امام کعبہ نے انتباہ کردیا

ہفتہ‬‮ 5 ‬‮نومبر‬‮ 2016 | 23:14

مکہ مکرمہ (آئی این پی)مسجد الحرام کے امام وخطیب (امام کعبہ) الشیخ ڈاکٹر خالد الغامدی نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کو مقدس مقامات پرحملوں کی بنا پر یہودیوں کے مشابہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح فلسطین میں قابض یہودی مسجد اقصی کی آئے روز بے حرمتی کرتیاور مقدس مقامات کی توڑپھوڑ کرکے اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اسی طرح یمن کے حوثی مکہ معظمہ پر میزائل حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق الشیخ ڈاکٹر خالد الغامدی کا کہناہے کہ اسلام سے بغض، نفرت اور دشمنی میں حوثی باغی یہودیوں ہی کی مانند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح اللہ تعالی نے یہودیوں کی چالوں اور ریشہ دوانیوں کو ناکام ونامراد کیا ہے، اسی طرح حوثیوں کو بھی ان کی سازشوں میں ناکام کرے گا۔ انہوں نے خطبہ جمعہ میں عالم اسلام سے دہشت گردی کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور سرزمین حرمین کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے خلاف مل کر لڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔خیال رہے کہ حال ہی میں یمن کے حوثی باغیوں نے مکہ معظمہ پر بیلسٹک میزائل حملے کی سازش کی تھی تاہم سعودی عرب کے میزائل ڈیفنس سسٹم نے حوثیوں کا میزائل حملہ ناکام بنا دیا تھا۔ مکہ پرمیزائل حملے کے بعد عالم اسلام کی طرف سے حوثیوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
یمن کے باغی کون ہیں؟امام کعبہ نے انتباہ کردیا

ہفتہ‬‮ 5 ‬‮نومبر‬‮ 2016 | 23:14

مکہ مکرمہ (آئی این پی)مسجد الحرام کے امام وخطیب (امام کعبہ) الشیخ ڈاکٹر خالد الغامدی نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کو مقدس مقامات پرحملوں کی بنا پر یہودیوں کے مشابہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح فلسطین میں قابض یہودی مسجد اقصی کی آئے روز بے حرمتی کرتیاور مقدس مقامات کی توڑپھوڑ کرکے اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اسی طرح یمن کے حوثی مکہ معظمہ پر میزائل حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق الشیخ ڈاکٹر خالد الغامدی کا کہناہے کہ اسلام سے بغض، نفرت اور دشمنی میں حوثی باغی یہودیوں ہی کی مانند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح اللہ تعالی نے یہودیوں کی چالوں اور ریشہ دوانیوں کو ناکام ونامراد کیا ہے، اسی طرح حوثیوں کو بھی ان کی سازشوں میں ناکام کرے گا۔ انہوں نے خطبہ جمعہ میں عالم اسلام سے دہشت گردی کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور سرزمین حرمین کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے خلاف مل کر لڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔خیال رہے کہ حال ہی میں یمن کے حوثی باغیوں نے مکہ معظمہ پر بیلسٹک میزائل حملے کی سازش کی تھی تاہم سعودی عرب کے میزائل ڈیفنس سسٹم نے حوثیوں کا میزائل حملہ ناکام بنا دیا تھا۔ مکہ پرمیزائل حملے کے بعد عالم اسلام کی طرف سے حوثیوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے۔
 
Top