• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکہ و مدینہ میں میلاد کے جلوس کی حقیقت

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
مکہ و مدینہ میں میلاد کے جلوس کی حقیقت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔

بدعتی جب عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس کے جواز پر بحث کرتے ہیں تو بڑے فخر کے ساتھ یہ بات پیش کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بھی میلاد کے جلوس نکلا کرتے تھے، بلکہ حرمین شریفین میں میلاد منایا جاتا تھا؛ بعد میں وہابیوں نے اسے بند کر دیا۔ لیکن اس تاریخی دعوے کا سب سے اہم حصہ عموما عوام سے چھپا لیا جاتا ہے کہ ان اجتماعات اور جلوسوں کی حقیقت کیا تھی، ان میں موجود منکرات، فتنہ، اختلاط، شور کو خود مکہ مکرمہ کے علماء نے کس نظر سے دیکھا تھا۔

اگر مکہ مکرمہ میں کسی زمانے میں کوئی بدعت رائج ہوگئی تو کیا اس کے رائج ہوجانے سے وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بن گئی؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہر بدعت، ہر رسم اور ہر منکر جو کسی زمانے میں حرمین میں پایا گیا، سب سنت قرار پائیں گے! یہ دلیل نہیں بلکہ مغالطہ ہے۔

علامہ محمد بن احمد بن الضیاء القرشی العمری المکی الحنفی، المعروف بہ ابن الضیاء رحمہ اللہ (ت ٨٥٤هـ) جو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، وہیں وفات پائی، قضا کے منصب پر فائز رہے اور حرم کی نگرانی اور حسبہ سے متعلق ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ انہوں نے اپنی کتاب «مختصر تنزيه المسجد الحرام عن بدع الجهلة العوام» میں مسجد حرام میں رائج بعض بدعات و منکرات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

«ما أَحْدَثُوهُ في ليلة مَوْلِدِ النبي - صلى الله عليه وسلم - وهي الثانية عَشَرَ من ربيع الأول، يجتمع تلكَ الليلةَ الفَرَّاشون بالشُّمُوعِ والفوانيسِ في المسجدِ الحرامِ ويزفّونَ الخطيبَ مِنَ المَسْجِدِ إلى مولد النبي - عليه السلام - بالشموع والمغرعات والمنجنيقات، وبين يَدَيْهِ جوقات المعرّبين، ويختلط حينئذٍ الرجالُ والنِّساءُ والصبيانُ، ويكثُرُ اللغطُ والزعيق والخصومات ورفع الأصوات بالمسجد الحرام وفي مسجد المَوْلِدِ. ويحصل في تلك الليلةِ مِنَ المفاسدِ ما لا يُحْصيه إلَّا الله تعالى.»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی رات، یعنی بارہ ربیع الاول کی رات، لوگوں نے جو نئی بدعت ایجاد کی ہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس رات مسجد حرام کے فراش اور خدمت گار شمعوں اور فانوسوں کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، اور خطیب کو مسجد حرام سے مولد نبوی کی جگہ تک شمعوں، مغرعات اور منجنیق نما آلات کے ساتھ جلوس کی صورت میں لے جاتے ہیں۔ اس کے آگے معربین کے گروہ ہوتے ہیں۔ اس موقع پر مرد، عورتیں اور بچے آپس میں خلط ملط ہوتے ہیں، شور و غل، چیخ پکار اور باہمی جھگڑے بہت بڑھ جاتے ہیں، اور مسجد حرام اور مسجد مولد دونوں میں آوازیں بلند کی جاتی ہیں۔ اس رات اس قدر مفاسد اور خرابیاں رونما ہوتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کرسکتا۔

[مختصر تنزيه المسجد الحرام عن بدع الجهلة العوام، ص : ١٧-١٨]

11007.jpg

11003.jpg

11001.jpg

یہ ہے وہ تاریخی "میلاد" جسے آج بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے! یعنی جس چیز پر فخر کیا جاتا ہے کہ "مکہ میں بھی جلوس نکلتا تھا"، اس کی تفصیل یہ ہے کہ شمعیں تھیں، فانوس تھے، جلوس تھا، مخصوص جتھے تھے، اور پھر وہ منکرات تھے جنہیں مکی حنفی عالم اپنی کتاب میں ضبط کر رہا ہے۔ تو جناب! تاریخ کا پورا واقعہ بیان کرو؛ صرف جلوس کا لفظ پکڑ کر عوام کو دھوکا نہ دو۔

مکہ میں بھی میلاد کے جلوس نکلتے تھے! یہ بیان کرنے والوں نے کبھی عوام کے سامنے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی «ويختلط حينئذٍ الرجالُ والنِّساءُ والصبيانُ» یعنی ان جلوس میں مرد، عورتیں اور بچے باہم خلط ملط ہوتے تھے۔ یہ ہے عید میلاد النبی کا وہ جلوس جسے بعض لوگ آج دلیل بنانا چاہتے ہیں!

کیا مردوں اور عورتوں کا اختلاط شریعت ہے؟ کیا بے پردگی اور اختلاط کو محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دے دینے سے وہ جائز بن جاتا ہے؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ایسا کوئی جلوس نکالنے کا حکم دیا؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا؟ کیا تابعین نے کیا؟ کیا ائمہ ہدیٰ نے اس کو دین بنایا؟

اگر نہیں، تو پھر کس دلیل سے ایک بعد کے دور کی ایجاد کردہ بدعتی رسم کو دین کا شعار بنایا جارہا ہے؟ ابن الضیاء رحمہ اللہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں: «ويكثُرُ اللَّغَطُ والزَّعيقُ والخصوماتُ» یعنی ان جلوس میں شور و غل، چیخ پکار اور جھگڑے بہت بڑھ جاتے تھے۔ کیا یہی مسجد حرام کا ادب ہے؟ کیا یہی محبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟

میلاد کے جلوس میں مرد و زن کا اختلاط، شور و ہنگامہ، چیخ پکار، جھگڑے، مسجد کے آداب کی پامالی اور دوسرے منکرات جمع ہوتے ہیں لہذا ایسے جلوسوں کو صرف "محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم" کا خوبصورت عنوان دے دینے سے وہ جلوس شریعت میں محبوب اور مشروع نہیں ہو جائیں گے۔

مکہ میں میلاد کے جلوس کا معاملہ صرف یہی تک محدود نہ تھا بلکہ ابن الضیاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ويحصل في تلك الليلةِ مِنَ المفاسدِ ما لا يُحْصيه إلَّا الله تعالى» یعنی اس رات ایسی بہت سی خرابیاں واقع ہوتی تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کرسکتا۔

اللہ اکبر! مکہ مکرمہ کا ایک حنفی قاضی خود گواہی دے رہا ہے کہ اس رات "مفاسد" اتنی کثرت سے واقع ہوتے تھیں کہ ان کا شمار اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے، اور آج کچھ بدعتی اسی واقعے کو جشن میلاد اور جلوس کے لیے دلیل بنا رہے ہیں!

کسی عمل کا کسی زمانے میں رائج ہونا، اس کے شرعی ہونے کی دلیل نہیں بلکہ دلیل یہ ہے کہ وہ عمل کتاب اللہ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عمل صحابہ اور قرون خیر کے تعامل سے ثابت ہو۔ محض یہ کہ فلاں شہر میں فلاں زمانے میں لوگ کرتے تھے، اس سے شرعی حجت قائم نہیں ہوتی۔

اور خود ابن الضیاء رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کے آغاز میں مسجد حرام میں آواز بلند کرنے کے متعلق صاف لکھا ہے: «اعلم أن رفع الصوت في المسجد الحرام بذكر، أو بتلاوة، أو غير ذلك: منهي عنه، والجهر بالذكر والأدعية بدعة، والتشويش على الطائفين والمصلين وغيرهم حرام» یعنی جان لو کہ مسجد حرام میں ذکر، تلاوت یا کسی اور چیز کے ذریعے آواز بلند کرنا ممنوع ہے، ذکر اور دعاؤں کو بلند آواز سے پڑھنا بدعت ہے، اور طواف کرنے والوں، نمازیوں اور دوسرے لوگوں کے لیے تشویش پیدا کرنا حرام ہے۔

مکہ میں رفع صوت، لغط، زعیق، خصومات اختلاط اور منکرات پر مبنی ان میلاد کے جلوسوں کا علماء نے کس طرح رد کیا اسے چھپایا جاتا ہے، کیونکہ اگر پوری حقیقت عوام کے سامنے آجائے تو "مکہ میں بھی جلوس نکلتا تھا" والا مغالطہ خود اپنے بوجھ تلے دب جائے گا۔

پس مکہ مکرمہ میں کسی دور میں میلاد کا جلوس نکلنا اس کے مشروع ہونے کی دلیل نہیں۔ بلکہ ہمارے سامنے ایک مکی حنفی قاضی کی شہادت موجود ہے جو اسے "ما أحدثوه" کہتا ہے اور اسی رات کے اندر مردوں، عورتوں اور بچوں کے اختلاط، شور و غوغا، چیخ پکار، جھگڑوں اور حرم میں آوازیں بلند کرنے کا ذکر کرکے آخر میں فرماتا ہے کہ اس رات ایسے "مفاسد" واقع ہوتے تھے جن کا شمار اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔

لہٰذا جو لوگ "مکہ میں بھی ہوتا تھا" کہہ کر بدعت کو جائز بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ بدعت کو قدامت کا لبادہ پہنانے سے وہ سنت نہیں بنتی، اور کسی شہر میں کسی زمانے میں کسی منکر کا رائج ہونا اس کے حرام یا بدعت ہونے کے حکم کو نہیں بدلتا۔

دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کا نام ہے، بعد کے لوگوں کی ایجاد کردہ رسوم کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اپنی خواہشات کی پیروی کرنے کے بجائے کتاب و سنت کی سچی اتباع نصیب فرمائے، اور ہر بدعت و منکر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
 
Top