• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مہاجرین کے مناقب اور فضائل کا بیان

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
منهم أبو بكر عبد الله بن أبي قحافة التيمي رضي الله عنه. وقول الله تعالى: {للفقراء المهاجرين الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم يبتغون فضلا من الله ورضوانا وينصرون الله ورسوله أولئك هم الصادقون} /الحشر: 8/.
وقال ‏ {‏ إلا تنصروه فقد نصره الله‏}‏ إلى قوله ‏ {‏ إن الله معنا‏}‏‏.‏ قالت عائشة وأبو سعيد وابن عباس ـ رضى الله عنهم ـ وكان أبو بكر مع النبي صلى الله عليه وسلم في الغار‏.‏

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یعنی عبداللہ بن ابی قحافہ تیمی رضی اللہ عنہ بھی مہاجرین میں شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الحشر) میں ان مہاجرین کا ذکر کیا، ان مفلس مہاجروں کا یہ (خاص طور پر) حق ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے جدا کر دئیے گئے ہیں جو اللہ کا فضل اور رضامندی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرنے کو آئے ہیں یہی لوگ سچے ہیں۔
اور (سورۃ التوبہ میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اگر تم لوگ ان کی (یعنی رسول کی) مدد نہ کرو گے تو ان کی مدد تو خود اللہ کر چکا ہے۔ آخر آیت ان اللہ معنا تک۔ حضرت عائشہ، ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ہجرت کے وقت) غار ثور میں رہے تھے۔



حدیث نمبر: 3652
حدثنا عبد الله بن رجاء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا إسرائيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي إسحاق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن البراء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال اشترى أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ من عازب رحلا بثلاثة عشر درهما فقال أبو بكر لعازب مر البراء فليحمل إلى رحلي‏.‏ فقال عازب لا حتى تحدثنا كيف صنعت أنت ورسول الله صلى الله عليه وسلم حين خرجتما من مكة والمشركون يطلبونكم قال ارتحلنا من مكة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأحيينا أو سرينا ليلتنا ويومنا حتى أظهرنا وقام قائم الظهيرة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فرميت ببصري هل أرى من ظل فآوي إليه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا صخرة أتيتها فنظرت بقية ظل لها فسويته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم فرشت للنبي صلى الله عليه وسلم فيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم قلت له اضطجع يا نبي الله‏.‏ فاضطجع النبي صلى الله عليه وسلم ثم انطلقت أنظر ما حولي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ هل أرى من الطلب أحدا فإذا أنا براعي غنم يسوق غنمه إلى الصخرة يريد منها الذي أردنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فسألته فقلت له لمن أنت يا غلام قال لرجل من قريش سماه فعرفته‏.‏ فقلت هل في غنمك من لبن قال نعم‏.‏ قلت فهل أنت حالب لبنا قال نعم‏.‏ فأمرته فاعتقل شاة من غنمه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أمرته أن ينفض ضرعها من الغبار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أمرته أن ينفض كفيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال هكذا ضرب إحدى كفيه بالأخرى فحلب لي كثبة من لبن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وقد جعلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم إداوة على فمها خرقة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فصببت على اللبن حتى برد أسفله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فانطلقت به إلى النبي صلى الله عليه وسلم فوافقته قد استيقظ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقلت اشرب يا رسول الله‏.‏ فشرب حتى رضيت ثم قلت قد آن الرحيل يا رسول الله‏.‏ قال ‏"‏ بلى ‏"‏‏.‏ فارتحلنا والقوم يطلبونا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلم يدركنا أحد منهم غير سراقة بن مالك بن جعشم على فرس له‏.‏ فقلت هذا الطلب قد لحقنا يا رسول الله‏.‏ فقال ‏"‏ لا تحزن إن الله معنا ‏"‏‏.‏

ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے اور ان سے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (ان کے والد) حضرت عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان تیرہ درہم میں خریدا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء (اپنے بیٹے) سے کہو کہ وہ میرے گھر یہ پالان اٹھا کر پہنچا دیں اس پر حضرت عازب رضی اللہ عنہ نے کہا یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ وہ واقعہ بیان نہ کریں کہ آپ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ سے ہجرت کرنے کے لیے) کس طرح نکلے تھے حالانکہ مشرکین آپ دونوں کو تلاش بھی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ سے نکلنے کے بعد ہم رات بھر چلتے رہے اور دن میں بھی سفر جاری رکھا۔ لیکن جب دوپہر ہو گئی تو میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ کہیں کوئی سایہ نظر آ جائے اور ہم اس میں کچھ آرام کر سکیں۔ آخر ایک چٹان دکھائی دی اور میں نے اس کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ سایہ ہے۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک فرش وہاں بچھا دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ اب آرام فرمائیں۔ چنانچہ آپ لیٹ گئے۔ پھر میں چاروں طرف دیکھتا ہوا نکلا کہ کہیں لوگ ہماری تلاش میں نہ آئے ہوں۔ پھر مجھ کو بکریوں کا ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریاں ہانکتا ہوا اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح سایہ کی تلاش میں تھا۔ میں نے بڑھ کر اس سے پوچھا کہ لڑکے تم کس کے غلام ہو۔ اس نے قریش کے ایک شخص کانام لیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے کہا جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا تم دودھ دوہ سکتے ہوں؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا اور اس نے اپنے ریوڑ کی ایک بکری باندھ دی۔ پھر میرے کہنے پر اس نے اس کے تھن کے غبار کو جھاڑا۔ اب میں نے کہا کہ اپنا ہاتھ بھی جھاڑ لے۔ اس نے یوں اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا اور میرے لیے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن میں نے پہلے ہی سے ساتھ لے لیا تھا اور اس کے منہ کو کپڑے سے بند کر دیا تھا (اس میں ٹھنڈا پانی تھا) پھر میں نے دودھ پر وہ پانی (ٹھنڈا کرنے کے لیے) ڈالا اتنا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا تو اسے آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ آپ بھی بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کیا: دودھ پی لیجئے۔ آپ نے اتنا پیا کہ مجھے خوشی حاصل ہو گئی، پھر میں نے عرض کیا کہ اب کوچ کا وقت ہو گیا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے، چلو۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور مکہ والے ہماری تلاش میں تھے لیکن سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہم کو کسی نے نہیں پایا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، میں نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ یا رسول اللہ! ہمارا پیچھا کرنے والا دشمن ہمارے قریب آ پہنچا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔


حدیث نمبر: 3653
حدثنا محمد بن سنان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا همام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ثابت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أنس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي بكر ـ رضى الله عنه ـ قال قلت للنبي صلى الله عليه وسلم وأنا في الغار لو أن أحدهم نظر تحت قدميه لأبصرنا‏.‏ فقال ‏"‏ ما ظنك يا أبا بكر باثنين الله ثالثهما ‏"‏‏.‏

ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ جب ہم غار ثور میں چھپے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر مشرکین کے کسی آدمی نے اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! ان دوکا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔



کتاب فضائل اصحاب النبی صحیح بخاری
 
Top