ملک سکندر نسوآنہ
رکن
- شمولیت
- اپریل 05، 2020
- پیغامات
- 116
- ری ایکشن اسکور
- 4
- پوائنٹ
- 68
اللؤلؤ والمرجان
267. باب الميت يعذب ببكاء أهله عليه
کتاب الجنائز
جنازے کے مسائل
267. باب الميت يعذب ببكاء أهله عليه
میت کو گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جانے کا بیاں
حدیث نمبر: 1
صحيح حديث عمر بن الخطاب رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: الميت يعذب في قبره بما نيح عليه۔
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس پر نوحہ کئے جانے کی وجہ سے بھی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔
تخریج الحدیث: اللؤلؤ والمرجان= 534 ، «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 34 باب ما يكره من النياحة على الميت= 1292 ،1287» ۔۔۔ «صحیح مسلم 11۔ كتاب الجنائز 267. باب الميت يعذب ببكاء أهله عليه= 927، 2143 ، 2144» ۔۔۔ «مسنداحمد= 180»۔
حدیث نمبر: 2
صحيح حديث المغيرة رضي الله عنه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من نيح عليه يعذب بما نيح عليه۔
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کسی میت پر اگر نوحہ و ماتم کیا جائے تو اس نوحہ کی وجہ سے بھی اس پر عذاب ہوتا ہے۔
تخریج الحدیث: اللؤلؤ والمرجان= 539، «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 34 باب ما يكره من النياحة على الميت= 1291» ۔۔۔ «صحیح مسلم 11۔ كتاب الجنائز 267. باب الميت يعذب ببكاء أهله عليه= 2157» ۔۔۔ «مشکاة= 1740»۔
حدیث نمبر: 3
عن علي بن ربيعة الاسدي قال: مات رجل من الانصار يقال له قرظة بن كعب فنيح عليه (وفي رواية إن اول من نيح عليه بالكوفة قرظة بن كعب الانصاري) فخرج المغيرة بن شعبة رضي الله عنه، فصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: ما بال النوح في الإسلام، اما إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: ((إن كذبا علي ليس ككذب على احد، الا ومن كذب علي متعمدا فليتبوا مقعده من النار))، الا وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: ((من ينح عليه يعذب بما نيح به عليه))۔
علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں: قرظہ بن کعب نامی ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا اور اس پر نوحہ کیا جانے لگا، ایک روایت میں ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے قرظہ بن کعب انصاری پر نوحہ کیا گیا، سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے اور اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اسلام میں نوحہ کا کیا کام؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھ پر جھوٹ بولنا، یہ عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، خبردار! جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: جس پر نوحہ کیا گیا تو اسے اس وجہ سے عذاب دیا جائے گاکہ اس پر نوحہ کیا گیا۔
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1291، وأخرجه مسلم: 4 دون ذكر النوح، و 933 بذكر النوح فقط، انظر مسند أحمد= ترقيم الرسالة: 18140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18320»
حدیث نمبر: 4
صحيح حديث عمر بن الخطاب عن ابي موسى، قال: لما اصيب عمر رضي الله عنه، جعل صهيب يقول: وااخاه فقال عمر: اما علمت ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: إن الميت ليعذب ببكاء الحي۔
سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے (آئے) ہائے میرے بھائی اس پر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مردے کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے؟
تخریج الحدیث: اللؤلؤ والمرجان= 535، «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 32 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعذب الميت ببعض بكاء أهله عليه= 1290» ۔۔۔ «صحیح مسلم 11۔ كتاب الجنائز 267. باب الميت يعذب ببكاء أهله عليه= 2147»۔
حدیث نمبر: 5
(حديث مرفوع) حدثنا عفان ، حدثنا حماد بن سلمة ، حدثنا ثابت ، عن انس : ان عمر بن الخطاب لما عولت عليه حفصة، فقال: يا حفصة، اما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول:" المعول عليه يعذب". قال: وعول صهيب، فقال عمر: يا صهيب، اما علمت ان المعول عليه يعذب.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا رونے اور چیخنے لگیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حفصہ! کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر چیخ کر رویا جاتا ہے، اسے عذاب ہوتا ہے؟ اس کے بعد سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ پر بھی ایسی ہی کیفیت طاری ہوئی تو ان سے بھی یہی فرمایا۔
تخریج الحدیث: «مسند احمد مترجم مولانا ظفر اقبال نے صحیح قرار دیا ہے مکتبہ رحمانیہ لاہور = حدیث نمبر: 268» ۔۔۔ «فتح الربانی ترتیب مسند احمد مترجم انصارالسنہ لاہور کے ریسرچ اسکالر نے بھی صحیح قرار دیا ہے= حدیث نمبر 3070» ۔۔۔ «نیز ملاحظہ ہو حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1292، م: 927»۔
ضروری نوٹ: شیخ الاسلام بن تیمیہؒ کا قول مسک الختام کا درجہ رکھتا ہے فرماتے ہیں۔
”اس حدیث کو اکابر صحابہ نے قبول کیا ہے۔ جن میں سے ایک عمر ہیں۔ اور جب انکو زخمی کیا گیا تو انہوں نے اسے بیان کیا جبکہ ان کی خدمت میں مہاجرین اور انصار موجود تھے۔ انہوں نے صہیب { اور حفصہ } کو نوحہ کرنے سے منع کیا تو کسی نے ان کی نکیر نہیں کی۔ اپنے عہد امارات میں وہ ان زندہ لوگوں کو سزا دیتے تھے جن کے فعل سے میت کو عذاب ہوتا تھا“۔
«جواب الاعتراضات المصریہ علی الفتیا الحمویہ= 62\63»۔
حدیث نمبر: 6
صحيح حديث عبد الله بن عمر، وعمر، ابن عباس، عن عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، قال: توفيت ابنة لعثمان رضي الله عنه بمكة، وجئنا لنشهدها، وحضرها ابن عمر وابن عباس، وإني لجالس بينهما (او قال جلست إلى احدهما ثم جاء الآخر فجلس إلى جنبي) فقال عبد الله بن عمر، لعمرو بن عثمان: الا تنهى عن البكاء فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الميت ليعذب ببكاء اهله عليه فقال ابن عباس: قد كان عمر رضي الله عنه يقول بعض ذلك۔
سیدنا عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی (ام ابان) کا مکہ میں انتقال ہو گیا تھا ہم بھی ان کے جنازے میں حاضر ہوئے سیّدنا عبداللہ بن عمر اور سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے میں ان دونوں حضرات کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا یا یہ کہا کہ میں ایک بزرگ کے قریب بیٹھ گیا اور دوسرے بزرگ بعد میں آئے اور میرے بازو میں بیٹھ گئے سیّدنا عبداللہ بن عمر نے عمرو بن عثمان سے کہا (جو ام ابان کے بھائی تھے) رونے سے کیوں نہیں روکتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ میت پر گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے اس پر سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بھی تائید کی کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی فرمایا تھا۔
تخریج الحدیث: اللؤلؤ والمرجان= 536، «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 33 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعذب الميت ببعض بكاء أهله عليه= 1286 ، 1287 ، 1288» ۔۔۔ «صحیح مسلم 11۔ كتاب الجنائز 267. باب الميت يعذب ببكاء أهله عليه= 2149»
حدیث نمبر: 7
حدثني عمران بن ميسرة، حدثنا محمد بن فضيل، عن حصين، عن عامر، عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما، قال:" اغمي على عبد الله بن رواحة، فجعلت اخته عمرة تبكي وا جبلاه وا كذا وا كذا تعدد عليه، فقال حين افاق: ما قلت شيئا إلا قيل لي آنت كذلك"۔
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر (ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ والدہ نعمان بن بشیر یہ سمجھ کر کہ کوئی حادثہ آ گیا ‘ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے لیے پکار کر رونے لگیں۔ ہائے میرے پہاڑ ہائے میرے ایسے اور ویسے۔ ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے گنانے لگیں لیکن جب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے۔
مشکاة میں اضافہ ہے کہ جب عبداللہ بن رواحہؓ شہید ہوئے تو پھر وہ ان پر نہ روئیں۔
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ کتاب: المغازي ، 45. باب غزوة موتة من أرض الشأم= 4267» ۔۔۔ «مشکاة= 1745»۔
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4267
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ فرشتے لوہے کا گرز اٹھاتے اور عبد اللہ ؓ سے پوچھتے کیا تو ایسا ہی تھا۔
معلوم ہوا کہ بعض بیماریوں میں مرنے سے پہلے ہی فرشتے نظر پڑ جایا کرتے ہیں گو آدمی نہ مرے۔
چنانچہ عبد اللہ ؓ اس بیماری سے اچھے ہو گئے تھے یہی عبد اللہ بن رواحہ ؓ ہیں جو غزوہ موتہ میں شہید یہوئے۔
اس مناسبت سے اس حدیث کو اس باب کے ذیل میں لایا گیا۔
مزید تفصیل حدیث ذیل میں آرہی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4267]
حدیث نمبر: 8
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا محمد بن عمار، حدثني اسيد بن ابي اسيد، ان موسى بن ابي موسى الاشعري اخبره، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ما من ميت يموت فيقوم باكيه فيقول: وا جبلاه وا سيداه او نحو ذلك إلا وكل به ملكان يلهزانه اهكذا كنت ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی بھی مر جائے پھر اس پر رونے والا کھڑا ہو کر کہے: ہائے میرے پہاڑ، ہائے میرے سردار یا اس جیسے الفاظ کہے تو اسے دو فرشتوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے، وہ اسے گھونسے مارتے ہیں {اور کہتے جاتے ہیں} کیا تو ایسا ہی تھا؟“۔
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «جامع الترمذي كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، 24. باب ما جاء في كراهية البكاء على الميت= 1003» ۔۔۔ «سنن ابن ماجہ/الجنائز 54 (1594)» ۔۔۔ «(تحفة الأشراف:حسن= 9031»
«مشکاة تخریج وتحقیق حافظ زبیرعلی زائیؒ: حسن= 1746»۔
«قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة= 1594»۔
حدیث نمبر: 9
صحيح حديث عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على يهودية يبكي عليها اهلها، فقال: إنهم ليبكون عليها، وإنها لتعذب في قبرها۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک یہودی عورت پر ہوا جس کے مرنے پر اس کے گھر والے رو رہے تھے اس وقت آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ رو رہے ہیں حالانکہ اس کو قبر میں عذاب کیا جا رہا ہے۔
تخریج الحدیث: اللؤلؤ والمرجان= 538، «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 33 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعذب الميت ببعض بكاء أهله عليه= 1289» ۔۔۔ «صحیح مسلم 11۔ كتاب الجنائز 267. باب الميت يعذب ببكاء أهله عليه= 2156»۔
ضروری نوٹ: سیدہ عائشہ کا اس بات کو یہود کے ساتھ خاص کرنا اور قرآن کی اس آیت {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام:۱۶۴) سے استنباط کرنا محض ان کا اپنا اجتہاد ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہﷺ سے یہود کے مطلق کسی قصے میں سنی ہو اور یہ گمان کر لیا ہو کہ یہ انہی کے ساتھ خاص ہے۔ جب کہ یہ فرمان نبوی عام ہے اور یہودی اور دیگر تمام افراد کو شامل ہے۔
حدیث نمبر: 10
عن اسيد بن ابي اسيد عن موسى بن ابي موسى الاشعري عن ابيه رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: ((الميت يعذب ببكاء الحي عليه، إذا قالت النائحة واعضداه، وانا صره، واكاسياه، جبذ الميت وقيل له: انت عضدها، انت ناصرها، انت كاسيها))، فقلت: سبحان الله! يقول الله عز وجل: {ولا تزر وازرة وزر اخرى}، فقال: ويحك احدثك عن ابي موسى عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وتقول هذا؟ فاينا كذب؟ فوالله! ما كذبت على ابي موسى، ولا كذب ابو موسى على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم۔
سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب نوحہ کرنے والی کہتی ہے: ہائے میرے بازو! ہائے میرے مدد گار! ہائے مجھے کپڑے پہنانے والے! تو فرشتے میت کو جھنجوڑتے اور کہتے ہیں:تو اس کا بازو تھا؟ تو اس کا مدد گار تھا؟ تو اس کو کپڑے پہناتا تھا؟ اسید کہتے ہیں: میں نے (تعجب کرتے ہوئے) کہا: سبحان اللہ! اللّٰہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام:۱۶۴) یعنی: کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن موسی بن ابی موسیٰ نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، میں تجھے سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو اس طرح کہتا ہے؟ ہم میں سے کس نے جھوٹ بولا؟ اللّٰہ کی قسم! میں نے سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا اور نہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1003» ۔۔۔ «ابن ماجه: 1594» ۔۔۔ «مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19954»۔
وضاحت: فوائد: … ((یُعَذَّبُ الْمَیِّتُ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ۔)) یعنی: میت کو اس پر اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث کو سیّدنا عمر اور ان کے بیٹے سیّدنا عبد اللہ کی بھول چوک کا نتیجہ قرار دیا، حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے۔ دراصل سیدہ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ اس حدیث کو سیّدنا عمر، سیّدنا عبداللہ بن عمر، سیّدنا مغیرہ بن شعبہ، سیّدنا ابوموسیٰ اشعری، سیّدنا بشربن نعمان، سیدنا انس ابن مالک، اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم نے بھی بیان کیا ہے، یہ کل سات صحابہ ہیں۔
نیز ان سات صحابہ کے علاوہ اس موضوع کی احادیث کو اور صحابہ کرام نے بھی بیان کیا ہے۔
لازمی نوٹ
میت کو نوحہ کی وجہ سے عذاب اس وقت ہوتا ہے جب یہ اس کا طریقہ ہو اور اس نے اپنی زندگی میں اپنے گھر والوں کو اس پر برقرار رکھا ہو۔ یا اس کے سامنے اس کے گھر والے نوحہ کرتے ہوں اور اس نے ان کو نہ منع کیا ہو یا اپنے بارے میں یہ وصیت کی ہو کہ اس کی میت پر رویا جائے۔ بصورتِ دیگر وہ عذاب کا مستحق نہیں ہو گا۔