• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میدان محشر کی پریشانیوں سے ہم کیسے بچیں؟

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
78
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
56
بسم اللہ الرحمن الرحیم

میدان محشر کی پریشانیوں سے ہم کیسے بچیں؟​



ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:

محترم سامعین!

پچھلے خطبۂ جمعہ کے اندر آپ نے یہ سنا تھا کہ میدان محشر میں گرمی کیسی ہوگی؟ اور لوگ کس قدر حیران وپریشان اور بدحال وبدحواس ہوں گےاور آج کے خطبۂ جمعہ کے اندر میں آپ کو یہ بتانے والاہوں کہ جب میدان محشر میں سورج بالکل سر کے اوپر صرف ایک میل کے فاصلے پرہوگاتو ایسی مشکل گھڑی میں ہم اپنے آپ کو ہرطرح کی پریشانیوں سے کیسے بچائیں؟بہت افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم نےقیامت کے دن کی پریشانیوں اور سختیوں کو بہت ہی معمولی سمجھ لیا ہے اور بہت ہی ہلکے میں لے لیا ہےجب کہ میدان محشر کی سختی کا عالم کیا ہوگا اس کی منظرکشی کرتے ہوئے رب نے یہ اعلان کیا کہ’’ يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ ‘‘ لوگو!اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت ہی بڑی چیز ہے،کتنی بڑی چیز ہے؟ سنئےاسی آیت کے فوراً بعد اللہ نے کیا کہا؟فرمایا’’ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‘‘جس دن تم اسے دیکھ لوگے،ہردودھ پلانے والی اپنے دودھ پلاتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیاں اپنے حمل گرادیں گی اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے،حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے ۔لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔(الحج:1-2 )صرف اتنا هي نهيں سورہ مزمل کےاندر تو اللہ رب العالمین نےقیامت کی سختی کی بارے میں یہاں تک فرمادیا کہ وہ دن ایسا دن ہوگا’’ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا ‘‘ جس دن کی سختی وپریشانی سے بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔(المزمل:17)اسی طرح سے قیامت کے دن کی سختی کے بارے میں سورہ المؤمن کے اندر اللہ رب العالمین نے کہا کہ ’’ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ ‘‘ اور انهيں بہت ہی قریب آنے والی کے دن (قیامت ) سے آگاہ کردیں جب کہ غم کے مارے دل حلق تک پہنچ جائیں گے ۔(المؤمن:18) یعنی اس خوف کی وجہ سے دل اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔(احسن البیان:ص1076)کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ واجِفَةٌ ‘‘ بہت سے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔(النازعات:8)دیکھا اور سنا آپ نے کہ یہ دن کتنا خطرناک اور کتنا سخت ہوگا؟اورمیرے دوستو!یہ بات آپ جان لیں کہ یہ دن کوئی 12/15/گھنٹوں کا دن نہیں بلکہ وہ دن تو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا،اللہ اکبر!جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے ’’ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ‘‘جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔(المعارج:4)اورتواور ہے اس دن اللہ رب العالمین میدان محشر میں لوگوں کو جمع کرکے کیاکرے گا،سنئے حدیث،سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ كَيْفَ بِكُمْ إِذَا جَمَعَكُمُ اللَّهُ كَمَا يُجْمَعُ النَّبْلُ فِي الْكِنَانَةِ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ‘‘تمہاری کیا حالت ہوگی جب اللہ رب العالمین تمہیں تَرْکَشْ میں تیرجمع کرنے کی طرح پچاس ہزار سال کے لئے میدان محشر میں جمع کردے گا، ’’ ثُمَّ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ‘‘پھر تمہاری طرف دیکھے گا بھی نہیں۔اللہ اکبر!ذرا سوچئے کہ اس وقت ہماری کیا حالت ہوگی اورہماری کیا درگت بنے گی؟جس وقت ایک تو سورج بالکل ہی سر کے اوپر ہوگا ،دوسرا یہ کہ وہ دن بھی ہمارے عام دنوں کی طرح 12/ 15گھنٹوں کا دن نہیں بلکہ وہ دن تو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا !

(1) مومن ومتقي بن جائیں اور قیامت کی پریشانیوں سے بچ جائیں:

میرے دوستو! اگرہم یہ چاہتے ہیں کہ اس پچاس ہزارسال کے برابروالے دن میں ہرطرح کی پریشانیوں سے بچ جائیں تو پھر ہم مومن ومتقی بن جائیں کیونکہ وہ دن تو بے شک پچاس ہزار سال کے برابرہوگا اوربہت سخت ہوگا مگرمومنوں کے لئے بہت ہی معمولی وقت ہوگا جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كَقَدْرِ مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ‘‘ قیامت کا دن مومنوں کے اوپر صرف ظہر وعصر کے درمیانی وقت کے برابر ہوگا۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:3267،الصحیحۃ:2456)اورایک دوسری روایت کے اندر ہے،سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے قرآن مجید کی اس آیت ’’ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لرَبِّ الْعَالَمِينَ ‘‘ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ (المطففین:6)کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ مِقْدَارُ نِصْفِ يَوْم مِنْ خَمْسِينَ ألْفَ سَنَةٍ ‘‘ قیامت کا دن اتنا بڑا ہوگا کہ اس کا آدھا حصہ دنیا کے حساب سے پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا،لیکن پھر بھی ’’ يَهُونُ ذلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِ كَتَدَلِّي الشَّمْسِ لِلْغُرُوبِ إلَى أَنْ تَغْرُبَ ‘‘اس کے باوجود مومن کے لئے اتنا آسان ،اتنا آسان ہوگا کہ یہ کم ہوکر اتنا رہ جائے گا جتنا سورج ڈھلنے سے لے کر غروب ہونے تک کا وقت ہوتاہے۔(الصحیحۃ:2817)مطلب یہ ہوا کہ پچاس ہزار سال کا دن مومنوں کے لئے صرف اور صرف دو سے تین گھنٹے یاپھر پانچ سے چھ گھنٹے کے برابر ہوگا، سبحان اللہ! اللہ کا کرم دیکھئے اہل ایمان پر کہ یہ لمبا دن بھی ان کے لئے مختصر کردی جائے گی صرف یہی نہیں ؟اللہ کا ایک اور کرم اہل ایمان پر یہ بھی ہوگا کہ یہ مشکل گھڑی بھی ان کے لئے آسان کردی جائے گی ،اور ان کو تکلیف بھی بالکل نہ کے برابر ہوگی جیسا کہ نبیٔ اکرم ومکرم محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ ‘‘بروزقیامت لوگوں کو پسینے کی لگام ڈالی گئی ہوگی،لیکن ’’ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزَّكْمَةِ ‘‘اہل ایمان کو اس کی تکلیف بس اتنی سی ہوگی جتنی سردی و زکام کی حالت میں ہوتی ہے ۔(مسنداحمد:12824،اسنادہ صحیح)اس لئے اے میرے بھائیو اور بہنو!اگرہم یہ چاہتے ہیں کہ میدان محشر کی گرمی وپریشانی اور بدحواسی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ لیں تو پھر مومن ومتقي بن جائیں کیونکہ اس دن جولوگ مومن ومتقی ہوں گے ان کے لئےرب کی طر ف سے یہ اعلان کیا جائے گا کہ’’يَاعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ ‘‘ اے میرے بندو!آج تم پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ تم غمزدہ ہوگے،کن بندوں سے یہ کہاجائے گا اسی آیت کے بعد خود اللہ رب العزت نے یہ واضح کردیا کہ’’ الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ ‘‘جوہماری آیتوں پر ایمان لائے اور تھے بھی وہ مسلمان،اب آپ خوش ہوجائیں گے کہ بھائی ہم تو مسلمان ہی ہیں،نہیں میرے بھائیو اور بہنو!نہیں!لفظ مسلمان سن کرخوش نہ ہوجائیں،اس آیت میں مسلمان کا مطلب وہ نہیں جو ہم سمجھ رہے ہیں کہ بھائی بس ہم مسلمان ہیں تو کافی ہیں،نہیں!ہرگز نہیں! ہم توصرف نام کے مسلمان ہیں اور یہ اعلان ان لوگوں کے لئے ہوگا جو کام کے مسلمان تھے یعنی کہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بتلائے طریقے کے مطابق دنیا میں زندگی گذاری ہوگی،ان کے لئے یہ خوشخبری بھرااعلان ہوگا کہ چلو’’ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَزْواجُكُمْ تُحْبَرُونَ ‘‘ تم اورتمہاری بیویاں ہشاش بشاش جنت میں چلے جاؤ۔(الزخرف:68-70)کہیں اللہ نے فرمایا کہ اس دن نفسا نفسی کا عالم تو ضرور ہوگامگر پھر بھی ’’ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ ، ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ ‘‘ اس دن بهت سے چہرے روشن ہوں گے ،جو ہنستے ہوئے ہشاش بشاش ہوں گے۔(عبس:38-39)اور یہ کون لوگ ہوں گے؟ وہی لوگ ہوں گے جومومن ومتقی ہوں گے،اور ایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا کہ ’’ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ‘‘يادركھو اللہ کے دوستوں(فرماں برداروں)پرنہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے،اب یہ اللہ کے دوست کون لوگ ہیں خود اللہ نے واضح کرتے ہوئے فوراً اسی آیت کے بعد فرما دیا کہ ’’ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ‘‘یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے،’’ لَهُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ ‘‘ ان کے لئے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے۔(یونس:62-64)سنا آپ نے کہ جو مومن ومتقي ہوں گے ان کے لئے خصوصی اعلان کیا جائے گا کہ اب ڈرنے اورگھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تمہارے لئے تو جنت ہے،اس لئے اے میرے بھائیواوربہنو!مومن بن جاؤ!نجات پاجاؤگے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ مومن کسے کہتے ہیں تو مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جو پانچوں وقت کی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ،جو اللہ کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتے ہیں،جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گذارتے ہیں،توخیر میرے پیارے پیارے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیواور بہنو!صرف اللہ کو ماننے والے نہیں بلکہ اللہ کی ماننے والے بنو!قیامت کے دن کی ہر پریشانیوں سے نجات پاجاؤگے۔

(2)تین اعمال انجام دیجئے اور قیامت کے دن کی پریشانیوں سے نجات حاصل کرلیجئے:

میرے دوستو!اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن کی گرمی اورہرطرح کی پریشانیوں سے محفوظ رہیں تو پھر تین آسان عملوں کو انجام دیجئے، اللہ ہمیں خود ہرطرح کی پریشانی اور بدحالی وبدحواسی سے محفوظ رکھے گا،جیسا کہ نبیٔ اکرم ومکرم محمدعربیﷺ نے فرمایا’’ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا ‘‘ کہ جس نے کسی مسلمان کی کوئی ایک دنیوی مصیبت وپریشانی ،دکھ ودرد اور غم والم کو دور کردیا تو ’’ نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‘‘اللہ تعالی اس کی قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سے کوئی ایک پریشانی کو دور کردے گا،نمبر دو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ‘‘ اورجس نے کسی مسلمان کے عیبوں پر پردہ ڈال دیاتواللہ رب العالمین دنیا وآخرت میں اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دے گا،نمبر تین آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ‘‘اورجس نے کسی تنگ دست اورپریشان حال آدمی پر آسانی کیا تو اللہ تعالی اس پر دنیا وآخرت میں آسانی فرمائے گا۔(ابن ماجہ:225، مسلم:2699، ترمذی:1425، ابوداؤد:4946،بخاری:2442)سبحان اللہ! کتنی عمدہ فضیلت ہے اب ذرا اس کی تشریح تو بھی سنئے:





(أ) مسلمان کی پریشانیوں کو دورکردو اللہ تمہاری قیامت کے دن کی پریشانیوں کو دور کردے گا:

میرے دوستو!اس حدیث کے اندر تین باتوں کا تذکرہ ہے ،سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو بھی مسلمان کسی مسلمان کی دنیوی کسی پریشانی کو دورکردے گا تو اللہ تعالی اس کی قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دورکردے گا،مگر افسوس!آج سماج ومعاشرے کے اندرموجودہ دور میں تو ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے ہی پریشانی اورپرابلم ہے،پریشانی دورکرنے کی بات تو بہت دور کی بات ہے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کو تکلیف دینےاور ستانے میں مزہ آتاہے،لوگ پریشانیوں کو دور کرنے کے بجائے جان بوجھ کراورپریشانیوں میں پھنسا دیتے ہیں تو جو لوگ بھی دنیا میں کسی کو پریشان کریں گے تو اللہ انہیں دنیاوآخرت میں پریشان کرے گاجیسا کہ نبیٔ محترم ومکرم جناب محمدعربیﷺ کا یہ فرمان ہے ’’ مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ‘‘جس نے دوسرے کا نقصان کیا تو اللہ اس کا نقصان کرے گا اورجس نے دوسرے کو مشقت وپریشانی میں ڈالا تو اللہ اسے بھی مشقت وپریشانی میں ڈالے گا۔(ترمذی:1940،ابوداؤد:3635،اسنادہ حسن)سنا آپ نے کہ جو دوسروں کو پریشان کرے گا اللہ اسے پریشان کرے گا،توکیا خیال ہے میرے بھائیو اوربہنو!کہیں آج ہماری پریشانیوں کی وجہ دوسروں کو پریشان کرناتو نہیں ہے؟سوچواورغوروفکر کرو!حدیث اپنے معنی میں بالکل ہی واضح ہے کہ جو کسی کو اسے مال کے تعلق سے پریشان کرے گا تو اللہ اسے بھی اس کے مال کے تعلق سے پریشانی میں مبتلاکرے گا اورجوکسی کو اس کے اہل وعیال کے تعلق سے پریشان کرے گا تو اللہ رب العزت بھی اس کو اس کے اہل وعیال کے تعلق سے پریشان کرے گاکیونکہ یہ قدرت کااٹل فیصلہ ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

(ب)مسلمانوں کے عیبوں پر پردہ ڈالا کرو اللہ قیامت کے دن تمہارے عیوب پرپردہ ڈال دے گا:

دوسری بات جس سے ایک انسان کی قیامت کے دن کی پریشانیاں کم ہوں گی وہ ہے کہ کسی مسلمان کے عیبوں پر پردہ ڈالنا،افسوس!ہم اورآپ تو اس میں بھی بہت ہی زیادہ پیچھے ہیں ،عیب چھپانا تو دور کی بات ہےسماج ومعاشرے کے اندر دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ توکسی کے عیبوں پرپردہ ڈالنے کے بجائے اس میں اور مرچ مسالہ لگا کر پورے سماج ومعاشرے کے اندر اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں،لوگوں کو اپنے عیب کی فکرنہیں رہتی ہے مگر دوسروں کے عیبوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تو جولوگ بھی دوسروں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں وہ لوگ یہ سن لیں کہ جو دوسروں کے عیبوں کے پیچھے پڑے گا تو اللہ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑے گااور اللہ ایسے لوگوں کو خود اس کے گھر میں ذلیل ورسوا کردے گا اور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ یہ بات تو جناب محمدعربیﷺ نے فرمادیا ہے کہ ’’ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘جواپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالی بھی بروز قیامت اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ،’’ وَمَنْ كَشَفَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَشَفَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ‘‘ اور جواپنے مسلمان بھائی کے عیبوں کے پیچھے پڑکر اس کی تشہیر کرے گا تو اللہ تعالی اس کے عیبوں کوفاش کردے گا ، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ آپﷺنے آخر میں فرمایا کہ ’’ حَتَّى يَفْضَحَهُ بِهَا فِي بَيْتِهِ ‘‘ اللہ دوسروں کے عیبوں کے پیچھے پڑنے والوں کو خود اس کے گھرمیں ہی ذلیل ورسوا کردے گا۔(ابن ماجہ:2546،وقال الألبانیؒ اسنادہ صحیح)سنا آپ نے کہ کسی مسلمان کے عیبوں کو ظاہرکرکے اسے ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو خود اللہ رب العالمین اس کے گھرمیں ہی ذلیل ورسوا کردیتاہے،اس لئے میرے بھائیواوربہنو!کسی کے عیب کے پیچھے نہ پڑو ،ورنہ اللہ تمہاری عیب کے پیچھے پڑجائے گااور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑجائے سمجھ لیجئے کہ دنیا وآخرت میں اس کی ذلت ورسوائی یقینی ہے۔

(ج)تنگ دست اورپریشان حال آدمی کے لئے آسانیاں پیداکیاکرو اللہ قیامت کے دن تمہارے لئے آسانی پیدا فرمائے گا:

میرے دوستو!اس حدیث کے اندر تیسری اورسب سے آخری بات یہ ہے کہ اگرکوئی شخص کسی پریشان حال اور تنگ دست مسلمان کے لئے آسانیاں پیداکردے گا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے لئے آسانیاں پیدافرمائے گا،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے حدیث کے اس ٹکڑے تنگ دست پرآسانی کرنے کا مطلب کیا ہے ؟توآئیے اس کو میں ایک مثال ذریعے آپ کو سمجھا دیتاہوں ،سمجھ لیجئے کہ آپ نے اپنے کسی غریب رشتے دار کو کچھ سامان یاپھر کچھ روپئے پیسے ادھار دے رکھے ہیں،اب آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ آج کل بہت پریشان ہے تو آپ اس کو اورمہلت دے دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ چلوکوئی بات نہیں دومہینے کے بعد ،چھ مہینے کے بعد دے دینا،یاپھر آپ کہتے ہیں کہ چلو جب آسانی ہوگی تب دے دینا،تو اگرآپ اس طرح سے اس کے لئے آسانیاں پیداکردیں گے تو کل بروزقیامت اللہ رب العالمین آپ کے لئے آسانیا ں پیدافرمائے گا۔سبحان اللہ!کتنی عمدہ فضیلت ہےاور یہ تو صرف آسانیاں پیداکرنے کی فضیلت ہے لیکن اسی سلسلے میں ایک اور بہت بڑی فضیلت بھی احادیث میں وارد ہوئی ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی غریب تنگ دست مسلمان پرآسانیاں پیدافرمائے گااور اسے باربار مہلت دے گا یاپھر اس کو معاف ہی کردے گا تو کل بروز قیامت ایسے لوگوں کو اللہ رب العزت اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا،سنئے حدیث،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ ‘‘جس مسلمان کو یہ بات پسند ہوکہ اللہ اسے اپنے سائے میں جگہ دے تو اسے چاہئے کہ وہ تنگ دست کو مہلت دے دیا کرے یاپھر اسے معاف ہی کردیاکرے۔(ابن ماجہ:2419،وقال الألبانیؒ اسنادہ صحیح)اورمسلم شريف كے الفاظ ہیں ،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ ‘‘ جس مسلمان نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یاپھر اسے معاف کردیا تو کل بروز قیامت اللہ رب العالمین اسے اپنے سائے میں رکھے گا۔(مسلم:3006)اور مسلم شریف ہی کی ایک دوسری روایت کے اندر ہے ،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ‘‘جس مسلمان کو یہ بات پسند ہوکہ اللہ تعالی کل بروز قیامت اس کو ہرطرح کی پریشانیوں سے محفوظ رکھ دے تو اسے چاہئے کہ وہ تنگ دست کو مہلت دے یاپھر اسے معاف کردیا کرے۔(مسلم:1563)اللہ اکبر!کتنی بڑی فضیلت مگر آج کل کے دور میں کون کس کو معاف کرتاہے بھائی؟بھائی ،بھائی کو معاف نہیں کرتاہے تو دوسرے کہاں سے معاف کریں گے ؟توخیراگرہمیں قیامت کے دن کی پریشانیوں سے محفوظ رہنا ہے تو پھر تنگ دست کے لئے آسانیاں پیداکیاکریں۔

(3) دوسورتوں کی تلاوت کو لازم پکڑلیجئے اورقیامت کے دن راحت وسکون حاصل کرلیجئے:

میرے دوستو!میں نے آپ کو اس سے پہلے یہ بات بتلائی تھی کہ اس دن سورج کی گرمی اور تپش میں لوگ جھلس رہے ہوں گے اور ہرکوئی اپنے اپنے اعمال کے بقدر پسینوں میں شرابور ہوگا ،تواگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس دن سورج کی گرمی وتپش سے محفوظ رہیں تو پھر دوسورتوں کی تلاوت کو لازم پکڑ لیجئے،کیونکہ یہ دوسورتیں اپنے پڑھنے والوں کے لئے امام اورسایہ بن جائیں گی،سبحان اللہ!اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ قرآن کی ایسی کون سی دوسورتیں ہیں جن کی اتنی زیادہ فضیلت ہے تو آئیے حدیث سن ہی لیتے ہیں،سیدنا ابوامامہ الباہلیؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ ‘‘کہ قرآن کی تلاوت کرتے رہاکرو کیونکہ یہ قیامت کے دن قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لئے سفارشی بن کرآئے گا ،اور’’ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ ‘‘ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں،سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی بھی تلاوت کرتے رہاکرو ،’’ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ ‘‘ کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن اس طرح سے آئیں گی جیسے دو بادل ،یاپھر دو سائبان ہوں،یاجیسے پَرکھولے ہوئے پرندوں کے دوجھنڈ ہوں،’’ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا ‘‘اور یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے اور عمل کرنے والوں کے حق میں سفارش کریں گی۔(مسلم:804)اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے ،سیدنا نوَّاس بن سمعانؓ کہتے ہیں ، آپﷺ نے فرمایاکہ ’’ يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ ‘‘ قیامت کے دن قرآن اور قرآن پر عمل کرنے والوں کو بلایا جائے گا،’’ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ ‘‘سورہ بقرۃ اور سورہ آل عمران سب سے آگے آگے ہوں گی،سیدنا نوَّاس بن سمعانؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں بیان فرمائیں،جنہیں میں کبھی نہیں بھولا ہوں،آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ‘‘ یہ دونوں سورتیں دوبادل ’’ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ ‘‘ یاپھر یہ دونوں سورتیں دوگھنے سائبان ہوں جن میں چمک دمک ہو ،’’ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ ‘‘یاپھر یہ دونوں سورتیں پَر کھولے ہوئے پرندوں کے دوجھرمٹ ہوں،’’ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ‘‘اور یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں کے حق میں سفارش کریں گی۔(مسلم:805)سبحان اللہ!کتنی عظیم فضیلت ہے ان دونوں سورتوں کی؟اب آپ یہ حدیث سن کر سوچ میں پڑ جائیں گے اور کہیں گے کہ مولانا یہ تو بہت لمبی لمبی سورتیں ہیں ،اس کو ایک ساتھ پڑھنا ناممکن ہے تو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،اس کا حل یہ کہ آپ ہردن کچھ نہ کچھ ان دونوں سورتوں کی آیتوں کی تلاوت ضروربالضرور کیاکریں۔

(4) صدقہ کیجئے اور حشر کی گرمی میں سایہ حاصل کرلیجئے:

میرے دوستو!آپ نے تو یہ سن ہی لیا ہے اور یہ جان ہی لیا ہے کہ قیامت کے دن سورج سرکے اوپر ہوگا،اب اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارےلئے ایسے وقت میں کسی سائے کا انتظام ہوجائے توپھر ایک آسان عمل کو انجام دیجئے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایساکون سا عمل ہے جس کو انجام دینے سے میدان محشر میں ہمارے لئے سائے کا انتظام ہوجائے گا تو وہ عمل ہے صدقہ وخیرات کرنا،جيسا كه فرمان مصطفیﷺ ہے ’’ كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ - أَوْ قَالَ: يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ ‘‘ کہ ایک انسان کل قیامت کے دن جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ ہوجائے گا تب تک وہ اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔( مسند احمد:17333،صحیح الجامع للألبانیؒ:4510)اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ وَإِنَّمَا يَسْتَظِلُّ الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ ‘‘ قیامت کے دن ایک مومن اپنے دئے گئے صدقے کے سائے میں ہوگا۔ (الصحیحۃ:3484)سبحان اللہ! تو دیر کس بات کی ہے میرے بھائیو اوربہنو!صدقہ کرتے رہئے ،اللہ آپ کے لئے کل بروز قیامت سائے کا انتظام کردے گا۔

(5) اچھے اخلاق کو اپنالوقیامت کے دن کی ہرپریشانی سے بچ جاؤگے:

میرے دوستو!اگرہم اورآپ یہ چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن کی ہرطرح کی پریشانی سے نجات پاجائیں تو پھر اپنے اخلاق وکردار کو اچھا کرلیجئے،بہت افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑ رہاہے کہ آج ہماری بداخلاقی وبدکرداری کی وجہ سے ہی اسلام نشانے پر ہے،کیونکہ دشمنان اسلام تو قرآن وحدیث پڑھنے وسمجھنے سے عاری ہے،وہ مسلمانوں کی عادات واطوار،اخلاق وکردار کو دیکھ کر ہی یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ جب مسلمان ایسے گئے گذرےہیں تو اسلام دین بھی ایسا ہی ہوگا،نعوذ باللہ!جب کہ حقیقت اس کے بالکل ہی برعکس ہے،جواسلام کتابوں میں ہے وہ ہمارے اخلاق وکردار اور عادات واطوار میں ہے ہی نہیں بلکہ آج جو ہمارے اخلاق وکردار ہیں وہ تو سرے سے اسلام کا حصہ ہے ہی نہیں!میراایک جملہ یاد رکھ لیجئے کہ ہم مسلمان قرآن وحدیث کو پڑھتے ہیں اور دنیا والے ہم کو دیکھتے ہیں اور پوری دنیا ہم کو دیکھ کرہی فیصلہ کرتی ہے کہ اسلام کیسا مذہب ہے،ایک دور تھا کہ لوگ مسلمانوں کے اخلاق وکردار کو دیکھ کر ہی مسلمان بن جایاکرتے ہیں اور آج کا ایک دور ہے کہ لوگ ہمارے اخلاق وکردار کودیکھتے ہی اسلام سے بدظن ہوجارہے ہیں،اس لئے میرے بھائیواوربہنو!اپنے اپنے اخلاق وکردار کو اچھا بناؤ،دنیا میں بھی عزت ملے گی اور آخرت میں بھی ہرطرح کی پریشانیوں سےبچ جاؤگے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے ہم اچھے اخلاق کو اپنانے سے قیامت کے دن کی پریشانیوں سے کیسے نجات پاجائیں گے تو پھر حدیث سن ہی لیجئے،سیدناجابرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا ‘‘کہ بے شک تم میں سے مجھے سب سے زیادہ پیارے اور قیامت کے دن میرے قریب رہنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں سے اچھے اخلاق والے ہیں۔ (ترمذی:2018،الصحیحۃ:791)سبحان اللہ!اچھے اخلاق کو اپنانے کی کتنی عظیم فضیلت ہے کہ جو اچھے اخلاق کو اپنائے گا وہ بروزقیامت نبیﷺ کے ساتھ رہے گا،اب آپ خودہی فیصلہ کرلیجئے کہ قیامت کے دن جس کو نبیﷺ کی صحبت مل گئی ،کیا اسے کوئی غم وپریشانی لاحق ہوسکتی ہے؟ہرگز نہیں!ہرگز نہیں!اس لئے اے میرے اسلامی بھائیو اوربہنو!اچھے اخلاق والے بنواور اپنے اخلاق وکردار سے اسلام کو بدنام نہ ہونے دو۔

(6) انصاف کیجئے اور قیامت کے دن کی ہرپریشانی سے نجات حاصل کرلیجئے:

میرے دوستو!اگر ہم اورآپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم قیامت کے دن کی ہرآفت وبلا اور پریشانی سے محفوظ رہیں تو پھر ایک اور آسان کام کیجئے کہ اپنی زندگی کے ہرمعاملات میں انصاف کا دامن تھام لیجئے،کیونکہ جولوگ آج دنیا میں انصاف کا دامن تھامیں گےتوکل بروز قیامت اللہ رب العزت انہیں ہرغم وپریشانی سے بچاکر نور کے منبر پراپنے دائیں طرف بیٹھا لے گا،سبحان اللہ!کتنی عمدہ فضیلت ہے،آئیے حدیث سنتے ہیں،سیدنا عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘کہ کل بروز قیامت انصاف کرنے والے لوگ اللہ عزوجل کے دائیں جانب نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے،’’ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ ‘‘اور اللہ رب العالمین کے تو دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں،اب یہ کون لوگ ہوں گے جو پر رب کے دائیں جانب نور کے منبروں پر تشریف فرماہوں گے ،اس کی وضاحت خود آپﷺ نے آخر میں کردی کہ ’’ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا ‘‘یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں،اپنے اہل وعیال اور اپنے ہراس کام میں انصاف کے تقاضے کوپورے کرتے رہے جو ان کےسپرد کیاگیا ۔(مسلم:1827)سنا آپ نے کہ جولوگ اپنی زندگی کے ہرمعاملات میں انصاف کے دامن کو تھامیں گے تو ایسے لوگ کل بروزقیامت نور کے منبروں پر رب کے دائیں جانب تشریف فرما ہوں گے ،اب آپ خود ہی فیصلہ کرلیجئے کہ جس کو یہ عزت وشرف ملے گی کیا اسے کوئی پریشانی چھوبھی سکے گی؟ہرگز نہیں!ہرگز نہیں!اس لئے اے میرے بھائیو اوربہنو!اپنی زندگی کے ہرمعاملات میں انصاف کیاکرو۔

(7) ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کروتمہیں قیامت کے دن کی ہرپریشانی سے بچالیاجائے گا:

میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ جولوگ انصاف کریں گے توکل بروز قیامت ایسے لوگوں کونورکے منبروں پر جگہ دی جائے گی،اسی میں ایک اور چیز ہے کہ آج دنیا میں جولوگ ایک دوسرے سے صرف اور صرف اللہ کے لئے محبت کریں گے تو ایسے لوگوں کوبھی ایک ایسے عظیم الشان نور کے منبروں پر بیٹھایا جائے گا کہ ان کے مقام ومرتبے کو دیکھ کرانبیاء ورسل بھی رشک کرنے لگیں گے،یعنی کہ انبیاء ورسل بھی یہ آرزو اور تمنا کرنے لگیں گے کہ کاش!انہیں بھی یہ مقام مل جاتا،سبحان اللہ!کتنی عمدہ فضیلت ہے آئیے حدیث سنتے ہیں،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، آپﷺ نے فرمایا ’’ إنَّ مِنْ عبادِ الله عباداً لَيْسوا بأنْبِياءَ يَغْبِطُهم الأنْبِياءُ والشُهَداءُ ‘‘ کہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی خوش نصیب لوگ ہوں گے جو نبی ورسول تو نہیں ہوں گے مگر انبیاء وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے ،صحابۂ کرام نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ’’ مَنْ هُمْ لَعلَّنا نُحِبُّهم ‘‘ وہ کون خوش نصیب لوگ ہوں گے آپ ہمیں اس کی خبر دے دیجئے تاکہ ہم بھی ان سے محبت کریں، توآپﷺ نے فرمایا ’’ هُمْ قومٌ تَحابُّوا بِنُورِ الله مِنْ غَيرِ أرْحامٍ ولا أَنْسابٍ ‘‘ کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو بغیر کسی حسب ونسب اوربغیر کسی رشتے ناطے کے (اوربغیر کسی مالی فائدہ کے)صرف اور صرف ایک اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہوں گے،’’ وجوهُهُم نُورٌ على منابِرَ مِنْ نُورٍ ‘‘ان کے چہرے نور سے منور ہوں گے اور وہ نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے،’’ لا يخافُونَ إذا خافَ الناسُ ‘‘جب لوگ ڈر وخوف میں مبتلاہوں گے تو انہیں کوئی ڈر وخوف نہیں ہوگا،’’ ولا يَحْزَنونَ إذا حَزِنَ الناسُ ‘‘اور جب لوگ غم والم میں ہوں گے تو انہیں کوئی غم والم نہیں ہوگا،پھر آپﷺ نے قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ ’’ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ‘‘ یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔(یونس:62)۔(صحیح الترغیب والترھیب للألبانیؒ:3023،صحیح ابن حبان للألبانیؒ:572،ابوداؤد:3527)اور مسلمشریف کے اندر ہے،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ اللهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘کہ اللہ رب العزت قیامت کے دن یہ اعلان فرمائے گا کہ ’’ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي ‘‘کہاں ہیں وہ لوگ جو میری عظمت وجلالت اور میری رضامندی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کیاکرتے تھے،’’ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي ‘‘ آج کے دن میں انہیں اپنے سائے میں رکھوں گا ،اورآج کے دن تو میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے۔(مسلم:2566)سبحان اللہ کتنی عظیم فضیلت ہے!دیکھا اورسنا آپ نے کہ جولوگ صرف اورصرف ایک اللہ کے لئے بغیر کسی رشتے داری اور بغیر کسی مفاد پرستی وخود غرضی کےایک دوسرے سے محبت کریں گے تو اللہ رب العزت انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، مگرآج کل کے اس مادیت پرستی کےدورمیں کون اللہ کے لئے محبت کرتاہے بھائی،سب تو خودغرضی اور مفاد پرستی کی محبت کرتے ہیں،اگرآپ کے پاس روپئے پیسے ہیں توپھر دیکھئے ہرکوئی آپ سے محبت کرے گااور ہرکوئی آپ کو اپنا رشتے دار کہے گا اور اگرآپ کے پاس مال ودولت کی ریل پیل نہیں ہے توپھر آپ کو کوئی پوچھے گا بھی نہیں ،پوچھنا تودورکی بات ہے کوئی آپ سے سلام بھی نہیں کرے گا توایسے خودغرض اور مفاد پرست لوگوں کی محبت سے آپ ہوشیار رہیں ورنہ یہ آپ کا گلاگھونٹ دیں گے۔

(8)تم اہل زمیں پر رحم کرو قیامت کے دن اللہ تمہارے اوپر رحم کرے گا:

میرے دوستو!اب جوبات میں بتانے جارہاہوں اس کو اپنے ذہن ودماغ میں ہی نہیں بلکہ اپنے دل میں بھی بیٹھاکرجائیں کہ اگرہم یہ چاہتے کہ کل بروز قیامت اللہ ہمارے اوپر رحم فرمادے توپھر آج ہم دنیا میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ رحم کیا کریں،صرف انسانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہرجاندار کے ساتھ رحم کیاکریں اور میں ایسا اس لئے کہہ رہاہوں کہ یہ ہمارے نبیٔ رحمتﷺ کا فرمان ہے کہ’’مَنْ رَحِمَ وَلَوْ ذَبِيحَةَ عُصْفُورٍ رَحِمَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘ جو رحم کرتا ہے اگرچہ وہ ایک پرندے کے ذبح کرنے پر ہی کیوں نہ ہو تو کل بروز قیامت اللہ اس کے اوپر رحم فرمائے گا ۔(الصحیحۃ:27)اورایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ ’’ مَنْ رَحِمَ وَلَوْ ذَبِيحَةً رَحِمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘جوانسان رحم کرے گا گرچہ وہ کسی جانور کو ذبح کرنے کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو تو کل بروز قیامت اللہ رب العزت اس پر رحم فرمائے گا۔(صحیح الادب المفرد للألبانیؒ:294)اسي طرح سے اور ایک روایت کے اندر ہے کہ ایک صحابیٔ رسول آپﷺ کے پاس آتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ ’’ إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ فَأَرْحَمُهَا ‘‘ میں تو جب بکری ذبح کرتاہوں تو اس پر رحم کرتاہوں،یہ سن کرآپﷺ نےدومرتبہ فرمایا کہ ’’ وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ ‘‘ اگرتم بکری پر رحم کروگے تو اللہ تعالی بھی تجھ پر رحم فرمائے گا۔(الادب المفرد:373،الصحیحۃ:26)ذراسوچئے میرے بھائیو اوربہنو!جب جانوروں اورپرندوں کے ساتھ رحم کرنے سے اللہ قیامت کے دن رحم فرمائے گا توکیا اگرہم ایک دوسرے کے اوپر رحم کریں گے تواللہ ہمارے اوپر رحم نہیں فرمائے گا؟ضروررحم فرمائے گا اس لئے میرے بھائیواوربہنو!ہرایک مخلوق کے ساتھ رحم کیاکرو،ہرکمزور اورغریب ویتیم اورنادار کے ساتھ رحیمانہ سلوک کیاکرو اور ہاں یہ بات بھی اچھی طرح سے یاد رکھ لو کہ جو دوسروں کے اوپر رحم نہیں کرے گا دنیا وآخرت میں اس کے ساتھ بھی رحم نہیں کیا جائے گا اوریہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ یہ نبیٔ اکرم ومکرمﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘ جولوگوں کے ساتھ رحم نہیں کرے گا اللہ بھی اس کے اوپر رحم نہیں فرمائے گا۔(مسلم:2319،بخاری:7376)اور ایک دوسری روایت کے اندر تو آپﷺ نے صراحت کے ساتھ یہ فرمادیا ہے کہ ’’ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ ‘‘جو رحم نہیں کرے گا اس کے ساتھ بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔(ابوداؤد:5218،اسنادہ صحیح) تو کیاخیال ہے میرے بھائیواوربہنو!اگرتمہیں دنیا وآخرت میں اللہ کی رحمت مطلوب ومقصود ہے توپھر ہرایک کے ساتھ ،صرف انسانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی رحم کیجئے،آج جو ہم مسلمانوں کے ساتھ رحم نہیں کیاجارہاہےاس کی سب سے بڑی وجہ یہی توہے کہ ہم خود ایک دوسرے کےساتھ رحم نہیں کرتے ہیں،جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ رحم نہیں کرتے ہیں تو اللہ بھی ہمارے اوپر رحم نہیں کررہاہے ،اورسن لیجئے!جب تک ہم ایک دوسرے کے اوپر رحم نہیں کریں گے اللہ بھی ہمارے اوپر رحم نہیں فرمائے جیسا کہ نبیٔ محترم ومکرم ﷺ نے فرمایا ’’ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ ‘‘کہ رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرتاہے،اس لئے’’اِرْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ ‘‘تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔(ابوداؤد:4941،اسنادہ صحیح)غالباً اسی حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئےالطاف حسین حالی نہیں کیا ہی خوب کہا ہے کہ:

کرومہربانی تم اہل زمیں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدامہربان ہوگا عرش بریں پر​

(9) قیامت کے دن کی پریشانیوں سے بچانے والی دعائیں:

میرے دوستو!اب تک آپ نے بہت کچھ سنا اورجانا کہ ہم قیامت کے دن کی پریشانیوں سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں،اب آئیے آخر میں ایک سب سے زیادہ قیمتی بات کو بتاکر اپنی بات کو ختم کردیتاہوں کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن کی ہرطرح کی پریشانیوں اورمصیبتوں سےمحفوظ رہ جائیں تو پھرکچھ مخصوص دعاؤں کو لازم پکڑ لیجئے،سب سے پہلی دعا جس کو ہم سب کو ہمیشہ پڑھنی ہے ،یہ وہ دعا ہےجس کی تعلیم خود اللہ رب العالمین نے اپنے کلام پاک کے اندر دی ہے ،اور یہ کہا ہے کہ جو عقلمند لوگ ہوتے ہیں وہ ہمیشہ یہ دعاکرتے رہتے ہیں کہ ’’ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ‘‘اے ہمارے پروردگار!ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر،یقیناً تووعدہ خلافی نہیں کرتا۔(آل عمران:194)اورمیرے دوستو!آپ کو یہ جان کربڑی حیرانی ہوگی کہ جب آپﷺ رات میں تہجد کی نماز کا آغاز کرتے تو آپ تکبیر تحریمہ کے بعد اکثروبیشتر جو دعاپڑھاکرتے تھے اس میں ایک دعا یہ بھی ہواکرتی تھی کہ آپ دس مرتبہ یہی دعاکیاکرتے تھے کہ اے اللہ بس تو مجھے قیامت کے دن کی تنگی وکٹھنائی اور پریشانی سے بچالینا۔(ابوداؤد:766،نسائی:5535،ابن ماجہ:1356،اسنادہ صحیح)اورامام نسائی ؒ نے اس حدیث پر باب ہی باندھا ہے ’’ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘ کہ قیامت کے دن کی تنگی وپریشانی سے بچنے کی دعا کا بیان، تو آپ اس طرح سے یہ دعاکرسکتے ہیں کہ ’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الْمُقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘ کہ اے اللہ!میں قیامت کے دن کھڑے ہونے کی تنگی وپریشانی سے تیری پناہ طلب کرتاہوں،اسی سلسلے میں ایک سب سے بہترین اور افضل دعابھی سن لیں اور اس دعاکے بارے میں خود آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اگرتمہیں یہ چیز مل گئی تو سمجھو تمہارا بیڑا پار ہے ،راویٔ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ’’ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ‘‘ اے اللہ کے نبیﷺ سب سے افضل اور سب سے بہترین دعاکون سی ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ‘‘ تم اپنےلئے اللہ سے دنیاوآخرت میں عافیت مانگو،راویٔ حدیث کہتے ہیں کہ دوسرے دن وہی صحابیٔ رسول پھریہی سوال لے کرحاضرہوئے کہ کون سی دعاافضل ہے توآپﷺ نے پھریہی جواب دیا کہ تم اپنے لئے دنیاوآخرت میں عافیت مانگو ،پھر آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ ‘‘ کیونکہ اگر تم کو دنیا وآخرت میں عافیت مل گئی تو سمجھو تمہارا بیڑا پار ہے۔(الادب المفرد :637، صحیح الجامع للألبانیؒ:3631)اورایک روایت کے اندر ہے کہ خودآپ ﷺنے اپنے چچامحترم سیدناعباسؓ سے کہاتھا کہ ’’ يَا عَمِّ أَكْثِرِ الدُّعَاءَ بِالْعَافِيَةِ ‘‘اے میرے چچاجان!آپ دنیاوآخرت میں عافیت کی دعائیں زیادہ کیا کریں۔(الصحیحۃ:1523) دیکھا اورسنا آپ نے کہ جس انسان کو دنیاوآخرت میں عافیت مل گئی سمجھو وہ کامیاب ہوگیا، یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے اپنے چچا محترم کو بھی اسی بات کی وصیت کی کہ بس آپ اپنے لئے اللہ سے عافیت کا سوال کرتے رہئے، اور یہ تو چھوڑئیے خودآپﷺ ہمیشہ اپنے لئے بھی یہی دعا کیا کرتے تھے جیسا کہ ابن ماجہ اورابوداؤدکی بالکل ہی صحیح روایت میں ہے ،سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ’’ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ ‘‘ آپﷺ یہ دعائیں صبح وشام کے وقت ہمیشہ پڑھاکرتے تھے کہ’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۔۔۔الحدیث‘‘اے اللہ!میں تجھ سے دنیاوآخرت میں ہرطرح کے آرام اورراحت کا سوال کرتاہوں۔(ابن ماجہ:3871،ابوداؤد:5074،اسنادہ صحیح)اللہ اکبر!آپﷺ کا ہمیشہ یہ دعامانگنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس دعا کی ہم سب کو بہت سخت ضرورت ہے، اس لئے اے میرے بھائیواوربہنو!اگردنیا و آخرت میں بھلائی چاہتے ہو توپھر ان دعاؤں کوکبھی نہ چھوڑناورنہ قیامت کے دن بہت پچھتاؤگے۔



اب آخرمیں اللہ رب العزت سے دعاگوہوں کہ اے بارالہ تو ہم سب کو محض اپنے فضل وکرم سے قیامت کے دن کی ہرطرح کی پریشانی اورہرطرح کی ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھنا۔آمین ثم آمین یار ب العالمین۔



مرتب

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 

اٹیچمنٹس

Top