• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میری اماں کی سچی کہانی -لاسٹ اسٹیج کینسر میں بھی حوصلہ و صبر--انکو گئے آج ایک سال ہوگیا

شمولیت
دسمبر 26، 2025
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
5
میری اماں کی سچی کہانی -لاسٹ اسٹیج کینسر میں بھی حوصلہ و صبر..........انکو گئے آج ایک سال ہوگیا...یہ سچی داستان ہے،ایک بیٹی کے قلم سے لکھی گئی جس نے اپنی ماں کو دنیا سے جاتے دیکھا،کینسر سے لڑتے دیکھا

پہلا باب: تعارف - میری ماں کون تھیں؟
وہ ایک سادہ، مگر بہت مضبوط عورت تھیں۔ ان کی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے چاندنی رات، ان کا انداز ایسا جیسے پھولوں کی خوشبو۔ وہ میری دنیا تھیں، میری پناہ تھیں، میری دعا تھیں۔ ساری زندگی دین کے نام کرنے والی،اللہ کے لئے سب کچھ چھوڑنے والی.....انہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کر دی۔ اپنے آرام، خواہشات اور دنیا کی آسائشوں سے بڑھ کر ہمیشہ دین کو ترجیح دی۔ دین کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں، مشکلات برداشت کیں مگر کبھی دین پر سمجھوتہ نہ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ ان کی اولاد دین سے وابستہ رہے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو دین کی تعلیم دلوائی، انہیں قرآن و سنت کے راستے پر چلانے کی بھرپور کوشش کی، اور اپنی زندگی کا ہر لمحہ ان کی دینی تربیت میں لگا دیا۔ انہوں نے صرف خود دین پر عمل نہیں کیا بلکہ اپنی اولاد کو بھی دین کے راستے پر لگایا اور اس کے لیے ہر ممکن قربانی دی۔

وہ صبح سویرے اٹھتیں، نماز فجر پڑھتیں، پھر میرے لیے ناشتہ تیار کرتیں۔ انہوں نے اپنی اولاد کو دنیا نہیں بلکہ دین میں لگایا،وہ ہماری سپورٹر تھیں،یونہی زندگی گزر رہی تھو...........

لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

دوسرا باب: 2020 - وہ دن جب اندھیرا چھایا
یہ ایک عام سا دن تھا۔ سردی تھی، لیکن دھوپ نکل آئی تھی۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھی تھی، اسکول کا ہوم ورک کر رہی تھی۔ ماں باورچی خانے میں تھیں، میرے لیے پسندیدہ حلوہ بنا رہی تھیں۔

اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔ ابا آئے تھے۔ ان کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا۔ وہ خاموش تھے، جیسے کوئی بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں۔

ماں باہر آئیں، ہاتھ پر آٹا لگا ہوا تھا۔ "کیا ہوا؟ اتنا پریشان کیوں ہو؟" وہ مسکرائیں۔

ابا نے ایک لفافہ نکالا۔ اس میں رپورٹ تھی۔ ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔

میں نے پوچھا، "ابا، کیا ہوا؟"

ابا نے آنکھیں جھکا لیں۔ آہستہ سے بولیں، "بریسٹ کینسر۔"

تین الفاظ۔ صرف تین الفاظ۔

لیکن یہ تین الفاظ میرے دل پر ایسے لگے جیسے کسی نے تیزاب ڈال دیا ہو۔ میری سانس رک گئی۔ میرے ہاتھ سے قلم گر گیا۔

ماں ایک لمحہ خاموش رہیں، پھر بولیں، "اللہ کی مرضی ۔"

میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے کہا، "ماں، میں ڈر گئی ہوں۔"

ماں نے مجھے سینے سے لگا لیا۔ "بیٹا، ماں ٹھیک ہو جائے گی۔ صرف دعا کرو۔"

میں نے اپنے آنسو چھپائے،کبھی سوچا بھی نہی تھا،میری ماں کو کینسر؟؟

تیسرا باب: شوکت خانم کا سفر - پہلا قدم
شوکت خانم کینسر ہسپتال پہنچے۔ وہاں سفید دیواریں، بیمار چہرے، گنجے سر، اور ایک عجیب سی بو تھی، موت کی بو۔

ماں نے ڈاکٹر سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا، "یہ اسٹیج 2 کینسر ہے۔ فوری کیمو تھراپی شروع کرنی پڑے گی۔ پھر سرجری، پھر ریڈیشن۔""

پہلی کیمو تھراپی - رمضان 2020
میں نے پہلی بار ماں کو کیمو تھراپی دیتے دیکھا۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھی تھیں، ان کی رگ میں ایک سوئی لگی ہوئی تھی، اور ایک بوریا نما تھیلی سے زہر نما مائع ان کے جسم میں داخل ہو رہا تھا۔

ماں کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ میں نے پوچھا، "ماں، درد ہو رہا ہے؟"

ماں نے آنکھ کھولی، مسکرائیں، "نہیں بیٹا، بس تھوڑی سی بے چینی ہے۔"

لیکن میں نے ان کے ہونٹ دیکھے، وہ کانپ رہے تھے۔ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا، اور وہ اس طرح دب رہا تھا جیسے انہیں بہت تکلیف ہو رہی ہو۔

تھکاوٹ سے انکا برا حال تھا ۔ میں ان کے پاس بیٹھی، ان کا سر پکڑے ہوئے، پانی پلا رہی تھی۔

ماں نے کہا، "بیٹا، تم جانتی ہو، جب حضرت ایوب علیہ السلام بیمار تھے، تو انہوں نے بھی صبر کیا تھا۔ ماں بھی صبر کرے گی۔"

اور وہ صبر کرتی رہیں۔

بالوں کا گرنا -2020
اور پھر میری صابرہ ماں نے کسی کو بتایا بھی نہیں،میں نے خود اپنی آنکھوں سے رات کو انکا گنجا سر دیکھا،میں کانپ کر رہ گئی،آنسو بہہ پڑے مگر میں صبر کر رہی تھی ."

سرجری - جولائی 2020
ماں کی سرجری تھی۔
میں نے انہیں آپریشن تھیٹر میں لے جاتے دیکھا۔ وہ اسٹریچر پر لیٹی تھیں، بے ہوش ہونے سے پہلے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا، "بیٹا، دعا کرو۔"

میں نے کہا، "اللہ آپ کے ساتھ ہے، ماں۔"

وہ مسکرائیں اور اندر چلی گئیں۔

میں باہر بیٹھی رہی۔ 3 گھنٹے۔ 3 گھنٹے تک میں نے درود شریف پڑھا، قرآن پڑھا، دعائیں مانگیں۔

جب وہ باہر آئیں، تو ان کا چہرہ سفید تھا۔ جسم پر پٹیاں تھیں، خون آلود۔ وہ بے ہوش تھیں۔

میں ان کے پاس بیٹھی، ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے۔ میں نے کہا، "ماں، میں یہاں ہوں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔"

ریڈیشن تھراپی - 2020
ریڈیشن تھراپی کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہر روز ہسپتال جانا، مشین کے نیچے لیٹنا، اور شعاعیں جسم میں اتارنا۔

لیکن وہ کبھی شکایت نہیں کرتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں، "حضرت زکریا علیہ السلام کو کتنی تکلیف ہوئی تھی، لیکن انہوں نے صبر کیا۔ ماں بھی صبر کرے گی۔"

اور وہ صبر کرتی رہیں۔

چوتھا باب: جھوٹی امید - 2021
علاج مکمل ہوا
جنوری 2021۔ ڈاکٹر نے کہا، "الحمداللہ، کینسر ختم ہو گیا ہے۔ ریپورٹس نارمل ہیں۔"

ہم سب خوش تھے۔ ماں نے سجدہ کیا، شکرانے کی نماز پڑھی، اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

ماں کے بال واپس آ رہے تھے۔ ان کا وزن بڑھ رہا تھا۔ وہ پھر سے کھانا پکانے لگیں، ہنسنے لگیں،رونقیں واپس آگئیں ۔

میرا دل خوش تھا۔ مجھے لگا کہ معجزہ ہو گیا ہے۔

لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔

بہن کی شادی - ایک سنہرا لمحہ
جون 2021۔ بہن کی شادی تھی۔

ماں نے بہت محنت کی۔ انہوں نے خود کھانا بنایا، خود سجاوٹ کی، خود سب کچھ سنبھالا۔ وہ اتنی خوش تھیں جیسے پھر سے جوان ہو گئی ہوں۔
وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھیں کہ سب حیران رہ گئے۔

بہن نے کہا، "ماں، آج تو آپ دلہن سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں!"

وہ اتنی خوش تھیں، اتنی زندہ تھیں۔

لیکن میرے دل کو کچھ کہہ رہا تھا۔ ایک ڈر تھا، ایک خوف تھا۔

میں نے کہا، "ماں، آپ تھک جاؤ گی، آرام کرو۔"

انہوں نے کہا، "بیٹا، آج میری بیٹی کی شادی ہے۔ آج آرام نہیں، خوشی ہے!"

اور وہادھر ادھر پھر پھر کر کام کرتی رہیں مہمانوں کو دیکھتی رہیں ۔ میرے سامنے۔ میری آنکھوں کے سامنے۔

پانچواں باب: 202٤ - سب کچھ بدل گئی
  • پہلی علامت
ماں کو کھانسی ہونے لگی۔ ہلکی سی، معمولی سی کھانسی۔ میں نے کہا، "ماں، ڈاکٹر کو دکھا دو۔"

انہوں نے کہا، "بیٹا، یہ تو موسم کی کھانسی ہے۔ ٹھیک ہو جائے گی۔"

لیکن کھانسی بڑھی۔ سانس میں تکلیف ہونے لگی۔ وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے رک جاتی تھیں، سانس لیتی تھیں۔

میں نے اصرار کیا۔ "ماں، آپ کو ڈاکٹر کے پاس چلنا ہے!"

###- وہ دن

ہم ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ڈاکٹر نے چیک کیا، کچھ ٹیسٹ کیے، اور کہا، "آپ باہر بیٹھیں، میں نتائج دیکھتا ہوں۔"

نصف گھنٹے بعد ڈاکٹر نے مجھے اندر بلایا۔

بابا سر جھکا کر بیٹھے تھے ان کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ "بیٹا، ۔ کینسر واپس آ گیا ہے۔"

میری ٹانگیں کمزور پڑ گئیں۔ میں دیوار کو تھام کر کھڑی ہوئی۔

"یہ پھیپھڑوں اور لیور میں پھیل چکا ہے۔ اسٹیج فور ہے۔ آخری اسٹیج۔"

میں چلائی۔ "نہیں! علاج کرو! پیسے کی کوئی بات نہیں، ہم سب کچھ دیں گے!"

ڈاکٹر نے سر جھکا لیا۔ "بیٹا، اب کوئی علاج نہیں۔ کیمو کچھ نہیں کر سکتی۔ سرجری ممکن نہیں۔ صرف آپ لوگ ان کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ انہیں درد کم کرنے کی دوائیں دے سکتے ہیں۔"

ماں کو بتانا - وہ لمحہ
ماں باہر بیٹھی تھیں۔ میں باہر آئی، چہرے پر مسکراہٹ بنا کر۔

ماں نے پوچھا، "کیا کہا ڈاکٹر نے؟"

میں نے کہا، "سب ٹھیک ہے ماں۔ بس تھوڑی سی انفیکشن ہے۔ دوائیں لے لو گی، ٹھیک ہو جاؤ گی۔"

ماں نے میری آنکھوں میں دیکھا۔ ان کی آنکھیں سب کچھ پڑھ لیتی تھیں۔

انہوں نے کہا، "بیٹا، تم جھوٹ بول رہی ہو۔ مجھے سچ بتاؤ۔"

میں ٹوٹ گئی۔ میں ان کے گلے لگ گئی اور رو پڑی۔ "ماں، کینسر واپس آ گیا ہے۔ پھیپھڑوں میں ہے۔ علاج نہیں ہے۔"

ماں نے میرا سر پکارا۔ انہوں نے کہا، "بیٹا، اللہ کی مرضی۔ ماں تیار ہے۔ بس تم سب کا خیال رکھنا۔"
میں نے چیخ دبائی....میرے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر نقاب میں جذب ہورہے تھے....

چھٹا باب: وہ چھ ماہ - آہستہ آہستہ مٹتے ہوئے
مارچ ٢٠٢٤- پہلی بار ہسپتال
ماں کو سانس لینے میں بہت تکلیف ہونے لگی۔ انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ آکسیجن لگائی گئی۔

میں ان کے پاس بیٹھی تھی، ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے۔ ماں کی سانس مشین پر چل رہی تھی۔

اپریل ٢٠٢٤- گھر میں قید
ماں بستر سے اٹھ نہیں پا رہی تھیں۔ ان کا وزن بہت کم ہو گیا تھا۔ ان کی ہڈیاں نظر آنے لگی تھیں۔

وہ کہتی تھیں، "بیٹا، مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا جسم چھوٹ رہا ہو۔"

میں انہیں کھانا کھلاتی تھی، لیکن وہ بمشکل ایک دو نوالے کھاتی تھیں۔

وہ کہتی تھیں، "بیٹا، تم نے میری بہت خدمت کی۔ اللہ تمہیں جزا دے۔"

میں کہتی، "ماں، آپ کے لیے تو میں اپنی جان بھی دے دوں۔"

مئی ٢٠٢٤ - دوسری بار ہسپتال
ماں کو تیز بخار ہو گیا۔ ہم نے دوبارہ ہسپتال داخل کیا۔

اس بار ان کا چہرہ بالکل سفید تھا۔ وہ بے ہوشی کی حالت میں تھیں۔

ڈاکٹر نے کہا، "انفیکشن ہے۔ دوائیں دے رہے ہیں۔ دعا کریں۔"

میں نے رات بھر جاگ کر قرآن پڑھا۔ صبح تک بخار اتر گیا۔

ماں نے آنکھ کھولی، اور پہلا لفظ کہا، "بیٹا، تم نے دعا کی تھی نا؟ اللہ نے سن لی۔"

میں رو پڑی۔ "ماں، آپ ٹھیک ہو جاؤ گی۔"

جون ٢٠٢٤ - بہن کی طرف سے فون
بہن نے فون کیا۔ "ماں کیسی ہیں؟"

میں نے کہا، "بہت کمزور ہیں۔"

بہن رونے لگی۔ "میں آ رہی ہوں۔"

بہن آئی، اور ماں کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ ماں نے کہا، "بیٹا، رونا مت۔ اللہ کی مرضی۔"

جولائی ٢٠٢٤ - تیسری بار ہسپتال
اس بار ماں کا بلڈ پریشر بہت کم ہو گیا تھا۔ وہ بول بھی نہیں پا رہی تھیں۔

ہسپتال میںمیں رکھا گیا۔ مشینیں لگی تھیں، نالیاں تھیں، سوئیاں تھیں۔

میں ان کے پاس بیٹھی، ان کے کان میں کہا، "ماں، میں ہوں آپ کی بیٹی۔ میں یہاں ہوں۔"

ماں نے بمشکل آنکھ کھولی، میرا ہاتھ پکڑا، اور کہا، "بیٹا... دعا کرو... اللہ سے دعا کرو..."میں نے انکی وہ حالت بھی دیکھی،...ہڈیوں کا ڈھانچہ،پچاس سال میں تیس سال کی لگنے والی میری ایکٹو مسکراتی ماں سفید کپڑے پہنے ہسپتال میں لیتی تھیں،آہستہ آہستہ انکے دن کم ہورھے تھے مجھے یہ بات بخوبی محسوس ہورہی تھی.....

جولائی ٢٠٢٤ - آخری مہینہ
ماں گھر واپس آ گئیں۔ اب وہ کروٹ بھی نہیں لے سکتی تھیں۔ ہم انہیں ایک طرف سے دوسری طرف کروٹ دیتے تھے۔

ان کا جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا۔
وہ صرف پانی پیتی تھیں، کھانا چھوڑ دیا تھا۔

وہ کہتی تھیں، "بیٹا، مجھے بھوک نہیں ہے۔ صرف پانی دے دو۔"

میں انہیں چمچ سے پانی پلاتی تھی۔ ایک ایک قطرہ ان کے منہ میں ڈالتی تھی۔

- آخری ہفتے
ماں نے بات کرنا چھوڑ دیا۔ صرف آنکھوں سے اشارہ کرتی تھیں۔

ایک رات، میں ان کے پاس بیٹھی تھی۔ ماں نے میرا ہاتھ پکڑا، اپنے سینے پر رکھا، اور کہا، "بیٹا، میرا دل بہت تیز دھڑک رہا ہے۔"

میں نے کہا، "ماں، ڈاکٹر کو بلاؤں؟"

انہوں نے کہا، "نہیں۔ تم میرے پاس بیٹھو۔ بس میرے پاس بیٹھو۔"

میں ان کے ساتھ لیٹ گئی۔ ان کا سر میرے سینے پر تھا۔
میں رورہی تھی ہسپٹل بعید گھر پ ہی رکھا تھا ہم نے .....
ساتواں باب: ٣ جولائی ٢٠٢٤- آخری سانس

رات 2:30 بجے
ماں کی سانس تیز تیز چل رہی تھی۔ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ میں ان کے پاس بیٹھی تھی، ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے۔

ابا، بہنین سب وہاں تھے۔

وہ دو دن سے بے ہوش تھیں
میں دیکھ رہی تھی....سری زندگی دین کے نام کرنے والی کو اللہ نے اس لمحے میں اکیلے نہیں چھوڑا تھا،بیہوشی میں انکے لب ہلے،کلمہ پڑھا،

پھر ان کی سانس رک گئی۔

رات 3:15 بجے - وہ لمحہ
میں نے انہیں ہلایا۔ "ماں، میری آنکھیں دیکھو! ماں، میں اکیلی رہ گئی!"

ماں کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرے پر سکون تھا۔ مسکراہٹ تھی۔

وہ چلی گئیں۔

میری دنیا ختم ہو گئی۔

رات 4:00 بجے - غسل اور کفن
ماں کو غسل دیا گیا۔ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے ان کے جسم کو چھوا۔ وہ ٹھنڈا نہیں گرم گرم تھا، بے جان تھا۔

کفن پہنایا گیا۔ سفید کفن، جس میں میری ماں لپٹی ہوئی تھیں۔

میں نے کہا، "ماں، آپ کبھی مجھ سے دور نہیں ہو سکتیں۔ آپ میرے دل میں ہیں۔"

آٹھواں باب: جنازہ -
صبح کی نماز کے بعد
مسجد میں لوگ جمع تھے۔ سب کی آنکھیں نم تھیں۔

ماں کا جنازہ پڑھا گیا۔ میں نے آخری بار ان کا چہرہ دیکھا۔ کفن میں چہرہ کھلا تھا۔ وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھیں جیسے سو رہی ہوں۔

میں نے کہا، "ماں، اللہ آپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔"

قبرستان
قبر میں ماں کو اتارا گیا۔ میں نے تصور میں دیکھا کہ کیسے میرے وجود کا سب سے بڑا حصہ زمین میں جا رہا ہے۔

مٹی ڈالی گئی۔ ایک ایک مٹھی مٹی، ایک ایک آنسو۔

میں نے قبر کو دیکھا اور کہا، "ماں، آپ کی بیٹی یہاں ہے۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔"

نواں باب: ماں کے جانے کے بعد
گھر واپسی
گھر آی تو ماں کی خالی کرسی دیکھی۔ وہ جگہ جہاں وہ بیٹھتی تھیں، نماز پڑھتی تھیں، قرآن پڑھتی تھیں۔

ان کی چپل، ان کے کپڑے، ان کی بوتل، سب وہیں تھا۔ لیکن وہ نہیں تھیں۔

میں نے ان کی الماری کھولی، ان کے کپڑوں کو سونگھا، ان کی خوشبو لی۔

اور رو پڑی۔ اس طرح روئی جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کھو دے۔

گیارہواں باب: آج میں کہاں ہوں؟
آج 17 سال کی ہوں۔ ماں کو گئے ایک سال ہو گیا ہے آج ۔

لیکن وہ میرے اندر زندہ ہیں۔

جب میں صبح اٹھتی ہوں، تو ان کی آواز سنتی ہوں۔
جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو ان کا سایہ محسوس کرتی ہوں۔
جب میں روتی ہوں، تو ان کا ہاتھ اپنے سر پر محسوس کرتی ہوں۔
جب میں مسکراتی ہوں، تو وہ میرے ساتھ مسکراتی ہیں۔

میں نے انہیں کھویا ہے، لیکن پایا ہے۔
وہ میری ماں نہیں رہیں، وہ میری دعا بن گئی ہیں۔
وہ میری آنکھ نہیں رہیں، وہ میرا راستہ بن گئی ہیں۔
وہ میری سانس نہیں رہیں، وہ میری روح بن گئی ہیں۔

میری دعا
اے اللہ! میری ماں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔
اے اللہ! ان کی قبر کو روشن فرما، اور انہیں جنت کی نعمتوں سے نواز۔
اے اللہ! میری ماں کے ساتھ وہ سلوک فرما جو تیرے نیک بندوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

اور اے اللہ! میری ماں کو میری آنکھوں کا ٹھنڈا کرنے والا بنا، اور مجھے ان کی بیٹی ہونے پر فخر کرنے والا بنا۔ آمین۔

ماں کے لیے چند سطور
تم نہیں ہو، پھر بھی تم ہو۔
تم گئیں نہیں، صرف رخصت ہوئیں۔
تم میرے ساتھ ہو، ہر سانس میں، ہر دعا میں، ہر خواب میں۔

ماں، تم میری دنیا تھیں،
تم میری جنت تھیں،
اور تم میری جنت ہو گی، ہمیشہ۔

اللہ تمہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔
آمین۔
یہ میری ماں کی کہانی تھی۔ ایک ماں جو کینسر سے لڑتی رہی، مسکراتی رہی، دعا کرتی رہی، اور آخر تک اپنی بیٹی کے لیے مضبوط رہی۔
 
Top