• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میری داستان حیات

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,573
ری ایکشن اسکور
9,998
پوائنٹ
667
نام کتاب
میری داستان حیات
مصنف
عبد الرشید عراقی
Title Page --- Meri-Dastan-e-Hayat.jpg
تبصرہ

معروف مؤرخ و قلم کار مولانا عبد الرشید عراقی رحمہ اللہ (10؍نومبر1935ء۔9؍ستمبر2024ء)وزیر آباد کے ایک نواحی قصبہ سوہدرہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر سے حاصل کی ۔عصری تعلیم میڑک تک حاصل کی اور دینی تعلیم میں ترجمہ قرآن اور بلوغ المرام، مشکوۃ المصابیح اور ریاض الصالحین وغیرہ کتابیں مختلف اساتذہ کرام سے پڑھیں۔ آپ نے ساری زندگی مضمون نگاری اور تالیف و تصنیف میں گزاری۔قلم و قرطاس سے وابستہ رہے ۔علمی اور جماعتی حلقوں میں جو آپ کو شہرت دوام حاصل ہوئی وہ قلمکاری کی وجہ سے ہی ہوئی ۔موصوف نے ہر موضوع پر خامہ فرسائی کی، لیکن زیادہ تر آپ کے مضامین شخصیات کے موضوع پر شائع ہوئے۔ آپ کا پہلا مضمون ’’روزہ ڈھال ہے ‘‘ کے نام سے پندرہ روزہ مجلہ ’’ اہل حدیث ‘‘ دہلی میں شائع ہوا۔اس کے بعد مضمون نگاری میں خوب پیش رفت ہوئی ۔پاکستان کے اکثر رسائل و جرائد میں آپ کے مضامین اشاعت پذیر ہوئے۔مضامین نگاری کے علاوہ آپ نے مستقل کتب بھی تحریر کیں۔ پچاس سے زائد کتابوں کے آپ مؤلف ہیں۔ ان میں اکثر شخصیات پر ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’میری داستان حیات‘‘ محترم جناب عبد الرشید عراقی رحمہ اللہ کی خود نوشت سوانح حیات ہے جو کہ بارہ ابواب پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے اپنے خاندانی حالات، عصری و دینی تعلیم اور اساتذہ کرام، ملازمت اور روزگار کی داستان، قلمی خدمات، علمائے کرام سے ملاقاتوں کے لیے اسفار اور ان کے مواعظ سے استفادہ، کتاب دوست احباب، علمائے مرحومین و موجودین کا تذکرہ کیا ہے جن کو دیکھنے اور استفادے کا موقع ملا، ایسے 123 مجلاّت و جرائد کی نشاندہی کی ہے جن میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے جن کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے۔کتاب کے آخر میں ناشر کتاب ہذا ادارہ دار ابی الطیب گوجرانوالہ نے ایک باب بطور ضمیمہ اضافہ کیا ہے جس میں ان کی وفات اور بعض اہل علم کے تاثرات کا تذکرہ کیا ہے جو ان کی وفات پر تحریر کیے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ مولانا عراقی رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں بلند مقام اور تحریری و تصنیفی جہود کو قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)
کتاب کا لنک
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,573
ری ایکشن اسکور
9,998
پوائنٹ
667
عناوین صفحہ نمبر
انتساب 17
عرض ناشر 19
ابتدائیہ 21
پیش گفتار 25
خاندانی پس منظر 30
عصری تعلیم اور اساتذہ کرام 35
دینی تعلیم اور اساتدہ کرام 37
روزگار کے میدان میں 42
میری قلمی خدمات 55
زمانہ طالب علمی میں جن علماء کےمواعظ سے مستفیض ہوا 78
علمائے کرام سے ملاقات کےلیے اسفار 86
میرے کتاب دوست احباب 97
چند عظیم شخصیات جن کی خدمت میں مجھے حاضر ہونے اور ان کے ارشادات عالیہ سے مستفید ہونے کا موقع ملا 114
استدراک 139
مرحومین 139
موجودین 203
اولاد 265
میرے متعلق تاثرات 266
وفات اور تاثرات اہل علم 272
 
Top