• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میلاد منانے والوں سے سوال: کیا تم صحابہ سے بڑھ کر دین کو جانتے ہو؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
میلاد منانے والوں سے سوال: کیا تم صحابہ سے بڑھ کر دین کو جانتے ہو؟

از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ

میلاد کا بدعت ہونے پر درجنوں دلائل دئے جاسکتے ہیں اور اس کا بدعت ہونا ایسے ہی واضح ہے جیسے عین دوپہر کے وقت سورج کا آسمان پر ہونا۔

لیکن سب سے بڑی اور سیدھی سادی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ اچھا کام ہے تو صحابہ نے اس کو کیوں نہیں کیا اور اگر انہوں نے نہیں کیا تو تم کیوں کر رہے ہو ؟

کیا تم ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین سے زیادہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی آپ سے محبت کرنے والے ہو ؟ جو آپ کے سب سے قریبی ساتھی آپ کے خلفاء راشدین تھے لیکن انہوں نے نہ خود کھبی میلاد منایا نہ اپنے دور حکومت میں اس کا حکم دیا۔

کیا تم عبداللہ ابن مسعود، عبداللہ ابن عمر، عبداللہ ابن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین سے زیادہ دین کو سمجھتے ہو جنہوں نے دین کے ایک ایک حکم کہ تشریح اور اس پر عمل کر کے دکھایا لیکن کھبی میلاد نہیں منایا نہ اس کا حکم دیا۔

کیا تم طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمن بن عوف، ابو عبیدہ، سعید بن زید سے زیادہ افضل ہو جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی لکن انہوں نے کھبی میلاد نہیں منایا نہ اس کا حکم دیا۔

کیا تم صحابہ سے زیادہ دین کو جانتے ہو یا ان سے زیادہ آپ سے محبت کرتے ہو یا ان سے زیادہ آپ کے قریب رہے ہو ؟ لیکن انہوں نے تو کبھی آپ کا میلاد نہیں منایا نہ اس کا حکم دیا۔

کیا وہ جنہوں نے اس دین کے ایک ایک حکم پر اپنی جانیں میدان میں قربان کر دی انہوں نے اتنے بڑے حکم کو چھوڑ دیا ؟

کیا وہ جو ایک ادنی سے ادبی سنت اور خیر کے کام پر لپکتے تھے وہ اتنے بڑے خیر کے کام سے بے خبر رہے اور اس کو ترک کئے رہے ؟

صحابہ کے بعد تابعین نے بھی نہیں منایا!
ہھر تبع تابعین نے بھی اس کو نہیں کیا!
سلف صالحین سب اس سے بے خبر رہے!
احادیث کی کتابوں میں بھی اس کا کوئی باب نہیں!
تفاسیر میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں!
فقہ میں بھی اس کا کوئی حصہ نہیں!

پھر تم نے اس کو کہاں سے پایا ؟
کہاں سے تلاش کیا اور کہاں سے ایجاد کیا ؟

یا تو تم پر کوئی نئی وحی آئی ہے اور اگر تم یہ دعوی کرو تو یہ کفر ہے کیونکہ نبوت تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکی ہے۔

یا تم کہنا چاہتے ہو کہ میلاد کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپایا ہے اس لئے آپ کی سنت اور احادیث میں نہیں ملتا تب بھی کفر ہے کیونکہ نبی کے متعلق ایسا گمان رکھنا خود نواقض میں سے ہے۔

یا تم سمجھتے ہو کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعیں سلف صالحین نے اس عبادت کو ترک کئے رکھا اور ہم نے زندہ کیا ہے یہ خود زندیقیت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بہترین زمانہ قرار دیا تھا اور ان کے افضل ہونے پر امت کا اجماع ہے۔

یا پھر مان جاو کہ تم گمراہ بدعتی ہو جنہوں نے دین میں نئی بدعت ایجاد کی ہے تاکہ دکانداری چمکتی رہے، پیٹ پوجا کا دھندا دھمکتا رہے، جاہل معتقد ڈھول کی تھاپ پر ترکتا رہے اور تم ان کی آخرت کو تباہ کر کے اس کے بدلے اپنی دنیا بناتے رہو۔

و قال الهادي الهاشمي صلى الله عليه وسلم :
إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ

وما علینا الا البلاغ
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
335
پوائنٹ
156
طبقۂ خاص کو ابو لہب کی ”سنت“ سے شدید عشق لیکن اس کے انجام سے سخت نفرت ہے۔ ان کو سیدنا صدیق ِاکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بہت محبت ہے۔لیکن ان کامیلاد نہ منانے طبقۂ خاص کو پسند نہیں۔جو جشنِ عید میلاد النبیﷺ مناتا ہے ،وہ مشنِ رسولﷺ سے کبھی حقیقی محبت نہیں کر سکتا۔
 
Top