• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میڈیا کا اصلی چہرہ

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
براڈ کاسٹ میڈیا

ٹی وی چینلز پر جو کچھ دکھایا جارہا ہے ، اس کو دو حصوں میں تقسیم کر لیں :
1۔ ابلاغیات ، خبریں ، بریکنگ نیوز ، اور اہم احداث و واقعات کے متعلق معلومات ۔
2۔ ثقافیات ، جیسا کہ مارننگ شوز ، کامیڈی شوز ، ڈرامے ، فلمیں ، رمضان ٹرانسمیشن ، دینی رہنمائی وغیرہ وغیرہ ۔
پہلی قسم کی سے تعلق رکھنے والی جو چیزیں ہیں ، ان میں میڈیا کی حیثیت مسلم ہے ، اگر آپ میڈیا کو اس میدان میں استعمال نہیں کریں گے ، تو دنیا کے منظر نامے سے غائب ۔ جو لوگ اس میدان میں آئیں گے ، وہ اپنے مفادات کی جنگ میں آپ سے جیت جائیں گے ۔
دوسری قسم سے متعلق جتنا بھی مواد ، اور کلچر معروف ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے ، سب ’ کچرہ ’ اور ’ فضولیات ’ ہیں ، جہاں کہیں سچ اور حقیقت بھی دکھایا جاتا ہے ، اس کے آگے پیچھے ، دائیں بائیں ، اسی قسم کے رذائل اور خباثتیں جڑی ہوئی ہوتی ہیں ، کوئی گارنٹی نہیں کہ شو میں بیٹھے مولوی صاحب کی بات پر لوگ توجہ کر رہے ہیں یا پھر سکرین پر نظر آنے والی محرمات و مکروہات سے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔
اچھا اس میں یہ بات نہیں کہ یہ کام بے دین لوگوں نے سنبھالا ہوا ہے ، تو اس لیے اس میں یہ قباحتیں ہیں ، اگر دیندار اس کا ذمہ لے لیں ، تو یہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
میں سمجھتا ہوں ، ٹی وی سکرین کے جو تقاضے ہیں ، ناظرین کو اٹریکٹ کرنے کے لیے جو لوازمات ہیں ، وہ ( کم از کم) اسلامی مزاج سے مطابقت ہی نہیں رکھتے ۔
وہی مقرر ، یا خطیب یا سکالر صاحب جسے لوگ ایک جلسہ یا اجتماع گأہ میں شوق سے سنتے ہیں ، اگر آپ ان کو اسی حالت میں ، اسی پس منظر اور بیک راؤنڈ کے ساتھ ٹی وی پر لانا چأہیں تو نہیں لا سکتے ۔
تقریر کرتے ہوئے ، کلاس میں طالبعلموں کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے ، یا جلس عام سے خطاب کرتے ہوئے ، یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ آپ کے کپڑوں میں سلوٹیں نہ ہوں ، سر پر ٹوپی ٹیڑی ہو یا سیدھی ہو ، کھأنسنے کی اجازت ہے یا نہیں ، بات کرتے ہوئے ، آپ نے کیمرے کی طرف دیکھنا ہے یا جو آپ کا مخاطب ہے اس کی طرف دیکھنا ہے ۔
عام مجالس و مساجد میں بات کرتے ہوئے ، آپ کو یہ ضرورت محسوس نہیں ہو گی کہ آپ کے کام مین ایک ہیڈ فون لگا ہوا ہو ، اور پیچھے سے کوئی آپ کو ڈرائیو کر رہا ہو ۔
ٹی وی سے ہٹ کر آپ اپنی سہولت کے مطابق اٹھنے بیٹھنے کا انداز اختیار کرسکتے ہیں ، لیکن ٹی وی پر بیٹھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی گردن کسی طرف جھکی ہوئی نہ ہو ، ہاتھ ایک حد سے زیادہ حرکت نہ کریں ۔
آپ کو چاہے ایک لفظ بھی نہ آتا ہو ، لیکن آپ نے وہاں اس طرح ظاہر کرنا ہے کہ میں ہر چیز کا حافظ ہوں ، چاہے کیمرے کے ساتھ ایک الگ سکرین پر سب کچھ چلوانا ہی کیوں نہ پڑے ، کیمرے کے پیچھے دیوار پر کسی کو نوٹ پیڈ دے کر ہی کھڑا کرنا پڑے ۔
یہ باتیں صرف وہ ہیں ، جو عام دینی رہنمائی کے پروگراموں میں بھی چلتی ہیں ، اس کے باوجود کوئی گارنٹی نہیں کہ ہزاروں لاکھوں کا خرچہ کرکے آپ کے پروگرام کو پچاس یا سو بندے بھی غور سے اور مکمل سنیں گے ۔
اور پھر سننے والوں میں بھی شاید کوئی ہوں گے ، جن پر آپ کے پیغام کا اثر ہوا ہوگا ۔
کہاں مسجد میں بیٹھ کر خطیب کی طرف متوجہ ہونا ، یا کلاس میں سٹوڈنٹ کا استاد کی طرف ہمہ تن گوش ہونا ، اور کہاں ٹی وی کا بٹن دبا کر ساتھ دیگر ملذات و مہلیات میں مشغول ہونا ، دونوں طرف کے مناظر پر ذرا غور کریں گے ، فرق بالکل واضح نظر آئے گا ۔
رہی میڈیا کی یہ ڈیمانڈ کہ کچھ نیا ، کچھ انوکھا ، ذرا ہٹ کے ، جس دوڑ میں مارننگ شوز ، کامیڈی شوز وغیرہ نظر آتے ہیں ، یہ ایک ایسی ہوس ہے ، جو دیندار ہوگا ، وہ اسے پورا نہیں کرسکے گا ، جو اس میں کامیاب ہوگیا ، وہ دیندار نہیں رہے گأ ۔
سننے میں آیا ہے کہ ٹی وی چینلز پر سب سے زیادہ حسب حال ، خبرناک ، خبردار ، مذاق رات جیسے پروگرام دیکھے جاتے ہیں ، جن میں نہ کوئی دین کا پاس ، نہ مذہب کی کوئی لاج ، نہ کسی شخصیت کا احترام ، جھوٹ کے پلندے ہر روز ایک سے ایک بڑھ کر ، اس سب کے باوجود ان لوگوں کو تالیاں ، مسکراہٹیں ، قہقہے ، اور حاضرین کا جوش و خروش اپنی طرف سے اضافی ایٹمز شامل کرنا پڑتے ہیں ۔ اور یہیں پر بس نہیں بلکہ ان کی مجبوری ہے کہ ایک محدود مدت کے بعد سیٹ تبدیل کریں ، کوئی نیا سیگمنٹ شامل کریں ، کوئی نئی چول ماریں ، فیک کالز شامل کریں ، جھوٹی سٹوریاں بریک کریں ، اگر نہیں کریں گے ، تو ریٹنگ کا کوہ گران زمین بوس ہو جائے گأ ۔
ان میں شامل لوگوں کی حرکتوں سے اندازہ لگائیں ، کبھی کوئی جانور بنا ہوتا ہے ، کبھی کوئی ہیچڑا بنا ہوتا ہے ، کبھی کوئی مٹک مٹک کا ناچ رہا ہوتا ہے ، انہوں نے اس دوڑ میں شامل ہونے کے لیے کس طرح اپنی اخلاقیات و نفسیات کا سودا کیا ہوتا ہے ، محسوس نہیں ہوتا کہ یہ حقیقی دنیا میں جینے والے انسان ہیں ، یا کسی کمپنی سے تیار کروائے ہوئے روبوٹس ، جو بٹن کے اشارے پر سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں ، اور ان کی اپنی نہ کوئی سوچ ہے نہ فکر ۔
بتائیں ، ایکٹروں ، جغت بازوں کے اس ’ اکھاڑے ’ میں جو سراسر ، بناوٹ ، تصنع ، ریا کاری اور دھوکا اور فریب کے کچھ نہیں ، وہاں ایک شریف النفس انسان جو اسلامی تعلیمات کی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے ، کیونکر کامیاب ہوسکتا ہے ؟
مارننگ شوز لے لیں ، جو ان ٹی وی چینلز کا سب سے سیاہ اور مکروہ ترین چہرہ ہے ، جہاں ، حقیقت کے نام پر ، ادا کارائیں پیسے لے کر ٹسوے بہاتی ہیں ، فیک کالز کی جاتی ، اور سنی جاتی ہیں ، اسکرپٹ لکھ کر، لڑکوں ، لڑکیوں کو بٹھا کر لڑایا جاتا ہے ، صلح کروائی جاتی ہے ، زن و شو کے خصوصی تعلقات کو زیر بحث لانے کے لیے زبان و بیان کی چوریاں کی جاتی ہیں ، محارم و غیر محارم مرد و عورتیں تمام دینی و ملی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر ٹی وی سکرین پر ایسی گفتگو کرتے ہیں کہ وہ پروگرام جو ریکارڈ کرکے لائیو ظاہر کیا جارہا ہے ، اس میں اگر کچھ لائیو ہوتا ہے تو شرم و حیا کی نیلامی اور شرافت کی رخصتی ہوتی ہے ۔
جس رنگین ٹی وی سکرین کے یہ تقاضے ہیں ، بتائیں ، وہاں اخلاق کی تعلیم ، اور اذہان کی تربیت جیسا ’ خشک اور سادہ پروگرام ’ اپنے لیے جگہ کیسے بنا سکتا ہے ؟
میڈیا کی دور میں شامل ہونے کےلیے اس بات پر تو تقریبا سب متفق ہوگئے کہ تصویر ویڈیو وغیرہ جائز ہے ، یعنی مجبوری کا نام شکریہ ۔
لیکن مسئلہ یہی نہیں ، میڈیا تو ایک ہوس ہے ، جو تصویر کے بعد ، عورت کی تصویر ، پھر اس کے کپڑے مختصر ہوئے ، ساتھ شرافت کش حرکات کا اضافہ ہوا ، اور اس تنزلی کا اضافہ ہوتا رہے گا ، تآنکہ عورت و مرد سے اس کے کپڑے چھین لیے جائیں ، اوراس سے آگے کچھ نیا پیش کرنے کے لیے یہ لوگ پتہ نہیں کیا کریں گے ۔
اگر تبلیغ اسلام کے لیے آپ نے یہ محاذ چنا ہے تو کیا یہ سب کچھ کی اسلام اجازت دیتا ہے ؟
ابھی کچھ دانشور یہ کہنا شروع ہوگئے ہیں ، بلکہ کہنا کیا ، اسلامی ویڈیوز آنا شروع ہوگئی ہیں ، اسلام دشمن ، ملک دشمن فلموں کے ذریعے پراپیگنڈہ کرتے ہیں ، کچھ عبقری دماغوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کے جواب میں اسی طرح فلمسازی ہونی چاہیے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کی چیزوں میں عورتوں کا استعمال کرکے ، اسلام کی بنیادی اخلاقیات کا جنازہ نکال کر بھلے آپ اسلام کا ہی کوئی پیغام دے رہے ہیں ، لیکن کیا اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے رستے میں عورت کے خد و خال کی نیلامی جائز ہے ؟!!! کیا تبلیغ دین کے لیے ، اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کے جواب کے لیے سب کچھ جائز ہے ؟
یار میں تو کہتا ہوں ، یہ ہمارا میدان ہی نہیں ، اسلام پر اعتراضات ، حملے اسی دور میں تھوڑے شروع ہورہے ہیں ، شروع سے ہی کفر عورت کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے ، نادان مسلمانوں کو بھٹکانے کے لیے شروع سے ہی شراب و کباب کی مدد لی جاتی رہی ہے ، کیا اس وقت کے نابغوں نے جوابا اپنی بہو بیٹیاں میدانوں میں نکال لی تھیں ؟!
میرے بھائی جس طرح وہ لوگ ان بحرانوں سے نکل آئے تھے ، اور اسلام ہم تک مکمل پہنچ گیا ہے ، یقین مانیں اسلام کو اب بھی کچھ نہیں ہوگا۔... لیکن خدارا اس کی صاف شفات تعلیمات کا اپنے ہاتھوں سے جنازہ نہ نکالیں ، دھوکے سے باہر نکل آئیں ۔ اسلام کی بقا کی ذمہ داری اللہ کی ہے ، اور اللہ باطل طریقوں کو پسند نہیں کرتا ۔​
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
جزاکم اللہ تعالی
بہت اعلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیا کی اس یلغار اور اس کی اڑائی ہوئی گرد میں بھی اسلام کی ضوء فشانی ماند نہیں ہوگی ،
اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ دیکھ لیں کہ :
پرلے درجے کے لبرل چینلز بھی اپنی ریٹنگ کیلئے ہی سہی مذہبی سرگرمیاں ، اور دینی پروگرام دکھاتے ہیں ؛
اور دوسری مثال
ان ممالک کو دیکھ لیں جہاں نشریات کیلئے کوئی قدغن اور پابندی نہیں وہاں بھی اسلام نہ صرف موجود ہے بلکہ اس کا وجود مخالفین کو خیرہ کر رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
محترم @محمد عامر یونس صاحب ! جو تحریر آپ نے دلیل کے واسطے سے لگائی ، وہ دلیل سے پہلے یہاں لگائی جا چکی ہے ۔ :)
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
پردہ

کوئی بھی بات کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے ، کہ اس کو غور سے سنا جائے ، سمجھا جائے .
اس بات کو ذہن میں رکھ کر دو الگ الگ منظر دیکھیں :
پہلا منظر :
بہترین سٹوڈیو تیار کیا گیا ہے ، تصویر اور آواز ریکارڈ کرنے کے لیے بہترین ٹیکنالوجی کا انتظام کیا گیا ہے ، مہمان مدعو کیے گئے ہیں ، اچھے سے اچھا لباس بہننے کی کوشش کی گئی ہے ، مکمل تکلفات کے ساتھ لوگوں کی ایک ٹیم نے کوشش کی ہے کہ حضرت مولانا صاحب کی گفتگو ناظرین سن لیں ، اور ان پر اثر انداز ہو ۔
دوسرا منظر :
نہ کوئی سٹوڈیو ، نہ کوئی ٹیکنالوجی ، نہ لباس پر فضول خرچی ، نہ لمبی چوڑی ٹیم کی ضرورت ، مسجد یا مدرسے میں مولانا صاحب سے گفتگو سننے کا اتفاق ہوا ۔
دونوں جگہ فرق کیا ہے ؟
پہلے منظر میں آپ کو ایک امید ہے اسے ہزاروں لوگ دیکھیں گے ، لیکن یقین ایک کے بارے میں بھی نہیں کہ وہ اس کو مکمل انہماک سے سنے گا ، اور پھر سن کر بات اس کو سمجھ بھی آچائے گی ۔
دوسرے منظر میں سامنے صرف ایک دو ہی بیٹھے ہیں ، لیکن فورا اندازہ ہوجائے گا کہ پیغام پہنچا ہے یا نہیں ، بات سمجھ آئی ہے یا نہیں ۔
دور نہ جائیں ، خود اپنی پسندیدہ شخصیت کو انہیں دو منظروں میں تصور کریں ، آپ اس وقت زیادہ توجہ اور نہماک سے ہوں گے ، جب ان کے سامنے بیٹھے ہوں گے یا پھر اس وقت جب ان کی ویڈیو چل رہی ہوگی ؟
لہذا جب تک سکرین کے بغیر رہنمائی مل رہی ہو ، اس کے چکروں میں نہ پڑیں ، اور بالخصوص بچوں کو اس ’ ڈیچیٹل بلا ’ سے بچا کر رکھنے کی کوشش کریں ، تربیت کی ذمہ داری آپ کی ہے ، نہ کہ پردے کے پیچھے والی دنیا کی ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
جن کا دعوی ہے حقیقت دکھانے کا وہ یہ کچھ کرتے ہیں :
1۔ کیمرہ میں نظر آنے والے افراد کو ان کی فطری شکل و صورت سے بڑھ کر خوبصورت دکھانے کی کوشش ۔
2۔ متکلم کی آواز یا باڈی لینگوئج سے جو تاثرات ظاہر ہوتے ہیں ، انہیں ناکافی سمجھتے ہوئے ساتھ مزید چیزوں کا اضافہ کرنا ، مثلا رنج و غم ، خوشی ، خوف ، دہشت وغیرہ بڑھانے کے لیے ساز یا آواز کا اضافہ کرنا ہے ۔
3۔ عام استعمال ہونے والی کرسیوں ، ٹیبلوں پر بیٹھے ہوئے افراد کو ظاہر کرنا ، گویا وہ کسی دنیاوی جنت میں بیٹھے پروگرام کر رہے ہیں ۔
4۔ جو معلومات اور باتیں متکلم کے پاس نہیں ہیں ، یا وہ اتنی روانی سے نہیں بول سکتا ، یا انہیں اوپر سے دیکھ کر پڑ سکتا ہے ، البتہ اسے یہ سب کچھ زبانی یاد نہیں ... اسے ایسی ترتیب دینا کہ شاید اینکر نہیں ، یہ تو ارسطو یا افلاطون کا بچہ بیٹھا ہوا ہے ۔ اور اس کام کے لیے اتنے ناٹک کیے جاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ... ایکٹنگ الگ کی جاتی ہے .. آواز الگ ریکارڈ کی جاتی ہے . پھر ان سب چیزوں کا ’ کٹ کٹیا ’ کرکے لوگوں کو یوں ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید بولنے والے یا گانے والے انسانوں میں سے نہیں ، کوئی دیو مالائی شخصیت ہیں ۔
5۔ کسی بھی بات کو سن کر ، یا بول کر ، یا کسی حادثے کے رونما ہونے پر جو فطری رد عمل ہوسکتا ہے ... اس کی بجائے متکلم کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ عمدا ہنسے ، یا بتکلف رونے کی کوشش کرے ، یا جن لوگوں کو کیمرے کے پیچھے کوئی دیکھنے کو تیار نہیں ، انہیں اپنے ساتھ لگائے ، پیار کرے ، ان کے تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے
حقیقت دکھانے کا دعوی کرنے والے ’ میڈیا ’ کی یہ ’ حقیقت ’ ہے ، جو ہمارے جیسے ایک عام آدمی کوبھی پتہ ہے ۔ کیمرہ مین ، ڈائریکٹر ، پرڈیوسر وغیرہ لوگوں سے پوچھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہاں سب کچھ ’ سراب ’ ہے حقیقت کا دور دور تک نام و نشاں نہیں ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
اداکارہ، اداکاری اور کاری ادا
یہ ایک اداکارہ ہے۔ اداکاری کے پردے میں کاری ادا دکھانے اور کاری حملہ کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ آنکھوں کے راستے دل میں اتر کر وہیں بسیرا کر لیتی ہے۔ اور یوں دل اپنی من مانی کرنے پر اتر آتا ہے۔ ان کا حملہ ٹین ایجرز پر فوری اثر کرتا ہے اور اگر فوری علاج نہ کیا جائے تو بڑھاپے تک اس کا سحر قائم رہتا ہے۔

اداکارہ کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بیشتر مشہور و معروف اداکاراؤں نے گھر سے بھاگ کر ہی اپنی اداکاری کا آغاز کیا تھا۔ کیونکہ گھریلو رشتے اداکارہ کی اداکاری کے راستے کی سب سے بڑی دیوار ہوتی ہے، جسے یہ پہلے ہی ہلے میں گرا دیتی ہے۔ کوئی شریف لڑکی اس وقت تک اداکارہ نہین بن سکتی جب تک وہ شرافت کا لبادہ اتار اور قدرتی رشتوں کو چھوڑ نہیں دیتی۔ ایک وقت تھا جب ڈرامہ نگاروں اور فلم سازوں کو اداکاراؤں کی سپلائی صرف اور صرف طوائفوں کے کوچہ سے ہوا کرتی تھی مگر شیطان کی کرپا سے اب یہ محتاجی نہیں رہی۔ ایک فلم ساز جب ایک خوبرو طوائف کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے تو اسے اپنی فلم میں کام کرنے کی پیشکش کر ڈالی۔ بھولی طوائف بولی۔ یہاں بڑے بڑے لوگ میرے پیچھے آتے ہیں۔ فلموں میں مجھے ٹکے ٹکے کے لوگوں کے پیچھے بھاگنا پڑے گا۔ جب اللہ نے مجھے یہاں عزت دولت سب کچھ دے رکھا ہے تو پھر میں فلموں میں کیوں جاؤں؟

فلم یا ڈرامہ کی مرکزی اداکارہ کو ہیروئین بھی کہتے ہیں۔ ان کا نشہ بھی پوست والے ہیروئین سے کم نہیں ہوتا۔ البتہ ہر فلم بین کا برانڈ یعنی پسندیدہ ہیروئین جدا جدا ہوتی ہے۔ پرستار اپنی پسندیدہ ہیروئین کے نشہ میں دنیا و مافیہا سے بےگانہ ہو جاتے ہیں جبکہ اداکارہ کو خبر ہی نہین ہوتی کہ
کون مرتا ہے مری زلف کے سر ہونے تک – ع
زیادہ سے زیادہ ہیرو کے ساتھ کام کرنے والی ہیروئین کی زیادہ سے زیادہ عزت کی جاتی ہے۔ جبکہ قبل ازیں اپنے پرانے پیشے میں یہ جتنے کم لوگوں سے وابستہ رہتی تھی، اس کی عزت و توقیر اتنی ہی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ سچ ہے، وقت اور اسکے اقدار بدلتے دیر نہیں لگتی۔ بولڈ اینڈ بیوٹی کسی بھی اداکارہ کی دو بنیادی وصف شمار ہوتی ہے۔ اداکاراؤں کے حوالے سے بولڈنس نسبتاً ایک نئی اصطلاح ہے۔ قبل ازیں اسے بے شرمی کہا جاتا تھا۔ اداکاراؤں کے پیشے کی ابتدا ہی شرم و حیا کے لباس کو اتارنے سے ہوتی ہے۔ اور جوں جوں یہ آگے بڑھتی جاتی ہے، اس کا لباس اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر کی طرف سکڑتا چلا جاتا ہے۔ لیکن میرا ایک دوست بالکل الٹ بات کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے : جس تیزی سے ایک اداکارہ کا لباس اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر کی طرف سکڑتا چلا جاتا ہے، وہ اسی تیزی سے ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔ لباس کے بارے میں اداکارائیں بہت حساس ہوتی ہیں۔ ان کا پسندیدہ لباس قدرتی لباس ہے۔ اس لباس میں ان کی اداکاری کی مانگ اور قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اداکارائیں شادی کو اپنے کیرئیر کی تباہی اور طلاق کو ترقی کا زینہ سمجھتی ہیں۔ اسی لئے اداکارائیں شادی سے کم اور طلاق سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔

کوئی اداکارہ اس وقت تک پرفیکٹ ایکٹریس نہیں کہلاتی جب تک وہ محبت کے مناظر کی عکاسی کروانے میں مہارت نہ حاصل کر لے۔ یعنی ایسے مکالمے و افعال جو ایک شریف زادی صرف اپنے بیڈ روم میں اور اپنے سر کے تاج کے سامنے، یا ایک طوائف زادی اپنے کوٹھے کی چہار دیواری کے اندر صرف اپنے گاہک کے سامنے انجام دیتے ہوئے بھی شرما جاتی ہے۔ اسے ایک اداکارہ چکاچوند روشنی میں بہت سے لوگوں کی موجودگی میں اس خوبصورتی اور بولڈنس یعنی بے شرمی کے ساتھ ریکارڈ کرواتی ہے کہ اس کی ہر ادا، جسمانی خد و خال اور نشیب و فراز تمام باریکیوں کے ساتھ محفوظ ہو جاتے ہیں، جنہیں دیکھ دیکھ کر ان کے پرستار محظوظ اور ہیروئین کے نشے میں چور ہو جاتے ہیں۔

ایک کامیاب اداکارہ صرف لوسین ہی نہیں بلکہ اینٹی لو سین میں بھی مہارت رکھتی ہے۔ جہاں یہ بہ رضا و رغبت اپنے پورے جسم کو پیش کرنے میں رتی بھر بھی نہیں ہچکچاتی وہیں یہ ولن کے ہاتھوں اپنی عزت لٹوانے کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل سے پیش کرنے میں بھی یکساں مہارت رکتھی ہے۔ حالانکہ قبل ازیں اپنے پرانے پیشے میں کوئی ایسا کرنے کی جرات کرے تو وہ اسے اپنے پالتو غنڈوں سے یا سرکاری اہلکاروں سے پٹوا دیا کرتی تھی۔ کہتے ہیں کہ جسم فروش کواتین نے خود کو بیچنے کا آغاز ناچ گانے سے کیا تھا۔ پہلے یہ امراء کے لئے مجرا کیا کرتی تھیں۔ بعد ازاں عوام کی خاطر گلوکاری اور اداکاری شروع کر دی۔ مجرا یا تو امراء کی کوٹھی پر ہوا کرتا تھا یا طوائف کے کوٹھے پر۔ عوام کے لئے گلوکاری کا آغاز ریڈیو سے ہوا۔ ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے جب ریڈیو پر موسیقی کے پروگرام کا آغاز کیا تو پہلے پروگرام کی بکنگ کے لئے وہ خود بہ نفس نفیس طوائفوں کے کوٹھے پر گئے تھے۔ بعد ازاں ریڈیو پاکستان اس معاملہ میں نہ صرف خود کفیل ہو گیا بلکہ ریڈیو سے تربیت یافتہ گلوکاراؤں کو ٹی وی اور فلم کے لئے ایکسپورٹ بھی کرنے لگا۔ آج پاکستان دنیا بھر کو بالعموم اور مڈل ایسٹ کو بالخصوص بولڈ اینڈ بیوٹی وافر تعداد و مقدار میں ایکسپورٹ کرتا ہے اور خاصہ زرمبادلہ کماتا ہے۔

اداکارہ چھوٹی ہو یا بڑی، سب کی منزل ایک ہوتی ہے۔ قدآور اداکارہ وہ کہلاتی ہے جو اپنے قد و قامت اپنے کپڑوں سے باہر نکال سکے۔ اداکاراؤں کا کوئی دین، کوئی نظریہ یا کوئی کیریکٹر نہیں ہوتا سوائے فلمی کیریکٹر کے۔ یہی وجہ ہے کہ اداکارہ ایک فلم میں جسے بھائی بناتی ہے، اگلے فلم میں اسے پریمی یا شوہر بناتے ہوئے کوئی عار نہیں ہوتا۔ ایک اداکارہ سین کی ڈیمانڈ کو پورا کرنا اپنا دھرم اور ایمان سمجھتی ہے۔ خواہ وہ سین اس کے اپنے دین دھرم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ اداکارہ پہلے مسلمان ہو ہندو ہو یا عیسائی، اداکاری کے شعبہ میں داخل ہونے کے بعد صرف اور صرف اداکارہ رہ جاتی ہے۔ لہذا کسی اداکارہ کے کسی بھی فعل کو کسی دین دھرم بالخصوص اسلام کے حوالے سے تو دیکھنا ہی نہیں چاہیے۔ ایک ٹی وی مذاکرے میں جاوید شیخ نے کیا خوب کہا تھا کہ فلم انڈسٹری کی بات کرتے ہوئے آپ اسلام کی بات نہ کیا کریں۔ اسلام کا فلم سے یا فلم کا اسلام سے کیا تعلق۔

کہتے ہیں کہ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔ اگر ایسا ہوا تو یقیناً وہاں اداکاری کرنے والی عورتوں ہی کی بہتات ہو گی۔ خواہ ایسی عورتیں ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کرتی رہی ہوں یا گھروں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ۔ اچھے وقتوں میں جب کوئی غلط کام کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کرتا تھا تو لوگ خوش گمانی کے تحت کہا کرتے تھے کہ زیادہ اداکاری نہ کرو اور سدھر جاؤ ورنہ ۔۔۔ اب یہی اداکاری بولڈنس یعنی بے حیائی کے ساتھ ایک پیشہ بن چکی ہے۔ اللہ ہر مسلمان کو اداکارہ کی اداکاری اور اس کی کاری ادا سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
 
شمولیت
ستمبر 21، 2017
پیغامات
548
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
61
میڈیا کے معاشرے پر منفی اثراث
وصال اردو پر میرا ایک پروگرام
ان اعداو شمار میں ایک بات کا لحاظ نہیں رکھا گیا وہ یہ کہ یہ حادثات کس کے کتنے عرصہ میں ہوئے۔ اگر کسی ملک کے حادثات سو سال میں بیس ہیں اور دوسرے کے بیس سال میں دس تو ایوریج کس کی زیادہ کہلائے گی؟
یہی فرق ہے ان اعداو و شمار میں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
نشریاتی اداروں کے پالیسی میکرز کے نزدیک عورت انکی پراڈکٹ فروخت کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی کھیل جشن آزادی سیاسی جلسے وغیرہ ہوتے ہیں تو ابلاغی گھروں کی اپنی نمائندوں سے مانگ ہوتی ہے کہ خوبصورت خواتین کے چہرے نمایاں کریں اگر آپ کوئی رپورٹ بناتے ہیں تو اس میں خواتین کے انٹرویوز لازمی ہونے چاہئیں کیونکہ یہ رپورٹ کا " حسن یا کلر " ہیں ، انکے نزدیک لڑکیاں محض شو پیس ہیں جو آپکی دوکان (چینل) کی ڈیمانڈ بڑھانے کا سبب ہیں بلاشبہ یہ ٹھرک کی پڑھی لکھی اور سنجیدہ قسم ہے۔
یہ ہے ہمارے نشریاتی اداروں کی خواتین سے متعلق گھٹیا سوچ اتفاق سے تمام چینلز کے بڑے روشن خیال ہیں اور اکثریت اندرون و بیرون ملک جامعات کے فارغ التحصیل ۔
فیض اللہ خان​
 
Top