ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 935
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
نئی شادی کرنے والی کنواری بیوی کے حق شب باشی میں ناانصافی کا حکم
فتاوى عبر الأثير (( 27 ))
السؤال: امرأة بكر تزوجت فبقي عندها زوجها ليلة واحدة ثم ذهب في الليلة الثانية إلى زوجته الثانية واستمر على ذلك، أي ليلة عندها وليلة عند الأخرى، فهل تصرفه صحيح؟
سوال: ایک کنواری عورت کی شادی ہوئی۔ اس کا شوہر پہلی رات اس کے پاس رہا، پھر دوسری رات اپنی دوسری بیوی کے پاس چلا گیا اور اسی طرح اس نے اپنا معمول بنا لیا کہ ایک رات اس نئی بیوی کے پاس گزارتا اور ایک رات دوسری بیوی کے پاس۔ کیا اس کا یہ طرز عمل درست ہے؟
الجواب: فعل هذا الرجل غير صحيح بل هو حرام، لما جاء في الصحيحين عن أبي قلابة عن أنس قال: من السنة إذا تزوج الرجل البكر على الثيب أقام عندها سبعاً وقسم، وإذا تزوج الثيب على البكر أقام عندها ثلاثاً ثم قسم، قال أبو قلابة: ولو شئت لقلت إن أنساً رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم.
جواب: اس شخص کا یہ طرز عمل درست نہیں، بلکہ حرام ہے۔ اس کی دلیل وہ روایت ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابو قلابہ کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے فرمایا:
’’سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ عورت کے ہوتے ہوئے کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے پاس سات راتیں گزارے، پھر دونوں بیویوں کے درمیان باری مقرر کرے۔ اور جب کسی پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین راتیں گزارے، پھر دونوں کے درمیان باری مقرر کرے۔‘‘
ابو قلابہ نے کہا: ’’اگر میں چاہتا تو یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس روایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا ہے۔‘‘
قال الإمام ابن عبد البر رحمه الله في «الاستذكار»: «وعند أكثر العلماء ذلك واجب لهما، كان عند الرجل زوجة أم لا، لقوله صلى الله عليه وسلم: (إذا تزوج البكر أقام عندها سبعاً، وإذا تزوج الثيب أقام عندها ثلاثاً)، ولم يخص من له زوجة ممن لا زوجة له». انتهى كلامه رحمه الله.
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الاستذکار میں فرمایا ہے: ’’اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم دونوں صورتوں میں واجب ہے، خواہ اس شخص کی پہلے سے کوئی بیوی موجود ہو یا نہ ہو۔ اس کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ’جب کوئی شخص کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے پاس سات راتیں گزارے، اور جب پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین راتیں گزارے۔‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم میں اس شخص کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جس کی پہلے سے بیوی موجود ہو اور اس شخص کے درمیان جس کی کوئی بیوی نہ ہو۔‘‘ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔
لذلك فعلى هذا الرجل أن يتوب إلى الله وأن يعطيها حقها وأن يستأنف المدة، إذ إن الحق لا يسقط بتقادم الزمن. قال ابن حجر رحمه الله في «فتح الباري»: «وتجب الموالاة في السبع وفي الثلاث، فلو فرّقا لم يحسب على الراجح».
لہٰذا اس شخص پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے، اپنی بیوی کو اس کا حق دے اور سات راتوں کی مدت نئے سرے سے پوری کرے؛ کیونکہ محض وقت گزر جانے سے کسی کا حق ساقط نہیں ہوتا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں فرمایا ہے: ’’سات راتوں اور تین راتوں میں تسلسل ضروری ہے؛ چنانچہ اگر ان راتوں کو الگ الگ کر دیا جائے تو راجح قول کے مطابق وہ شمار نہیں ہوں گی۔‘‘
وقال الصنعاني رحمه الله في «سبل السلام»: «فلو فرّقا وجب الاستئناف». اور صنعانی رحمہ اللہ نے سبل السلام میں فرمایا ہے: ’’اگر ان راتوں کو الگ الگ کر دیا جائے تو مدت کو نئے سرے سے پورا کرنا واجب ہوگا۔‘‘
واللہ اعلم بالصواب۔